کراچی میں کانگو ہیمرجک فیور کا ایک اور افسوسناک کیس سامنے آیا ہے جہاں 17 سالہ نوجوان جان کی بازی ہار گیا۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ نوجوان میں گزشتہ روز ہی اس مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی تھی، جس کے بعد اسے فوری طور پر سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان مویشیوں کی دیکھ بھال سے وابستہ تھا اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے یہ وائرس جانوروں سے منتقل ہوا۔ طبی ماہرین کے مطابق کانگو وائرس عام طور پر چیچڑی کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جو بعد ازاں خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ عیدِ قربان کے قریب آتے ہی اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس دوران بڑی تعداد میں لوگ مویشیوں کے قریب آتے ہیں۔ اسی پیش نظر شہریوں کے لیے احتیاطی تدابیر بھی جاری کی گئی ہیں۔
ایڈوائزری کے مطابق مویشیوں کو ہاتھ لگاتے وقت دستانوں کا استعمال کیا جائے اور جانوروں کی دیکھ بھال کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ اس کے علاوہ مویشی منڈی جاتے وقت ہلکے رنگ کے اور پوری آستینوں والے کپڑے پہننے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ چیچڑی یا دیگر حشرات کو آسانی سے دیکھا جا سکے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار، شدید جسم درد، پٹھوں میں تکلیف اور جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنا شامل ہیں۔ ایسی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت علاج ممکن بنایا جا سکے۔
کراچی میں کانگو وائرس سے نوجوان جاں بحق
