اقوام متحدہ کے ادارہ برائے نقل مکانی کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران غیر قانونی نقل مکانی کرتے ہوئے تقریباً 7904 افراد ہلاک یا لاپتہ ہوگئے۔ یہ اعداد و شمار ایک سنگین انسانی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والے ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں یورپ جانے والے سمندری راستوں پر ہوئیں، جہاں ہر 10 میں سے 4 اموات یا گمشدگیاں رپورٹ ہوئیں۔ ماہرین کے مطابق یہ راستے غیر محفوظ کشتیوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور خراب موسمی حالات کے باعث انتہائی خطرناک بن چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق ان ہلاکتوں کی بڑی وجہ کشتیاں ڈوبنے یا پراسرار طور پر غائب ہو جانے کے واقعات ہیں۔ کئی کیسز ایسے بھی سامنے آئے جہاں مکمل کشتیاں سمندر میں لاپتہ ہو گئیں اور ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اگرچہ 2024 کے مقابلے میں 2025 میں ہلاکتوں کی تعداد کچھ کم رہی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی مکمل طور پر حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی۔ اس کی ایک بڑی وجہ تقریباً 1500 ایسے کیسز ہیں جن کی تصدیق وسائل کی کمی اور امدادی سرگرمیوں میں کٹوتی کے باعث نہیں ہو سکی۔
رپورٹ کے مطابق 2014 سے اب تک غیر قانونی نقل مکانی کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہونے والوں کی مجموعی تعداد 82 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں 3 لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد کے خاندان براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔
عہدیدار ماریہ مویتا کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عالمی سطح پر ناکامی کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ ان سانحات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جا سکے۔ دوسری جانب ایمی پوپ نے زور دیا کہ محفوظ اور قانونی راستوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں کو بچایا جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ یورپ جانے والوں میں بنگلادیشی افراد کی تعداد زیادہ رہی، جبکہ شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی۔ مغربی افریقہ سے شمال کی جانب جانے والے راستے میں بھی سینکڑوں ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں، جبکہ ایشیا میں بھی ریکارڈ اموات سامنے آئیں۔
ماہرین کے مطابق جب تک عالمی سطح پر مربوط پالیسی اور محفوظ نقل مکانی کے مواقع فراہم نہیں کیے جاتے، ایسے المناک واقعات کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔
Blog
-

غیر قانونی نقل مکانی میں ہزاروں جانیں ضائع، سمندری راستے سب سے خطرناک
-

کانٹیکٹ لینس کے ساتھ نہانے سے لڑکی بینائی سے محروم
جنوبی امریکا سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ گریس جیمیسن کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ آنکھوں کی صحت سے متعلق ایک سنگین انتباہ بن گیا ہے، جہاں ایک معمولی سی لاپرواہی نے ان کی بینائی کو شدید نقصان پہنچا دیا۔
گریس جیمیسن نے سوشل میڈیا پر اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چھٹیوں کے دوران ایک سفر پر تھیں، جہاں انہوں نے کانٹیکٹ لینسز پہن کر نہانے کا معمولی سا عمل کیا۔ بظاہر یہ ایک عام بات لگتی ہے، لیکن یہی عمل ان کے لیے خطرناک ثابت ہوا۔
ماہرین کے مطابق کانٹیکٹ لینس کے ساتھ پانی میں جانا یا نہانا آنکھوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ پانی میں موجود خردبینی جراثیم لینس کے ساتھ چپک کر آنکھ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ گریس کے ساتھ بھی یہی ہوا، جہاں وہ ایک خطرناک آنکھوں کے انفیکشن کا شکار ہو گئیں، جسے ایکینتھامیبا انفیکشن کہا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس انفیکشن کی وجہ ایک آزاد زندہ امیبا ہوتا ہے جو آلودہ پانی میں پایا جاتا ہے۔ جب یہ جراثیم کانٹیکٹ لینس کے ذریعے آنکھ میں داخل ہوتا ہے تو شدید انفیکشن پیدا کر سکتا ہے۔ چند ہی دنوں میں گریس کی آنکھوں میں علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، جس کے بعد انہوں نے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔
بدقسمتی سے ابتدائی مرحلے پر بیماری کی درست تشخیص نہ ہو سکی اور انہیں اسٹیرائیڈ قطرے دیے گئے، جس سے انفیکشن مزید بگڑ گیا۔ صرف ایک ہفتے کے اندر گریس اپنی بینائی مکمل طور پر کھو بیٹھیں اور تقریباً دو ماہ تک نابینا رہیں۔
اگرچہ بعد میں علاج شروع کیا گیا، تاہم گریس اب بھی اپنی دائیں آنکھ کی بینائی سے محروم ہیں اور مستقبل میں مکمل صحت یابی کے لیے سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
گریس نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کانٹیکٹ لینسز پہن کر کبھی بھی پانی میں نہ جائیں، چاہے وہ نہانا ہو یا تیراکی، کیونکہ یہ معمولی سی غلطی زندگی بھر کا نقصان بن سکتی ہے۔ -

بھارتی ٹی وی نیٹ ورک ہیک، طالبان اور بھارت تعلقات پر پیغام نشر
بھارت کے معروف میڈیا نیٹ ورک “ون انڈیا” کو مبینہ طور پر ہیک کیے جانے کے بعد اسکرین پر غیر متوقع سیاسی پیغامات نشر ہونے لگے، جس نے سوشل میڈیا اور عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نیٹ ورک کے لاکھوں فالوورز ہیں اور ہیکنگ کے واقعے نے اسے عارضی طور پر ایک سیاسی بیان بازی کے پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق ہیکنگ کی ذمہ داری ایک گروہ نے قبول کی جو خود کو “ٹرُو مسلم افغانز” کہتا ہے۔ اس گروہ نے نشریات کے دوران افغانستان کا پرانا جھنڈا دکھایا اور طالبان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کو مسترد کرتے ہوئے سخت پیغام جاری کیا۔ اس اقدام کو محض سائبر حملہ نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دور میں تنازعات صرف میدان جنگ یا سڑکوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی ایک اہم محاذ بن چکے ہیں۔ اس واقعے میں ایک ٹی وی نیٹ ورک کو استعمال کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایک مخصوص مؤقف کو اجاگر کیا گیا، جو اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کی ہیکنگ کارروائیاں نہ صرف میڈیا اداروں کی سیکیورٹی پر سوال اٹھاتی ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ سائبر اسپیس اب جیو پولیٹیکل پیغامات پہنچانے کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ ایک ہی واقعے میں نیٹ ورک کی ساکھ متاثر ہوئی، طالبان کے حوالے سے مؤقف پیش کیا گیا اور بھارت کو بھی اس بحث کا حصہ بنا دیا گیا۔ -

یورینیم کیا ہے اور ایران کے تنازع کی اصل وجہ کیوں بنا؟
واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک بار پھر یورینیم کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جہاں امریکا ایران سے سینکڑوں کلوگرام افزودہ یورینیم کم کرنے یا نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی وہ عنصر ہے جس نے عالمی سیاست، سفارت کاری اور سلامتی کے معاملات کو ایک پیچیدہ شکل دے دی ہے۔
یورینیم ایک قدرتی طور پر پائی جانے والی تابکار دھات ہے جو زمین کی تشکیل کے وقت سے موجود ہے۔ بظاہر یہ ایک عام سرمئی چٹان جیسی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی اندرونی ساخت اسے انتہائی طاقتور اور حساس بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے توانائی کے حصول سے لے کر ایٹمی ہتھیاروں تک مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
قدرتی یورینیم دو بڑی اقسام پر مشتمل ہوتا ہے۔ یورینیم 238 جو تقریباً 99 فیصد ہوتا ہے اور براہ راست ایٹمی توانائی پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتا، جبکہ یورینیم 235 نہایت کم مقدار یعنی تقریباً 0.7 فیصد میں پایا جاتا ہے اور یہی اصل اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ایٹمی ری ایکٹر اور ہتھیار دونوں میں استعمال ہو سکتا ہے۔
یورینیم کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے ایک عمل کیا جاتا ہے جسے افزودگی کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں سینٹری فیوج نامی مشینیں استعمال ہوتی ہیں جو تیزی سے گھوم کر بھاری اور ہلکے ایٹمز کو الگ کرتی ہیں۔ جتنی زیادہ افزودگی کی جائے، اتنا ہی یورینیم طاقتور بنتا جاتا ہے۔
عام طور پر 3 سے 5 فیصد افزودہ یورینیم بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، جبکہ 20 فیصد تک اسے بحری مقاصد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم 60 فیصد یا اس سے زیادہ افزودگی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنتی ہے، کیونکہ یہ ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کے قریب سمجھی جاتی ہے۔ 90 فیصد سے زائد افزودگی کو براہ راست ایٹم بم کے لیے موزوں تصور کیا جاتا ہے۔
ایران اس وقت تقریباً 60 فیصد افزودگی تک پہنچ چکا ہے، جو عالمی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ مغربی ممالک کے نزدیک اس سطح کی افزودگی کا کوئی واضح سویلین مقصد نہیں۔ -

پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز میں خطرناک اضافہ
پاکستان میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے دوران 2,108 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ یہ اعداد و شمار وفاقی اور صوبائی ایچ آئی وی کنٹرول اداروں کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں، جو ایک سنگین عوامی صحت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس خطرناک صورتحال کی کئی بنیادی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ غیر محفوظ طبی طریقہ کار ہے، جہاں سرنجز اور دیگر طبی آلات کو بار بار استعمال کیا جاتا ہے، جو وائرس کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری اور نجی کلینکس میں انفیکشن کنٹرول کے ناقص انتظامات بھی اس بیماری کے پھیلنے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خون کی منتقلی سے قبل مناسب اسکریننگ نہ ہونا بھی ایک بڑی وجہ ہے، جس کے باعث متاثرہ خون کے ذریعے وائرس منتقل ہونے کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ مزید برآں، غیر رجسٹرڈ اور غیر مستند معالجین یعنی عطائی ڈاکٹروں کی موجودگی اور ان پر کمزور نگرانی نے بھی صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اب ایچ آئی وی صرف مخصوص خطرے کے شکار گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں سمیت عام آبادی میں بھی پھیل رہا ہے، جو ایک انتہائی تشویشناک رجحان ہے۔
اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرنجز کے ایک بار استعمال کو سختی سے یقینی بنایا جائے، خون کی منتقلی سے قبل جدید معیار کے مطابق مکمل اسکریننگ لازم قرار دی جائے، اور نجی کلینکس کی کڑی نگرانی کی جائے تاکہ غیر معیاری علاج اور بدعنوانیوں کا خاتمہ ہو سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ طبی عملے کی تربیت اور عوامی آگاہی مہم بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ والدین اپنے بچوں کے علاج کے دوران محفوظ طریقہ کار کا مطالبہ کریں اور کسی بھی قسم کی غفلت سے بچا جا سکے۔ -

یوم مزدور پر یکم مئی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان
وفاقی حکومت نے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر یکم مئی بروز جمعہ کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق تمام سرکاری اور نجی دفاتر، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند رہیں گے۔
حکومت کی جانب سے یہ تعطیل محنت کش طبقے کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دی جاتی ہے، تاکہ ملک کی ترقی میں مزدوروں کے کردار کو تسلیم کیا جا سکے۔ یوم مزدور دنیا بھر میں ہر سال یکم مئی کو منایا جاتا ہے، جہاں مزدوروں کے حقوق، ان کی فلاح و بہبود اور بہتر کام کے حالات کے حوالے سے آگاہی پیدا کی جاتی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اس دن تمام ادارے بند رہیں گے، جبکہ بعض ضروری خدمات حسب معمول جاری رہیں گی۔ اس موقع پر مختلف مزدور تنظیموں کی جانب سے تقاریب، ریلیاں اور سیمینارز بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں مزدوروں کے حقوق اور مسائل کو اجاگر کیا جاتا ہے۔
اس سال یکم مئی جمعہ کے روز آنے کے باعث عوام کو تین روزہ تعطیلات کا موقع بھی ملے گا۔ جمعہ کی سرکاری چھٹی کے بعد ہفتہ اور اتوار کی معمول کی تعطیلات شامل ہو جائیں گی، جس سے شہریوں کو مختصر تعطیلات گزارنے کا موقع ملے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ موقع نہ صرف مزدوروں کی خدمات کو سراہنے کا دن ہے بلکہ اس بات کا بھی تقاضا کرتا ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ اور بہتر حالات کار کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ -

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور جمعے کو ہوسکتا ہے، ٹرمپ پرامید
واشنگٹن میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا اگلا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے، جس سے مثبت نتائج کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے ساتھ 36 سے 72 گھنٹوں کے اندر مذاکرات کا امکان موجود ہے، جبکہ یہ دوسرا دور ممکنہ طور پر جمعے کو منعقد ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اس موقع پر اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اس مرحلے میں کوئی اچھی خبر سامنے آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی فوج کو ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل ہدایات دے دی گئی ہیں، تاکہ کسی بھی غیر متوقع پیش رفت کی صورت میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ ان کے مطابق امریکا بیک وقت سفارتی اور دفاعی دونوں محاذوں پر تیار ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی روکنے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستانی قیادت کی درخواست پر کیا گیا، جس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر شامل تھے۔ امریکی صدر کے مطابق پاکستانی رہنماؤں نے ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے وقت دینے کی درخواست کی تھی۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا تھا کہ جنگ بندی میں اس وقت تک توسیع کی جائے گی جب تک ایران کی جانب سے باضابطہ تجاویز سامنے نہیں آ جاتیں اور مذاکراتی عمل مکمل نہیں ہو جاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے اہم ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں امن کی جانب ایک مثبت قدم ہو سکتی ہے، تاہم حتمی نتائج کا انحصار مذاکرات کی کامیابی پر ہوگا۔ عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے مذاکرات پر مرکوز ہیں، جو خطے کی صورتحال کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔ -

سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی کا سلسلہ تیسرے روز بھی جاری رہا، جس کے باعث سرمایہ کاروں اور خریداروں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سونے کی قیمت ایک بار پھر پانچ لاکھ روپے کی سطح سے نیچے آگئی ہے، جو حالیہ مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
آل پاکستان صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 1200 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 98 ہزار 962 روپے ہوگئی۔ اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت بھی 1029 روپے کم ہوکر 4 لاکھ 27 ہزار 779 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں یہ کمی عالمی سطح پر بدلتی معاشی صورتحال اور ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ کے باعث سامنے آ رہی ہے۔
چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی، فی تولہ چاندی 34 روپے سستی ہو کر 8324 روپے کی سطح پر آگئی۔ مقامی مارکیٹ میں چاندی کی قیمتوں میں کمی عام صارفین کے لیے کسی حد تک ریلیف سمجھی جا رہی ہے، خاص طور پر ان افراد کے لیے جو زیورات یا دیگر مقاصد کے لیے چاندی خریدتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں کمی کا رجحان برقرار رہا۔ بین الاقوامی سطح پر فی اونس سونے کی قیمت 12 ڈالر کم ہوکر 4766 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں یہ کمی امریکی معیشت، شرح سود اور عالمی سیاسی حالات سے جڑی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے، تاہم کسی بھی بڑی عالمی تبدیلی کی صورت میں قیمتیں دوبارہ بڑھ سکتی ہیں۔ سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے اور مارکیٹ کے حالات پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ -

چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا باز منتخب
بیجنگ: چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا بازوں محمد ذیشان اور خرم داؤد کا انتخاب کر لیا گیا ہے، جو جلد چین میں تربیت حاصل کریں گے۔ چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق دونوں خلا بازوں میں سے ایک کو مستقبل میں چین کے خلائی اسٹیشن تیانگونگ بھیجنے کا امکان ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو کوئی پاکستانی خلا باز پہلی بار چینی خلائی اسٹیشن کا سفر کرے گا، جو پاکستان کے لیے تاریخی کامیابی ہوگی۔
چائنا ڈیلی کے مطابق پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب اور تربیت چین کے خلائی پروگرام میں بین الاقوامی تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کو خلائی میدان میں عملی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خلائی پروگرام ہمیشہ سے پرامن مقاصد اور انسانیت کی بہتری کے لیے وقف رہا ہے۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلائی تجربات اور کامیابیوں کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے اور دیگر ممالک کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کا مینڈ اسپیس پروگرام مختلف ممالک کے ساتھ سائنسی تجربات، تکنیکی آزمائشوں اور خلا بازوں کی تربیت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا تاکہ انسانیت کو کائنات کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کی جا سکے۔
یاد رہے کہ فروری 2025 میں چین کی مینڈ اسپیس ایجنسی اور پاکستان کے ادارے سپارکو کے درمیان اسلام آباد میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستانی خلا بازوں کے انتخاب اور تربیت کے لیے باقاعدہ تعاون کا آغاز کیا گیا تھا۔ -

کروڈ آئل بحران، اٹک ریفائنری کا مین یونٹ بند
اٹک: کروڈ آئل کی سپلائی معطل ہونے کے باعث اٹک ریفائنری نے اپنا مرکزی پیداواری یونٹ بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور ترسیل بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ کمپنی حکام کے مطابق جب تک سپلائی کا نظام بہتر نہیں ہوتا، پلانٹ بند ہی رہے گا۔
ریفائنری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کروڈ آئل کی مسلسل کمی کے باعث پیداوار برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، جس پر مجبوراً مین یونٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس یونٹ کی یومیہ پیداواری صلاحیت 32 ہزار 400 بیرل تھی، جو ملک میں ایندھن کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔
حکام کے مطابق ریفائنری میں تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث تیار مصنوعات کا اسٹاک بڑھتا جا رہا ہے، جس سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف آپریشنل نظام کو متاثر کیا بلکہ مالی نقصانات کا خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے۔
اٹک ریفائنری نے متعلقہ حکام کو ارسال کیے گئے خط میں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ کمپنی نے اپنے شیئر ہولڈرز کو بھی اس پیش رفت سے مطلع کر دیا ہے تاکہ کاروباری اثرات کے حوالے سے شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔