Baaghi TV

Blog

  • چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا باز منتخب

    چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا باز منتخب

    ‎بیجنگ: چین کے خلائی پروگرام میں دو پاکستانی خلا بازوں محمد ذیشان اور خرم داؤد کا انتخاب کر لیا گیا ہے، جو جلد چین میں تربیت حاصل کریں گے۔ چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور چین کے درمیان خلائی تعاون میں ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق دونوں خلا بازوں میں سے ایک کو مستقبل میں چین کے خلائی اسٹیشن تیانگونگ بھیجنے کا امکان ہے۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو کوئی پاکستانی خلا باز پہلی بار چینی خلائی اسٹیشن کا سفر کرے گا، جو پاکستان کے لیے تاریخی کامیابی ہوگی۔
    ‎چائنا ڈیلی کے مطابق پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب اور تربیت چین کے خلائی پروگرام میں بین الاقوامی تعاون کی ایک نمایاں مثال ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ قدم چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کو خلائی میدان میں عملی شکل دینے کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
    ‎چینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا خلائی پروگرام ہمیشہ سے پرامن مقاصد اور انسانیت کی بہتری کے لیے وقف رہا ہے۔ چین نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے خلائی تجربات اور کامیابیوں کو عالمی برادری کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیار ہے اور دیگر ممالک کو بھی اس میں شمولیت کی دعوت دیتا ہے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ چین کا مینڈ اسپیس پروگرام مختلف ممالک کے ساتھ سائنسی تجربات، تکنیکی آزمائشوں اور خلا بازوں کی تربیت کے شعبوں میں تعاون جاری رکھے گا تاکہ انسانیت کو کائنات کے بارے میں مزید آگاہی فراہم کی جا سکے۔
    ‎یاد رہے کہ فروری 2025 میں چین کی مینڈ اسپیس ایجنسی اور پاکستان کے ادارے سپارکو کے درمیان اسلام آباد میں ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستانی خلا بازوں کے انتخاب اور تربیت کے لیے باقاعدہ تعاون کا آغاز کیا گیا تھا۔

  • 
کروڈ آئل بحران، اٹک ریفائنری کا مین یونٹ بند

    
کروڈ آئل بحران، اٹک ریفائنری کا مین یونٹ بند

    ‎اٹک: کروڈ آئل کی سپلائی معطل ہونے کے باعث اٹک ریفائنری نے اپنا مرکزی پیداواری یونٹ بند کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار اور ترسیل بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ کمپنی حکام کے مطابق جب تک سپلائی کا نظام بہتر نہیں ہوتا، پلانٹ بند ہی رہے گا۔
    ‎ریفائنری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کروڈ آئل کی مسلسل کمی کے باعث پیداوار برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا، جس پر مجبوراً مین یونٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس یونٹ کی یومیہ پیداواری صلاحیت 32 ہزار 400 بیرل تھی، جو ملک میں ایندھن کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔
    ‎حکام کے مطابق ریفائنری میں تیار شدہ پیٹرول اور ڈیزل کی ترسیل بھی متاثر ہو رہی ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث تیار مصنوعات کا اسٹاک بڑھتا جا رہا ہے، جس سے ذخیرہ کرنے کی گنجائش پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف آپریشنل نظام کو متاثر کیا بلکہ مالی نقصانات کا خدشہ بھی پیدا کر دیا ہے۔
    ‎اٹک ریفائنری نے متعلقہ حکام کو ارسال کیے گئے خط میں صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔ کمپنی نے اپنے شیئر ہولڈرز کو بھی اس پیش رفت سے مطلع کر دیا ہے تاکہ کاروباری اثرات کے حوالے سے شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔

  • چین کی ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع پر سفارتی حل کی حمایت

    چین کی ایران امریکا جنگ بندی میں توسیع پر سفارتی حل کی حمایت

    ‎چین نے ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر ردعمل دیتے ہوئے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور خطے میں امن کے قیام کو ترجیح دینے پر زور دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ علاقائی صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں جنگ اور امن کے درمیان توازن برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔
    ‎ترجمان کا کہنا تھا کہ چین تمام فریقین کی جانب سے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کو دوبارہ شروع ہونے سے روکنا سب سے اہم ترجیح ہونی چاہیے، کیونکہ اس سے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
    ‎یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ اعلان میں کہا گیا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا رہا ہے تاکہ امن مذاکرات کے لیے مزید وقت فراہم کیا جا سکے۔ اس فیصلے کو عالمی سطح پر مختلف ردعمل کا سامنا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایران نے اس پیش رفت پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا نے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان یکطرفہ طور پر کیا ہے۔ تہران نے امریکی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
    ‎مزید برآں ایران نے اقوام متحدہ سے بحیرہ عمان میں امریکی کارروائی کی مذمت کا مطالبہ بھی کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ جنگ بندی میں توسیع ایک مثبت پیش رفت ہے، تاہم پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ اور نتیجہ خیز مذاکرات ناگزیر ہیں۔

  • امریکا ایران کشیدگی، بھارت میں غربت اور مہنگائی کا طوفان

    امریکا ایران کشیدگی، بھارت میں غربت اور مہنگائی کا طوفان

    ‎امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے گہرے اثرات بھارت جیسے بڑے ملک پر بھی پڑ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس تنازع کے نتیجے میں بھارت میں مزید 25 لاکھ افراد غربت کی لکیر سے نیچے جا سکتے ہیں، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔
    ‎الجزیرہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔ بھارت، جو توانائی کے لیے بڑی حد تک درآمدات پر انحصار کرتا ہے، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق گیس کی شدید قلت کے باعث کئی صنعتی یونٹس اور فیکٹریاں بند ہونے کے قریب پہنچ چکی ہیں یا جزوی طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے اور ہزاروں مزدوروں کو روزگار کے مواقع سے محروم ہونا پڑا ہے۔ صنعتی شعبے میں پیدا ہونے والی اس صورتحال نے مجموعی معیشت پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
    ‎مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح نے عام آدمی کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے باعث متوسط اور نچلے طبقے کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی چیلنج بن گیا ہے۔ کئی شہروں میں عوام نے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف احتجاج بھی شروع کر دیے ہیں۔

  • ایران کا انتباہ، لڑائی دوبارہ ہوئی تو دشمن کو تباہ کن جواب ملے گا

    ایران کا انتباہ، لڑائی دوبارہ ہوئی تو دشمن کو تباہ کن جواب ملے گا

    ایران کی پاسداران انقلاب گارڈز نے سخت لہجے میں خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی دوبارہ جنگ کی صورت اختیار کرتی ہے تو دشمن کو بھرپور اور تباہ کن جواب دیا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو دشمن کے باقی ماندہ عسکری اور اسٹریٹیجک اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا اور اسے شدید نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان کی دفاعی صلاحیتیں مکمل طور پر فعال ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پہلے ہی کیے جا چکے ہیں۔
    ‎پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ موجودہ جنگ بندی کو “نام نہاد” قرار دیتے ہوئے اس دوران دشمن کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی غیر معمولی حرکت یا خلاف ورزی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے، جبکہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ عمان میں حالیہ واقعات نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات خطے میں تناؤ کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں فریقین بیک وقت سفارتی راستے بھی کھلے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

  • جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز پر ایران کی سرگرمیاں تیز

    جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز پر ایران کی سرگرمیاں تیز

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی خطے کی صورتحال ایک بار پھر پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ایران نے بظاہر آبنائے ہرمز پر اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ یہ پیش رفت امن مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ بن سکتی ہے اور جنگ بندی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر رہی ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کی گن بوٹس نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کچھ تجارتی جہازوں کو روک لیا۔ اگرچہ اس دوران کسی جانی یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی، تاہم اس اقدام نے عالمی سطح پر تشویش کو بڑھا دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ یہ ایک انتہائی حساس آبی گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف جنگ بندی پر دباؤ بڑھے گا بلکہ یہ خطرہ بھی بڑھ گیا ہے کہ جاری ڈیڈلاک کے دوران کسی بھی وقت تنازع دوبارہ شدت اختیار کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت کے پیش نظر اس طرح کے اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
    ‎دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیان میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کو ایران کے لیے خود نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے تہران کو معاشی طور پر نقصان اٹھانا پڑے گا، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ایران اس معاملے کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اس طرح کی حکمت عملی کا مقصد امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانا اور اپنے مطالبات منوانا ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی بڑھنے اور کسی بھی وقت حالات بگڑنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

  • آبنائے ہرمز،بھارتی جہازوں پر فائرنگ کے بعد ایک جہاز ایرانی تحویل میں

    آبنائے ہرمز،بھارتی جہازوں پر فائرنگ کے بعد ایک جہاز ایرانی تحویل میں

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایرانی اقدام پر بھارتی جہاز کی ضبطی کا دعویٰ، سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

    آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، ایران نے دو جہازوں کو تحویل میں لیا ہے جن میں سے ایک بھارتی ہے،

    بھارتی معروف تجزیہ کار اشوک سوین کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اس سے قبل بھی دو بھارتی جہازوں پر فائرنگ کر چکا ہے جبکہ آج ایک اور بھارتی جہاز کو آبنائے ہرمز میں ضبط کر لیا گیا ہے۔بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ایران پاکستانی اور بنگلہ دیشی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے، تاہم بھارتی جہازوں کو روکا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کو بھارت کی خارجہ پالیسی سے جوڑتے ہوئے کہا گیا کہ "بھارت، وزیر اعظم نریندر مودی کی اسرائیلی قیادت سے قربت کی قیمت ادا کر رہا ہے”۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، جہاں حالیہ دنوں میں کشیدگی اور بحری سلامتی کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر عالمی برادری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی ، ایران کے ہاتھوں تیسرا جہاز نشانہ، دو پہلے ہی تحویل میں

    آبنائے ہرمز میں کشیدگی ، ایران کے ہاتھوں تیسرا جہاز نشانہ، دو پہلے ہی تحویل میں

    آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن گیا ہے، جہاں ایران کی جانب سے تیسرا بحری جہاز نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں نور نیوز، فارس اور مہر کے مطابق “یوفوریا” نامی جہاز کو نشانہ بنایا گیا، جو اس وقت ایرانی ساحل کے قریب پھنس چکا ہے۔ تاہم اس واقعے کی مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ دو دیگر جہازوں کو آبنائے ہرمز میں تحویل میں لے لیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ وہ مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہیں یا نہیں۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ جہاز MSC Francesca اور Epaminondas ہیں، جنہیں ایک گن بوٹ کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

    بحری سکیورٹی ادارے نے بھی تصدیق کی کہ دونوں جہازوں پر فائرنگ کی گئی۔ماہرین کے مطابق MSC Francesca دنیا کی بڑی شپنگ کمپنی MSC کے زیرِ انتظام ہے، جبکہ Epaminondas یونانی کمپنی Kalmar Maritime کی ملکیت ہے۔اطلاعات کے مطابق دونوں جہاز خلیجِ عمان کی جانب جا رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔میرین ٹریفک ڈیٹا کے مطابق جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت اپنے ٹریکنگ سسٹمز بند کر دیے تھے، جو حملوں کے وقت دوبارہ فعال ہوئے۔

    آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا اہم مرکز بن چکا ہے۔جنگ کے دوران ایران نے اس اہم گزرگاہ کو بند کر دیا تھا، جس سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ادھر امریکہ بھی اس علاقے میں ناکہ بندی کیے ہوئے ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکہ نے ایک ایرانی جہاز کو تحویل میں لیا تھا، جس کے بعد تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔پینٹاگون کے مطابق امریکی افواج نے بحرِ ہند میں ایران سے منسلک ایک اور جہاز پر بھی کارروائی کی۔تازہ واقعات کے بعد آبنائے ہرمز میں صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے، اور ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

  • امریکہ،ایران جنگ بندی کی توسیع،اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکراتی پیشرفت متوقع

    امریکہ،ایران جنگ بندی کی توسیع،اگلے 36 سے 72 گھنٹوں میں مذاکراتی پیشرفت متوقع

    امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا ہے، جس کے بعد صورتحال میں وقتی طور پر بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا ہے جسے سفارتی حلقے اس بات کی علامت قرار دے رہے ہیں کہ اس مرحلے پر جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اگرچہ خطے میں بیانات کی شدت برقرار ہے، تاہم زمینی سطح پر کسی بھی جانب سے فوجی کارروائی یا مزید عسکری کشیدگی کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقین محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔مزید اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع پاکستان کی درخواست پر کی گئی، جبکہ ایرانی مؤقف کے مطابق پاکستان اس عمل میں واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں ایک کلیدی اور مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

    سفارتی و باخبر ذرائع کے مطابق امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ 36 سے 72 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے دوسرے دور کے مذاکرات کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آ سکتی ہے، تاہم اس بارے میں حتمی صورتحال آئندہ پیش رفت پر منحصر ہوگی۔

  • الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر سبسڈی میں شفافیت یقینی بنائی جائے،وزیراعظم

    الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر سبسڈی میں شفافیت یقینی بنائی جائے،وزیراعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.

    اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک میں الیکٹرک وہیکلز (EV) کے فروغ میں تیزی لانے کیلئے جاری اقدامات میں تیزی لائی جائے. موجودہ علاقائی صورتحال اور مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر ، EV گاڑیوں کے فروغ سے ناصرف ایندھن کے درآمدی بوجھ میں کمی آئے گی، بلکہ یہ ماحولیاتی تحفظ اور انرجی سیکیورٹی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے. قومی ای -وی پالیسی کے تحت کم آمدنی والے افراد کیلئے الیکٹرک موٹر سائیکلوں پر دی جانے والی سبسڈی میں شفافیت یقینی بنائی جائے اور اس اسکیم کے نفاذ میں مزید تیزی لائی جائے.

    اجلاس کو ای وی کی ملک گیر سطح پر ترویج کیلئے جاری اقدامات پر بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشہ بنانے کیلئے 72 جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 4 مینوفیکچرنگ سرٹیفیکیٹ جاری ہو چکے. ای وی چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کیلئے اب تک 123 درخواستیں موصول ہوئی ہیں. آئندہ 5 سالوں میں ملک میں 30 فیصد گاڑیاں بجلی سے چلنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ہے، جس سے اندازا” 4.5 بلین ڈالر تک فیول کی بچت ہوگی. گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین کو آسان قسطوں پر الیکٹرک بائیکس فراہم کئے جائیں گے.اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاللہ تارڑ ، اویس خان لغاری ، احسن اقبال، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر ، چئیر مین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان ، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.