Baaghi TV

شاہراہِ دستور پر قائم کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاورخالی کرانے کے احکامات

اسلام آباد میں شاہراہِ دستور پر واقع کانسٹیٹیوشن ایونیو ٹاور (ٹوئن ٹاورز) کو خالی کرانے کے لیے رات گئے اچانک کارروائی شروع کر دی گئی، جہاں رہائش پذیر افراد کو رات دو بجے نیند سے جگا کر عمارت صبح نو بجے تک خالی کرنے کی ہدایت دی گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق پولیس کی بھاری نفری عمارت میں پہنچی اور اہلکاروں نے ہر اپارٹمنٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر مکینوں کو فوری انخلا کا حکم دیا۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انہیں انتہائی کم وقت دیا گیا، جس کے باعث شدید بے چینی اور اضطراب کی فضا پیدا ہو گئی۔

یہ ٹاور طویل عرصے سے ایک متنازعہ منصوبہ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے 2005 میں شاہراہِ دستور کی قیمتی 13 ایکڑ زمین ایک نجی کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی تھی، جس کا مقصد ایک لگژری ہوٹل کی تعمیر تھا۔ تاہم کمپنی نے منصوبے میں تبدیلی کرتے ہوئے ہوٹل کے بجائے لگژری اپارٹمنٹس تعمیر کر کے فروخت کر دیے۔ماضی میں اس منصوبے کو قانونی حیثیت بھی دی گئی تھی جب سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے اسے جائز قرار دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں سابق وزیراعظم عمران خان سمیت کئی بااثر اور مالدار افراد کے فلیٹس بھی موجود ہیں۔
تاہم حالیہ پیش رفت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس ٹاور کی لیز منسوخ کر دی ہے، جس کے بعد اس منصوبے کے خلاف دوبارہ تحقیقات کا راستہ کھل گیا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ نے عمارت کو خالی کرانے کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ لیز منسوخی کے خلاف درخواست خارج کر دی جبکہ اپارٹمنٹ مالکان کی درخواستیں نمٹا دی گئیں۔ بی این پی کمپنی کی جانب سے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ کے پلاٹ کی لیز منسوخی کے خلاف درخواست کا مختصر فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے سنایا۔ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سی ڈی اے نے ساڑھے 13 ایکڑ کا پلاٹ ہوٹل کیلئے نیلام کیا، بی این پی نامی کمپنی نے کچھ رقم دے کر قبضہ لیا اور ہوٹل کی جگہ لگژری فلیٹ بنا کر لوگوں کو بیچ دئیے سی ڈی اے نے لیز کی پوری رقم نہ ملنے پر پلاٹ کی لیز منسوخ کر دی، معاملہ سپریم کورٹ تک گیا اور مشروط طور پر لیز بحال ہو گئی۔ بعد میں بی این پی کمپنی نے سی ڈی اے کو پیسوں کے عوض کمرشل پلاٹ کی پیشکش کی، سی ڈی اے نے یہ پیشکش ٹھکرا کر لیز دوبارہ کینسل کر دی جس پر کمپنی نے پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔ سی ڈی اے کی جانب سے کاشف علی ملک ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے

More posts