اسلام آباد: پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یکم مئی کو یومِ مزدور بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر محنت کش طبقے کو ان کی خدمات کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے،ملک بھر میں مزدوروں کے علاوہ سب کی چھٹی ہے، مزدور آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اور کم اجرت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔
ملک کے مختلف شہروں میں مزدور تنظیموں کی جانب سے ریلیاں، سیمینارز اور تقاریب کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن میں مزدوروں کے حقوق، بہتر اجرت اور محفوظ کام کے ماحول کے مطالبات دہرائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود بڑی تعداد میں مزدور آج بھی اپنے عالمی دن پر چھٹی کے بغیر روزگار کی تلاش میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔
موجودہ معاشی حالات میں مہنگائی نے مزدور طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دیہاڑی دار مزدوروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے، جبکہ اجرتوں میں اضافہ نہ ہونے کے برابر ہے،بجلی،گیس کے بلوں میں اضافے، پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے مزدوروں کو مزید پریشان کر دیا ہے.
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے یومِ مزدور کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں محنت کشوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ محنت کش طبقہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں اور ہنرمند افراد کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرتی ہیں۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ، بہتر اجرت اور فلاح و بہبود کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم سب مل کر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں گے جہاں ہر مزدور کو اس کا جائز حق مل سکے.
