امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے جاری کشیدگی کے دوران ایک اور متنازع قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کو اپنے نام سے منسوب کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس اہم بحری گزرگاہ کا نقشہ شیئر کیا اور اسے ’آبنائے ٹرمپ‘ کا نام دیا، جس پر عالمی سطح پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکا کے درمیان بظاہر جنگ بندی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بیانات اور ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے اس قسم کا بیان دیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ ایک عوامی خطاب میں اسی اصطلاح کا استعمال کر چکے ہیں، جسے ابتدا میں بعض حلقوں نے مذاق یا غیر ارادی جملہ سمجھا، تاہم اب دوبارہ اس کا استعمال کیے جانے سے معاملہ سنجیدہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے، اور اس سے متعلق کسی بھی قسم کا سیاسی یا متنازع بیان عالمی سطح پر اثر ڈال سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کی اس پوسٹ کو بعض حلقے سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اسے غیر سنجیدہ رویہ قرار دے رہے ہیں، جو پہلے ہی کشیدہ صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی سطح پر اہم جغرافیائی مقامات اور تنازعات میں محتاط اور ذمہ دارانہ بیانات کی کتنی ضرورت ہے۔
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو ’آبنائے ٹرمپ‘ قرار دے دیا
