اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کے تبادلوں کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں وکلا نے احتجاج کیا ہے، جس کے باعث اس معاملے پر آئینی اور قانونی بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے مظاہرے کیے گئے، جبکہ کچھ وکلا نے اس اقدام کو آئینی قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت بھی کی۔
یاد رہے کہ قائم مقام صدر مملکت یوسف رضا گیلانی نے جوڈیشل کمیشن کی سفارش پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے تبادلوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ ان تبادلوں کے تحت ججز کو بالترتیب پشاور، لاہور اور سندھ ہائی کورٹ منتقل کیا گیا۔
ان تبادلوں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ بار، لاہور ہائی کورٹ بار اور پشاور بار کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ لاہور میں ہونے والے احتجاج میں سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی، جن میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن بھی شامل تھے۔
لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر بابر مرتضیٰ نے موقف اختیار کیا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں 26 اور 27ویں آئینی ترامیم کے خلاف کیس زیر سماعت ہے، ایسے میں ججز کے تبادلے کرنا آئینی طور پر مناسب نہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے عدالتی نظام پر سوالات اٹھ سکتے ہیں اور اسے مؤخر کیا جانا چاہیے تھا۔
دوسری جانب بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئین کے تحت ججز کے تبادلے ممکن ہیں اور یہ ایک قانونی عمل ہے، تاہم اس پر اختلاف رائے موجود ہے۔
ججز تبادلوں پر وکلا سراپا احتجاج، آئینی بحث تیز
