Baaghi TV


ایران تنازع امریکا پر مہنگا، 25 ارب ڈالر خرچ

usa

‎ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اگرچہ فی الحال عارضی جنگ بندی میں داخل ہو چکی ہے، تاہم اس دو ماہ طویل تنازع نے امریکی معیشت پر بھاری مالی بوجھ ڈال دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس جنگی صورتحال کے باعث امریکا کو اب تک تقریباً 25 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑے ہیں۔
‎تفصیلات کے مطابق یہ تنازع 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شدت اختیار کر گیا تھا، جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔ اگرچہ اس وقت کھلی جنگ بندی موجود ہے، لیکن دونوں جانب سے سخت بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صورتحال بدستور غیر یقینی ہے۔
‎پینٹاگون کے ایک اعلیٰ مالیاتی عہدیدار نے آرمڈ سروسز کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان اخراجات کا بڑا حصہ ہتھیاروں، گولہ بارود اور جنگی سازوسامان پر خرچ ہوا، جبکہ کچھ رقم مینٹیننس اور آلات کی تبدیلی پر بھی صرف کی گئی۔
‎ماہرین کے مطابق یہ اخراجات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ نے مالی سال 2027 کے لیے تقریباً 1500 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کر رکھی ہے۔ اس تناظر میں موجودہ جنگی اخراجات دفاعی پالیسی اور بجٹ میں اضافے کے جواز کے طور پر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔
‎امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اس حوالے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت دفاعی صنعتی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے تاکہ اسے جنگی بنیادوں پر چلنے والے نظام میں تبدیل کیا جا سکے۔

More posts