مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں پولیس اور بھارتی فوج کے درمیان ایک غیرمعمولی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن میں زبردستی داخل ہونے، اہلکاروں پر تشدد کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
ضلع کشتواڑ کے علاقے اتھولی میں ایک غیرمعمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں جموں و کشمیر پولیس نے مبینہ طور پر پولیس اسٹیشن پر حملے، اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں بھارتی فوج کے سات اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ مقدمے میں ایک کمانڈنگ آفیسر، ایک میجر، ایک نائب صوبیدار سمیت دیگر فوجی اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 30 سے 40 نامعلوم فوجی اہلکاروں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ایف آئی آر نمبر 17/2026، 24 جون کو پولیس اسٹیشن اتھولی میں درج کی گئی۔ مقدمے میں بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی 17 مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں جن میں اقدامِ قتل، سرکاری ملازمین پر حملہ، غیر قانونی داخلہ، سرکاری امور میں مداخلت اور دیگر سنگین الزامات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ’’پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ‘‘ کی دفعہ 3(1) بھی عائد کی گئی ہے۔پولیس کی شکایت کے مطابق واقعہ دوپہر 12 بجے سے ایک بجے کے درمیان پیش آیا۔ اس وقت پولیس اسٹیشن اتھولی کے ایس ایچ او ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے پڈر کے بلاک ڈیولپمنٹ آفس میں موجود تھے، جہاں ضلع کمشنر تقریب کی صدارت کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع ملی کہ پولیس اسٹیشن کے اندر ایک سنگین واقعہ رونما ہوا ہے، جس پر وہ فوری طور پر واپس روانہ ہوئے۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 17 راشٹریہ رائفلز سے تعلق رکھنے والے تقریباً 30 سے 40 فوجی اہلکار اپنے کمانڈنگ آفیسر کی ہدایات پر پولیس اسٹیشن پہنچے۔ پولیس کا الزام ہے کہ فوجی اہلکار لاٹھیوں، لوہے کی سلاخوں، اسلحے اور گولہ بارود سے لیس تھے اور انہوں نے مرکزی دروازے اور چار دیواری عبور کرکے زبردستی پولیس اسٹیشن میں داخلہ حاصل کیا۔پولیس کے مطابق یہ کارروائی پہلے سے منصوبہ بندی کے تحت کی گئی اور اس کا مقصد ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ پولیس اسٹیشن کے اندر موجود اہلکاروں پر حملہ کیا گیا اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی گئی۔ایف آئی آر کے مطابق جب ایس ایچ او موقع پر واپس پہنچے تو ایک میجر کی قیادت میں موجود فوجی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان پر بھی حملہ کیا اور ان کی وردی پھاڑ دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سب ڈویژنل پولیس آفیسر وجے کمار بھگت سمیت متعدد اہلکاروں کو بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس کے مطابق اسپیشل پولیس آفیسر سریش کمار کو رائفل کے بٹ سے گردن پر وار کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ دیگر اہلکاروں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔واقعے کے وقت کشتواڑ کے اسسٹنٹ ریجنل ٹرانسپورٹ آفیسر اور ان کے ذاتی سکیورٹی اہلکار بھی پولیس اسٹیشن میں موجود تھے۔ پولیس کا الزام ہے کہ انہیں بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
شکایت میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ARTO، SHO اور SDPO کی سرکاری گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس اسٹیشن کے مرکزی دروازے کو بھی توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب بھارتی فوج نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتھولی پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کا معاملہ ادارہ جاتی طریقہ کار کے تحت زیر غور ہے۔ فوجی حکام کے مطابق بھارتی فوج قانونی کارروائی اور تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گی اور مشترکہ تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔فوج کا کہنا ہے کہ چونکہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے اس مرحلے پر مزید تبصرہ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
اہم بات یہ ہے کہ پولیس کی تفصیلی شکایت کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فوج اور پولیس کے درمیان کشیدگی یا تصادم کی اصل وجہ کیا تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید شواہد اور بیانات سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل حقیقت واضح ہو سکے گی۔
