Baaghi TV

Blog

  • سرگودھا: 7 سالہ منتہا زہرہ زیادتی و قتل کیس، لواحقین کادیگر ملزمان کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سرگودھا: 7 سالہ منتہا زہرہ زیادتی و قتل کیس، لواحقین کادیگر ملزمان کیخلاف کاروائی کا مطالبہ

    سرگودھا میں زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 7 سالہ بچی منتہا زہرہ کے اہلِ خانہ نے پولیس تفتیش پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے انصاف کی فراہمی اور واقعے میں ملوث تمام افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    مقتولہ کے لواحقین کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے بچی کی لاش عمارت کی تیسری منزل سے برآمد ہوئی، جبکہ واقعے کے وقت متعلقہ دکان میں پانچ افراد موجود تھے، اس لیے تمام افراد سے مکمل اور غیرجانبدارانہ تفتیش کی جائے تاکہ کوئی بھی ملزم قانون کی گرفت سے نہ بچ سکے۔اہلِ خانہ کے مطابق 7 سالہ منتہا زہرہ کریانہ کی دکان پر سامان خریدنے گئی تھی، جہاں مبینہ طور پر اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے کا مرکزی ملزم ارسلان گزشتہ روز ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا تھا، جبکہ مزید چار افراد کو حراست میں لے کر تفتیش جاری ہے۔

    دوسری جانب سرگودھا انتظامیہ نے واقعے کے بعد ملزم کی دکان کے باہر قائم شٹر، فٹ پاتھ اور تشہیری بورڈ کو مسمار کر دیا ہے۔ واقعے کے خلاف شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور متعدد افراد نے دکان کے باہر احتجاج کرتے ہوئے پتھراؤ بھی کیا۔مرکزی ملزم ارسلان کی والدہ نے بھی میڈیا سے گفتگو میں مطالبہ کیا ہے کہ اگر ان کے بیٹے کے ساتھ دیگر افراد بھی اس جرم میں ملوث ہیں تو انہیں بھی قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دکان کے مالک اور مقتولہ کے والد کے درمیان پہلے سے تنازع موجود تھا، جس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور کوئی ملزم بچ نہ سکے۔

    پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واقعے کی ہولناکی مزید واضح ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بچی کو قتل سے قبل بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے چہرے سمیت جسم کے مختلف حصوں پر تشدد کے سات نشانات پائے گئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچی کے چہرے اور ماتھے کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں جبکہ سر کے دائیں جانب بھی زخم موجود تھے۔ طبی معائنے کے مطابق بچی کی موت شہ رگ کٹنے کے باعث واقع ہوئی جبکہ اس سے جنسی زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

    ادھر مرکزی ملزم ارسلان کی تدفین کے حوالے سے بھی غیرمعمولی صورتحال سامنے آئی۔ ذرائع کے مطابق جب پوسٹ مارٹم کے بعد ملزم کی لاش آبائی علاقے منور ٹاؤن پہنچائی گئی تو مقامی افراد نے اس کا جنازہ پڑھنے اور مقامی قبرستان میں تدفین کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں لاش کو حیدر آباد ٹاؤن منتقل کیا گیا جہاں تدفین کے انتظامات کیے گئے۔

    واضح رہے کہ تین روز قبل سرگودھا کے علاقے کارخانہ بازار بلاک 8 میں 7 سالہ منتہا زہرہ کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کے بعد اس کا گلا کاٹ کر قتل کر دیا گیا تھا۔ افسوسناک واقعے نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے جبکہ عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام کرداروں کو بے نقاب کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔

  • دہشت گرد بیٹے سے والد کا لاتعلقی کا اعلان

    دہشت گرد بیٹے سے والد کا لاتعلقی کا اعلان

    سرادرگہ کے رہائشی گلاپ خان نے اپنے دہشت گرد بیٹے اسد اللہ سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا بیٹا گزشتہ ایک سال سے ایک دہشت گرد تنظیم کے ساتھ وابستہ ہے اور اس نے ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس سے خاندان کا کوئی تعلق نہیں۔

    گلاپ خان نے بتایا کہ وہ خود اپنے بیٹے کے پاس گئے اور اسے دو ٹوک الفاظ میں آگاہ کیا کہ آج کے بعد نہ وہ اس کے والد ہیں اور نہ ہی اس کی والدہ سے اس کا کوئی تعلق باقی رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’میں نے اپنے بیٹے سے صاف کہہ دیا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ تم نے راستہ اختیار کیا ہے، اب وہی تمہارے والدین ہیں۔ ہمارا تم سے ہر قسم کا تعلق ختم ہو چکا ہے۔‘‘گلاپ خان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا راستہ اختیار کرنے والے عناصر نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کے جھانسے میں آنے سے گریز کریں اور ملک و قوم کی ترقی کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔

    مقامی حلقوں کے مطابق گلاپ خان کے اس اعلان کو دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف ایک واضح پیغام قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرہ دہشت گرد عناصر اور ان کے نظریات کو مسترد کر رہا ہے۔

  • چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی پریس کانفرنس،کالعدم کمیٹی کا بیانیہ مسترد

    چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی پریس کانفرنس،کالعدم کمیٹی کا بیانیہ مسترد

    مظفرآباد: چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کی مشترکہ پریس کانفرنس کو عوامی حلقوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد اور حقائق کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پریس کانفرنس نے کالعدم کمیٹی کے مبینہ گمراہ کن بیانیے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    عوامی نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ ہسپتال کے واقعے میں پہل کالعدم کمیٹی کی جانب سے کی گئی، تاہم بعد ازاں جوابی کارروائی کو بنیاد بنا کر حقائق کے برعکس پروپیگنڈا کیا گیا۔ شہریوں کے مطابق پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے شواہد نے صورتحال کو واضح کر دیا اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا۔شہریوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ بعض انتشار پسند عناصر نوجوانوں کو ورغلا کر انہیں ریاستی اداروں کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھما کر اشتعال انگیزی اور بدامنی کو فروغ دینا کسی صورت قابل قبول نہیں۔

    عوامی حلقوں نے الحاقِ پاکستان کے خلاف کسی بھی مطالبے یا بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے وابستگی کشمیری عوام کے ایمان، نظریے اور اجتماعی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے اس مؤقف کو ریاستی مفاد اور عوامی امنگوں کے مطابق قرار دیا۔شہریوں کا کہنا تھا کہ قانونی اور آئینی معاملات کو طاقت یا تشدد کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ شرپسند عناصر اور انتشار پھیلانے والی کمیٹیوں سے دور رہیں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لیے کوشش کریں۔عوام نے ریاستی معاملات پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے اور حقائق قوم کے سامنے لانے پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور آزاد کشمیر کے عوام ریاستی استحکام، امن اور قانون کی بالادستی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آزاد کشمیر میں امن و امان، قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے وقار کے خلاف کسی بھی سازش یا انتشار انگیز سرگرمی کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر،امرناتھ یاترا کیلئے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں پیراملٹری کی سینکڑوں اِضافی کمپنیاں تعینات

    مقبوضہ کشمیر،امرناتھ یاترا کیلئے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں پیراملٹری کی سینکڑوں اِضافی کمپنیاں تعینات

    بھارت کے غیرقانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں بھارتی انتظامیہ نے سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے حفاظتی اقدامات کی آڑ میں پیراملٹری کی اِضافی سینکڑوں کمپنیوں اور ایلیٹ کمانڈو یونٹس کی تعیناتی کے علاوہ نگرانی کا جدید نظام قائم کر دیا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یاترا 3 جولائی کو شروع ہو گی اور 28 اگست تک جاری رہے گی۔ یاترا کے راستے پر ہزاروں پیراملٹری اہلکاروں کی تعیناتی کے علاوہ 4 سوسے زائد سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے گئے ہیں ۔
    فوج ، سی آر پی ایف ، بی ایس ایف اور آئی ٹی بی پی کے ساتھ ساتھ سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کی تقریباً 700 کمپنیاں جموں سری نگر شاہراہ ، بیس کیمپوں اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر تعینات کی گئی ہیں۔بھارتی فورسز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مسلسل فرضی مشقیں کر رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ حالیہ برسوں کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سالانہ امرناتھ یاترا میں شرکت کرنے والوں کی تعداد تقریباً ساڑھے 3 لاکھ سے 5 لاکھ کے درمیان رہی ہے۔ہر برس لاکھوں ہندو یاتریوں کی مقبوضہ وادیِ کشمیر میں آمد سے یہاں کا قدرتی ماحول بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ بھارت یاترا کے انعقاد کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہا ہے اور تمام وسائل بروئے کار لاتا ہے جبکہ دوسری طرف وہ دیگر بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کے مذہبی حقوق بھی سلب کر رہا ہے۔ بھارتی انتظامیہ سرینگر کی تاریخی جامع مسجد اکثر جمعہ کے روز سیل کر کے کشمیری مسلمانوں کو اس میں نمازِ جمعہ کے اہم دینی فریضے سے روک دیتی ہے۔ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں محرم الحرام کے بڑے جلوسوں پر بھی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

  • پنجاب،صحت کے شعبے میں تین بڑے منصوبے افتتاح کے لیے تیار

    پنجاب،صحت کے شعبے میں تین بڑے منصوبے افتتاح کے لیے تیار

    پنجاب کے عوام کے لیے صحت کے شعبے میں تین بڑے منصوبے افتتاح کے لیے تیار ہیں۔

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے اجلاس میں نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا، نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا کا تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے اور اس کا افتتاح 15 جولائی کو متوقع ہے۔ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کا افتتاح 31 جولائی جبکہ جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور کا افتتاح 15 اگست کو کیا جائے گا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں 22 ملین مریضوں کو مفت علاج فراہم کیا گیا، جبکہ چلڈرن ہارٹ سرجری پروگرام کے تحت بچوں کے دل کی 13 ہزار 550 مفت سرجریاں مکمل کی گئیں۔ ادویات کی فراہمی کے پروگرام کے تحت 7 لاکھ 28 ہزار مریضوں کو ان کی دہلیز پر مفت ادویات فراہم کی گئیں۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں بہترین ہیومن ریسورس لانا ان کا مشن ہے۔ اجلاس میں ڈائیسپورا ڈاکٹر لوکم پروگرام کی منظوری بھی دی گئی، جس کے تحت بیرون ملک پاکستانی اور غیر ملکی ماہر ڈاکٹرز کو پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں شارٹ ٹرم سروس کے لیے شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے ماہر ڈاکٹرز اور نرسز کو بہترین پیکیج دیا جائے گا جبکہ نرسنگ کیئر کے معیار کو مزید بہتر بنایا جائے گا

  • ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ  فرزانہ صادق کی علیم خان سے ملاقات

    ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق کی علیم خان سے ملاقات

    اسلام آباد: پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی ایران کی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان ٹرانسپورٹ، تجارت اور سرحدی روابط کے فروغ سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ملاقات میں پاکستان کی جانب سے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار بھی شریک تھے، جبکہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔اس موقع پر وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے خطے میں امن کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایرانی عوام کے پختہ عزم، حوصلے اور استقامت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں پاکستان اور ایران کے درمیان سڑک اور ریل کے ذریعے روابط مزید مضبوط ہوں گے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں اور معاشی تعاون میں نمایاں اضافہ ہوگا۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ زمینی رابطوں کے فروغ سے نہ صرف دوطرفہ تجارت کو وسعت ملے گی بلکہ خطے میں اقتصادی انضمام اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان ٹرانسپورٹ کے شعبے میں درپیش مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

    اجلاس میں مختلف تجاویز پر غور کیا گیا اور دونوں وفود نے پاک ایران مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی کو فعال بنانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ سرحدی علاقوں میں ٹرانسپورٹ اور تجارتی سرگرمیوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

    ایرانی وزیر ٹرانسپورٹ فرزانہ صادق نے جنگ بندی اور امن معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام پاکستان کی بھرپور حمایت اور تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ملاقات کے دوران فرزانہ صادق نے دونوں ممالک کے درمیان ٹرکوں اور کنٹینرز کی کلیئرنس میں حائل مشکلات کا معاملہ بھی اٹھایا، جس پر فریقین نے باہمی تعاون کے ذریعے ان مسائل کے جلد حل کے عزم کا اظہار کیا۔اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے پاک ایران بارڈر پر موجود حل طلب امور کو مشترکہ کوششوں سے نمٹانے اور ٹرانسپورٹ، تجارت اور مواصلات کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

  • ہنگری میں انسانی اعضا جمع کرنے، انسانی گوشت کھانے والا ملزم گرفتار

    ہنگری میں انسانی اعضا جمع کرنے، انسانی گوشت کھانے والا ملزم گرفتار

    ہنگری پولیس نے 30 سالہ شخص کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ اسپتال اور متروک قبرستانوں سے انسانی جسم کے اعضا جمع کرکے اپنے گھر میں محفوظ رکھتا تھا۔

    ہنگری کے نیشنل بیورو آف انویسٹی گیشن کے مطابق ملزم کو 17 جون کو دارالحکومت بوڈاپیسٹ سے گرفتار کیا گیا۔ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ وہ انسانی اعضا اپنے گھر اور اسپتال میں ذخیرہ کر رہا ہے۔ ملزم ایک اسپتال میں وارڈ اٹینڈنٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔پولیس نے ملزم کے اپارٹمنٹ پر چھاپے کے دوران کئی انسانی کھوپڑیاں، ایک مکمل نچلی ٹانگ، ایک ہاتھ اور انسانی چہرے کی جلد سے تیار کردہ چہرے کا نمونہ برآمد کیا۔ اس کے علاوہ ایک سوٹ کیس میں مزید ہڈیاں بھی رکھی ہوئی تھیں۔تحقیقات کے دوران ایک مرتبان میں محفوظ دل بھی برآمد ہوا، جس کے بارے میں ماہرین یہ تعین کر رہے ہیں کہ آیا وہ انسانی ہے یا کسی جانور کا۔

    پولیس کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش انسانی اعضا جمع کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اسے انسانی جسم کے اعضا میں غیرمعمولی دلچسپی تھی۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ بعض انسانی اعضا سے کھانا تیار کر کے کھا چکا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو انسانی باقیات کے غیرقانونی استعمال کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اناٹومی اور پیتھالوجی کا شوقین ہے اور جانوروں کی چیر پھاڑ بھی کرتا رہا ہے۔تفتیش کاروں کا شبہ ہے کہ ملزم نے کچھ اعضا اپنے اسپتال کے کام کے دوران حاصل کیے جبکہ بعض انسانی باقیات ہنگری اور سلواکیہ کے متروک قبرستانوں سے قبریں کھود کر نکالی گئیں۔

    پولیس نے ملزم کے کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، موبائل فونز، سم کارڈز اور دیگر ڈیجیٹل مواد بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ تمام برآمد شدہ انسانی باقیات فرانزک ماہرین کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مقدمے میں مزید سنگین الزامات بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔

  • ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی، امریکہ پر اعتماد میں کمی

    ایران جنگ کے بعد خلیجی ممالک کی نئی حکمتِ عملی، امریکہ پر اعتماد میں کمی

    ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ بندی معاہدے کے بعد خلیجی عرب ممالک ایک نئے سکیورٹی اور سفارتی دوراہے پر کھڑے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ نے نہ صرف خطے کے سکیورٹی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے بلکہ امریکہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی سکیورٹی ضمانتوں پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔خلیجی ممالک کئی دہائیوں سے امریکہ کو اپنا سب سے اہم سٹریٹجک اتحادی تصور کرتے رہے ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور سے واشنگٹن اور خلیجی ریاستوں کے تعلقات میں ایک زیادہ "لین دین” پر مبنی سوچ نمایاں ہونے لگی تھی۔ ٹرمپ نے 2018 میں سعودی عرب کے بارے میں کہا تھا کہ امریکہ کے بغیر سعودی قیادت زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رہ سکتی، جسے خلیجی ممالک میں مختلف انداز سے دیکھا گیا۔

    2019 میں سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات پر حملے کے بعد، جس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا، خلیجی ممالک میں یہ خدشات پیدا ہوئے کہ امریکہ کس حد تک ان کے دفاع کے لیے عملی اقدامات کرنے کو تیار ہے۔ یہی خدشات حالیہ ایران جنگ کے بعد مزید گہرے ہو گئے ہیں۔رواں سال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی اور اس کے بعد ایران کے جوابی حملوں نے خلیجی ریاستوں کو براہ راست متاثر کیا۔ متحدہ عرب امارات، بحرین،سعودی عرب اور کویت ان ممالک میں شامل ہیں جنہیں جنگ کے دوران ایرانی حملوں کے خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔اسی پس منظر میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے خلیجی قیادت کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ امریکہ کی سکیورٹی وابستگیاں برقرار ہیں۔ روبیو نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ مذاکرات میں اپنے خلیجی اتحادیوں کے مفادات کو نظر انداز نہیں کرے گا اور ہر اہم فیصلے پر انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

    ماہرین کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان ابھرنے والا نیا معاہدہ خلیجی دارالحکومتوں میں تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ خلیجی ممالک کا مؤقف ہے کہ معاہدہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں جیسے اہم مسائل کا مکمل حل پیش نہیں کرتا۔مزید برآں، معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی میں ایران کو ایک باضابطہ کردار دیا جا رہا ہے۔ چونکہ خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات اور سمندری تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، اس لیے کئی حلقے اسے اپنے اقتصادی مفادات کے لیے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ معاہدے میں ایران کی تعمیر نو کے لیے 300 ارب ڈالر کے خصوصی فنڈ کی تجویز بھی شامل ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس منصوبے کے لیے خلیجی ممالک کی مالی معاونت کا عندیہ دیا ہے، تاہم اب تک سعودی عرب اور دیگر ریاستوں نے اس حوالے سے واضح عزم کا اظہار نہیں کیا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے کی مکمل تفصیلات موصول نہیں ہوئیں، جبکہ قطر نے دلچسپی ظاہر کی ہے لیکن باضابطہ شمولیت اختیار نہیں کی۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک اب اپنی دفاعی ضروریات کے لیے متبادل شراکت داروں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ ترکی کو اس سلسلے میں ایک ممکنہ دفاعی سپلائر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ کئی ریاستیں اپنی مقامی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک مستقبل میں ایک ایسے علاقائی سکیورٹی نظام پر غور کر سکتے ہیں جس میں ایران کے ساتھ "عدم جارحیت معاہدہ” بھی شامل ہو۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس طرح کے کسی معاہدے کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ خلیجی ممالک اپنی دفاعی طاقت اور مشترکہ سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنائیں۔

    علاقائی مبصرین کا خیال ہے کہ خلیجی ممالک اب نہ صرف ایران بلکہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کا بھی ازسرِنو جائزہ لے رہے ہیں۔ کئی ماہرین کے مطابق امریکہ پر مکمل انحصار کی پالیسی کمزور پڑ رہی ہے اور خلیجی ریاستیں مستقبل میں زیادہ خودمختار سکیورٹی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کریں گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے صرف سفارت کاری کافی نہیں ہوگی بلکہ دفاعی تیاری، علاقائی تعاون اور مؤثر بازدار قوت بھی ناگزیر ہوگی۔ ایران جنگ کے بعد پیدا ہونے والی نئی صورتحال نے مشرق وسطیٰ کے سکیورٹی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے اور آنے والے برسوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

  • بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    بیٹی اور بہو میں فرق،تحریر:نور فاطمہ

    رشتے خون سے نہیں، رویے سے بنتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں "بیٹی” اور "بہو” دو ایسے رشتے ہیں جنہیں اکثر ایک پلڑے میں تولا جاتا ہے، مگر دونوں کی جگہ، ذمہ داری اور احساس الگ ہے۔ فرق برا نہیں، بس سمجھنے کا ہے۔

    بیٹی گھر کی جان ہوتی ہے۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوتی ہے، پلتی ہے، اس کی ہنسی سے دیواریں گونجتی ہیں۔ ماں باپ کے لیے وہ امانت ہے۔ بیٹی سے توقع صرف محبت اور مان کی ہوتی ہے۔ غلطی کرے تو ماں سمجھاتی ہے، باپ ڈانٹ کر بھول جاتا ہے۔ اسے کھانا بنانا نہ آئے تو بھی "سیکھ جائے گی” کہا جاتا ہے۔ اس کی تعلیم، شوق، مرضی سب کو اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹی گھر چھوڑ کر جاتی ہے تو پورا گھر خالی لگتا ہے، مگر اس کی واپسی پر دروازے کھول دیے جاتے ہیں، حساب نہیں مانگا جاتا۔

    بہو دوسرے گھر سے آتی ہے۔ وہ اپنی ماں، اپنی عادتیں، اپنا بچپن چھوڑ کر ایک اجنبی گھر، اجنبی لوگوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کرتی ہے۔ اس سے توقع ذمہ داری کی ہوتی ہے۔ کھانا، صفائی، ساس سسر کی خدمت – سب اس کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ غلطی ہو جائے تو "پرائے گھر کی ہے” کہہ کر یاد دلا دیا جاتا ہے۔ اسے اپنا بننے کے لیے خود کوثابت کرنا پڑتا ہے۔ اس کی محبت کو بھی "فرض” کا نام دے دیا جاتا ہے۔ بہو جب ماں بنتی ہے تو بھی اسے "دوسروں کی امانت” سمجھا جاتا ہے۔

    فرق کی جڑ سوچ میں ہے۔ بیٹی کو ہم "اپنا” سمجھ کر پالتے ہیں، بہو کو "اپنانا” پڑتا ہے۔ بیٹی کی آزادی کو مان دیتے ہیں، بہو کی آزادی کو "بدتمیزی” سمجھ لیتے ہیں۔ بیٹی روٹھے تو مناتے ہیں، بہو روٹھے تو "نخرے” کہہ دیتے ہیں۔

    حقیقت یہ ہے کہ بہو بھی کسی کی بیٹی ہوتی ہے۔ جس محبت، برداشت اور موقع کی توقع ہم اپنی بیٹی کے لیے رکھتے ہیں، وہی بہو کو دیں تو فرق خود بخود مٹ جائے گا۔ اور جس عزت، قربانی اور ذمہ داری کی امید ہم بہو سے رکھتے ہیں، وہی سلوک اگر ہم اپنی بیٹی کے سسرال والوں سے کریں تو رشتے مضبوط ہو جائیں۔

    نہ بیٹی کم ہے نہ بہو زیادہ۔ دونوں عورت ہیں، دونوں بیٹیاں ہیں۔ ایک نے گھر دیا، دوسری نے گھر سنبھالا۔ اگر ساس بہو کو بیٹی سمجھ لے اور بہو ساس کو ماں، تو "فرق” لفظ ہی ڈکشنری سے نکل جائے گا۔ رشتے تب ہی خوبصورت ہیں جب برابری ہو۔

  • گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    گنگا چوٹی، قدرت کا شاہکار،تحریر:بینا علی

    آزاد کشمیر کے ضلع باغ میں واقع گنگا چوٹی ایک ایسی جگہ ہے جسے دیکھ کر انسان کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں۔ پیر پنجال کے بلند پہاڑی سلسلے میں سر اٹھائے یہ چوٹی سطح سمندر سے تقریباً 3,045 میٹر یعنی 9,989 فٹ بلند ہے۔ یہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے جیسے آپ بادلوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    گنگا چوٹی کا اصل حسن اس کے مقام میں ہے۔ یہ سدھن گلی کے قریب واقع ہے اور قدرتی طور پر دو اضلاع کو جوڑتی ہے۔ اس کے ایک طرف ضلع باغ کی وادیاں ہیں تو دوسری طرف ضلع جہلم ویلی کے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ اسلام آباد سے یہاں کا سفر تقریباً 200 کلومیٹر کا ہے۔ ہزارہ موٹروے اور مری ایکسپریس وے سے ہوتے ہوئے باغ اور پھر سدھن گلی تک پکی اور بہترین سڑک موجود ہے۔ سدھن گلی سے گنگا چوٹی تک جیپ یا عام گاڑی آرام سے چلی جاتی ہے۔ پیدل چلنے کے شوقین لوگوں کے لیے بھی مختصر ٹریک موجود ہے جو ہرے بھرے جنگل سے گزرتا ہے۔

    اس چوٹی پر کھڑے ہو کر چاروں طرف کا نظارہ دل موہ لیتا ہے۔ وسیع سبز چراگاہیں جن پر بھیڑ بکریاں چرتی ہیں۔ دور تک پھیلی ہوئی وادیاں، اور نیچے بادلوں کا سمندر سب کچھ کسی خواب جیسا لگتا ہے۔ گرمیوں میں یہاں کا موسم بہت ہی خوشگوار اور ٹھنڈا رہتا ہے۔ شہروں کی گرمی سے تنگ لوگ جب یہاں پہنچتے ہیں تو ٹھنڈی ہوائیں ساری تھکن اتار دیتی ہیں۔ سردیوں میں یہ پورا علاقہ سفید برف کی چادر اوڑھ لیتا ہے اور منظر مکمل بدل جاتا ہے۔ برفباری کے شوقین لوگ دسمبر سے فروری کے درمیان یہاں کا رخ کرتے ہیں۔گنگا چوٹی صرف ایک پہاڑ نہیں بلکہ سکون کی جگہ ہے۔ یہاں کیمپنگ کا اپنا ہی مزہ ہے۔ رات کو تاروں بھرا آسمان اور صبح منہ پر پڑتی دھوپ زندگی بھر یاد رہتی ہے۔ مقامی لوگ بہت مہمان نواز ہیں اور سیاحوں سے محبت سے پیش آتے ہیں۔اگر آپ نے ابھی تک کشمیر کی یہ جنت نہیں دیکھی تو سمجھیں کچھ نہیں دیکھا۔ ایک بار ضرور جائیں کیونکہ گنگا چوٹی کی خوبصورتی الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی، اسے صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
    ganga choti