ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی کمپنی سے منسلک کارگو جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جہاز کو ٹرانزٹ قوانین اور سمندری ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر روکا گیا۔
ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق واقعہ آبنائے ہرمز میں پیش آیا، جہاں امریکی فوج کی مبینہ سرپرستی میں چار تجارتی جہاز گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ ان میں سے ایک جہاز کو نشانہ بنا کر روک لیا گیا جبکہ دیگر تین جہاز اپنا راستہ تبدیل کرکے واپس چلے گئے۔
ایرانی میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں ایک کارگو جہاز کو دکھایا گیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایک امریکی کمپنی سے وابستہ ہے۔ تاہم جہاز کی ملکیت اور اس کی سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات فوری طور پر جاری نہیں کی گئیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق کارروائی بین الاقوامی بحری قوانین اور ایرانی ضوابط کے تحت کی گئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہاز کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی جاری ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
دوسری جانب خبر لکھے جانے تک امریکا کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ امریکی حکام نے نہ تو جہاز کی تحویل میں لیے جانے کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی ایرانی دعوے کی تردید کی ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس حساس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی منڈیوں اور سمندری تجارت پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔