Baaghi TV

مودی سرکار تو گئی،بھارت کے نوجوانوں کا غصہ عروج پر

بھارت میں امتحانی اسکینڈلز، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور محدود تعلیمی و روزگار مواقع کے خلاف نوجوانوں کا غصہ کھل کر سامنے آنے لگا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر سڑکوں تک نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظام میں جوابدہی اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ ایک نئی سیاسی و سماجی تحریک نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

اس تحریک کی قیادت 30 سالہ بھارتی نوجوان ابھیجیت دیپکے کر رہے ہیں، جو بوسٹن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی "کاکروچ جنتا پارٹی” کے بانی ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ سے واپس نئی دہلی پہنچ رہے ہیں اور اس ہفتے کے اختتام پر دارالحکومت میں ایک بڑے احتجاج کی قیادت کریں گے۔دیپکے نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو خدشہ ہے کہ انہیں ایئرپورٹ پر گرفتار کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ اب خاموش رہنے کے لیے تیار نہیں۔انہوں نے کہا، "یہ ملک صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ تمام شہریوں کا ہے۔ ہمارے مستقبل کا سوال ہے اور ہمارا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے۔”

بھارت میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلے کے لیے ہونے والے مقابلہ جاتی امتحانات طویل عرصے سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے، تکنیکی خرابیوں اور انتظامی بے ضابطگیوں کے باعث لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔حال ہی میں بھارت کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں شریک 20 لاکھ سے زائد طلبہ کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب مبینہ پرچہ لیک ہونے کے الزامات کے بعد امتحان کے نتائج منسوخ کر دیے گئے۔ اس فیصلے نے نوجوانوں کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔
24 سالہ طالبہ ویرونیکا مدن نے بتایا کہ انہوں نے دو سال تک میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان کی تیاری کی، مگر مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ امتحان کا دباؤ صرف امتحان کے دن نہیں بلکہ کئی ماہ اور بعض اوقات کئی برس پہلے سے شروع ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا، "ہمیں ہر قیمت پر کامیابی حاصل کرنے کی فکر ہوتی ہے۔ اپنے خاندان اور خود کو مایوس کرنے کا خوف ہر وقت موجود رہتا ہے۔”مدن کے مطابق اگرچہ وہ میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل نہ کر سکیں، لیکن اب فرانزک سائنس میں ماسٹرز کر رہی ہیں اور اس ناکامی کو نئی سمت قرار دیتی ہیں۔

بھارت دنیا کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والا ملک ہے جہاں تقریباً 1.4 ارب افراد رہتے ہیں۔ ملک میں نوجوانوں کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں 15 سے 29 سال عمر کے درمیان 36 کروڑ سے زائد افراد موجود ہیں، مگر نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بدستور تشویشناک ہے۔رپورٹ کے مطابق 25 سال یا اس سے کم عمر گریجویٹس میں تقریباً 40 فیصد بے روزگار ہیں، جبکہ 20 سے 29 سال کے عمر گروپ میں تقریباً 20 فیصد نوجوان روزگار سے محروم ہیں۔ماہرین کے مطابق تعلیم سے روزگار تک کا سفر نوجوانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے، جبکہ مہنگائی میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

"کاکروچ جنتا پارٹی” کیسے وجود میں آئی؟
"کاکروچ جنتا پارٹی” دراصل ایک طنزیہ سیاسی تحریک کے طور پر سامنے آئی، جس نے محض ایک ہفتے میں سوشل میڈیا پر 2 کروڑ 20 لاکھ سے زائد فالوورز حاصل کر لیے۔اس تحریک کا نام ایک ایسے تنازعے کے بعد سامنے آیا جب بھارتی سپریم کورٹ کے جج سوریا کانت کے ایک بیان کو بے روزگار نوجوانوں کے لیے "کاکروچ” کہنے کے طور پر لیا گیا۔ بعد میں جج نے وضاحت کی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگریوں کے ذریعے پیشوں میں داخل ہونے والے افراد کی جانب تھا، تاہم نوجوانوں میں اس بیان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا۔اسی دوران امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات نے بھی عوامی غصے کو ہوا دی، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے "کاکروچ جنتا پارٹی” نوجوانوں کی آواز بن کر ابھری۔پارٹی کی ایک حامی امریتا سنگھ کا کہنا ہے کہ نوجوان ہی ملک کی ترقی اور تعمیر میں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ جماعت ایسے قومی مسائل اٹھا رہی ہے جن کی اصلاح ضروری ہے۔

بھارت میں گزشتہ چند برسوں کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں مختلف احتجاجی تحریکیں سامنے آئی ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک میں بھی نوجوانوں نے سیاسی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تاہم بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی مسلسل انتخابی کامیابیاں حاصل کرتی رہی ہے۔اس کے باوجود نوجوانوں کے ایک حصے میں یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ حکومت روزگار، تعلیم اور شفافیت جیسے بنیادی مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان اور تحقیقاتی صحافی سوراو داس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی تحریک کا بنیادی مطالبہ نظام میں جوابدہی پیدا کرنا ہے۔انہوں نے کہا، "نظام میں بہت زیادہ خرابیاں جمع ہو چکی ہیں اور عوام اب کھل کر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔”ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہفتہ کی صبح نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچیں گے، جہاں سے ان کے حامی ایک منظم احتجاجی مہم کا آغاز کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر پولیس اجازت دیتی ہے تو مظاہرین تاریخی جنتر منتر کی جانب مارچ کریں گے، جو بھارتی دارالحکومت میں سیاسی احتجاجوں کا معروف مرکز سمجھا جاتا ہے۔دیپکے نے زور دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج مکمل طور پر پُرامن اور جمہوری انداز میں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا، "اب وقت آ گیا ہے کہ نظام میں جوابدہی کو بحال کیا جائے۔”

سیاسی مبصرین کے مطابق بھارت کی نئی نسل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ، ڈیجیٹل طور پر باخبر اور سیاسی شعور رکھنے والی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کو اپنی آواز منظم انداز میں بلند کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔اگرچہ یہ واضح نہیں کہ "کاکروچ جنتا پارٹی” ایک مستقل سیاسی قوت بن سکے گی یا نہیں، لیکن اس نے بے روزگاری، تعلیمی نظام کی خامیوں اور حکومتی جوابدہی کے سوالات کو قومی بحث کا حصہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی اب محض آن لائن گفتگو تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی سیاسی سرگرمی کی شکل اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

More posts