ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کا کوئی امکان نہیں ہے،تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات کی بحالی کا انحصار ایرانی منجمد اثاثوں کی رہائی پر ہے۔
سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اس وقت مکمل تعطل کا شکار ہیں اور اگر امریکہ سفارتی پیش رفت چاہتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایرانی اثاثے آزاد کرنے ہوں گے۔محسن رضائی کے مطابق ایران تقریباً 24 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز کی مرحلہ وار رہائی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم ایران کی اپنی ہے اور اسے واپس کرنا امریکہ کے لیے کسی جنگ کے مقابلے میں کہیں کم قیمت کا اقدام ہوگا۔انہوں نے کہا، "یہ ہمارا اپنا پیسہ ہے، امریکہ کا نہیں۔ مذاکرات کی لاگت امریکہ کے لیے ہم سے جنگ کرنے کی لاگت سے کہیں کم ہے۔”
رضائی نے زور دیا کہ اب مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری صدر ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے بقول، "گیند اب ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔”انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اقتصادی دباؤ اور کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات اہم بین الاقوامی بحری راستوں تک پھیل سکتے ہیں، جن میں بحرِ ہند، بحیرہ احمر، باب المندب اور بحیرہ روم شامل ہیں۔محسن رضائی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور سپریم لیڈر خامنہ ای کے درمیان ملاقات "ہرگز نہیں ہوگی”۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ٹرمپ کی پالیسیوں نے سفارتی عمل کو سست کر دیا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل صدر ٹرمپ نے امریکی میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ مستقبل میں کسی وقت خامنہ ای سے ملاقات کے لیے تیار ہیں اور اسے اپنے لیے اعزاز سمجھیں گے۔آبنائے ہرمز کے حوالے سے رضائی نے کہا کہ ایران اور عمان اس اہم آبی گزرگاہ پر مشترکہ خودمختاری رکھتے ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس راستے کی دیکھ بھال کا تمام بوجھ صرف ایران پر نہیں ڈالا جا سکتا اور دونوں ممالک کو مل کر اس کا انتظام کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور امریکہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ایران اس کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران کی زمینی افواج ایسی صلاحیتوں کی حامل ہیں جو اس کے میزائل پروگرام سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔محسن رضائی نے جاری کشیدگی کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کا ایک اہم موڑ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 47 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایران کسی جنگ میں فاتح بن کر ابھرا ہے۔
