آزاد کشمیر میں احتجاج کی کال پر سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، آزاد کشمیر حکومت نے وفاق کو سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کردی۔
آزاد کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس کے جوانوں کو آزاد کشمیر بھجوانے کا فیصلہ کرلیا، وفاقی پولیس کے 1500 سے زائد جوان آزاد کشمیر میں ڈیوٹی دیں گے۔رپورٹ کے مطابق ایک ڈی آئی جی، 2 ایس ایس پیز اور 4 ایس پیز بھی نفری کے ہمراہ ہوں گے، نفری میں 8 ڈی ایس پی، 16 انسپکٹر اور 22 سب انسپکٹر بھی شامل ہوں گے، اسپیشل ڈیوٹی دینے والوں میں 70 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ایک ہزار 382 کانسٹیبلز شامل ہیں۔اسپیشل ڈیوٹی کیلئے نفری میں سی ٹی ڈی، سی پی سی، سیف سٹی، سیکیورٹی ڈویژن، آپریشن ڈویژن کے اہلکار شامل ہوں گے، لاجسٹک ڈویژن، اسلام آباد ٹریفک پولیس، اے ٹی ایس اور اسپیشل برانچ سے بھی اہلکار لیے جائیں گے۔
عوامی حقوق کے نام پر دھونس، دھمکیاں اور بھتہ خوری: عوامی ایکشن کمیٹی کا اصل چہرہ بے نقاب
عوامی ایکشن کمیٹی نے عوامی حقوق اور فلاح و بہبود کے نعروں کے ساتھ اپنی مہم کا آغاز کیا تھا، مگر اب اس کے عملی رویے سے ایک مختلف اور تشویشناک حقیقت سامنے آ رہی ہے۔ حالیہ ویڈیوز میں ایک دکاندار کو 9 جون کے احتجاج کے لیے چندہ نہ دینے پر آزاد کشمیر سے نکال دینے کی صریح دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ تحریک عوامی حمایت حاصل کرنے کی بجائے دباؤ، دھونس، خوف اور زبردستی کا ماحول پیدا کر رہی ہے۔ چندے کے نام پر رقم اکٹھی کرنے کا یہ طریقہ عوامی خدمت کی بجائے بھتہ خوری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اگر حمایت واقعی عوامی ہوتی تو دھمکیوں اور جبر کی کوئی ضرورت نہ پڑتی۔ عوام اب ایسے رویوں سے تنگ آ چکی ہے اور امن، استحکام، قانون کی بالادستی اور تحفظ چاہتی ہے۔ یہ طرزِ عمل عوامی نمائندگی نہیں بلکہ طاقت کے ناجائز استعمال اور قانون شکنی کی خطرناک مثال ہے، جو اگر نہ روکا گیا تو مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
