سپریم کورٹ آف پاکستان کا سرکاری ملازم میاں بیوی کی ایک ہی شہر میں تعیناتی سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے
سپریم کورٹ نے ویڈلاک پالیسی کے تحت تبادلے کی درخواست مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ میاں بیوی سرکاری ملازمت میں ہوں تو انہیں ایک ہی سٹیشن پر تعینات کیا جائے، عدالتِ عظمیٰ نے پنجاب سروس ٹریبونل اور بورڈ آف ریونیو کا فیصلہ کالعدم قرار دےدیا،عدالت نے کہا کہ سرکاری ملازم خواتین کو شوہر سے دور رکھ کر بچوں کی اکیلے پرورش پر مجبور کرنا ظلم ہے، میاں بیوی کا الگ الگ شہروں میں تعینات ہونا شدید ذہنی تناؤ اور کارکردگی میں کمی کا باعث بنتا ہے،ویڈلاک پالیسی محض کاغذی کارروائی نہیں، اس پر روح کے مطابق عمل درآمد لازمی ہے،صوبے کے تمام محکمے اور انتظامی سربراہان وزیر اعلیٰ کی ویڈلاک پالیسی کے متعلق ہدایات کےپابند ہیں۔محکمے ‘اسامی خالی نہیں ہے’ جیسے لنگڑے بہانے بنا کر میاں بیوی کے تبادلے کی درخواستیں مسترد نہیں کر سکتے، اگر مستقل اسامی دستیاب نہ ہو تو عارضی تبادلے، ڈیپوٹیشن یا کسی دوسرے محکمے میں ایڈجسٹ کر کے میاں بیوی کو اکٹھا کیا جائے۔عدالتِ عظمیٰ نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کو 15 دن کے اندر خاتون ملازمہ کے تبادلے کا نیا حکم جاری کرنے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے ناہیدہ عزیز بنام چیف سیکرٹری پنجاب کیس کا 16 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے اہم فیصلہ سنایا
