Baaghi TV

Blog

  • ٹھاکرہ کے نواح گیس لیکیج سے دھماکہ 4 مکانات تباہ، خاتون جاں بحق، 4 افراد شدید زخمی

    ٹھاکرہ کے نواح گیس لیکیج سے دھماکہ 4 مکانات تباہ، خاتون جاں بحق، 4 افراد شدید زخمی

    دولتالہ کے قریب ہولناک واقعہ گھر میں گیس بھرنے سے دھماکہ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جھلس گئے حالت تشویشناک
    قیامت خیز دھماکہ میں 24 سالہ دوشیزہ ملبے تلے دب کر جاں بحق، متاثرین کھاریاں برن سینٹر منتقل علاقے کی فضا سوگ

    گوجرخان (قمرشہزاد) موضع ٹھاکرہ داخلی نڑالی میں گیس لیکیج کے باعث ہونے والے زوردار دھماکے نے تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں 4 مکانات زمین بوس ہو گئے، ایک نوجوان خاتون جاں بحق جبکہ بچوں سمیت 4 افراد شدید جھلس گئے۔

    تقریباً چھ بجے جب علاقہ مکین محوِ خواب تھے، موضع ٹھاکرہ میں گیس لیکیج کے باعث اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ اس نے طالب، فیصل، احمد اور صوبیدار ریاست کے مکانات کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ واقعے میں باوا حمد کی 24 سالہ بیٹی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی جبکہ فیصل کی اہلیہ اور اس کے تین معصوم بچے آگ کے شعلوں کی زد میں آکر بری طرح جھلس گئے۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور زخمیوں کو ملبے سے نکال کر فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کیا جبکہ واقعے کی اطلاع پر ریسکیو کی امدادی ٹیمیں فوری جائے حادثہ پہنچیں اور زخمیوں کو کھاریاں برن سینٹر منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور انتظامیہ کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثہ کمرے میں گیس بھر جانے کے باعث پیش آیا۔ ہولناک دھماکے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور علاقے کی فضا سوگوار ہے۔

  • گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    گوجرخان جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی زمینیں ہتھیانے والے گروہ کا انکشاف

    عبید علی ملک کی درخواست پر ڈی جی اینٹی کرپشن اور اے سی گوجرخان کا ایکشن، تحقیقات شروع
    جعلسازی ثابت ہونے پر رجسٹری منسوخ اور ملوث افراد کو جیل بھیجیں گے اسسٹنٹ کمشنر خضر ظہور

    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں جعلی رجسٹریوں کے ذریعے شہریوں کی قیمتی جائیدادیں ہتھیانے والے ایک منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔ موضع بھگانہ کے رہائشی عبید علی ملک نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کو تحریری درخواست دے دی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تحصیل آفس کے عملے کی مبینہ ملی بھگت سے ان کی آبائی زمین کی جعلی رجسٹری کروائی گئی ہے۔

    درخواست گزار کے مطابق، مذکورہ پارٹی کے پاس زمین کا کوئی ملکیتی ثبوت، فرد یا قبضہ موجود نہیں، اس کے باوجود ملی بھگت سے کاغذات تیار کیے گئے۔ متعلقہ پٹواری نے بھی اس حوالے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رجسٹری پر اس کے دستخط یا مہر موجود نہیں ہے۔ اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان خضر ظہور گورائیہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درخواست موصول ہو چکی ہے اور معاملے کی باریک بینی سے انکوائری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ اگر رجسٹری جعلی ثابت ہوئی تو اسے فوری منسوخ کر دیا جائے گا اور جعل سازی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کچہری میں متحرک اس جعل ساز گروہ کا قلع قمع کیا جائے جو سادہ لوح شہریوں کی جائیدادیں ہتھیا کر انہیں فروخت کرنے کے دھندے میں مصروف ہے، تاکہ لوگ اپنی جمع پونجی اور چھت سے محروم نہ ہوں۔

  • تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    تیل اور پاکستان،تحریر: میجر (ر) ہارون رشید

    ہم پہلے بھی اشارہ کر چکے تھے کہ اگر یہ جنگ 2 سے 3 ماہ سے زیادہ طویل ہو گئی تو پاکستان کے لیے اس کے اثرات نمایاں ہو سکتے ہیں۔ اب تک 15 دن گزر چکے ہیں اور ابھی تک کسی واضح حل یا قابلِ اعتماد جنگ بندی کا راستہ نظر نہیں آ رہا۔
    اس پس منظر میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ پاکستانی روپیہ کس طرح ردِعمل دکھائے گا۔

    مختصر مدت (Short Term)
    قریب مدت میں رمضان کے باعث بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر بدستور مضبوط ہیں۔ فارن ایکسچینج فارورڈ پریمیم منی مارکیٹ کی سطح سے اوپر ٹریڈ ہو رہے ہیں، جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زرمبادلہ کی لیکویڈیٹی نسبتاً آرام دہ ہے۔ آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان رابطوں کی خبریں بھی مجموعی طور پر مثبت ہیں۔
    گزشتہ دو ہفتوں میں برآمدات سے آنے والی رقوم میں کچھ سستی آئی ہے۔ اسی دوران درآمدی ادائیگیوں کو مرحلہ وار کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی نظر آ رہی ہے تاکہ کسی بھی دن انٹر بینک مارکیٹ پر غیر معمولی دباؤ نہ پڑے۔ یہ طریقہ کار روپے کی قدر پر غیر ضروری دباؤ کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں روپیہ ایک محدود دائرے میں رہے گا۔ تاہم دو اہم مالی دباؤ سامنے ہیں:
    عید کے فوراً بعد تیل کی بڑی ادائیگیاں
    ایک ارب ڈالر سے زائد کی یورو بانڈ ادائیگیاں

    درمیانی مدت (Medium Term)
    یہ وہ مرحلہ ہے جہاں صورتحال کافی غیر واضح ہو جاتی ہے۔
    نیا تیل نظام (The New Oil Regime)
    آبنائے ہرمز اب مؤثر طور پر تیل کی قیمتوں کے تعین کا ایک اہم عنصر بن چکی ہے۔ مارکیٹیں اب حقیقی سپلائی میں کمی کے بجائے رکاوٹ کے امکانات کی بنیاد پر تجارت کر رہی ہیں، جس سے تیل کی قیمتیں ساختی طور پر زیادہ غیر مستحکم ہو گئی ہیں۔ تیل اب محض ایک کموڈیٹی نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ کی طرح برتاؤ کر رہا ہے۔
    اس سے ایک نیا معاشی ماحول پیدا ہو رہا ہے:
    توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا خطرہ
    طلب کے معمول کے چکر سے ہٹ کر اچانک اتار چڑھاؤ
    عالمی تجارت کے بہاؤ میں ساختی غیر یقینی صورتحال

    ترسیلاتِ زر کا مسئلہ
    ترسیلاتِ زر نے ہر بحران میں خاموشی سے پاکستان کو سہارا دیا ہے، لیکن اب یہ سہارا پہلے جیسا یقینی نہیں رہا۔ اگر خلیجی معیشتیں سست ہو گئیں تو مزدوروں کی طلب بھی کم ہو جائے گی۔ بیرونِ ملک کم مزدور ہوں گے تو زرِ مبادلہ کی آمد بھی کم ہو گی اور ملک کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر طاقتور خطرہ ہے جو پاکستان کی معاشی سمت کو بدل سکتا ہے۔

    عالمی مالیاتی حالات
    جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کے باعث عالمی مالیاتی حالات سخت ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کے یورو بانڈ اور CDS پہلے ہی تقریباً 100 بیسس پوائنٹس بڑھ چکے ہیں، جو بیرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کا اشارہ دیتے ہیں۔
    اس سے مارکیٹ سے قرض لینے کی لاگت اور غیر یقینی دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یورو بانڈ یا پانڈا بانڈ مارکیٹ تک رسائی مشکل ہو سکتی ہے جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور پورٹ فولیو سرمایہ کاری بھی محدود رہ سکتی ہے۔ اس طرح بیرونی مالی وسائل کا زیادہ انحصار حکومتی پالیسی کے اعتماد اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون پر ہو جائے گا۔

    ممکنہ اثرات
    یہ تمام عوامل کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں اضافے، مالیاتی دباؤ میں اضافہ اور پالیسی لچک میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ جیسے ہی مہنگائی کی توقعات بڑھتی ہیں، شرح سود زیادہ عرصے تک بلند رہ سکتی ہے۔ اس سے روپے پر دباؤ اور معاشی نمو کی رفتار کمزور ہو سکتی ہے۔ مجموعی اثر خاصا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

    بنیادی امکان (Base Case)
    پاکستان کے لیے یہ امکان کم ہے کہ وہ روپے کو سہارا دینے کے لیے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے خرچ کرے۔ اس کے بجائے ایڈجسٹمنٹ درآمدات کو سختی سے منظم کرنے اور بیرونی توازن کو زیادہ پائیدار بنانے کے ذریعے آئے گی۔ روپیہ وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتا ہے، لیکن اس مرحلے پر کسی اچانک یا بڑی قدر میں کمی کا امکان کم نظر آتا ہے۔

  • آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر ٹرمپ کو دھچکا،عالمی دنیا خاموش

    آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر ٹرمپ کو دھچکا،عالمی دنیا خاموش

    آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سمیت دنیا بھر سے مدد کی جو اپیل کی تھی اس پر دنیا بھر سے خاموش ردعمل سامنے آیا ہے اور اب تک کسی ایک ملک نے بھی ٹرمپ کی اپیل پر خطے میں بحری جہاز بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔

    امریکا کے معاشی اتحادی جاپان نےبھی آبنائے ہرمز میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر دیا ہے،جاپانی حکمراں جماعت کے پالیسی چیف نے کہا کہ خطے میں بہت بڑی دہلیز پار ہوئی تبھی جاپانی بحری جہاز آبنائے ہرمز بھیجے جا سکیں گے،چین بھی ٹرمپ کے مطالبے پر خاموش ہوگیا،ادھر واشنگٹن میں چینی سفارت خانے نے کہا کہ چین متعلقہ فریقین سے رابطے موثر بنانے پر کام کر کے تعمیری کردار ادا کرے گا۔

    امریکی وزیر توانائی نے بھی چین سے امداد مانگ لی۔ کرس رائٹ نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ چین آبنائے ہرمز کھلوانے میں تعمیری شراکت دار کا کردار ادا کرے گا۔برطانوی وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کھلی رکھنے کے لیے امریکا اور دیگر اتحادیوں سے بات چیت کر رہے ہیں، ہو سکتا ہے ہم بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے ڈرون بھیج دیں۔اس کے علاوہ جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ ہم نے ٹرمپ کی اپیل پڑھ لی ہے، مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا قریبی سے جائزہ لے رہے ہیں،واضح رہے کہ فرانس خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے پہلے ہی انکار کر چکا ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد ایک ہزار بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے انتظار میں کھڑے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق ان جہازوں میں 20 تیل کے ٹینکر بھی شامل ہیں، آبنائے ہُرمُز دنیا بھر میں تیل کی فراہمی کرنے والے ٹینکروں کی گزرگاہ بھی ہے۔

  • خلیج فارس میں امریکی بحری طاقت کو بڑا دھچکا، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی عالمی میڈیا میں بحث

    خلیج فارس میں امریکی بحری طاقت کو بڑا دھچکا، یو ایس ایس ابراہم لنکن کی واپسی عالمی میڈیا میں بحث

    خلیج فارس کی حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ابراہیم لنکن کی خراب حالت میں واپسی کی خبروں نے عالمی میڈیا اور عسکری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے جدید جنگ میں طیارہ بردار جہازوں کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق خلیج فارس میں پیش آنے والے حالیہ واقعات نے یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ طیارہ بردار جہازوں کا روایتی دور شاید اختتام کے قریب پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران کی عسکری حکمت عملی اور جدید دفاعی صلاحیتوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طیارہ بردار جہاز اب ناقابلِ تسخیر قلعے نہیں رہے بلکہ بڑے اور مہنگے اہداف بن سکتے ہیں۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اس صورتحال کو امریکہ کے لیے ایک “قومی صدمہ” قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 13 ارب ڈالر مالیت کے اس بحری جہاز کے چند ہی لمحوں میں غیر مؤثر ہونے کے دعووں نے امریکی فوجی طاقت کے بارے میں سخت سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ سی این این کے مطابق اس حالت میں جہاز کی امریکہ واپسی کو بعض تجزیہ کار ویتنام جنگ کے بعد امریکی فوجی ساکھ کو لگنے والا سب سے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔

    روسی خبر رساں ادارے ے اپنے تجزیے میں لکھا کہ “ایک زمانے میں سمندری طاقت کی علامت سمجھا جانے والا یہ جہاز اب اپنی پرانی حیثیت کھوتا دکھائی دے رہا ہے۔” رپورٹ میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جو جہاز خطے کو دھمکانے آیا تھا وہ اب “پانی میں تیرتے ملبے” جیسی حالت میں واپس جا رہا ہے۔

    اسی طرح فرانسیسی خبر ایجنسی Agence France-Presse نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے بعد امریکی محکمہ دفاع میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جہاز کی واپسی سے مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں جھکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق امریکی اتحادی ممالک میں بھی خدشات پیدا ہو رہے ہیں کہ اگر امریکہ کا سب سے بڑا جنگی جہاز بھی اپنے دفاع میں مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے تو خطے میں امریکی تحفظ کی ضمانت پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

    برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف نے اس صورتحال کو مغربی بحری بالادستی کے لیے ایک علامتی دھچکا قرار دیا۔ اخبار کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو تاریخ میں اسے وہ لمحہ سمجھا جا سکتا ہے جب مغربی بحری طاقت کی روایتی برتری کو پہلی بار سنجیدہ چیلنج ملا۔

    مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی عسکری صورتحال کے تناظر میں یہ واقعہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اسٹریٹجک مقابلے کی ایک نئی مثال بن سکتا ہے۔

  • فیکٹ چیک، افغان طالبان کے الزامات بے بنیاد قرار

    فیکٹ چیک، افغان طالبان کے الزامات بے بنیاد قرار

    وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان حکومت کے نام نہاد نائب ترجمان کی طرف سے لگائے گئے الزامات حقیقت کے منافی اور گمراہ کن ہیں۔

    بیان کے مطابق یہ دعویٰ دراصل افغان طالبان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی کارروائی کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے اور اپنے ہی عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔حکومتی بیان میں کہا گیا کہ 15 مارچ 2026 کو تقریباً سہ پہر ساڑھے تین بجے افغان طالبان حکومت نے جان بوجھ کر خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے سالرزئی علاقے کے گاؤں تابستہ لیٹائی میں شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ اس حملے کے نتیجے میں چار بے گناہ شہری شہید جبکہ پانچ سالہ ایک بچہ شدید زخمی ہو گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے بارے میں ہمیشہ عوام کو شفاف اور بروقت آگاہ کیا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں 14 اور 15 مارچ کی درمیانی شب افغانستان کے شہر قندھار میں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں، بنیادی ڈھانچے اور تکنیکی آلات کو نشانہ بنایا گیا تھا، جنہیں افغان طالبان حکومت کا “ماسٹر دہشت گرد پراکسی” قرار دیا گیا۔ ان کارروائیوں کی ویڈیوز اور تصاویر بھی پہلے ہی جاری کی جا چکی ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان جھوٹے، پرانے یا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز پر انحصار نہیں کرتا۔ بیان میں کہا گیا کہ افغان طالبان حکومت کے سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے بار بار جھوٹے دعوے اور جعلی معلومات پھیلانے سے ان کی ساکھ نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی متاثر ہو رہی ہے۔حکومت پاکستان نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ “سچ ہمیشہ جھوٹ پر غالب آتا ہے۔”

  • 
کراچی میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کی واردات، شہری کو اغوا کے بعد لاکھوں روپے لوٹ لیا گیا

    
کراچی میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کی واردات، شہری کو اغوا کے بعد لاکھوں روپے لوٹ لیا گیا

    
کراچی میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کی ایک اور واردات سامنے آئی ہے جس میں ای کامرس کے کاروبار سے وابستہ ایک شہری کو اغوا کر کے بھاری رقم لوٹ لی گئی۔
    متاثرہ شہری عثمان اشرف کے مطابق مسلح افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ہاتھ باندھ دیے اور گاڑی میں مختلف مقامات پر گھماتے رہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے انہیں دھمکاتے ہوئے ان کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کی اور وہاں سے تقریباً 4 ہزار 600 ڈالر اور 20 لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹس میں منتقل کر لیے۔
    ‎واقعے کے بعد متاثرہ شہری نے حکام کو اطلاع دی جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
    ‎کراچی میں حالیہ دنوں میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس پر شہریوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

  • 
یو اے ای میں گمراہ کن ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر 25 افراد گرفتار، 17 بھارتی شہری شامل

    
یو اے ای میں گمراہ کن ڈیجیٹل مواد پھیلانے پر 25 افراد گرفتار، 17 بھارتی شہری شامل

    
متحدہ عرب امارات میں حکام نے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزام میں 25 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن میں 17 بھارتی شہری بھی شامل ہیں۔
    حکام کے مطابق ملزمان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جعلی معلومات اور مصنوعی مواد پھیلانے میں ملوث تھے اور وہ تین مختلف گروہوں کی صورت میں سرگرم تھے۔
    ‎تحقیقات کے مطابق ایک گروہ میزائل حملوں اور فضائی دفاع سے متعلق ویڈیوز کو غلط انداز میں پیش کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلاتا رہا۔ دوسرے گروہ نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی جعلی ویڈیوز اور واقعات کو یو اے ای سے منسوب کیا۔
    ‎تیسرا گروہ مخالف ریاست کی قیادت اور فوجی کارروائیوں کی تعریف میں پروپیگنڈا مواد شیئر کرنے میں ملوث بتایا گیا ہے۔
    ‎حکام نے ملزمان کو قومی دفاعی اقدامات کو نقصان پہنچانے اور ریاست مخالف مواد پھیلانے کے الزامات کے تحت ٹرائل کے لیے بھیج دیا ہے جبکہ مزید تفتیش کے لیے انہیں حراست میں رکھا گیا ہے۔
    ‎اٹارنی جنرل کے مطابق گمراہ کن معلومات پھیلانا اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانا سنگین جرم ہے اور ریاست کے استحکام کو متاثر کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

  • 
نیتن یاہو کی دوسری ویڈیو پر بھی سوالات، ماہرین نے اے آئی ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا

    
نیتن یاہو کی دوسری ویڈیو پر بھی سوالات، ماہرین نے اے آئی ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا

    
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک نئی ویڈیو پر سوالات اٹھنے لگے ہیں اور بعض ماہرین اس کا فرانزک جائزہ لے رہے ہیں۔
    رپورٹس کے مطابق ویڈیو میں نیتن یاہو ایک کیفے میں کافی لیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور عبرانی زبان میں گفتگو کرتے ہوئے اپنی ہلاکت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ “کافی پر مر گئے ہیں۔”
    ‎سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد نیتن یاہو کی ہلاکت کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کے بعد انہوں نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے کے لیے یہ ویڈیو جاری کی۔
    ‎تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں موجود بعض مناظر غیر معمولی دکھائی دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کافی کا کپ مکمل بھرا ہوا نظر آتا ہے اور مائع کپ کے کناروں تک آنے کے باوجود باہر نہیں گرتا، جس کے باعث ویڈیو کے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار ہونے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی حکومت یا سرکاری ذرائع کی جانب سے ویڈیو کے اے آئی ہونے کے دعووں کی تصدیق نہیں کی گئی جبکہ اس معاملے پر مزید تحقیق جاری ہے۔

  • 
خلیجی ممالک پر حملوں کی تحقیقات کرائی جائیں، ہم نے سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا: ایران

    
خلیجی ممالک پر حملوں کی تحقیقات کرائی جائیں، ہم نے سول آبادی کو نشانہ نہیں بنایا: ایران

    
ایران نے خلیجی ممالک پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کی غیر جانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔
    ایران کے مشیر قومی سلامتی علی لاریجانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے خلیجی ممالک پر کوئی حملہ نہیں کیا اور نہ ہی ایران کی پالیسی سول آبادی کو نشانہ بنانے کی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے دوران شہری آبادی کو نقصان پہنچانے کے خلاف ہے اور اگر کسی واقعے میں ایران پر الزام عائد کیا جا رہا ہے تو اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔
    ‎علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ ایران کسی بھی آزاد اور شفاف تحقیقات کے لیے تیار ہے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔
    ‎واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں جنگ کے دوران دبئی اور قطر کے رہائشی علاقوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔