طالبان رجیم میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے؛ ملا ہیبت اللہ نےعید خطبے میں غیر مشروط اطاعت کا مطالبہ کر دیا
طالبان رجیم کی صفوں میں دراڑیں گہری ہونے لگیں؛ ملا ہیبت اللہ نے اقتدار بچانے کیلئے پھر مذہب کی آڑ لے لی،قندھار میں عید خطبے کے دوران طالبان امیر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے افغان عوام پر غیر مشروط اور اندھی اطاعت مسلط کرنے کا شرعی حکم جاری کر دیا،سخت سکیورٹی حصار کے دوران دیے گئے خطبے میں ملا ہیبت اللہ نے کہا کہ؛جو شخص امیر کی بیعت اور اطاعت کے بغیر مرے، وہ "جاہلیت کی موت” مرتا ہے،اسلام سے قبل بتوں کو پوجنے والوں کی موت جہالت کی موت تھی اور ایسی موت بدترین موت ہے، میری ہدایات اور احکامات سے انحراف کو مذہبی نافرمانی تصور کیا جائے گا، اگر عوام نے افغان رجیم کی اطاعت نہ کی، تو ملک میں شدید بدامنی اور انتشار سر اٹھائے گا،
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق 17 اپریل کو جاری بیان میں بھی انہوں نے وزارتِ خزانہ کے حکام سے کہا کہ؛”میری اطاعت اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کے مانند ہے”
افغان میڈیا کے مطابق ہیبت اللہ کا اطاعت پر اصرار اندرونی بغاوت کا ثبوت ہے،سراج الدین حقانی سمیت سینیئر وزراء پہلے ہی انکی پالیسیاں مسترد کر چکے ہیں، عالمی ماہرین کے مطابق؛ہیبت اللہ اخوند زادہ کی طرف سے بار بار غیر مشروط اطاعت کا مطالبہ ظاہر کرتا ہے کہ قندھار اور کابل کے درمیان دراڑیں گہری ہو چکی ہیں،ملا ہیبت اللہ کی اس شدید بوکھلاہٹ کی اصل وجہ طالبان رجیم کے اندرونی دھڑوں میں بڑھتی ہوئی شدید ترین بغاوت اور سنگین اختلافات ہیں،
