امریکا نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں شپنگ قواعد پر عمل درآمد کیلئے قائم کیے گئے نئے ادارے پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق “پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی” کا قیام پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بھتہ وصول کرنے کی نئی کوشش ہے۔
امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ عالمی بحری تجارت اور جہاز رانی پر غیر قانونی دباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے، اسی لیے اس پر اقتصادی پابندیاں نافذ کی جا رہی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے بیان میں کہا گیا کہ واشنگٹن خلیجی خطے میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی کے اصولوں پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے فوری طور پر امریکی پابندیوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ ہفتوں میں ایران بارہا کہہ چکا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت اور سکیورٹی کے معاملات اس کی قومی سلامتی سے جڑے ہوئے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
حالیہ دنوں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں عسکری اور سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
Blog
-

امریکا نے آبنائے ہرمز اتھارٹی پر پابندیاں لگا دیں
-

ایران نے امریکی جہاز کو آبنائے ہرمز سے واپس جانے پر مجبور کر دیا
روسی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک امریکی جہاز کو وارننگ شاٹس فائر کر کے واپس جانے پر مجبور کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی آئل ٹینکر نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی، تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے فوری ردعمل دیتے ہوئے فائرنگ کی وارننگ جاری کی۔
روسی خبر ایجنسی کے مطابق وارننگ شاٹس کے بعد امریکی جہاز نے اپنا راستہ تبدیل کرتے ہوئے واپس جانے کو ترجیح دی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکا نے بعد ازاں بندر عباس کے قریب کارروائی بھی کی، تاہم اس حملے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
ایرانی حکام کی جانب سے اس واقعے پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں جبکہ امریکی حکام کی طرف سے بھی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا سب سے حساس مرکز بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں کسی بھی غلط اندازے یا محدود فوجی کارروائی سے خطے میں بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
عالمی برادری مسلسل سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی پر زور دے رہی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید خراب نہ ہو۔ -

کویت نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کردی
کویت نے ایران پر ڈرون اور میزائل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے اور انہیں خطے کیلئے خطرناک کشیدگی قرار دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کویتی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ “ریاستِ کویت کی سرزمین کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے والے ایرانی مجرمانہ حملوں کی ہم سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔”
کویتی حکام کے مطابق یہ حملے خطے کے امن و استحکام کیلئے سنگین خطرہ ہیں جبکہ ایسے اقدامات خلیجی صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ کویت اپنی قومی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کیلئے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اس سے قبل ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بندر عباس میں امریکی حملوں کے جواب میں ایک امریکی ائیربیس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں اس امریکی ائیربیس کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
علاقائی مبصرین کے مطابق خلیجی ممالک میں بڑھتی عسکری سرگرمیاں مشرق وسطیٰ کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اس وقت ممکنہ کشیدگی کے اہم مراکز بن چکے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف جا سکتا ہے جس کے عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
عالمی برادری مسلسل تمام فریقین سے تحمل، جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کر رہی ہے تاکہ خطے میں امن بحال رکھا جا سکے۔ -

کراچی میں عید کے دوسرے روز مختلف حادثات، 6 افراد جاں بحق
کراچی میں عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز مختلف ٹریفک اور حادثاتی واقعات میں کم از کم 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات میں تیز رفتاری، لاپرواہی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی بنیادی وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق بعض حادثات موٹر سائیکل سواروں کے درمیان تصادم جبکہ کچھ واقعات گاڑیوں کی بے قابو رفتار کے باعث پیش آئے۔
حادثات کے بعد زخمیوں اور جاں بحق افراد کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں بعض افراد دوران علاج دم توڑ گئے۔
عید کے موقع پر کراچی میں سڑکوں پر ٹریفک کا دباؤ معمول سے زیادہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ شہری بڑی تعداد میں رشتہ داروں اور تفریحی مقامات کا رخ کر رہے ہیں۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دوران ڈرائیونگ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، رفتار پر قابو رکھیں اور ہیلمٹ و سیٹ بیلٹ کے استعمال کو یقینی بنائیں۔
ماہرین کے مطابق کراچی میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ غیر محتاط ڈرائیونگ، کم عمر ڈرائیورز اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کی کمی ہے۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عید کے دنوں میں ٹریفک کنٹرول اور سڑکوں پر نگرانی مزید سخت کی جائے تاکہ قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ -

رنویئر سنگھ اور ڈان 3 تنازع شدت اختیار کر گیا
بالی ووڈ اداکار رنویئر سنگھ اور فلم “ڈان 3” کے حوالے سے جاری تنازع نے بھارتی فلم انڈسٹری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق رنویئر سنگھ کے فلم سے الگ ہونے کے بعد معاملہ مزید سنگین ہو گیا جبکہ فلم انڈسٹری سے وابستہ تنظیموں نے بھی اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فلم کے پروڈیوسرز کو شوٹنگ کی تیاریوں، بیرون ملک لوکیشنز، بکنگ اور دیگر انتظامات کی وجہ سے بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے کچھ عرصہ قبل رنویئر سنگھ نے فلم سے علیحدگی اختیار کی جس کے بعد پروڈکشن ٹیم مشکلات کا شکار ہو گئی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار اور فلم ساز فرحان اختر کے درمیان تخلیقی اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔
کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ اسکرپٹ میں تبدیلیوں اور فلم کی کاسٹنگ سے متعلق معاملات پر بھی اختلافات موجود تھے۔
فلم ورکرز سے وابستہ تنظیم نے مؤقف اختیار کیا کہ اداکاروں اور پروڈکشن ہاؤسز کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کا احترام ضروری ہے کیونکہ بڑے منصوبوں میں تاخیر سے پوری انڈسٹری متاثر ہوتی ہے۔
دوسری جانب رنویئر سنگھ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ اداکار ہمیشہ پروفیشنل رویہ رکھتے ہیں اور وہ اس معاملے پر غیر ضروری بیان بازی سے گریز کر رہے ہیں۔
بالی ووڈ مبصرین کے مطابق “ڈان” فرنچائز بھارتی سینما کی بڑی فلمی سیریز میں شمار ہوتی ہے، اس لیے اس منصوبے میں کسی بھی قسم کی تبدیلی فوری طور پر خبروں کی زینت بن جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے بجٹ کی فلموں میں اب معاہدوں، شیڈولنگ اور پروفیشنل ذمہ داریوں پر پہلے سے زیادہ سختی کی جا رہی ہے تاکہ مالی نقصانات سے بچا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بھی مداحوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں کچھ افراد رنویئر سنگھ کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ بعض صارفین فلم کے مستقبل پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ -

سوئٹزرلینڈ کے ٹرین اسٹیشن پر چاقو حملہ، 3 افراد زخمی
سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے قریب ایک ٹرین اسٹیشن پر چاقو حملے میں 3 افراد زخمی ہو گئے جبکہ پولیس نے حملے میں ملوث ایک 31 سالہ سوئس شہری کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ صبح تقریباً ساڑھے 8 بجے پیش آیا، حملہ آور واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا تاہم بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق زخمی ہونے والوں کی عمریں 28، 43 اور 52 سال ہیں جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
سوئس پولیس نے کہا ہے کہ حملے کے محرکات تاحال واضح نہیں ہو سکے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مقامی اخبار “بلک” کے مطابق عینی شاہدین نے دعویٰ کیا کہ حملہ آور واقعے کے دوران “اللہ اکبر” کے نعرے لگا رہا تھا۔
اخبار کے مطابق ایک ویڈیو میں ایک شخص کو اسٹیشن کے ہال سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ اردگرد موجود لوگ خوف کے باعث چیختے اور بھاگتے دکھائی دیے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے ہاتھ میں چاقو موجود تھا جس کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعے کے بعد پولیس نے ٹرین اسٹیشن اور اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ بڑی تعداد میں سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آور کے پس منظر، ذہنی حالت اور ممکنہ محرکات کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
یورپ میں حالیہ برسوں کے دوران عوامی مقامات پر چاقو حملوں کے واقعات میں اضافہ سیکیورٹی اداروں کیلئے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ -

امریکا اور ایران میں 60 روزہ جنگ بندی توسیع پر اتفاق
امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان جنگ بندی میں توسیع اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے کیلئے 60 روزہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر اتفاق ہو گیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ “ایگزیوس” نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال اس معاہدے کی حتمی منظوری نہیں دی۔
رپورٹ کے مطابق اگر اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو جاتے ہیں تو یہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی پیشرفت تصور کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق حتمی معاہدے تک پہنچنے کیلئے ایران کے جوہری پروگرام، یورینیم افزودگی اور دیگر حساس معاملات پر مزید تفصیلی مذاکرات درکار ہوں گے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ منگل تک معاہدے کی زیادہ تر شقوں پر اتفاق ہو چکا تھا تاہم دونوں فریقین کو اپنی اعلیٰ قیادت سے منظوری لینا تھی۔
رپورٹ کے مطابق بعد میں ایرانی وفد نے امریکی حکام کو آگاہ کیا کہ انہیں ضروری منظوری حاصل ہو گئی ہے اور وہ دستخط کیلئے تیار ہیں، تاہم ایران نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق امریکی مذاکرات کاروں نے معاہدے کی تفصیلات صدر ٹرمپ کو بھی پیش کیں لیکن انہوں نے فوری منظوری دینے کے بجائے مزید غور کیلئے چند دن مانگے۔
حکام کے مطابق مجوزہ 60 روزہ مفاہمتی یادداشت میں آبنائے ہرمز میں بلا رکاوٹ جہاز رانی کو یقینی بنانے کی شق بھی شامل ہے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نہ کسی قسم کا ٹول ٹیکس وصول کیا جائے گا اور نہ ہی جہازوں کو ہراساں کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت ایران کو 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی جبکہ امریکی بحری ناکہ بندی بھی مرحلہ وار ختم کی جائے گی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اس مفاہمت کے تحت جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا اظہار بھی کرے گا۔
اس کے علاوہ مذاکرات میں ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے، یورینیم افزودگی کے مستقبل اور پابندیوں میں ممکنہ نرمی پر بھی بات چیت ہوگی۔
امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران کے منجمد فنڈز کی بحالی اور انسانی امداد و اشیائے ضروریہ کی فراہمی کیلئے بھی طریقۂ کار زیر غور آئے گا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ کامیاب ہوتا ہے تو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی تیل منڈی میں استحکام آنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ -

سندھ میں ہیٹ ویو کب تک برقرار رہ سکتی ہے؟ محکمہ موسمیات کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات نے سندھ کے مختلف اضلاع میں شدید ہیٹ ویو کی پیشگوئی کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ کے بیشتر اضلاع میں 31 مئی 2026 تک شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ درجہ حرارت معمول سے 4 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہ سکتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سکھر، جیکب آباد، لاڑکانہ، دادو اور خیرپور میں پارہ 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔
اسی طرح تھرپارکر، حیدر آباد، میرپور خاص اور سانگھڑ میں درجہ حرارت 47 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی انسانی صحت، مویشیوں اور زرعی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
ادارے نے شہریوں خصوصاً بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک سورج کی تپش زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے، اس لیے شہری زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور خود کو ٹھنڈی جگہوں پر رکھنے کی کوشش کریں۔
کسانوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موجودہ موسمی صورتحال کے پیش نظر فصلوں اور مویشیوں کی حفاظت کیلئے ضروری اقدامات کریں۔
ماہرین صحت کے مطابق شدید گرمی کے دوران ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر موسمی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
دوسری جانب عیدالاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کو بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے تاکہ بیماریوں کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔ -

آبنائے ہرمز کشیدگی سے پاکستان کی گوشت برآمدات متاثر
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے پاکستان کی گوشت برآمدات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال، بحری جہاز رانی میں رکاوٹ اور بڑھتے انشورنس و ایندھن اخراجات کے باعث خلیجی ممالک کو گوشت کی ترسیل مہنگی اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پاکستان سے گوشت کی بڑی مقدار متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، عمان اور اردن کو برآمد کی جاتی ہے، تاہم حالیہ بحران کے بعد برآمد کنندگان شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
گوشت برآمد کرنے والی کمپنی “دی آرگینک میٹ” کے چیف آپریٹنگ آفیسر علی حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جنگی صورتحال کے باعث سمندری راستوں میں خلل آیا جس سے گوشت کی ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ “دبئی پاکستان کے بڑے گوشت درآمد کنندگان میں شامل ہے، مگر کشیدگی کے بعد سمندری راستے متاثر ہوئے اور اب زیادہ تر ترسیل فضائی راستوں سے کی جا رہی ہے۔”
علی حسین کے مطابق فضائی راستے سے برآمدات کے اخراجات سمندری راستے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں، جس کے باعث گوشت کی قیمتوں اور قوتِ خرید دونوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کویت کو کئی ہفتوں تک گوشت کی ترسیل معطل رہی جبکہ اب عمان کے راستے ٹرکوں کے ذریعے گوشت پہنچایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صرف گوشت ہی نہیں بلکہ پھل، سبزیاں اور دیگر پاکستانی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب جہانگیر نے کہا کہ بحران کے باوجود حکومت اور برآمد کنندگان نے متبادل انتظامات کے ذریعے سپلائی چین برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی اور قطری ایئر لائنز کے ساتھ خصوصی ریٹس طے کیے گئے جبکہ کچھ گوشت خصوصی پروازوں کے ذریعے بھی خلیجی ممالک بھیجا گیا۔
ٹڈاپ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2023 اور 2024 کے دوران تقریباً 50 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا 99 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گوشت برآمد کیا۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات پاکستانی گوشت کی سب سے بڑی منڈی رہا جہاں 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کا گوشت برآمد کیا گیا جبکہ سعودی عرب کو 17 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور کویت کو 9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا گوشت بھیجا گیا۔ -

آبنائے ہرمز پر ٹول سسٹم برداشت نہیں کریں گے، امریکا
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کے ٹول یا فیس کے نظام کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر ٹول سسٹم نافذ کرنے میں مدد دینے والے عناصر کے خلاف “سخت اور جارحانہ کارروائی” کرے گا۔
انہوں نے عمان کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایسے تمام کرداروں کو نشانہ بنائے گا جو اس نظام کو سہولت فراہم کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے ایک غیر سرکاری مجوزہ معاہدے کی رپورٹ نشر کی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور عمان مشترکہ طور پر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کا انتظام سنبھال سکتے ہیں جبکہ ایک ماہ کے اندر جنگ سے پہلے جیسی شپنگ صورتحال بحال کی جائے گی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔
دوسری جانب عمان نے بھی ایران کے ساتھ آبنائے ہرمز کے مشترکہ کنٹرول سے متعلق کسی منصوبے کی تصدیق نہیں کی۔
عمانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ صرف جہاز رانی کی آزادی اور خطے میں استحکام سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی اور تیل گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عالمی سیاست اور معیشت کا حساس ترین مرکز بنتی جا رہی ہے۔