Baaghi TV

Blog

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا  بارشوں کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب کا بارشوں کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبہ بھر میں طوفانی بارشوں کے دوران تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دے دیا

    وزیراعلی مریم نواز شریف نے تمام متعلقہ اداروں کو بارش کے پانی کی فوری نکاسی یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ بارشی پانی کی فوری نکاسی کے لئے واسا آپریشنز کی مسلسل نگرانی اور مؤثر مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے، وزیراعلی مریم نواز شریف نےبرساتی نالوں اور ڈرین کی مسلسل مانیٹرنگ کا حکم دیا اور کہا کہ اربن ایریا زمیں بارش کا پانی کھڑا نہ ہونے دیا جائے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نےمحکمہ آبپاشی کی ٹیموں کو مکمل الرٹ رہنے کا حکم دیا ،اریگیشن ڈیپارٹمنٹ کو نہروں میں پانی کے بہاؤ کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھنے کی ہدایت کی،شہری اور دیہی علاقوں میں تمام مین ہولز پر ڈھکن یقینی بنانے کا حکم دیا،وزیراعلی مریم نواز شریف نے بارشوں کے دوران تمام تر حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی،بارشوں کے دوران کنسٹرکشن سائٹ پرناخوشگوار واقعے سے بچاؤ کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کا حکم دیا، خستہ حال اور تعمیراتی طور پر حساس عمارتوں کی خصوصی نگرانی کا حکم دیا، ضلعی انتظامیہ کو چھت گرنے کے خطرات سے متعلق الرٹس جاری کرنے کی ہدایت کی،

    وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ اہم شاہراہوں اور مرکزی روڈز پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کئے جائیں ۔ سیف سٹی اتھارٹی اور سی ٹی او ٹیمیں مکمل الرٹ رہیں ۔ ٹریفک مینجمنٹ کے لئے عوامی رہنمائی اور رابطہ برقرار رکھنے کا حکم دیا،عوام کے جان و مال کی حفاظت کے لئے تمام فیلڈ ٹیموں کا مکمل تیار رہنے کا حکم بھی دیا اور کہا کہ صوبہ بھر میں شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام متعلقہ ادارے متحرک اور مستعد رہیں ۔

  • راجوری : قابض بھارتی فورسز نے آپریشن تیز کر دیا ، پیرا کمانڈوز کی تازہ کمک طلب

    راجوری : قابض بھارتی فورسز نے آپریشن تیز کر دیا ، پیرا کمانڈوز کی تازہ کمک طلب

    بھارت کے غیر قانونی زیرِقبضہ جموں کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کیطرف سے ضلع راجوری میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی آج مسلسل آٹھویں روز بھی جاری ہے۔ آپریشن کو گزشتہ رات مزید تیز کیا گیا اور پیرا کمانڈوز کی تازہ کمک منگوا لی گئی۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ضلع کے علاقوں ڈوریمل اور گمبھیر مغلان میں ہونے والے آپریشن میں بھارتی فوجیوں کے علاوہ پیراملٹری فورسز اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ کے اہلکار بھی حصّہ لے رہے ہیں۔ آپریشن میں ہیلی کاپٹر ، ڈرون کیمرے اور سراغ رساں کتے بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔بھارتی فورسز نے آپریشن والے علاقوں کے تمام داخلی اور خارجی راستے مکمل طور پر سیل کر رکھے ہیں۔ اس طویل آپریشن ، جسے آپریشن شیرووالی کا نام دیا گیا ہے ، کے باعث مقامی باشندوں میں خوف اور بے یقینی کی فضا پیدا کر دی ہے۔بھارتی حکام دعویٰ کر رہے ہیں کہ آپریشن علاقے کے جنگل میں مجاہدین کی موجودگی کیوجہ سے شروع کیا گیا ہے۔

  • مودی کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مہم ناکام

    مودی کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی مہم ناکام

    اسلام آباد: بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی ایک دہائی پر محیط مہم ناکام ثابت ہوئی ہے، جبکہ پاکستان خطے اور عالمی سیاست میں ایک اہم اور مؤثر کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

    عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مودی نے 2016 میں پاکستان کو دنیا سے الگ تھلگ کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم یہ حکمت عملی مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اس وقت بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض کے ساتھ فعال سفارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے اور علاقائی معاملات پر اثرانداز ہونے والا ایک اہم فریق بن چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان نے عالمی بیانیے کی جنگ میں برتری حاصل کی۔ دنیا نے پہلگام واقعے کے حوالے سے پاکستان کے خلاف بھارت کے الزامات کو بغیر ثبوت تسلیم نہیں کیا، جسے اسلام آباد کی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔

    الجزیرہ کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت معرکۂ حق کے بعد پاکستان کے فیلڈ مارشل پر تنقید کرتا رہا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں "غیرمعمولی شخصیت” قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان "ناقابلِ شکست شراکت داری” خطے کی نئی حقیقت بن چکی ہے، جبکہ بنگلا دیش میں حسینہ واجد کے دور کے خاتمے کے بعد پاکستان اور بنگلا دیش کے تعلقات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔عرب میڈیا کے مطابق پاکستان خلیجی ممالک کے لیے ایک ابھرتے ہوئے سکیورٹی پارٹنر کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جبکہ مودی حکومت کی مسلم مخالف پالیسیوں نے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معدنیات، سرمایہ کاری اور فعال سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے امریکی پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 30 سے زائد مرتبہ پاک بھارت جنگ بندی کا کریڈٹ لے چکے ہیں، جبکہ نئی دہلی مسلسل اس دعوے کی تردید کرتا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے معاملے پر مودی اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں بھی دراڑ پیدا کی، جبکہ پاکستان کی سفارتی پیش رفت نے خطے میں اس کے کردار کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔

  • ‏افغان طالبان رجیم کےہاتھوں انصاف کا قتل،عدالتیں یرغمال، ملک میں بندوق کا قانون نافذ

    ‏افغان طالبان رجیم کےہاتھوں انصاف کا قتل،عدالتیں یرغمال، ملک میں بندوق کا قانون نافذ

    ‏افغان طالبان رجیم کےہاتھوں انصاف کا قتل،عدالتیں یرغمال، ملک میں بندوق کا قانون نافذہے

    افغانستان پر قابض طالبان رجیم نے آئین،عدالت اور انسانی حقوق کو روند کر ملک پر بدترین آمریت مسلط کردی،افغان طالبان رجیم کی طرف سے اسلام کی گمراہ کن تشریح اور من مانے فیصلوں پر دنیا بھر سے کڑی تنقید ہورہی ہے،افغان جریدے اٹلس پریس کے مطابق افغانستان کے سابق اٹارنی جنرل فرید حامدی نے کہا ہے کہ طالبان رجیم نے عدالتی اور قانونی اداروں میں اختیارات کی علیحدگی ختم کرکے قانونی نظام کے بنیادی تصور کو ہی تباہ کردیا ہے،افغان طالبان رجیم کی نام نہاد عدالتیں خود ہی فوجداری مقدمات کی تحقیقات کرکے فیصلے سناتی ہیں، طالبان نے اقتدار پر قبضے کے بعد تمام خواتین پراسیکیورٹرز کو برطرف کردیا اور اب انہیں دھمکیوں کا بھی سامنا ہے، افغان طالبان رجیم میں قید خواتین کی تعداد 435 فیصد بڑھ کر 1,825 تک پہنچ گئی ہے،طالبان کے اقتدار کے بعد کم از کم 57 پراسیکیورٹرز یا ان کے اہلِ خانہ قتل کیے جا چکے ہیں،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم نے قانون، انصاف اور انسانی حقوق کا گلا گھونٹ کرعدالتی نظام کو ذاتی اقتدار کا ہتھیار بنالیا ہے،افغان طالبان رجیم کے ظالمانہ فیصلوں نے افغانستان کو قانون کی حکمرانی کے بجائے خوف، جبر اور انتقام پر قائم ریاست میں تبدیل کردیا ہے

  • ‏مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں سے بھارتی معیشت شدید دباؤ کا شکار

    ‏مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں سے بھارتی معیشت شدید دباؤ کا شکار

    ‏مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں سے بھارتی معیشت شدید دباؤ کا شکار، معاشی ترقی کا من گھڑت بیانیہ بےنقاب ہو گیا،

    نام نہاد 4 ٹریلین ڈالر کی معاشی طاقت کے دعویدار بھارت کو ایک علاقائی جنگ نے شدید بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ،مودی حکومت نے بھارتی معیشت کی موجودہ سنگین صورتحال کا ملبہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش پر ڈال دیا ،بھارتی جریدہ فرنٹ لائن کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق مودی نے بدحال صنعت، تجارتی خسارے اور تکنیکی تنزلی کے بعد معاشی بحران کا بوجھ بھارتی مزدور طبقے پر منتقل کر دیا ،بی جے پی نے امریکی تجارتی معاہدے کیلئے روسی تیل کی خریداری محدود کر کے معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا، مودی نے اسرائیل سے دفاعی معاہدوں کیلئے ایران جیسے آزمودہ اتحادی کو نظرانداز کر دیا، بھارتی عوام نااہل حکمران اشرافیہ کی سیاسی غداریوں کی قیمت ادا کر رہی ہے، بھارت میں خوراک، ایندھن اور کھاد سبسڈی کا حصہ 2016-17 میں 11.7 فیصد سے کم ہو کر 2024-25 میں صرف 7.9 فیصد رہ گیا، رپورٹ کے مطابق کارپوریٹ سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 13.36 فیصد سے کم ہو کر 11.24 فیصد پر آگئی

    عالمی ماہرین کے مطابق مودی حکومت نے وقتی سیاسی فائدے کیلئے عوام، مزدور طبقے اور ریاستی اداروں پر مسلسل معاشی دباؤ ڈال دیا ،بھارتی روپے کی قدر میں تیزی سے کمی اور تجارتی خسارے نے مودی کی نام نہاد تیسری بڑی معیشت کا پہیہ جام کر دیا

  • ‏بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اہلخانہ کا مکمل لاتعلقی کا اعلان

    ‏بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اہلخانہ کا مکمل لاتعلقی کا اعلان

    ‏بی ایل اے کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اہلخانہ نےمکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا

    بلوچستان میں سرگرم بھارتی پراکسی اورکالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں سے انکے اہلخانہ بھی لاتعلقی اختیار کرنے لگے ہیں، تربت سے تعلق رکھنے والی بی ایل اے ،بشیر زیب گروپ کی کمانڈر شہناز بلوچ سے اسکے اہلخانہ اور قریبی رشتہ داروں نے مکمل لاتعلقی کا اعلان کردیا،فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ کی والدہ رخسانہ،دادا اورماموں نے تربت پریس کلب میں بتایاکہ شہناز بلوچ کم عمری میں ہی عمان منتقل ہوگئی تھی اورگزشتہ تقریباً بارہ برس سے خاندان کا اسکے ساتھ رابطہ نہیں ہے،شہناز بلوچ کے والد اس وقت انتقال کرگئے تھے جب وہ صرف نو ماہ کی تھیں، خاندان کو کبھی بھی اس کی کسی شدت پسند سرگرمی یا کسی کالعدم تنظیم سے روابط کے حوالے سے معلومات نہیں تھیں، شہنازبلوچ کے چچا اوردیگر رشتہ داروں نے کہا کہ ہمارے خاندان کا اسکے کے کسی قول، فعل یا سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ،ہم اورہمارا خاندان پرامن پاکستانی ہے ، ہم ہمیشہ قانون اورریاستی اداروں کا احترام کرتے آئے ہیں

    فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد کمانڈر شہناز بلوچ کے اہلخانہ اوررشتہ داروں کا اعلان لاتعلقی ظاہر کرتا ہے کہ بلوچ قوم دہشت گردی کے ناسور سے تنگ آچکی ہے

  • عیدالاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کے اعداد و شمار جاری

    عیدالاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کے اعداد و شمار جاری

    ٹینریزایسوسی ایشن نے رواں سال عیدالاضحیٰ پر قربانی کے جانوروں کے اعداد و شمار جاری کردیئے،

    ٹینریز ایسوسی ایشن کے مطابق رواں سال عید الاضحیٰ پر 7.06فیصد زیادہ جانورقربان کیے گئے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں 74 لاکھ 70ہزار جانور قربان کیے گئے جبکہ گزشتہ سال 69 لاکھ77ہزار565جانورقربان کیے گئے تھے،اس سال 27 لاکھ 50 ہزار گائیں اور بیل قربان کیے گئے، 42لاکھ بکرے، 5 لاکھ بھیڑیں اور25ہزار اونٹ قربان کیے گئے، اس سال بیل اور گائے کی کھال کی قیمت2200 روپے رہی، بکرے کی کھال600 روپے، بھیڑ کی 100اور اونٹ کھال کی قیمت 2ہزار روپے رہی، کھالوں کی مجموعی مالیت 8ارب67کروڑ روپے رہی

  • یکم محرم کو غلافِ کعبہ تبدیل کیا جائے گا، نیا غلاف کلید بردارِ کعبہ کے حوالے

    یکم محرم کو غلافِ کعبہ تبدیل کیا جائے گا، نیا غلاف کلید بردارِ کعبہ کے حوالے

    مکہ مکرمہ: خانۂ کعبہ کا نیا غلاف یکم محرم الحرام کو روایتی تقریب کے دوران تبدیل کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں خادم الحرمین الشریفین کی نیابت میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں نیا غلافِ کعبہ کلید بردارِ کعبہ کے حوالے کر دیا گیا۔

    تقریب میں متعلقہ حکام اور ذمہ دار شخصیات نے شرکت کی، جہاں غلافِ کعبہ کی تبدیلی کے سالانہ انتظامات کا جائزہ بھی لیا گیا۔ نیا غلاف حسبِ روایت یکم محرم الحرام کو خانۂ کعبہ پر چڑھایا جائے گا۔حرمین شریفین انتظامیہ کے مطابق غلافِ کعبہ کی تبدیلی ایک روح پرور اور باوقار مذہبی روایت ہے، جس کا اہتمام ہر سال نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں غلاف کی تنصیب کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ غلافِ کعبہ اعلیٰ معیار کے سیاہ ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جس پر سونے اور چاندی کے تاروں سے قرآنی آیات کی کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اس بابرکت روایت کو نہایت عقیدت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

  • دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نازک موڑ پر سفارتی تعطل اور جنگی خطرات میں اضافہ

    امریکہ، ایران اور روس تنازع عالمی امن کو نئے چیلنجز درپیش

    بڑھتی کشیدگی، کمزور سفارت کاری دنیا کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک غیر یقینی، بے اعتمادی اور طاقت کے توازن کی نئی جنگ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں رومینیا میں روسی ڈرون گرنے کے واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ رومینیا یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ملک ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق یہ براہِ راست مکمل جنگی حملہ نہیں بلکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک ڈرون واقعہ بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔

    میری رائے میں مسئلہ صرف جنگوں کا نہیں، بلکہ قیادت کے بحران کا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب فوری حل کے بجائے “اسٹریٹجک انتظار” کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، اسے صرف ردعمل نہیں بلکہ پیشگی سفارت کاری، مؤثر مذاکرات اور تنازعات کے مستقل حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ مسلسل تعطل کا شکار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں بے یقینی موجود ہے، روس اور یوکرین کی جنگ پورے یورپ کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ خطے کے کئی دیگر تنازعات بھی حل طلب ہیں۔

    حیرت ہے اگر ایک معاملہ حل نہیں ہو رہا تو دوسرا محاذ کھل جاتا ہے۔ یہی صورتحال عالمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہیں جنگ بندی پائیدار نہیں، اور کہیں سفارت کاری سیاسی مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ دنیا میں طاقت تو موجود ہے، مگر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔

    لیکن یہاں ایک احتیاطی نقطہ بھی ضروری ہے: ہر واقعہ کو فوری طور پر “عالمی جنگ” کا آغاز سمجھنا شاید درست نہ ہو۔ اکثر اوقات سرحدی یا جنگی سیکیورٹی اور سیاسی تناؤ بڑے بحران کا اشارہ تو ہوتے ہیں، مگر عالمی طاقتیں انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ رومینیا کے معاملے پر نیٹو نے سخت ردعمل دیا ہے، مگر ساتھ ہی کشیدگی کو مکمل جنگ میں بدلنے سے بچنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

    دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں انا، سیاسی مفادات اور طاقت کے کھیل سے اوپر نہ اٹھیں تو چھوٹے واقعات بڑے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ امریکہ سمیت عالمی قیادت کو سنجیدہ، دوراندیش اور فوری سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، ورنہ دنیا امن سے زیادہ خوف، غیر یقینی اور تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

  • لاہور میں بارش،بجلی کا نظام درہم برہم

    لاہور میں بارش،بجلی کا نظام درہم برہم

    لاہورشہر کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارش اور ژالہ باری سے بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا

    لاہور کے علاقوں گلبرگ ، گڑھی شاہو، ایبٹ روڈ اور ریگل چوک، لکشمی چوک، مسلم ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن اور مال روڈ پربارش ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ دھرم پورہ، صحافی کالونی، جیل روڈ، کلمہ چوک، مانگ چونگی اور فیروز پور روڈ سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی،لیسکو ذرائع کے مطابق موسلادھار بارش سے بجلی کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا اور 100 سے زائد فیڈرز ٹرپ کرگئے ،اس حوالے سے لیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بارش رکنے کے بعد بجلی کی بحالی کا کام شروع ہوگا۔

    بارش کے دوران نکاسی آب کا جامع ایکشن پلان فعال ،ڈی سی لاہور کی زیرِ نگرانی واسا اور انتظامیہ فیلڈ میں متحرک ہیں،تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور واسا کے متعلقہ افسران فیلڈ میں موجود ہیںَ،لاہور کے تمام نشیبی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر عملہ اور مشینری موجود ہے،ترجمان لاہور حکومت کے مطابق بارش کی صورتحال پر کنٹرول روم سے مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے ،نشیبی علاقوں سے نکاسی آب کے لیے تمام ڈسپوزل اسٹیشنز فعال ہیں،