وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو ریلیف دینے کیلئے متعدد اہم تجاویز تیار کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مہنگائی کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔
رپورٹس کے مطابق تنخواہوں میں کسی بھی اضافے کا حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا، جبکہ اس حوالے سے حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 2022 سے 2025 کے دوران دیے گئے چار ایڈہاک الاؤنسز میں سے ایک کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
حکومت ماہانہ ایک لاکھ سے دو لاکھ روپے تنخواہ لینے والے ملازمین کیلئے ٹیکس ریلیف پر بھی غور کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے آمدن رکھنے والے ملازمین کیلئے انکم ٹیکس میں کمی کی تجویز تیار کی گئی ہے تاکہ متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کیلئے کنوینس الاؤنس دوگنا کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
اسی طرح گریڈ 20 سے 22 کے افسران کیلئے کنوینس الاؤنس میں 50 سے 75 فیصد اضافے پر غور کیا جا رہا ہے۔
بجٹ تجاویز میں گریڈ 1 سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کیلئے ڈسپیریٹی الاؤنس دینے کی سفارش بھی شامل ہے تاکہ کم گریڈ ملازمین کی مالی مشکلات کم کی جا سکیں۔
پنشنرز کیلئے بھی اہم ریلیف تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت گزشتہ دو سال کی اوسط مہنگائی کے حساب سے پنشن میں 80 فیصد تک اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت مسلح افواج کو بھی آئندہ مالی سال سے کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم میں شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
تمام تجاویز وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی جبکہ حتمی فیصلے آئی ایم ایف سے مشاورت اور کابینہ کی منظوری کے بعد کیے جائیں گے۔
آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے بڑے ریلیف کی تجاویز
