Baaghi TV

Blog

  • حق مہر مانگنے پر خاتون کو جوتے سے پانی پلانے کا مبینہ تشدد، مقدمہ درج

    حق مہر مانگنے پر خاتون کو جوتے سے پانی پلانے کا مبینہ تشدد، مقدمہ درج

    ‎کوٹ ادو: پنجاب کے ضلع کوٹ ادو میں حق مہر کا مطالبہ کرنے پر ایک خاتون کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے اور جوتے سے پانی پلانے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔
    ‎پولیس کے مطابق یہ واقعہ 20 جون کو تھانہ دائرہ دین پناہ کی حدود میں پیش آیا، جبکہ خاتون کے والد کی مدعیت میں 23 جون کو مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کی شادی دو سے تین سال قبل حسنین نامی شخص سے ہوئی تھی اور نکاح کے وقت دو تولہ سونا حق مہر کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔
    ‎مدعی کے مطابق خاتون کو پہلے بھی گھریلو تشدد کا سامنا رہا۔ واقعے کے روز جب اس نے اپنا حق مہر طلب کیا تو مبینہ طور پر شوہر اور دیگر ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی جوتے سے پانی پینے پر مجبور کیا۔ اس دوران واقعے کی ویڈیو بھی بنائی گئی، جو بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
    ‎ایف آئی آر کے مطابق اس مقدمے میں خاتون کے شوہر حسنین، اعجاز اور ایک نامعلوم ملزم کو نامزد کیا گیا ہے۔ مدعی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمان نے انہیں اور ان کے بیٹے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔
    ‎پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کر کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی، انڈونیشیا کا بڑا اقدام

    16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی، انڈونیشیا کا بڑا اقدام

    ‎انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی اور سخت ڈیجیٹل ضوابط کا باقاعدہ نفاذ شروع کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں کو سوشل میڈیا کی لت، سائبر بُلیئنگ اور آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔
    ‎نئے قوانین کے تحت ایسے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، جنہیں حکومت نے "ہائی رسک” قرار دیا ہے، کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس فوری طور پر غیر فعال کریں۔ ان پلیٹ فارمز میں یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بیگو لائیو اور روبلوکس شامل ہیں۔
    ‎حکومتی اعداد و شمار کے مطابق نئے ضوابط پر عمل درآمد کے بعد ٹک ٹاک اور یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے 47 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس بند کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہے۔
    ‎نئے قوانین کے تحت والدین اور سرپرستوں کو بھی زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں۔ اگر کوئی بچہ کسی ایسے صارف سے رابطہ کرنا چاہے جس کی شناخت واضح نہ ہو، تو اس کے لیے والدین کی اجازت لازمی ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کو نامعلوم افراد سے رابطے اور ممکنہ آن لائن استحصال سے بچانا ہے۔
    ‎حکومت نے تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو مؤثر عمر کی تصدیق کا نظام متعارف کرانے کا بھی پابند بنایا ہے تاکہ کم عمر بچے غلط معلومات فراہم کر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہ بنا سکیں۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
    ‎یہ اقدامات جنوب مشرقی ایشیا میں اپنی نوعیت کے پہلے جامع قوانین قرار دیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق انڈونیشیا نے بچوں کی ذہنی صحت، آن لائن تحفظ اور ڈیجیٹل فلاح کو ترجیح دیتے ہوئے ایک اہم مثال قائم کی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور عمر کی درست تصدیق سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔

  • اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے پر انخلا کے پمفلٹس گرا دیے

    اسرائیل نے جنوبی لبنان کے قصبے پر انخلا کے پمفلٹس گرا دیے

    ‎بیروت: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے ایک قصبے پر فضائی ذریعے سے پمفلٹس گرا کر شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اس نوعیت کا انخلا کا حکم جاری کیا گیا ہے۔
    ‎لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق متاثرہ قصبہ جنوبی لبنان میں اس علاقے کے قریب واقع ہے جہاں اسرائیلی فوج اب بھی اپنی پوزیشنیں برقرار رکھے ہوئے ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا، جبکہ دوسری جانب امریکا میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی مذاکرات بھی جاری ہیں۔
    ‎حالیہ پیش رفت نے جنگ بندی کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ مقامی آبادی میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے۔ شہریوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی ہے اور علاقے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ‎وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 589 ہو گئیں، بین الاقوامی امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع

    ‎وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 589 ہو گئیں، بین الاقوامی امدادی ٹیمیں پہنچنا شروع

    ‎کاراکاس: وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 589 ہو گئی ہے، جبکہ 2,980 سے زائد افراد زخمی ہیں۔ حکام کے مطابق امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔
    ‎قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگز نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امدادی ادارے دن رات کام کر رہے ہیں اور ریسکیو آپریشن میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
    ‎دوسری جانب زلزلے کے بعد عالمی برادری بھی وینزویلا کی مدد کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔ اسپین کی وزارت دفاع کے مطابق درجنوں فوجی اہلکار اور آٹھ تربیت یافتہ ریسکیو کتے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے ویلنشیا شہر پہنچ چکے ہیں۔
    ‎اس کے علاوہ سوئٹزرلینڈ اور جرمنی نے بھی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں روانہ کر دی ہیں، جبکہ برطانیہ نے متاثرین کی امداد کے لیے 20 لاکھ پاؤنڈ کی انسانی ہمدردی کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق متعدد علاقوں میں عمارتیں مکمل طور پر منہدم ہو چکی ہیں، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے اور زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

  • جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت کیس میں 7 سال قید کی سزا

    جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت کیس میں 7 سال قید کی سزا

    ‎سیول: جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت لینے کے مقدمے میں عدالت نے سات سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے انہیں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے بدلے قیمتی زیورات، مہنگے تحائف اور نقد رقوم وصول کرنے کا مجرم قرار دیا۔
    ‎عدالتی فیصلے کے مطابق سابق خاتون اول پر الزام تھا کہ انہوں نے ذاتی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے مختلف افراد سے قیمتی تحائف اور مالی مراعات قبول کیں۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی۔
    ‎یہ پہلا موقع نہیں کہ سابق خاتون اول قانونی کارروائی کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس سے قبل انہیں اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے ایک مقدمے میں بھی چار سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان مقدمات نے جنوبی کوریا میں سیاسی شخصیات کے احتساب اور بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
    ‎دوسری جانب جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول بھی قانونی مشکلات سے دوچار ہیں اور وہ غداری کے مقدمے میں 30 برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ یوں ملک کی سابق حکمران جوڑی دونوں مختلف مقدمات میں سزائیں بھگت رہی ہے، جو جنوبی کوریا کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ان فیصلوں سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ جنوبی کوریا میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور طاقتور سیاسی شخصیات کے خلاف بھی قانون کا یکساں اطلاق کیا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ حکومتی احتسابی نظام پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
    ‎عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق خاتون اول کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے، تاہم موجودہ فیصلے کو جنوبی کوریا میں بدعنوانی کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    افسانچہ ۔ تضاد، مبصرہ : پارس کیانی

    شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ اندر کوٹھی میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
    وہ چونکہ سیاسی آدمی تھے اس لیے محلے والوں نے اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ صاحب کے کچھ
    ہہی خواہوں نے تو کھانے پینے کی چیزوں کا بھی مفت بندوبست کروایا تھا۔ شیخ صاحب نے قبر بھی پچھلے حصے میں کھدوائی تھی تاکہ تدفین کے بعد انکی چہیتی نظروں کے سامنے رہے۔
    چھ ماہ بعد جب اچانک ہارٹ فیل ہو جانے کی وجہ سے شیخ صاحب کی موت واقع ہوگئی تو محلے والے یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ شیخ صاحب کی تدفین میں برائے نام لوگ شامل تھے۔تدفین سے واپسی پر ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے پوچھا “یار تعجب ھے شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔۔۔۔۔۔”

    شہانہ اقبال صاحبہ کے افسانچے "تضاد” کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جو انسانی رویّوں، سماجی ترجیحات اور جذباتی وابستگیوں کے بدلتے ہوئے پیمانوں پر طنزیہ انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔ اگرچہ یہ افسانچہ فنی اعتبار سے بعض کمزوریوں کا حامل ہے، لیکن اس کا مرکزی خیال اور اختتامی ضربِ تاثر اسے قابلِ توجہ بنا دیتی ہے۔
    "تضاد” اس افسانچے کا نہایت موزوں عنوان ہے۔ پوری کہانی ایک ایسے تضاد کو آشکار کرتی ہے جس میں ایک بلی کی موت پر غیر معمولی ہجوم جمع ہو جاتا ہے، لیکن خود اس کے مالک کے جنازے میں چند افراد ہی شریک ہوتے ہیں۔ یہی فرق اور متناقض صورتِ حال عنوان کے مفہوم کو مکمل کرتی ہے۔
    افسانچہ اس جملے سے شروع ہوتا ہے:
    "شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔”
    آغاز میں قاری یہ گمان کرتا ہے کہ شاید شیخ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور لوگ تعزیت کے لیے جمع ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجمع دراصل ان کی بلی کی موت پر اکٹھا ہوا تھا۔ اس طرح مصنفہ نے تجسس پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مختصر افسانچے میں ایسا آغاز ایک مثبت فنی وصف شمار ہوتا ہے۔
    افسانچے کا پلاٹ انتہائی مختصر ہے جیسے کہ
    شیخ صاحب کی بلی مر جاتی ہے۔
    سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں۔
    چھ ماہ بعد خود شیخ صاحب کا انتقال ہو جاتا ہے۔
    ان کے جنازے میں نہایت کم لوگ شریک ہوتے ہیں۔
    آخری جملہ پوری کہانی کا مفہوم واضح کر دیتا ہے۔
    یہ پلاٹ سادہ اور یک رخی ہے، لیکن افسانچے کی صنف میں پیچیدہ واقعات ضروری نہیں ہوتے۔ یہاں مقصد ایک خیال یا نکتے کو ابھارنا ہے، جو کسی حد تک پورا ہو جاتا ہے۔
    شیخ صاحب مرکزی کردار ہیں لیکن ان کی شخصیت کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ:
    وہ سیاسی شخصیت تھے۔
    انہیں اپنی بلی سے غیر معمولی محبت تھی۔
    انہوں نے اپنی قبر بھی گھر کے احاطے میں تیار کروائی تھی۔
    مختصر صنف ہونے کے باعث کردار نگاری علامتی نوعیت اختیار کر جاتی ہے۔ شیخ صاحب دراصل ان افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جو سماجی نمود و نمائش یا وقتی تعلقات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
    افسانچے کی سب سے بڑی خوبی اس کا ڈرامائی انکشاف (Dramatic Revelation) ہے۔
    ابتدا میں قاری یہ سمجھتا ہے کہ شاید کسی اہم شخصیت کی وفات ہوئی ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک بلی کی موت کا منظر تھا۔ پھر جب خود شیخ صاحب فوت ہوتے ہیں تو صورتِ حال بالکل الٹ ہو جاتی ہے۔ یہی الٹ پھیر افسانچے کی جان ہے۔

    اختتامی مکالمہ:
    "یار تعجب ہے، شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔”
    یہ اختتام پوری کہانی کا حاصل ہے۔ افسانچہ نگاری میں جسے ” punch line” یا "ضربِ اختتام” کہا جاتا ہے، وہ یہاں موجود ہے۔
    یہ جملہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:
    کیا لوگ واقعی انسانوں سے محبت کرتے ہیں؟
    کیا سیاسی وابستگیاں محض مفاد تک محدود ہوتی ہیں؟
    کیا زندہ انسان کی قدر اس کے عہدے اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہے؟
    یہ سوالات افسانچے کے بعد بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، جو ایک کامیاب افسانچے کی علامت ہے۔افسانچے میں کئی فکری پرتیں موجود ہیں مثلا :
    لوگ بلی کی موت پر اس لیے جمع ہوئے کہ شیخ صاحب زندہ تھے اور ان کا سیاسی و سماجی اثر و رسوخ موجود تھا۔انسانی رشتوں کی کھوکھلی بنیادوں کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لوگ اصل انسان سے زیادہ اس کی حیثیت اور طاقت سے وابستہ ہوتے ہیں اور یہ کہ
    آخرکار انسان اپنی موت کے بعد تنہا رہ جاتا ہے۔
    زبان عام فہم اور سادہ ہے۔ افسانچہ پیچیدہ تراکیب سے گریز کرتا ہے، جو اس صنف کے لیے موزوں ہے۔
    تاہم ادبی اعتبار سے زبان میں مزید نکھار کی گنجائش موجود ہے۔ بعض جملے بیانیہ انداز میں ہیں اور ان میں تخلیقی چمک نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے۔
    افسانچے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بلی کی موت پر اتنا بڑا مجمع آخر کیوں جمع ہوا۔ صرف سیاسی شخصیت ہونا اس قدر غیر معمولی ردعمل کی مکمل توجیہ فراہم نہیں کرتا۔شیخ صاحب کی شخصیت محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر ان کے رویّے یا مزاج کی ایک دو جھلکیاں دی جاتیں تو اثر مزید گہرا ہو سکتا تھا۔بلی کی موت پر سینکڑوں افراد کا جمع ہونا حقیقت کے اعتبار سے کچھ مبالغہ آمیز محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ طنزیہ ادب میں مبالغہ قابلِ قبول ہے، لیکن یہاں بعض قارئین اسے غیر فطری بھی سمجھ سکتے ہیں۔جذباتی گہرائی کی کمی ہے۔افسانچہ فکر دیتا ہے مگر دل پر شدید جذباتی اثر نہیں چھوڑتا۔ یہ زیادہ تر طنزیہ اور فکری سطح پر کام کرتا ہے۔
    مجموعی طور پر یہ تحریر افسانچے کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتی ہے کیونکہ
    مختصر ہے۔ایک مرکزی خیال رکھتی ہے۔تجسس پیدا کرتی ہے۔
    اختتام میں چونکا دیتی ہے۔
    سماجی پیغام رکھتی ہے۔
    البتہ اسے اعلیٰ درجے کا شاہکار افسانچہ کہنا مشکل ہوگا کیونکہ اس میں کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، علامتی وسعت اور فنی پختگی محدود ہے۔
    شہانہ اقبال صاحبہ کا افسانچہ "تضاد” سماجی منافقت اور مفاد پرستانہ تعلقات کی ایک مختصر مگر معنی خیز تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کی اصل قوت اس کے چونکا دینے والے اختتام اور طنزیہ تاثر میں مضمر ہے۔ مصنفہ نے چند سطروں میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا اکثر انسان سے زیادہ اس کے مفادات اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگرچہ فنی سطح پر بعض کمزوریاں موجود ہیں، تاہم اختتامی ضرب، عنوان کی مناسبت اور مرکزی خیال کی معنویت اسے ایک کامیاب اور مؤثر افسانچہ بناتی ہیں۔

    مختصر یہ کہ افسانچہ فنی اعتبار سے اچھی سطح کا افسانچہ ہے، فکری اعتبار سے معنی خیز ہے، اور طنزیہ و سماجی تنقید کے حوالے سے قابلِ توجہ تخلیق شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے افسانچہ نگاری کے اعلیٰ ترین نمونوں میں شامل کرنے کے لیے مزید فنی گہرائی، نفسیاتی تہہ داری اور علامتی وسعت درکار ہے۔

  • کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں   احتجاج

    کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں احتجاج

    امیر جماعت اسلامی لوئر چترال وجیہ الدین کی ہدایت پر ضلع بھر کی طرح وی سی رمبور میں بھی ’’کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ‘‘ مہم کے تحت احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ مین بازار رمبور میں بعد از نماز جمعہ منعقدہ احتجاج میں مقامی عوام نے شرکت کی اور کرپشن، بدعنوانی، عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

    شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ دار عناصر کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ احتجاج کے اختتام پر عوامی قرارداد بھی پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور چترال میں مبینہ کرپشن کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق آگاہی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، خردبرد شدہ قومی رقم کی فوری ریکوری کی جائے اور اس میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے اور شفافیت و احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

  • ‎ایرانی حملوں کے بعد امریکا خلیجی فوجی اڈوں کی منتقلی پر غور کرنے لگا، رپورٹ

    ‎ایرانی حملوں کے بعد امریکا خلیجی فوجی اڈوں کی منتقلی پر غور کرنے لگا، رپورٹ

    ‎واشنگٹن: امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث امریکا اپنے اہم فوجی اڈوں کو ایرانی میزائلوں کی رینج سے دور منتقل کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق بحرین میں قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کو شدید نقصان پہنچا، جہاں ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹرز، مواصلاتی نظام، گوداموں اور دیگر تنصیبات کو متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تاحال عوامی سطح پر ان نقصانات کی تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق صرف بحرین میں امریکی بحری اڈے کی بحالی اور تعمیرِ نو پر تقریباً 40 کروڑ ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کی مالیت 2 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
    ‎وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انہی خدشات کے پیش نظر امریکی دفاعی حکام مستقبل میں خلیجی خطے میں اپنی فوجی تنصیبات کی پوزیشننگ اور دفاعی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ انہیں ممکنہ میزائل حملوں سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔
    ‎امریکی حکام کی جانب سے اس رپورٹ میں کیے گئے تمام دعوؤں کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔

  • بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی،دو دہشتگردجہنم واصل

    بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی کاروائی،دو دہشتگردجہنم واصل

    بلوچستان: آپریشن "ترسانی ہنٹ” کے پہلے مرحلے میں دہشتگردوں کے ٹھکانے پر کارروائی،2 دہشت گرد ہلاک، بھاری مقدار میں اسلحہ، بارودی مواد اور بڑی مقدار میں لاجسٹک سامان برآمدکر لیاگیا

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے آپریشن "ترسانی ہنٹ” کے پہلے مرحلے کو کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا،ذرائع کے مطابق ایک دہشت گرد کی لاش موقع سے برآمد کر لی گئی، جبکہ دوسرے کی ہلاکت اور ایک دہشت گرد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی۔کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور لاجسٹک سامان برآمد کیا گیا۔ برآمد ہونے والے سامان میں بی ایل اے کا پرچم، آئی ای ڈیز، آئی ای ڈی بنانے کا سامان، تقریباً 2 کلوگرام دھماکہ خیز مواد، آر پی جی، یو بی جی ایل گولے، پی کے ایم گولیاں، وائرلیس سیٹ، سولر پینلز، بیٹریاں، ادویات، خوراک، کمبل، پانی کے کین اور دیگر ضروری سامان شامل ہے۔

    سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے متعدد سیکنڈری دھماکہ خیز آلات بھی ناکارہ بنا دیے، جبکہ برآمد شدہ مواد کو مزید تفتیش اور فرانزک جانچ کے لیے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • اداکارہ مومنہ اقبال کا قانونی نوٹس،ناصر مدنی نے سرعام معافی مانگ لی

    اداکارہ مومنہ اقبال کا قانونی نوٹس،ناصر مدنی نے سرعام معافی مانگ لی

    اداکارہ مومنہ اقبال سے متعلق متنازعہ بیان دینے کے بعد قانونی نوٹس موصول ہونے پر مذہبی اسکالر علامہ ناصر مدنی نے ایک عوامی جلسے کے دوران اپنے الفاظ پر معذرت کر لی۔

    علامہ ناصر مدنی نے خطاب کے دوران اداکارہ مومنہ اقبال سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے بیان سے اداکارہ کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر مومنہ اقبال کی بہن سمیت تمام خواتین سے بھی اپیل کی کہ وہ منتہا کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑی ہوں۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل علامہ ناصر مدنی کے مومنہ اقبال سے متعلق دیے گئے متنازعہ بیان پر اداکارہ نے اپنے وکیل عدنان احسان کے ذریعے قانونی نوٹس بھجوایا تھا۔قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ علامہ ناصر مدنی کے بیانات سے مومنہ اقبال کی عزت، ساکھ اور پیشہ ورانہ حیثیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ نوٹس میں ان بیانات کو ہتکِ عزت قرار دیتے ہوئے مناسب قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔

    بعد ازاں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علامہ ناصر مدنی نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔