واشنگٹن: امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھاری نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث امریکا اپنے اہم فوجی اڈوں کو ایرانی میزائلوں کی رینج سے دور منتقل کرنے کے آپشن پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بحرین میں قائم امریکی پانچویں بحری بیڑے کو شدید نقصان پہنچا، جہاں ففتھ فلیٹ کے ہیڈکوارٹرز، مواصلاتی نظام، گوداموں اور دیگر تنصیبات کو متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے تاحال عوامی سطح پر ان نقصانات کی تصدیق یا تفصیلات جاری نہیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق صرف بحرین میں امریکی بحری اڈے کی بحالی اور تعمیرِ نو پر تقریباً 40 کروڑ ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی اڈوں کو پہنچنے والے مجموعی نقصان کی مالیت 2 ارب ڈالر سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق انہی خدشات کے پیش نظر امریکی دفاعی حکام مستقبل میں خلیجی خطے میں اپنی فوجی تنصیبات کی پوزیشننگ اور دفاعی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں تاکہ انہیں ممکنہ میزائل حملوں سے زیادہ محفوظ بنایا جا سکے۔
امریکی حکام کی جانب سے اس رپورٹ میں کیے گئے تمام دعوؤں کی باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
ایرانی حملوں کے بعد امریکا خلیجی فوجی اڈوں کی منتقلی پر غور کرنے لگا، رپورٹ
