شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ اندر کوٹھی میں بھی تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔
وہ چونکہ سیاسی آدمی تھے اس لیے محلے والوں نے اتنا مجمع کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شیخ صاحب کے کچھ
ہہی خواہوں نے تو کھانے پینے کی چیزوں کا بھی مفت بندوبست کروایا تھا۔ شیخ صاحب نے قبر بھی پچھلے حصے میں کھدوائی تھی تاکہ تدفین کے بعد انکی چہیتی نظروں کے سامنے رہے۔
چھ ماہ بعد جب اچانک ہارٹ فیل ہو جانے کی وجہ سے شیخ صاحب کی موت واقع ہوگئی تو محلے والے یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ شیخ صاحب کی تدفین میں برائے نام لوگ شامل تھے۔تدفین سے واپسی پر ایک صاحب نے اپنے ساتھی سے پوچھا “یار تعجب ھے شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔۔۔۔۔۔”
شہانہ اقبال صاحبہ کے افسانچے "تضاد” کا مطالعہ کیا جائے تو یہ ایک مختصر مگر معنی خیز افسانچہ ہے جو انسانی رویّوں، سماجی ترجیحات اور جذباتی وابستگیوں کے بدلتے ہوئے پیمانوں پر طنزیہ انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔ اگرچہ یہ افسانچہ فنی اعتبار سے بعض کمزوریوں کا حامل ہے، لیکن اس کا مرکزی خیال اور اختتامی ضربِ تاثر اسے قابلِ توجہ بنا دیتی ہے۔
"تضاد” اس افسانچے کا نہایت موزوں عنوان ہے۔ پوری کہانی ایک ایسے تضاد کو آشکار کرتی ہے جس میں ایک بلی کی موت پر غیر معمولی ہجوم جمع ہو جاتا ہے، لیکن خود اس کے مالک کے جنازے میں چند افراد ہی شریک ہوتے ہیں۔ یہی فرق اور متناقض صورتِ حال عنوان کے مفہوم کو مکمل کرتی ہے۔
افسانچہ اس جملے سے شروع ہوتا ہے:
"شیخ صاحب کا کشادہ اور خوبصورت لان پرسہ دینے والوں سے بھرا ہوا تھا۔”
آغاز میں قاری یہ گمان کرتا ہے کہ شاید شیخ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور لوگ تعزیت کے لیے جمع ہیں، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجمع دراصل ان کی بلی کی موت پر اکٹھا ہوا تھا۔ اس طرح مصنفہ نے تجسس پیدا کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مختصر افسانچے میں ایسا آغاز ایک مثبت فنی وصف شمار ہوتا ہے۔
افسانچے کا پلاٹ انتہائی مختصر ہے جیسے کہ
شیخ صاحب کی بلی مر جاتی ہے۔
سیاسی اثر و رسوخ کی بنا پر بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے آتے ہیں۔
چھ ماہ بعد خود شیخ صاحب کا انتقال ہو جاتا ہے۔
ان کے جنازے میں نہایت کم لوگ شریک ہوتے ہیں۔
آخری جملہ پوری کہانی کا مفہوم واضح کر دیتا ہے۔
یہ پلاٹ سادہ اور یک رخی ہے، لیکن افسانچے کی صنف میں پیچیدہ واقعات ضروری نہیں ہوتے۔ یہاں مقصد ایک خیال یا نکتے کو ابھارنا ہے، جو کسی حد تک پورا ہو جاتا ہے۔
شیخ صاحب مرکزی کردار ہیں لیکن ان کی شخصیت کی تفصیلات نہیں ملتیں۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ:
وہ سیاسی شخصیت تھے۔
انہیں اپنی بلی سے غیر معمولی محبت تھی۔
انہوں نے اپنی قبر بھی گھر کے احاطے میں تیار کروائی تھی۔
مختصر صنف ہونے کے باعث کردار نگاری علامتی نوعیت اختیار کر جاتی ہے۔ شیخ صاحب دراصل ان افراد کی نمائندگی کرتے ہیں جو سماجی نمود و نمائش یا وقتی تعلقات پر بھروسہ کرتے ہیں۔
افسانچے کی سب سے بڑی خوبی اس کا ڈرامائی انکشاف (Dramatic Revelation) ہے۔
ابتدا میں قاری یہ سمجھتا ہے کہ شاید کسی اہم شخصیت کی وفات ہوئی ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب ایک بلی کی موت کا منظر تھا۔ پھر جب خود شیخ صاحب فوت ہوتے ہیں تو صورتِ حال بالکل الٹ ہو جاتی ہے۔ یہی الٹ پھیر افسانچے کی جان ہے۔
اختتامی مکالمہ:
"یار تعجب ہے، شیخ صاحب کے جنازے میں اتنے کم لوگ شامل تھے جبکہ ان کی بلی کی موت پر بے شمار لوگوں نے شرکت کی تھی۔”
یہ اختتام پوری کہانی کا حاصل ہے۔ افسانچہ نگاری میں جسے ” punch line” یا "ضربِ اختتام” کہا جاتا ہے، وہ یہاں موجود ہے۔
یہ جملہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:
کیا لوگ واقعی انسانوں سے محبت کرتے ہیں؟
کیا سیاسی وابستگیاں محض مفاد تک محدود ہوتی ہیں؟
کیا زندہ انسان کی قدر اس کے عہدے اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہے؟
یہ سوالات افسانچے کے بعد بھی ذہن میں گردش کرتے رہتے ہیں، جو ایک کامیاب افسانچے کی علامت ہے۔افسانچے میں کئی فکری پرتیں موجود ہیں مثلا :
لوگ بلی کی موت پر اس لیے جمع ہوئے کہ شیخ صاحب زندہ تھے اور ان کا سیاسی و سماجی اثر و رسوخ موجود تھا۔انسانی رشتوں کی کھوکھلی بنیادوں کو نمایاں کیا گیا ہے کہ لوگ اصل انسان سے زیادہ اس کی حیثیت اور طاقت سے وابستہ ہوتے ہیں اور یہ کہ
آخرکار انسان اپنی موت کے بعد تنہا رہ جاتا ہے۔
زبان عام فہم اور سادہ ہے۔ افسانچہ پیچیدہ تراکیب سے گریز کرتا ہے، جو اس صنف کے لیے موزوں ہے۔
تاہم ادبی اعتبار سے زبان میں مزید نکھار کی گنجائش موجود ہے۔ بعض جملے بیانیہ انداز میں ہیں اور ان میں تخلیقی چمک نسبتاً کم محسوس ہوتی ہے۔
افسانچے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ بلی کی موت پر اتنا بڑا مجمع آخر کیوں جمع ہوا۔ صرف سیاسی شخصیت ہونا اس قدر غیر معمولی ردعمل کی مکمل توجیہ فراہم نہیں کرتا۔شیخ صاحب کی شخصیت محض ایک علامت بن کر رہ جاتی ہے۔ اگر ان کے رویّے یا مزاج کی ایک دو جھلکیاں دی جاتیں تو اثر مزید گہرا ہو سکتا تھا۔بلی کی موت پر سینکڑوں افراد کا جمع ہونا حقیقت کے اعتبار سے کچھ مبالغہ آمیز محسوس ہوتا ہے۔ اگرچہ طنزیہ ادب میں مبالغہ قابلِ قبول ہے، لیکن یہاں بعض قارئین اسے غیر فطری بھی سمجھ سکتے ہیں۔جذباتی گہرائی کی کمی ہے۔افسانچہ فکر دیتا ہے مگر دل پر شدید جذباتی اثر نہیں چھوڑتا۔ یہ زیادہ تر طنزیہ اور فکری سطح پر کام کرتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ تحریر افسانچے کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتی ہے کیونکہ
مختصر ہے۔ایک مرکزی خیال رکھتی ہے۔تجسس پیدا کرتی ہے۔
اختتام میں چونکا دیتی ہے۔
سماجی پیغام رکھتی ہے۔
البتہ اسے اعلیٰ درجے کا شاہکار افسانچہ کہنا مشکل ہوگا کیونکہ اس میں کرداروں کی نفسیاتی گہرائی، علامتی وسعت اور فنی پختگی محدود ہے۔
شہانہ اقبال صاحبہ کا افسانچہ "تضاد” سماجی منافقت اور مفاد پرستانہ تعلقات کی ایک مختصر مگر معنی خیز تصویر پیش کرتا ہے۔ اس کی اصل قوت اس کے چونکا دینے والے اختتام اور طنزیہ تاثر میں مضمر ہے۔ مصنفہ نے چند سطروں میں یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا اکثر انسان سے زیادہ اس کے مفادات اور اثر و رسوخ سے وابستہ ہوتی ہے۔ اگرچہ فنی سطح پر بعض کمزوریاں موجود ہیں، تاہم اختتامی ضرب، عنوان کی مناسبت اور مرکزی خیال کی معنویت اسے ایک کامیاب اور مؤثر افسانچہ بناتی ہیں۔
مختصر یہ کہ افسانچہ فنی اعتبار سے اچھی سطح کا افسانچہ ہے، فکری اعتبار سے معنی خیز ہے، اور طنزیہ و سماجی تنقید کے حوالے سے قابلِ توجہ تخلیق شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن اسے افسانچہ نگاری کے اعلیٰ ترین نمونوں میں شامل کرنے کے لیے مزید فنی گہرائی، نفسیاتی تہہ داری اور علامتی وسعت درکار ہے۔
