Baaghi TV

Blog

  • شادی پر  14 کروڑ بھارتی روپے خرچ  کرنے کا منصوبہ”وڑ”گیا،منگیتر نے نوجوان کی جان لے لی

    شادی پر 14 کروڑ بھارتی روپے خرچ کرنے کا منصوبہ”وڑ”گیا،منگیتر نے نوجوان کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک نوجوان کاروباری شخصیت کی پراسرار موت نے ایسا رخ اختیار کر لیا ہے کہ یہ واقعہ اب ملک کے سب سے زیادہ زیرِ بحث ہائی پروفائل قتل کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں اس واقعے کو ایک افسوسناک حادثہ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم پولیس تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے دعوؤں نے اس معاملے کو محبت، دھوکے، مبینہ سازش اور قتل کی سنسنی خیز کہانی میں تبدیل کر دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق 26 سالہ کاروباری شخصیت کیتن اگروال کی موت 18 جون کو لوہا گڑھ قلعے پر گہری کھائی میں گرنے سے ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے، تاہم تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن کے بعد پولیس نے اسے مبینہ منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی منگیتر 20 سالہ سیا گوئل اور اس کے مبینہ دوست چیتن چودھری کو گرفتار کر لیا۔کیتن اگروال کی موت کے فوراً بعد سیا گوئل نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ "تم مجھے میری سالگرہ پر چھوڑ گئے، واپس آ جاؤ۔” اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ہمدردی کی لہر دوڑا دی تھی، لیکن چند روز بعد پولیس کی تحقیقات نے اس واقعے کو ایک بالکل نئے زاویے سے پیش کر دیا۔

    لوناؤلہ دیہی پولیس کے تفتیشی افسر دنیش تیاڈے کے مطابق واقعے کے ابتدائی مرحلے میں ہی کئی تضادات سامنے آ گئے تھے۔ پولیس نے موبائل فون ریکارڈ، دونوں ملزمان کی نقل و حرکت اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا، جس کے بعد شبہ مزید مضبوط ہوا کہ کیتن اگروال کی موت حادثاتی نہیں بلکہ مبینہ طور پر قتل کا نتیجہ تھی۔تحقیقات کے مطابق سیا گوئل نے کیتن اگروال کو لوہا گڑھ قلعے پر آنے کے لیے آمادہ کیا، جبکہ چیتن چودھری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے مل کر کیتن کو گہری کھائی میں دھکا دیا اور بعد ازاں اس واقعے کو حادثاتی موت ثابت کرنے کی کوشش کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی کئی ہفتے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ تحقیقات کے مطابق 31 مئی کو سیا گوئل اور کیتن پہلی مرتبہ ٹریکنگ کے لیے اسی مقام پر گئے تھے، جہاں مبینہ طور پر منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے بعد 14 جون کو دونوں دوبارہ قلعے پہنچے، جہاں فوٹو شوٹ کے دوران سیا نے مبینہ طور پر سانپ دیکھنے کا شور مچا کر کیتن کو کھائی کے قریب لے جانے کی کوشش کی، لیکن منصوبہ ناکام رہا۔پولیس کے مطابق 18 جون، جو سیا گوئل کی سالگرہ سے ایک دن پہلے تھا، اس نے ایک مرتبہ پھر لوہا گڑھ قلعے جانے پر اصرار کیا۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسی روز چیتن چودھری کی مدد سے کیتن اگروال کو کھائی میں دھکا دیا گیا اور بعد میں پولیس کو بتایا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے تھے۔

    یہ کیس اس لیے بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ دونوں خاندان شادی کی بھرپور تیاریوں میں مصروف تھے۔ دونوں کی منگنی رواں سال فروری میں ہوئی تھی جبکہ نومبر میں راجستھان کے شہر اودے پور میں شاندار شادی طے تھی۔ اطلاعات کے مطابق شادی پر تقریباً 14 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جبکہ کیتن اگروال نے سیا گوئل کی سالگرہ کی تقریب کے لیے مہابلیشور کے ایک لگژری ریزورٹ میں 40 سے 50 کمرے بھی بک کروا رکھے تھے۔پولیس کی تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ سیا گوئل اور چیتن چودھری کے درمیان گزشتہ تقریباً ایک سال سے قریبی تعلقات تھے۔ دونوں خاندان کاروباری روابط رکھتے تھے اور اسی دوران ان کی قربت بڑھی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سیا کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور مبینہ طور پر اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

    دوسری جانب مقتول کے والد وشال اگروال نے اپنے بیٹے کی موت پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا 26 سالہ بیٹا ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ ان کے مطابق کیتن نے امریکہ سے ایم بی اے مکمل کرنے کے بعد خاندانی کاروبار سنبھال لیا تھا اور مستقبل کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیتن نے کئی مرتبہ سیا کے رویے پر خدشات ظاہر کیے تھے، تاہم خاندان نے ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔پولیس نے سیا گوئل اور چیتن چودھری کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کو سات روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر لوہا گڑھ قلعے پر واقعے کی دوبارہ منظر کشی بھی کی جا سکتی ہے تاکہ تمام حقائق کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

  • کراچی،ماں اور 8 سالہ بیٹی کی گھر سے پھندا لگی لاشیں برآمد

    کراچی،ماں اور 8 سالہ بیٹی کی گھر سے پھندا لگی لاشیں برآمد

    کراچی: شہر کے علاقے ملیر کھوکھرا پار میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گھر سے ماں اور اس کی 8 سالہ بیٹی کی پھندا لگی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 30 سالہ صبا زوجہ حنیف اور ان کی 8 سالہ بیٹی نبیہ دختر حنیف کے نام سے ہوئی ہے۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور دونوں کی لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا، تاہم شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے ہر ممکن پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اہل خانہ اور قریبی افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ واقعے سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے اور فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی واقعے کی حقیقت اور موت کی وجوہات کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

  • امت مسلمہ کے اتحاد میں مزید مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے،خواجہ آصف

    امت مسلمہ کے اتحاد میں مزید مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے،خواجہ آصف

    سیالکوٹ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے یومِ عاشور کے جلوس کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ امام حسینؓ کی قربانی حق، صبر اور استقامت کا لازوال پیغام ہے،

    خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے شہدائے کربلا کی سنت کو زندہ کیا،ایرانی قوم کی جرات اور استقامت پوری امت مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہے، پاکستان کے کردار سے امت مسلمہ کے اتحاد کو نئی تقویت ملی،ایران، فلسطین اور لبنان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، فلسطینی عوام نے اپنی قربانیوں سے کربلا کی یاد تازہ کر دی،وہ وقت دور نہیں جب فلسطین آزاد ریاست بنے گا،
    لبنانی عوام اسرائیلی ظلم و ستم سے نجات حاصل کریں گے، یومِ عاشور ہمیں ازلی و ابدی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، امت مسلمہ کے اتحاد میں مزید مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے، دعا ہے امت مسلمہ ایک پرچم تلے متحد ہو جائے، دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی اور کامیابی نصیب ہو، اللہ تعالیٰ ہمیں شہدائے کربلا کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، جب خطے میں ایک جنگ جاری تھی، ایرانیوں نے سنتِ حسینؓ اور کربلا کے شہدا کی یاد تازہ کر دی ہے،اس جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ میں قیامت تک ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پاکستان نے دونوں ممالک کی صلح کروائی اور پوری امت کے سامنے سرخرو ہوا۔

  • قومی مسائل، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قومی مسائل، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں پاک فوج، ریاستی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں کا کلیدی کردار

    قومی مسائل کا پائیدار حل سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے مؤثر اشتراک میں مضمر ہے

    قومی اتحاد، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد ہی پاکستان کے استحکام اور ترقی کی حقیقی ضمانت ہیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں داخلی اور خارجی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستی پالیسیوں کا امتحان لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت کو بہتر بنانے اور خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔ اس سفر میں پاک فوج، دیگر قومی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بارے میں دنیا کے مختلف حلقوں میں مثبت تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ریاستی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داریاں بھی کسی طور کم نہیں ہوتیں۔ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں اور حکومتیں صرف قانون سازی یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور سیاسی مفاہمت پیدا کرنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک سیاسی، سفارتی اور انسانی مسئلہ بھی ہے جسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے، مؤثر سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے اور قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں سیاسی قیادت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان میں موجود احساسِ محرومی، بدامنی یا علیحدگی پسند رجحانات کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔

    گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل بھی سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور سنجیدہ مذاکرات کے متقاضی ہیں۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں منتخب نمائندوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومی وحدت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور سیاسی دانش سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی ماحول میں اکثر سیاسی جماعتوں کی توجہ عوامی مسائل اور قومی چیلنجز کے بجائے ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ ریاست کو درپیش خطرات، معیشت، امن و امان، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی چیلنجز ایسے معاملات ہیں جن پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ماضی کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے رہنما نظر آتے ہیں جو اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے تھے۔ سیاسی مکالمہ، برداشت اور قومی اتفاقِ رائے ان کی سیاست کا اہم حصہ تھا۔ آج بھی پاکستان کو اسی طرزِ فکر کی ضرورت ہے تاکہ قومی مسائل کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کیا جا سکے۔
    پنجاب میں امن و امان، عوامی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی بعض کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ عوام کی توقع یہی ہوتی ہے کہ منتخب قیادت محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات میں کمی لائے اور قومی استحکام میں اپنا حصہ ڈالے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ قومی ترقی اور استحکام کے لیے تمام ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کو اپنی آئینی و قومی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ جب ہر ادارہ اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دے گا تو پاکستان مزید مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا مقام بنا سکے گا۔

  • سسر سے ناجائز تعلقات،بہو اور سسر نے ملکر خاتون کی جان لے لی

    سسر سے ناجائز تعلقات،بہو اور سسر نے ملکر خاتون کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے بھراکٹا تھانہ علاقے میں ایک 55 سالہ خاتون کے قتل نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ پولیس نے مقتولہ کلسی دیوی کے قتل کے الزام میں ان کے شوہر دولت ساو اور چھوٹی بہو پریتی کماری کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ دولت ساو اور ان کی چھوٹی بہو کے درمیان مبینہ ناجائز تعلقات تھے، جن کی مقتولہ مسلسل مخالفت کرتی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی تنازع کے باعث دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر کلسی دیوی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔تفتیشی حکام کے مطابق واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا، جب مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے کلسی دیوی کا گلا کاٹ کر انہیں قتل کیا گیا۔ الزام ہے کہ واردات کے بعد لاش کو گھر کے ایک کمرے میں بند کر دیا گیا جبکہ دروازے پر باہر سے تالا لٹکا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خاتون گھر پر موجود نہیں ہیں۔پولیس کے مطابق جب پڑوسیوں نے کلسی دیوی کے بارے میں دریافت کیا تو پریتی کماری نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے گھر گئی ہیں۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے لاش کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی، تاہم اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

    اتوار کی صبح دولت ساو خود گاؤں کے سربراہ کے پاس پہنچا اور دعویٰ کیا کہ کسی نامعلوم شخص نے اس کی بیوی کو قتل کر دیا ہے۔ اطلاع ملنے پر بھراکٹا تھانے کے انچارج اوم پرکاش پانڈے پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس کمرے میں لاش موجود تھی، اس کے دروازے پر تالا صرف دکھاوے کے لیے لگایا گیا تھا۔ کمرہ کھولنے پر اندر سے شدید بدبو آ رہی تھی، جس سے شبہ ہوا کہ قتل کئی گھنٹے قبل کیا جا چکا تھا۔پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دولت ساو اور پریتی کماری کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں مقتولہ کی بڑی بہو ہیمنتی دیوی کی تحریری شکایت پر قتل کا مقدمہ درج کرکے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔

    مقامی افراد کے مطابق دولت ساو اور پریتی کماری کے درمیان مبینہ تعلقات کا معاملہ تقریباً دو سال قبل بھی گاؤں میں زیر بحث آیا تھا۔ گاؤں والوں کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پریتی کماری نے اپنے سسر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے، جن میں نشہ آور چیز پلا کر جنسی استحصال کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔ اس معاملے پر گاؤں میں پنچایت منعقد ہوئی تھی، جہاں مبینہ طور پر دولت ساو نے معافی مانگی، جبکہ پریتی کا شوہر، جو روزگار کے سلسلے میں حیدرآباد میں رہتا ہے، اپنی اہلیہ کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔مقامی افراد کے مطابق چند ماہ بعد پریتی کماری دوبارہ گاؤں واپس آ گئی اور اس کے بعد دونوں کے درمیان مبینہ تعلقات دوبارہ قائم رہے، جن کی کلسی دیوی مخالفت کرتی تھیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ یہی خاندانی تنازع بالآخر قتل کی وجہ بنا۔

    بھراکٹا تھانے کے انچارج اوم پرکاش پانڈے کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، گواہوں کے بیانات اور دورانِ تفتیش سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر فرانزک شواہد کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔پولیس نے واضح کیا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک تمام ملزمان قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بیوہ خاتون کو نوکری دلانے کا جھانسہ،کروائی گئی جسم فروشی

    سوشل میڈیا کی دوستی،بیوہ خاتون کو نوکری دلانے کا جھانسہ،کروائی گئی جسم فروشی

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع اناؤ میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی دوستی ایک بیوہ خاتون کے لیے خوفناک سانحہ بن گئی۔

    متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ انسٹاگرام پر دوستی کے بعد اسے نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر نوئیڈا منتقل کیا گیا، جہاں اس سے جبری شادی کرائی گئی، جسم فروشی پر مجبور کیا گیا اور کئی ماہ تک ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت کے حکم پر پولیس نے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔متاثرہ خاتون کے مطابق سال 2025 میں اس کی انسٹاگرام پر ضلع کاس گنج کی رہائشی شیوکماری نامی خاتون سے دوستی ہوئی۔ بات چیت کے دوران شیوکماری نے اس کی مالی مشکلات اور بیوہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوئیڈا میں اچھی ملازمت دلانے کی پیشکش کی۔ اپنے چار سالہ بیٹے کے بہتر مستقبل کی امید میں متاثرہ 10 اکتوبر 2025 کو اناؤ کے گڈانکھیڑا بائی پاس پہنچی، جہاں شیوکماری کے بیٹے اتل اور اس کے ساتھی سچن بھاٹی اسے گاڑی میں بٹھا کر نوئیڈا لے گئے۔خاتون کا الزام ہے کہ نوئیڈا پہنچنے کے بعد اسے ایک مکان میں قید کر دیا گیا اور گھریلو کام کاج پر مجبور کیا گیا۔ صرف چار روز بعد، 14 اکتوبر کو، شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی نے مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر عدالت میں اس کی اتل کے ساتھ جبری شادی کرا دی۔

    شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ شادی کے بعد ملزمان نے اسے دوسرے مردوں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ انکار کی صورت میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی رہی۔متاثرہ کے مطابق اس دوران وہ حاملہ ہوگئی اور ایک بچی کو جنم دیا، تاہم بچی کی پیدائش کے بعد بھی مبینہ ظلم کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے کھانے میں نشہ آور ادویات ملا دی جاتی تھیں اور بے ہوشی کی حالت میں مختلف افراد کو بلا کر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی جاتی تھی، جبکہ مزاحمت پر اسے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔خاتون نے بتایا کہ ایک موقع پر ملزم کا موبائل فون ہاتھ لگنے پر اس نے خفیہ طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد اس کا بھائی نوئیڈا پہنچا اور اسے وہاں سے واپس گھر لے آیا۔اس نے بگا پور کوتوالی پولیس اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو تحریری شکایت بھی دی، لیکن طویل عرصے تک کوئی کارروائی نہ ہونے پر اس نے انصاف کے لیے سول جج کی فاسٹ ٹریک کورٹ سے رجوع کیا۔

    عدالت کے حکم پر بگا پور کوتوالی پولیس نے شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی کے خلاف جبری شادی، مبینہ اجتماعی زیادتی، انسانی اسمگلنگ، تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔اسٹیشن ہاؤس آفیسر اروند کمار کے مطابق عدالت کی ہدایت پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تمام نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں .

  • بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے

    بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے

    کوئٹہ: بلوچستان کے اضلاع سبی اور کوہلو میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد احتیاطاً گھروں اور دفاتر سے باہر نکل آئے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ضلع سبی میں زلزلے کی شدت 4.2 ریکارڈ کی گئی، جبکہ اس کی گہرائی 42 کلومیٹر تھی۔ حکام کے مطابق زلزلے کا مرکز سبی شہر سے 57 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔دوسری جانب ضلع کوہلو میں زلزلے کی شدت 5.0 ریکارڈ کی گئی۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق اس زلزلے کی گہرائی 18 کلومیٹر تھی، جبکہ اس کا مرکز کوہلو شہر سے 65 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع تھا۔زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے کھلے مقامات کی جانب نکل آئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • وینزویلا،زلزلے سے ہلاکتیں 235 ہو گئیں،امدادی کاروائیاں جاری

    وینزویلا،زلزلے سے ہلاکتیں 235 ہو گئیں،امدادی کاروائیاں جاری

    سیاسی اور معاشی بحران کے شکار جنوبی امریکی ملک وینزویلا میں آنے والے دو شدید زلزلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جہاں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 235 تک پہنچ گئی ہے جبکہ سینکڑوں افراد اب بھی لاپتا یا ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ امدادی ٹیمیں متاثرین کو بچانے کے لیے "گولڈن آور” کے دوران مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق دوسرا زلزلہ گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں وینزویلا میں آنے والا سب سے طاقتور زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دارالحکومت کاراکاس، ساحلی ریاست لا گوائرا اور قریبی علاقوں میں متعدد رہائشی عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔حکام کے مطابق متعدد عمارتوں کے ملبے میں اب بھی لوگوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ ریسکیو اہلکار بھاری مشینری اور خصوصی آلات کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں، تاہم خراب انفراسٹرکچر اور وسائل کی کمی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن رہی ہے۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں خود ملبہ ہٹا رہے ہیں کیونکہ سرکاری امداد ہر مقام تک نہیں پہنچ سکی۔

    زلزلے کے بعد امریکی محکمہ خزانہ نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وینزویلا پر عائد بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا اعلان کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق 26 جون سے 23 اکتوبر تک زلزلہ متاثرین کی امداد سے متعلق مالی لین دین کی اجازت دی گئی ہے تاکہ امدادی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور مالیاتی ادارے متاثرین تک فوری مدد پہنچا سکیں۔

    مقامی ماہرین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی امدادی کارروائیاں انتہائی سست ہیں۔ معاشی ماہر جارج جریساتی کے مطابق عوام کو یقین نہیں کہ ریاست ان کی مؤثر مدد کر سکے گی کیونکہ ملک میں حکومتی اداروں کی صلاحیت پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے۔دوسری جانب مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ کئی علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا زیادہ تر انحصار رضاکاروں، چرچز، مقامی تنظیموں اور شہریوں پر ہے۔

    سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدرتی آفت قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت شفاف اور مؤثر انداز میں امدادی کارروائیاں انجام دینے میں کامیاب رہی تو عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے، تاہم بدانتظامی یا امداد کی غیرمنصفانہ تقسیم عوامی غم و غصے میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔

    زلزلے کے دوران سائمن بولیوار انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود ایک مسافر طیارہ شدید جھٹکوں کی زد میں آگیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق مسافر خوف کے عالم میں اپنی نشستوں کو مضبوطی سے پکڑے رہے جبکہ طیارہ رن وے پر ہلتا رہا۔ زلزلے سے ہوائی اڈے کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس کے بعد اسے عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔

    زلزلے کے بعد عالمی سطح پر امدادی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔امریکا نے ریسکیو ٹیمیں، طبی امداد اور 150 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ شہری علاقوں میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی کو مربوط بنا رہی ہے۔اس کے علاوہ کولمبیا، میکسیکو، اسپین، فرانس، چلی، ایل سلواڈور، پاناما، کیوبا، ڈومینیکن ریپبلک، جاپان، چین اور ایران سمیت متعدد ممالک نے امدادی ٹیمیں، ڈاکٹرز، ریسکیو اہلکار، ادویات اور ضروری سامان وینزویلا بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔

    زلزلے کے بعد مسلسل آفٹر شاکس کے خوف سے ہزاروں شہری رات سڑکوں، پارکوں اور کھلے میدانوں میں گزارنے پر مجبور ہیں۔متاثرہ علاقوں میں بجلی، مواصلاتی نظام اور بنیادی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں جبکہ امدادی اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ملبے تلے دبے افراد کو جلد نہ نکالا گیا تو ہلاکتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق وینزویلا کو فوری انسانی امداد، طبی سہولیات، عارضی رہائش اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

  • برطانیہ میں شدید گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    برطانیہ میں شدید گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    لندن: برطانیہ میں جاری غیر معمولی ہیٹ ویو نے گزشتہ کئی دہائیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، جہاں جون کے مہینے کا نیا بلند ترین درجہ حرارت 36.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مسلسل دوسرے روز جون کے درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم ہونے کے بعد حکام نے صحت، ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی خدمات کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر دیے ہیں۔

    شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں اسپتالوں، ایمبولینس سروسز، اسکولوں، ٹرانسپورٹ نیٹ ورک اور پانی کی فراہمی کا نظام شدید دباؤ میں آ گیا ہے، جبکہ متعدد علاقوں میں ریڈ ہیٹ الرٹ برقرار رکھا گیا ہے۔سرکاری اداروں کے مطابق لندن ایمبولینس سروس نے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ہی روز 642 جان لیوا ہنگامی کالز موصول ہونے کا ریکارڈ بنایا، جس کی بڑی وجہ شدید گرمی قرار دی گئی۔یونیورسٹی ہاسپٹل ساؤتھمپٹن میں متعدد آپریشنز اور آؤٹ پیشنٹ اپائنٹمنٹس ملتوی کر دی گئی ہیں، جبکہ نورفوک اینڈ نوروچ یونیورسٹی ہاسپٹل میں ایم آر آئی مشینوں کے متاثر ہونے سے سینکڑوں مریضوں کی اپائنٹمنٹس منسوخ کرنا پڑیں۔

    دوسری جانب ڈربی شائر کے علاقے ٹنٹ وسل مور میں لگنے والی جنگلاتی آگ پر قابو پانے کے لیے فائرفائٹرز گزشتہ 24 گھنٹوں سے زائد عرصے سے مصروف ہیں۔ تقریباً 500 مربع میٹر رقبہ آگ کی لپیٹ میں آ چکا ہے، جبکہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے پانی بھی گرایا جا رہا ہے۔ فائر اینڈ ریسکیو حکام نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ خشک موسم کے باعث معمولی چنگاری بھی بڑے جنگلاتی حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

    شدید گرمی کے پیش نظر کینٹ میں پانی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ہوز پائپ بین نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ متعدد اسکول اور نرسریاں بند کر دی گئی ہیں۔ ریلوے کمپنیوں نے شہریوں کو غیر ضروری سفر، خصوصاً ساحلی علاقوں کی جانب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے کیونکہ شدید گرمی کے باعث ٹرانسپورٹ نظام بھی متاثر ہو رہا ہے۔برطانوی محکمہ موسمیات نے لندن، جنوب مشرقی اور مشرقی انگلینڈ سمیت متعدد علاقوں کے لیے ریڈ ہیٹ وارننگ میں توسیع کرتے ہوئے اسے جمعہ کی رات تک برقرار رکھا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ مسلسل تین روز تک ریڈ ہیٹ وارننگ جاری کی گئی ہے، جبکہ دیگر کئی علاقوں میں ایمبر اور یلو ہیٹ الرٹس نافذ ہیں۔

    ادھر یورپ بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے۔ نیدرلینڈز میں درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے پر ملکی تاریخ کا پہلا کوڈ ریڈ ہیٹ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ فرانس میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران گرمی کے دوران نہاتے ہوئے کم از کم 40 افراد ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد پیرس میں عوامی مقامات پر دوپہر کے بعد شراب نوشی پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ماہرین موسمیات اور اقوام متحدہ کے موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں کا واضح نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جبکہ گرین ہاؤس گیسوں کے مسلسل اخراج نے ایسے شدید موسمی واقعات کی شدت اور تعداد میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

  • بلاول کے بلدیاتی الیکشن کے مطالبے سے ن لیگ خوفزدہ ہے۔ وقار مہدی

    بلاول کے بلدیاتی الیکشن کے مطالبے سے ن لیگ خوفزدہ ہے۔ وقار مہدی

    پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی نےمسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق کے ٹویٹ پر ردعمل میں کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زداری کے بلدیاتی الیکشن کے مطالبے سے ن لیگ خوفزدہ ہے۔

    سینیٹر وقار مہدی کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نے اپنے دور حکومت میں دو بار بلدیاتی الیکشن کرواچکی ہے۔2027 میں انشاءاللہ تیسری بار سندھ میں بلدیاتی الیکشن منعقد ہوں گے۔پیپلزپارٹی کے سندھ میں بلدیاتی قانون اور نظام کا اگر مخالفین معائنہ کرلیں تو وہ شرمندگی سے بچ جائیں گے۔پیپلزپارٹی نے تو پنجاب اور اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔۔ آپ تو رونے لگے۔ ڈریں نہیں بلدیاتی الیکشن کرائیں جو عوام میں مقبول ہوگا وہ کامیاب ہوگا۔سندھ میں بلدیاتی نظام بہترین و موثر انداز سے ڈلیور کر رہا ہے جس کی عوامی پزیرائی ہے۔ آپ پیپلزپارٹی سے بہتر بلدیاتی قانون لے آئیں اگر ہم سے بہتر ہوا تو عوام خود تعریف کریں گے۔