Baaghi TV

جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت کیس میں 7 سال قید کی سزا

‎سیول: جنوبی کوریا کی سابق خاتون اول کو رشوت لینے کے مقدمے میں عدالت نے سات سال قید کی سزا سنا دی۔ عدالت نے انہیں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے کے بدلے قیمتی زیورات، مہنگے تحائف اور نقد رقوم وصول کرنے کا مجرم قرار دیا۔
‎عدالتی فیصلے کے مطابق سابق خاتون اول پر الزام تھا کہ انہوں نے ذاتی اور سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے مختلف افراد سے قیمتی تحائف اور مالی مراعات قبول کیں۔ تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی بنیاد پر عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے سات سال قید کی سزا سنائی۔
‎یہ پہلا موقع نہیں کہ سابق خاتون اول قانونی کارروائی کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس سے قبل انہیں اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری کے ایک مقدمے میں بھی چار سال قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ ان مقدمات نے جنوبی کوریا میں سیاسی شخصیات کے احتساب اور بدعنوانی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
‎دوسری جانب جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول بھی قانونی مشکلات سے دوچار ہیں اور وہ غداری کے مقدمے میں 30 برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ یوں ملک کی سابق حکمران جوڑی دونوں مختلف مقدمات میں سزائیں بھگت رہی ہے، جو جنوبی کوریا کی حالیہ سیاسی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق ان فیصلوں سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ جنوبی کوریا میں اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور طاقتور سیاسی شخصیات کے خلاف بھی قانون کا یکساں اطلاق کیا جا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ حکومتی احتسابی نظام پر بھی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔
‎عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق خاتون اول کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق موجود ہے، تاہم موجودہ فیصلے کو جنوبی کوریا میں بدعنوانی کے خلاف اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

More posts