مالدیپ کے خوبصورت فیروزی پانیوں اور سفید ریتیلے ساحلوں کے نیچے موجود ایک پراسرار آبی غار پانچ اطالوی غوطہ خوروں کے لیے موت کا جال بن گئی، جبکہ امدادی کارروائی کے دوران ایک مقامی فوجی غوطہ خور بھی جان کی بازی ہار گیا۔ اس افسوسناک واقعے نے دنیا بھر میں تکنیکی غوطہ خوری کے خطرات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مالدیپ کے علاقے واوو ایٹول میں پیش آیا، جو دارالحکومت مالے سے اسپیڈ بوٹ کے ذریعے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔ پانچ رکنی اطالوی ٹیم ایک گہرے اور تاریک زیرِآب غار کے نظام کی کھوج کے لیے اتری تھی، تاہم وہ واپس نہ آسکی۔مرنے والوں میں تجربہ کار ڈائیونگ انسٹرکٹر جیانلوکا بینیڈیٹی، جینوا یونیورسٹی کی ماہرِ ماحولیات پروفیسر مونیکا مونٹی فالکونے، ان کی بیٹی جورجیا سومکال، میرین بایولوجسٹ فیڈریکو گوالتیری اور محقق موریل اوڈینینو شامل تھے۔رپورٹس کے مطابق غار کا داخلی راستہ تقریباً 47 میٹر گہرائی میں واقع ہے جبکہ اس کی نچلی سطح 70 میٹر تک جاتی ہے۔ یہ غار مکمل اندھیرے، تنگ راستوں اور شدید سمندری دباؤ کے باعث دنیا کے خطرناک ترین ڈائیونگ مقامات میں شمار کی جاتی ہے۔
اطالوی غوطہ خور ایک لگژری یاٹ “ڈیوک آف یارک” پر مقیم تھے، جہاں سے وہ تحقیقی اور تفریحی غوطہ خوری کے مشن انجام دے رہے تھے۔ جمعرات کی دوپہر تقریباً ڈیڑھ بجے کشتی سے ہنگامی سگنل جاری کیا گیا جب غوطہ خور دو گھنٹے گزرنے کے باوجود سطح پر واپس نہ آئے۔ابتدائی امدادی کارروائی میں ایک قریبی کشتی نے حصہ لیا اور کچھ دیر بعد انسٹرکٹر بینیڈیٹی کی لاش غار کے دہانے سے برآمد کر لی گئی۔ بعد ازاں مالدیپ کوسٹ گارڈ نے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا، تاہم باقی چار غوطہ خور کئی روز بعد غار کے تیسرے حصے میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ریسکیو آپریشن کے دوران مقامی فوجی غوطہ خور سارجنٹ محمد محدھی بھی ہلاک ہو گئے۔ حکام کے مطابق ان کی موت غالباً “ڈیکمپریشن سکنس” کے باعث ہوئی، جو تیزی سے سطح پر آنے کی صورت میں پیدا ہوتی ہے۔ سارجنٹ محدھی کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مالدیپ حکام کے مطابق اطالوی ٹیم کو 30 میٹر سے زیادہ گہرائی تک جانے کی خصوصی اجازت حاصل تھی، تاہم حکام کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ غار کے اندر تکنیکی “کیو ڈائیونگ” کرنے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اس خطرناک منصوبے کی مکمل معلومات ہوتیں تو اضافی حفاظتی اقدامات اور ماہر معاونت فراہم کی جاتی۔جینوا یونیورسٹی نے تصدیق کی کہ مونیکا مونٹی فالکونے اور ان کے ساتھی مالدیپ میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سمندری حیات پر اثرات کا مطالعہ کرنے آئے تھے، تاہم غار میں جانے والا یہ مخصوص غوطہ تحقیقی منصوبے کا حصہ نہیں تھا بلکہ ذاتی نوعیت کی سرگرمی تھی۔
حادثے کے روز مالدیپ کے محکمہ موسمیات نے تیز ہواؤں اور خراب سمندری صورتحال کے باعث وارننگ بھی جاری کی تھی۔ بعد ازاں خبردار کیا گیا کہ ہواؤں کی رفتار 50 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے سمندر انتہائی خطرناک ہو گیا تھا۔ماہرین کے مطابق غار کے اندر مکمل اندھیرا، تنگ راستے، شدید سمندری دھاریں اور ذہنی دباؤ غوطہ خوروں کو راستہ بھلانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ برطانوی غار ریسکیو ماہر جان وولانتھن نے کہا کہ گہرائی میں “گیس نارکوسس” نامی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے غوطہ خور الجھن اور خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔مالدیپ حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور متعلقہ یاٹ کا لائسنس معطل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کشتی کے پاس مکمل “ڈائیو اسکول لائسنس” موجود نہیں تھا، جبکہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا غوطہ خور مطلوبہ حفاظتی سازوسامان کے ساتھ غار میں داخل ہوئے تھے یا نہیں۔مرنے والی پروفیسر مونٹی فالکونے کے شوہر کارلو سومکال نے اطالوی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کی اہلیہ دنیا کی بہترین غوطہ خوروں میں شمار ہوتی تھیں اور انہوں نے زندگی میں پانچ ہزار سے زائد غوطے لگائے تھے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، “وہ کبھی دوسروں کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتیں، ضرور نیچے کچھ غیرمعمولی ہوا ہوگا۔”
