فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے مرکزی شہری ہوائی اڈے بن گوریان ایئرپورٹ پر درجنوں امریکی جنگی طیارے اب بھی موجود ہیں، حالانکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی نافذ ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے پتا چلا ہے کہ مئی کے دوران ایئرپورٹ پر کم از کم 50 امریکی فوجی ری فیولنگ ٹینکر طیارے کھڑے تھے، جبکہ وقت کے ساتھ ان طیاروں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے پہلے ایئرپورٹ پر تقریباً 36 فوجی طیارے موجود تھے، جبکہ اپریل میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد یہ تعداد بڑھ کر 47 ہو گئی۔ تازہ تصاویر کے مطابق اس وقت بن گوریان ایئرپورٹ پر 52 امریکی فوجی طیارے موجود ہیں۔
امریکی فضائیہ ان ٹینکر طیاروں کو جنگی جہازوں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، جس کی مدد سے امریکی طیارے ایران کے اندر گہرائی تک کارروائیاں کرنے کے قابل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر ان طیاروں کی موجودگی کو خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایک ایئرپورٹ ملازم کو واٹس ایپ گروپ میں تصویر شیئر کرنے پر تادیبی کارروائی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
تاہم اب ایئرپورٹ پر امریکی فضائیہ کے سرمئی رنگ کے بڑے طیارے اس قدر نمایاں ہو چکے ہیں کہ انہیں عام مسافر بھی دیکھ سکتے ہیں، جبکہ قریبی شاہراہ سے بھی یہ طیارے واضح نظر آتے ہیں۔
بن گوریان ایئرپورٹ اسرائیل کے سب سے محفوظ مقامات میں شمار ہوتا ہے، تاہم ایران اور اس کے اتحادی گروپ متعدد بار اس ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں مارچ کے آخر میں ایک میزائل حملے کی کوشش کا بھی ذکر کیا گیا ہے جسے اسرائیلی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی جنگی طیاروں کی مسلسل موجودگی اس بات کا اشارہ ہے کہ خطے میں کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور امریکا اب بھی اسرائیل کی عسکری مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔
اسرائیل کے مرکزی ایئرپورٹ پر درجنوں امریکی جنگی طیارے تعینات
