Baaghi TV

Blog

  • بھارتی دواساز کمپنیاں منشیات کے فروغ ،ذہنی و جسمانی تباہی کا باعث

    بھارتی دواساز کمپنیاں منشیات کے فروغ ،ذہنی و جسمانی تباہی کا باعث

    بھارتی دواساز کمپنیاں دنیا بھر میں منشیات کے فروغ اور لوگوں میں ذہنی و جسمانی تباہی کا باعث بن گئیں۔

    ریاستی سرپرستی میں بھارتی مہلک دوائیں دنیا بھر کے مختلف ممالک میں عوام کی زندگیاں نگل رہی ہیں، عالمی میڈیا نے پول کھول دیا۔برطانوی جریدے فارمیسی بزنس نے دنیا بھر میں منشیات کے پھیلاؤ میں گمراہ کن بھارتی کردار بے نقاب کردیا۔رپورٹ کے مطابق امریکا میں بھارتی دواؤں کے استعمال سے تقریباً 10 لاکھ اموات ہوچکی ہیں، جس کے بعد سخت پابندیاں لگائی گئیں۔بھارتی دوا ساز کمپنیاں مہلک ادویات کے ذریعے افریقا میں "زومبی ڈرگ” منشیات کا بحران بڑھا رہی ہیں۔مہلک بھارتی دوائیں نائجیریا، سیرالیون اور گھانا بھیجی جارہی ہیں، افریقی ملک سیرالیون کے دارالحکومت میں بھارتی مہلک ادویات کے باعث 3 ماہ میں 400 افراد ہلاک ہوئے۔

  • بلوچستان میں مون سون ،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 7  ہزار 500 ملین روپے  کی منظوری

    بلوچستان میں مون سون ،ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 7 ہزار 500 ملین روپے کی منظوری

    بلوچستان میں مون سون کنٹنجینسی پلان 2026 اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے 7 ہزار 500 ملین روپے کی منظوری دے دی گئی ۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن کا اجلاس کوئٹہ میں ہوا ۔ اجلاس میں ہیٹ ویو ، مون سون ، غیر معمولی موسمی صورتحال اور ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ۔ اجلاس میں صوبے کے تمام اضلاع میں ریسکیو 1122 سینٹرز فعال کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ۔ کمیشن نے تحصیل لیول پر بھی ریسکیو مراکز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ہیٹ اسٹروک ایمرجنسی انتظامات ، ایمبولینس ، ہیلتھ کئیر اسٹاف اور دواوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میرسرفراز بگٹی کا کہنا تھا موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے موثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور بروقت ریسپانس لازمی ہے ۔ ممکنہ ہیٹ برسٹ کے پیش نظر عوامی آگاہی مہم ، ٹھنڈے پانی اور شیڈز لگانے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال میں ریسکیو مشینریز ، ریلیف اور بحالی کیلئے فوری وسائل فراہمی کے معاملات کی بھی منظوری دی گئی ۔

    حکام نے اجلاس کو رواں سال درجہ حرارت کے 53 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے اور ہیٹ ویو پیشگی انتظامات سے متعلق بریف کیا ۔

  • سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی بندش کا مسئلہ حل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو خط

    سی این جی سیکٹر کو گیس فراہمی کی بندش کا مسئلہ حل کیا جائے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا وزیراعظم کو خط

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے وزیراعظم شہباز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی کی بندش کا مسئلہ حل کیا جائے۔

    وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وزیراعظم خط لکھا جس میں کہا گیا کہ صوبہ تقریباً 494 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ سی این جی سیکٹرکو 36 سے40 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درکار ہے، آرٹیکل 158 کے تحت گیس پیدا کرنے والے صوبے کو گیس استعمال کا پہلا حق ہے، خیبرپختونخوا کو آئینی حق سے محروم نہ کیا جائے، وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ بھی سی این جی اسٹیشنز کی بندش کو غیر منصفانہ قرار دے چکی ہے،سی این جی اسٹیشنز کو گیس بندش سےصوبے میں مسائل پیدا ہونے اور ہزاروں افراد کے روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے،وزیراعلیٰ کے پی وزیراعظم سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس بلانے کی درخواست بھی کی۔

  • حکومت ہزاروں ارب روپے لیوی کے نام پر لے چکی ،امیر جماعت اسلامی کی درخواست دائر

    حکومت ہزاروں ارب روپے لیوی کے نام پر لے چکی ،امیر جماعت اسلامی کی درخواست دائر

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن وفاقی آئینی عدالت پہنچ گئے

    امیر جماعت اسلامی نے مہنگے پٹرول اور ٹیکس کیخلاف آئینی پٹیشن فائل کی،امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی گاڑی وفاقی آئینی عدالت کے احاطے میں جانے دی گئی،پٹیشن فائل کرنے کے بعد امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئینی عدالت میں پیٹرولیم لیوی اورتوانائی کے شعبے میں زیادتی کو چیلنج کیا ہے،ایکس ریفائنری قیمت میں 42سے43 فیصد لیوی ہے،پیٹرولیم کی قیمتوں سے لیوی کا کوئی تعلق نہیں.حکومت ہزاروں ارب روپے لیوی کے نام پر لے چکی ہے، لیوی کوریفائنریز کی اپ گریڈیشن پرخرچ کرنا تھا، ریفائنریزاپ گریڈنہ ہونے کی وجہ سے ریفائنڈد تیل امپورٹ کرناپڑتا ہے،117 روپےفی لیٹر پیٹرول پر لیوی لاگو ہے،روزانہ صرف موٹر سائیکل والے سینکڑوں ارب روپے لیوی اوردیگر ٹیکسز کے نام پر ادا کرتے ہیں،25 ہزارافسران کا ایف بی آر کام نہیں کرتا. 1800ارب روپے کے کیپسٹی پیمنٹس بجلی کے شعبے میں گزشتہ سال وصول کیے گئے،

  • پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ایک ذمہ دار ،مؤثر سفارتی کردار ادا کیا،وزیراعظم

    پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ایک ذمہ دار ،مؤثر سفارتی کردار ادا کیا،وزیراعظم

    وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور کیلئے پُرامید ہیں، جو بالآخر ایک دیرپا امن کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی جریدے دی سنڈے ٹائمز کو انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، ایران، امریکا اور خلیجی ممالک پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امن مذاکرات کیلئے پاکستان کو قابلِ بھروسہ ثالث سمجھا جا رہا ہے، یہ ملکی تاریخ کا ایک روشن لمحہ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی شراکت داری نے عالمی سطح پر ملک کا مثبت تشخص اجاگر کیا، پاکستان نے مشکل حالات کے باوجود ذمہ دار اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، دنیا میں پائیدار امن کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • اقلیت مخالف سرگرمیاں، ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس شدید عالمی دباؤ میں

    اقلیت مخالف سرگرمیاں، ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس شدید عالمی دباؤ میں

    اقلیت مخالف سرگرمیوں اور شدت پسند نظریات کے الزامات کے بعد ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) شدید عالمی دباؤ کی زد میں آ گئی ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے ہندوتوا نظریے اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فروغ دیا، جبکہ تنظیم ماضی میں کئی مرتبہ اپنے انتہا پسند رجحانات کے باعث پابندیوں کا سامنا بھی کر چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو آر ایس ایس کے ایجنڈے کی دو بڑی کامیابیاں قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اقدامات نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

    امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی آر ایس ایس کو اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور تشدد سے جوڑا ہے۔ کمیشن کی سفارشات میں تنظیم کے اثاثے منجمد کرنے اور اس سے وابستہ افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کی تجاویز شامل ہیں۔عالمی دباؤ بڑھنے کے بعد آر ایس ایس نے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے بین الاقوامی لابنگ مہم تیز کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق تنظیم کے رہنما امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں سرگرم ہو گئے ہیں، جبکہ دہلی میں آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے ایک بریفنگ کے دوران یورپ اور ایشیا میں مزید لابنگ بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے امریکہ میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایک لابنگ فرم کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ ناقدین کے مطابق بھارتی عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقوم ایک ایسی تنظیم کا امیج بہتر بنانے پر خرچ کی جا رہی ہیں جس پر انتہا پسندی اور اقلیت دشمنی کے سنگین الزامات عائد ہیں۔

  • یواے ای میں نیوکلیئرپاور پلانٹ پر ڈرون حملہ، پاکستان کی شدید مذمت

    یواے ای میں نیوکلیئرپاور پلانٹ پر ڈرون حملہ، پاکستان کی شدید مذمت

    پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں واقع براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ڈرون حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری تنصیبات کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

    ترجمان کے مطابق پاکستان برادر ملک متحدہ عرب امارات کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور ایسی کارروائیوں کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔پاکستان نے اپنے بیان میں زور دیا کہ کسی بھی صورت حال میں جوہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے، کیونکہ اس نوعیت کی غیر ذمہ دارانہ کارروائیاں نہ صرف عالمی امن بلکہ ماحولیات اور انسانی سلامتی کے لیے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتی ہیں۔

    بیان میں کہا گیا کہ شہری جوہری انفراسٹرکچر کی حرمت ایک مسلمہ بین الاقوامی اصول ہے، جس کا احترام تمام ممالک اور فریقین پر لازم ہے۔پاکستان نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے، زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور معاملات کو سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔پاکستان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا واحد راستہ مذاکرات، باہمی احترام اور سفارتی ذرائع کا مؤثر استعمال ہے۔

  • افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیم داعش خراسان یورپ کے لیے بڑا خطرہ قرار

    افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیم داعش خراسان یورپ کے لیے بڑا خطرہ قرار

    یورپی یونین کی ایک خفیہ رپورٹ میں افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیم داعش خراسان کو یورپ کے لیے بڑا خطرہ قرار دے دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دہشتگردی اور پرتشدد انتہاپسندی اب بھی یورپی یونین کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج بنی ہوئی ہیں،23 صفحات پر مشتمل خطراتی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین میں خطرے کی مجموعی سطح بدستور بلند ہے، جبکہ بیرونی خطرات میں افغانستان میں موجود داعش خراسان نمایاں حیثیت رکھتی ہے،رپورٹ کے مطابق داعش خراسان خاص طور پر آن لائن پروپیگنڈا کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تنظیم سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو استعمال کرتے ہوئے انتہاپسندانہ نظریات پھیلانے میں سرگرم ہے۔

    یورپی یونین کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیموں کی آن لائن سرگرمیوں کے باعث نوجوان نسل کے انتہاپسندی کی جانب مائل ہونے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی، کتے مارنے کی کمائی اور بے بس عدلیہ،جھاڑو سے پیسے اکٹھا کرتا ستھرا پنجاب

    وزیراعلی نوبل انعام لے سکتی تھیں لیکن نااہل بیوروکریسی کی وجہ سے انہیں بد دعائیں مل رہی ہیں۔ہر ضلع میں پبلک ویلفیئر فنڈز سمیت دیگر مدات سے رقم نکال کر روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے کتے مارنے پر لگائے جا رہے ہیں مجموعی طور پر اربوں روپے کتے مارنے پر اجاڑے جا چکے ہیں لیکن ویکسینیشن کے لیے پیسے نہیں ؟سینٹری ورکرز اور درجہ چہارم کے ملازمین سمیت پرائیویٹ افراد کو کتے مارنے پر لگا دیا گیا، ایک ہزار سے لے کر دو ہزار تک فی کتا پیسے چارج کیے جا رہے ہیں جب کتے مارنے پر پیسے ملیں گے تو قاتل گھروں میں گھس کر بھی زہر دے دیں گے۔ اس کتا مار مہم میں بھی بیوروکریسی اربوں روپے ڈکار رہی ہے۔
    کرپشن میں غرق افسران، صرف پیسہ لوٹنے کے لیے وحشی درندے بن گئے ہو، ظالمو، سفاک قاتلو یہی پیسہ تم ویکسینیشن اور شیلٹر ہوم کی کرپشن سے بھی کما سکتے تھے۔ ساری گیم تو پیسے کی ہے ڈی سیز کو خدشہ تھا کہ Strychnine زہر کی طرح ویکسینیشن میں بھی سینٹرل پرچیز والے کما جائیں گے اور ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ ریونیو میں تھوڑا پیسہ کما رہے ہو جو ان معصوموں کو قتل کر کے نوچ رہے ہو، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کتنا پیسہ چاہیے تمہیں، چھوٹی سے چھوٹی تحصیل اور ضلع میں بھی کچھ نہ کر کے بھی "آٹو سیٹ” رقم اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دنوں میں امیر ہو جاتے ہو، ضلعی جوڈشری کو مفلوج کر کے اے ڈی سی آر کو فائنل اتھارٹی بنانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ "سپیڈ منی” ریٹ 20 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک چل رہا ہے۔

    اے ڈی سی آر کے منہ کھل گئے ہیں فوری کیس کا حل چاہتے ہو تو اتنے فیصد لاؤ، ساتھ دھمکاتے بھی ہیں کہ یاد رکھو میرا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہے۔

    میڈیا پر فخر سے ڈرامہ کرتے ہیں کہ ایک ہفتے میں اتنے فیصلے کیے جبکہ حقیقت میں کیسز کے فوری حل کے پیچھے "سپیڈ منی” کا فگر اتنا بڑا ہے کہ لوکل کیلکولیٹر پر پورا نہیں آ سکتا اہم ضلع کے اے ڈی سی آر کا ڈائلاگ مشہور ہو چکا ہے کہ یہاں کام کروانا ہے تو حصہ دینا ہوگا پچھلا ایماندار تھا تو اس نے دو سال میں کسی کا کام بھی نہیں کیا۔

    اے ڈی سی آر کو عدالتی اختیارات دینا بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ غریب کی کمائی کا 20 سے 50 فیصد تو "سپیڈ منی” میں اے ڈی سی آر لے جاتا ہے کمائی کا یہ عالم ہے کہ پنجاب کے تین بڑے اضلاع کے اے ڈی سی آر مل کر پی آئی اے خرید سکتے ہیں۔ اختیارات میں اضافے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور ڈپٹی کمشنر معزز شہریوں سے انتہائی بدتمیزی اور حقارت سے بات کرتے ہیں۔
    ایسے میں چند لاکھ کی کرپشن کرنے والے اے ڈی سی جی کو مال بنانے کے لیے کچھ تو چاہیے تھا ایم سی ایل والے بھی ریڑی اور تجاوزات سے پیسہ اکٹھا کر کے تھک گئے تھے اس لیے کتے مارنے کی کمائی کا نیا راستہ آسان منزل لگا، ویسے ستھرا پنجاب والے صفائی کریں نہ کریں لیکن جتنا مال بنا رہے ہیں انہوں نے جھاڑو کے ساتھ پیسہ اکٹھا کرنے والی مثال سچ کر دکھائی تفصیلات اگلے کالم میں۔

    سارے افسران کرپٹ اور بدتمیز نہیں ہوتے بہت سارے اچھے افسران بھی ہیں چند کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جو واقعی دیانت اور اخلاقی اقدار میں قابل تقلید ہیں۔

    عدالتی احکامات کے باوجود سرعام کتوں کے قتل پر توہین عدالت کی کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ؟
    روز قیامت ان معصوم و مقتول کتوں کی قاتل کے طور پر صرف ڈپٹی کمشنر اور میونسپل کمیٹی والے ہی نہیں ہوں گے بلکہ انصاف میں تاخیر کرنے والے ججز ظالم کا ساتھ دینے اور حمایت کرنے والے دیگر افسران و افراد شدید عذاب میں جبکہ اس ظلم کے خلاف خاموش رہنے والے بھی کسی حد تک اللہ کی پکڑ میں ضرور آئیں گے۔
    اگر معصوم کتوں کو قتل کرنے کی بجائے اینیمل قوانین کے مطابق ویکسینیشن کر کے سوسائٹی کا حصہ بنایا جاتا، پنجاب میں "مریم کے مہمان” کے نام سے شیلٹر ہوم بنائے جاتے جہاں پر ان بے گھروں کو گھر اور کھانا ملتا تو آج نہ صرف مریم نواز کو کروڑوں دعائیں ملتی بلکہ انہیں اس نیک کام کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جانا تھا، کتوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیمیں وزیراعلی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے جانور دوست پالیسی پر مریم نواز زندہ باد کے بینرز لگاتیں۔

    بے زبان و بے گھر جانوروں کی آواز اور سہارا بننے پر مریم نواز کو یقینی طور پر نوبل انعام ملنا تھا، دنیاوی عزت و اکرام کے ساتھ ساتھ اطمینان قلب اور اللہ کا خصوصی کرم بھی شامل حال ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے بزدار زدہ بیوروکریسی نے وزیراعلی کو ہیرو بنانے کی بجائے معصوم کتوں کی ملزم بنا کر رکھ دیا۔ ڈی سی سرعام کہہ رہے ہیں کہ ہم وزیر اعلی کے حکم پر کتے مار رہے ہیں۔ میڈم وزیراعلی جانوروں پر ظلم بند نہ کیا گیا تو ان بے گناہوں کی سسکیوں سے دنیاوی اور عارضی بادشاہت کا تخت سرکنے لگے گا، ابھی بھی وقت ہے قتل عام کی بجائے ان کو ویکسینیشن کریں، سایہ دیں، روٹی کھلائیں اور ان کی دعائیں لیں مظلوموں کی آہ اور دعا دونوں ہی عرش سے فرش اور فرش عرش پر پہنچا دیتی ہیں۔

    جناب فیلڈ مارشل قوم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو آپ کا ادارہ محافظ بن کر سامنے آتا ہے آج ان بے زبانوں کو سہارے اور تحفظ کی ضرورت ہے ان معصوم کتوں کا سہارا بنیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اس سرزمین پاک کو بے گناہ کتوں کا مقتل نہیں مسکن بنائیں۔

  • پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    پھول جو بِن کھِلے مُرجھا گیا ،تحریر: بینا علی

    کچھ سانحے اور المیے ایسے ہوتے ہیں جن کا بظاہر ہم سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں ہوتا مگر وہ دل کو اس شدت سے جھنجھوڑ دیتے ہیں کہ خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا۔ اگر انسان اپنے احساسات کو لفظوں میں نہ ڈھالے تو اندر ہی اندر ایک گھٹن، ایک کرب، ایک بے بسی مسلسل روح کو زخمی کرتی رہتی ہے۔عمر مختار راٹھور سے میرا کوئی خونی رشتہ نہیں۔ میں نے اسے کبھی دیکھا نہیں، اس کی آواز کبھی نہیں سنی مگر اس معصوم بچے کی تصویر اور اس کے ساتھ ہونے والی درندگی نے دل کے نہاں خانوں میں ایسا درد جگایا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ سانحہ میرے اپنے گھر کے آنگن میں پیش آیا ہو۔

    پانچ برس پہلے جب میرے والدین کا سایہ سر سے اٹھا تو مجھے لگتا تھا کہ شاید دنیا میں میرے غم سے بڑا کوئی غم نہیں۔ والدین کی جدائی ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ بھر تو جاتا ہے، مگر اس کا نشان ہمیشہ دل پر باقی رہتا ہے۔ لیکن عمر کے واقعے نے یہ احساس دلایا کہ کچھ دکھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انسان کے ذاتی غموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد میں نے ایک ہفتے تک مختلف ذرائع سے اس مقدمے کی تفصیلات پڑھیں۔ ہر نئی خبر کے ساتھ دل مزید بوجھل ہوتا گیا، اور روح سوال کرتی رہی کہ آخر ایک معصوم بچہ کس جرم کی سزا بھگتا رہا؟

    کل ہی میں نے دو آدم خور بھائیوں کے بارے میں ایک تحریر پڑھی۔ وہ قبروں سے مردے نکالتے، ان کا گوشت پکاتے اور کھاتے تھے۔ چونکہ آئین میں "مردے کا گوشت کھانے” کے حوالے سے کوئی واضح سزا موجود نہ تھی اس لیے انہیں صرف قبروں کی بے حرمتی کے جرم میں چند ماہ قید اور جرمانے کی سزا دی گئی۔ سزا پوری ہونے کے بعد وہ دوبارہ اسی بھیانک عمل میں مصروف ہو گئے۔یہ مثال ذہن میں ایک سوال پیدا کرتی ہے: کیا فاضل جج صاحبان واقعی یہ یقین رکھتے ہیں کہ جو درندے ایک معصوم بچے پر ظلم کی انتہا کر سکتے ہیں وہ رہائی کے بعد معاشرے کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے؟ کیا اس بات کی کوئی ضمانت ہے کہ کل کسی اور ماں کی گود اجڑنے سے محفوظ رہے گی؟

    حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ محض مجرم نہیں ہوتے بلکہ معاشرے کے ناسور بن جاتے ہیں۔ ناسور اگر وقت پر نہ کاٹا جائے تو پورے جسم کو زہر آلود کر دیتا ہے۔ اسی طرح اگر ایسے سفاک کرداروں کو سخت ترین سزا نہ دی جائے تو معاشرہ عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی دلدل میں دھنس جاتا ہے۔آج عمر کی فیملی صرف اپنے بیٹے کے لیے انصاف نہیں مانگ رہی بلکہ میرے اور آپ کے بچوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ لڑ رہی ہے۔ عمر تو جنت کا ایک معصوم پھول تھا جو اپنے رب کے پاس لوٹ گیا۔ مگر اس کے والدین کے آنسو، اس کی ماں کی سسکیاں، اور اس کے گھر کی خاموشی ہم سب سے یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ہمارے بچے واقعی محفوظ ہیں؟ عمر کو انصاف دلانا دراصل اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ ایک خاندان کی جنگ نہیں، ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل شاید کسی اور ماں کی گود اجڑ جائے، کسی اور باپ کی امیدوں کا چراغ بجھ جائے، اور کسی اور گھر کی ہنسی ہمیشہ کے لیے ماتم میں بدل جائے۔ اسی لیے آج اسلام آباد پریس کلب میں عمر کی فیملی پریس کانفرنس کر رہی ہے تاکہ اس معصوم بچے کے لیے انصاف کی آواز بلند کی جا سکے۔میری تمام سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، اہلِ قلم، اور دردِ دل رکھنے والے انسانوں سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ آج اپنی ایک پوسٹ اس ہیش ٹیگ کے ساتھ ضرور شیئر کریں: "عمرکوانصاف دو۔”آئیے، ہم سب مل کر آواز اٹھائیں تاکہ قانون کی گرفت اتنی مضبوط ہو کہ کوئی درندہ دوبارہ کسی معصوم کلی کو مسلنے کی جرات نہ کر سکے اور ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ، پُرامن اور باوقار معاشرے میں سانس لے سکیں۔