ایران کے خلاف امریکی فوجی اقدامات کے بعد امریکا کے اندر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے اور صدر کی ایران پالیسی پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی کانگریس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق حکمت عملی کے خلاف ایک قرارداد پیش کی گئی ہے، جس پر رواں ہفتے ووٹنگ متوقع ہے۔ اس قرارداد کا مقصد صدر کو مزید فوجی کارروائیوں سے روکنا اور کانگریس کی منظوری کو لازم قرار دینا ہے۔
ڈیموکریٹ ارکان نے ٹرمپ کی ایران پالیسی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وار پاورز ایکٹ کے تحت کسی بھی بڑے فوجی اقدام سے قبل کانگریس سے مشاورت اور منظوری ضروری ہے۔ اپوزیشن کے مطابق اس عمل کو نظر انداز کرنا آئینی تقاضوں کے خلاف ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے حالیہ محدود فضائی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے انہیں قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اب تک 550 سے زائد ایرانی شہری جان سے جا چکے ہیں، جس کے بعد کانگریس نے انتظامیہ سے فوری وضاحت طلب کی ہے۔
یاد رہے کہ جون 2025 میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد بھی خطے میں شدید تناؤ پیدا ہوا تھا اور سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ تازہ حملوں کے بعد وائٹ ہاؤس اور کانگریس کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ہفتے متوقع ووٹنگ صدر کے جنگی اختیارات کے تعین میں اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
Blog
-

ایران پر حملوں پر امریکا میں سیاسی ہلچل، کانگریس میں ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش
-

ایران کا وسطی اسرائیل پر تازہ میزائل حملہ، 12 افراد زخمی
ایران کی جانب سے کیے گئے تازہ میزائل حملے میں وسطی اسرائیل کے مختلف علاقوں میں میزائل گرنے سے متعدد شہری زخمی ہوگئے۔
اسرائیلی ریسکیو حکام کے مطابق بیلسٹک میزائل حملے کے بعد تین مختلف مقامات پر کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔
اطلاعات کے مطابق میزائل کے ٹکڑوں یا کلسٹر بموں کے باعث کئی علاقوں میں نقصان پہنچا اور شہری آبادی متاثر ہوئی۔ حکام نے متاثرہ مقامات کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس حملے پر باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ -

وزیراعظم شہباز،ترک صدر کا خطے میں امن کیلیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ ترکیہ کے صدر جناب رجب طیب اردوان سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔
وزیرِ اعظم نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایران پر اسرائیلی حملے اور اس کے بعد برادر خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی۔وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو برادر خلیجی ممالک کی قیادت سے اپنے حالیہ روابط سے آگاہ کیا، جن میں پاکستان کی جانب سے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کے اعادہ اور بحران کے حل کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کی تیاری سے متعلق پیغام شامل تھا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے تمام فریقین زیادہ سے زیادہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔
وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کو افغانستان کے تناظر میں حالیہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے قریبی اور مسلسل رابطے میں رہنے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
-

بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ سپریم لیڈرخامنہ ای کی جگہ کوئی ویسا ہی سخت گیر رہنما آ جائے،ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز ایران کے ساتھ جاری جنگ کے حوالے سے پہلی بار عوامی سطح پر صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے۔
صدر ٹرمپ نے یہ گفتگو وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں جرمن چانسلر کے ہمراہ ملاقات کے دوران کی، جس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان بند کمرہ اجلاس بھی ہوا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ اسرائیل کے ایران پر حملے کے منصوبے نے امریکا کو ہفتے کے روز کارروائی پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے انہوں نے اسرائیل کو اقدام پر “مجبور” کیا ہو، نہ کہ اس کے برعکس۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی آپریشن کے بعد ایران کی عسکری صلاحیت تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ ان کے بقول ایران کے پاس “نہ بحریہ بچی ہے، نہ فضائیہ، نہ فضائی نگرانی کا نظام اور نہ ہی ریڈار۔”انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ایران پر حملوں سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں کے انخلا کا کوئی باقاعدہ منصوبہ نہیں تھا کیونکہ کارروائی بہت تیزی سے انجام دی گئی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کی جانب سے اپنے ہمسایہ ممالک پر جوابی حملوں پر حیران ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تہران کی جانب سے جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا، وہ بھی اس صورتحال پر حیران تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس بعض ہتھیاروں کا “عملاً لامحدود ذخیرہ” موجود ہے اور دفاعی سازوسامان بنانے والی کمپنیاں ہنگامی اختیارات کے تحت تیزی سے اسلحہ تیار کر رہی ہیں۔
ٹرمپ نے برطانیہ کو “انتہائی غیر تعاون کرنے والا” قرار دیتے ہوئے جزائر چاگوس کے معاملے پر اختلافات کا ذکر کیا۔ بعد ازاں انہوں نے نیٹو اخراجات کے مسئلے پر اسپین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ان کی درخواست پر تقریباً تمام یورپی ممالک نے دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم اسپین نے ایسا نہیں کیا۔ یاد رہے کہ اسپین کے وزیر اعظم نے گزشتہ برس نیٹو کی اس تجویز کو “غیر معقول” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ٹرمپ نے دھمکی دی کہ امریکا اسپین کے ساتھ تجارت محدود کر سکتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں امریکا اور اسپین کے درمیان 47.5 ارب ڈالر کی تجارت ہوئی، جس میں امریکا کو برآمدات میں برتری حاصل رہی۔اس موقع پر چانسلر فریڈرک مرز نے بھی کہا کہ اسپین واحد ملک ہے جو 5 فیصد دفاعی ہدف سے اتفاق نہیں کر رہا اور جرمنی اسے قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران پر حملے کا جواز پیش کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے 1979 کے یرغمال بحران اور 1983 میں بیروت میں امریکی میرین بیرکس پر حملے کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کئی دہائیوں سے “دہشت گردی کا سرپرست” رہا ہے اور “کسی نہ کسی کو یہ قدم اٹھانا ہی تھا۔”انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کی حالیہ موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بدترین صورتحال یہ ہوگی کہ ان کی جگہ کوئی ویسا ہی سخت گیر رہنما آ جائے۔ صدر ٹرمپ نے ایرانی عوام سے کہا کہ وہ “فی الحال” احتجاج نہ کریں کیونکہ حالات انتہائی خطرناک ہیں اور بمباری جاری ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں ایران میں ایسی قیادت آئے جو اقتدار عوام کو واپس دے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے مختصر عرصے میں ہزاروں میزائل تیار کیے، جن میں سے متعدد امریکی کارروائی میں تباہ کر دیے گئے ہیں۔
-

ایرانی عبوری وزیرِ دفاع مجید بن الرضا حملے میں شہید
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ذرائع کے مطابق ایران کے عبوری وزیرِ دفاع مجید بن الرضا اسرائیلی اور امریکی حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مجید بن الرضا نے سابق وزیرِ دفاع امیر نصیر زادہ کی شہادت کے دو روز بعد عہدہ سنبھالا تھا۔ ان کی ہلاکت کے بعد ایران کی عسکری قیادت میں ایک بار پھر بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ تصدیق جاری نہیں کی گئی، جبکہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ -

خلیجی ممالک کے پاس میزائل گرانے والے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ ختم ہونے کا خدشہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں دفاعی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کی فضائی کارروائیاں موجودہ رفتار سے “ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ” جاری رہیں تو خلیجی ممالک کے لیے اپنے دفاع کو برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ متحدہ عرب امارات اورقطراپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کے پریس دفاتر نے الگ الگ بیانات میں واضح کیا کہ ان کے فضائی دفاعی نظام کمزور نہیں ہوئے اور ان کے پاس دفاعی سازوسامان وافر مقدار میں موجود ہے۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق اب تک 182 میں سے 169 میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا جا چکا ہے جبکہ 645 ڈرون مار گرائے گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 44 میزائل یا ڈرون ریاستی حدود کے اندر آ کر گرے۔دوسری جانب قطر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 104 میں سے 101 میزائل ناکارہ بنائے اور 39 میں سے 24 ڈرون تباہ کیے۔
اگرچہ یہ شرح کامیابی بظاہر مؤثر دکھائی دیتی ہے، لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس رفتار کو زیادہ عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہو گا۔سنگاپور کی National University of Singapore سے وابستہ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلو Jean-Loup Samaan نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا “ایرانی حملوں کی شدت کو دیکھتے ہوئے (متحدہ عرب امارات) ایک یا دو ہفتوں سے زیادہ اپنے موجودہ دفاعی وسائل پر انحصار نہیں کر سکتے۔”
دوسری جانب برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے دفاعی ایڈیٹر Shashank Joshi کے مطابق ایران کے پاس مختلف رینج کے تقریباً 2,500 میزائل موجود ہونے کا اندازہ ہے، جبکہ “شاہد” ڈرونز کی درست تعداد واضح نہیں۔جوشی نے خبردار کیا کہ اگر اسی نوعیت کے حملے مزید ایک ہفتہ جاری رہے تو “انتہائی جدید انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید قلت” پیدا ہو سکتی ہے۔
ادھر لندن میں قائم تھنک ٹینک ے سینئر فیلو Hasan Alhasan کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک ممکنہ طور پر دفاعی حکمتِ عملی سے ہٹ کر جارحانہ حکمتِ عملی اختیار کرنے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ایک پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا “اگر خلیجی ریاستیں اپنی جدید اور متنوع فضائی افواج کو متحرک کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو میدان کسی حد تک کھلا ہو سکتا ہے۔”
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتِ حال نہ صرف خلیجی ممالک کے دفاعی ذخائر پر دباؤ ڈال رہی ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر حملوں کا سلسلہ طویل ہوا تو اس کے اثرات تیل کی منڈیوں، فضائی حدود کی سیکیورٹی اور عالمی سفارتی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتِ حال کے لیے نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم یواے ای اور قطر نے انٹر سیپٹرز کی کمی سے متعلق خدشات مسترد کر دیے،یواے ای اور قطر کا کہنا ہے کہ خلیجی اور عرب ریاستوں کے پاس امریکی فوجی نظام کے ساتھ دنیا کے سب سے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، امریکی اخبار کے مطابق یوکرین کی 4 سالہ جنگ میں معاونت کے بعد پینٹاگون کے پاس بھی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے میزائلوں کا ذخیرہ کم ہوتا جا رہا ہے ۔
-

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہادتوں کی تعداد 787 ہوگئی، ایرانی ہلال احمر
ایرانی ہلال احمر کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد بڑھ کر 787 ہو گئی ہے۔
ہلال احمر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران 153 ایرانی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ ادارے کے مطابق ان شہروں میں 500 سے زائد مقامات پر ایک ہزار سے زیادہ فضائی حملے کیے گئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور طبی سہولیات فراہم کر رہی ہیں جبکہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کا عمل جاری ہے۔
تاحال امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ان اعداد و شمار پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ -

مجتبیٰ خامنہ ای کی شہادت کی خبریں بے بنیاد قرار، ایرانی میڈیا کی وضاحت
ایرانی میڈیا نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کی شہادت سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
ایرانی ذرائع کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای زندہ اور مکمل طور پر صحتیاب ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ ملک کے اہم امور کی نگرانی کر رہے ہیں اور معمول کے مطابق ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ بعض غیر ملکی میڈیا اداروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ حالیہ حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کے ساتھ ان کے صاحبزادے بھی جاں بحق ہو گئے ہیں، تاہم ایرانی میڈیا نے ان اطلاعات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ -

پاکستانی فضائی حدود ایران پر حملے میں استعمال ہونے کا بے بنیاد دعویٰ
سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایران پر حالیہ حملے میں پاکستانی فضائی حدود استعمال کی گئی۔ پوسٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر نے پاکستان کو اس اقدام پر نتائج بھگتنے کی دھمکی دی۔
تحقیقی جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اس دعوے کی تائید کسی مستند سرکاری بیان یا معتبر بین الاقوامی خبر ایجنسی کی رپورٹ سے نہیں ہوتی۔ تاحال نہ ایرانی حکام کی جانب سے ایسا کوئی مصدقہ بیان جاری کیا گیا ہے اور نہ ہی پاکستانی حکومت کی طرف سے اس نوعیت کے کسی واقعے کی تصدیق سامنے آئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حساس علاقائی حالات میں سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ دعوے تیزی سے پھیل جاتے ہیں، اس لیے عوام کو چاہیے کہ وہ معلومات شیئر کرنے سے قبل مستند ذرائع سے تصدیق کریں۔
-

ایران کو چین و روس کی حمایت، اسرائیل کے جوہری آپشن پر خدشات: سابق امریکی کرنل
امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ریٹائرڈ امریکی کرنل ڈگلس میکگریگر نے دعویٰ کیا ہے کہ چین اور روس ایران کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور مبینہ طور پر سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کر رہے ہیں، جس کے باعث ایران کو حالیہ جھڑپوں میں برتری حاصل ہوئی۔
پروگرام کے میزبان میٹ گیٹز کے سوال کے جواب میں میکگریگر نے کہا کہ چین اور روس بظاہر براہ راست جنگ میں شامل نہیں مگر پس پردہ تعاون کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ایک بڑی آبادی اور وسیع رقبے کا حامل ملک ہے جس کی دفاعی صلاحیتیں برقرار ہیں اور اس کے میزائل نظام کو نمایاں نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو لاجسٹک چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ فوجی کارروائیوں کے لیے مسلسل سپلائی درکار ہوتی ہے، جبکہ ایران ایک زمینی طاقت ہونے کے باعث اندرونی وسائل پر زیادہ انحصار کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بعض صورتوں میں امریکی افواج کو متبادل بندرگاہوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا کو لاجسٹک مشکلات کا سامنا ہے اور بحری ضروریات کے لیے بھارت کی بندرگاہوں سے رجوع کیا جا رہا ہے، جو ان کے بقول مثالی صورتحال نہیں۔
میکگریگر نے خبردار کیا کہ اگر کشیدگی طویل عرصے تک جاری رہی تو خطے میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل کب اس مرحلے پر پہنچے گا جہاں وہ سخت ترین آپشنز پر غور کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ پیش رفت پر عالمی قیادت کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کیونکہ کسی بھی بڑے فیصلے کے خطے اور دنیا پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔