Baaghi TV

Blog

  • اڈیالہ جیل: بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے خصوصی ملاقات

    اڈیالہ جیل: بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے خصوصی ملاقات

    اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کی طبی حالت کے حوالے سے پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پمز (PIMS) اور الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے ماہرین پر مشتمل ایک خصوصی میڈیکل ٹیم نے ان کی متاثرہ آنکھ کا طبی معائنہ کیا۔ اس ٹیم میں ریٹینا اسپیشلسٹ ڈاکٹر ندیم قریشی کے ساتھ ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر اوصل بھی شامل تھے۔ اس ٹیم نے جدید طبی آلات اور ضروری سہولیات سے لیس گاڑی کے ساتھ جیل کا دورہ کیا، جہاں جیل اسپتال کے عملے نے بھی ان کی معاونت کی۔ ڈاکٹروں نے بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کا تفصیلی فالو اپ چیک اپ مکمل کیا اور جانچ کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئے۔
    طبی معائنے کے عمل کے ساتھ ساتھ جیل حکام نے بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ، بشریٰ بی بی کے ساتھ ان کی ملاقات بھی کرائی۔ یہ ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں منعقد کی گئی، جو جیل مینوئل کے طے شدہ ضوابط کے عین مطابق تھی۔ یہ ملاقات تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس کے دوران بشریٰ بی بی نے ان کی طبیعت اور آنکھ کے طبی معائنے کے بارے میں دریافت کیا۔ اس تمام عمل کے دوران جیل انتظامیہ سیکیورٹی اور دیگر انتظامی امور کی نگرانی کرتی رہی۔

  • ایران میں شدید بمباری کا سلسلہ جاری: گزشتہ 24 گھنٹوں میں 96 افراد شہید

    ایران میں شدید بمباری کا سلسلہ جاری: گزشتہ 24 گھنٹوں میں 96 افراد شہید

    ‎ایران کے مختلف شہروں پر جاری شدید فضائی حملوں اور عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی نقصان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں ہونے والی بمباری میں 96 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
    حکام کے مطابق، یہ ہلاکتیں شہری آبادیوں اور حساس سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے باعث ہوئیں۔ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، جبکہ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ یہ گزشتہ چند دنوں میں ہونے والا سب سے زیادہ جانی نقصان ہے، جس نے ملک بھر میں شدید اضطراب کی فضا پیدا کر دی ہے۔
    بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہریوں کی ہلاکتوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور جنگ کے فریقین سے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری جنگ بندی یا محفوظ راہداریوں کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

  • خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: متحدہ عرب امارات کا میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سخت ردعمل

    خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کریں گے: متحدہ عرب امارات کا میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سخت ردعمل

    متحدہ عرب امارات (UAE) نے اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کے تحفظ کے لیے ہر حال میں تیار ہیں۔ وزارت خارجہ میں ایک اہم مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران وزارت دفاع، خزانہ اور نیشنل ایمرجنسی اتھارٹی کے حکام نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
    ‎ترجمان وزارت دفاع نے حملوں کی سنگینی اور دفاعی کارروائیوں کا ڈیٹا جاری کیا:
    میزائل حملے: ایران کی جانب سے مجموعی طور پر 186 میزائل داغے گئے، جن میں سے 172 کو فضا میں کامیابی سے تباہ کیا گیا، 13 میزائل سمندر میں گرے، جبکہ صرف 1 میزائل اماراتی سرزمین پر گرا۔
    ڈرون حملے: اس جارحیت کے دوران 812 ڈرونز استعمال کیے گئے، جن میں سے 755 کو اماراتی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی مار گرایا۔
    پریس بریفنگ میں حکام کا کہنا تھا کہ "ہم نے اپنی خودمختاری پر نہ کبھی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کریں گے۔” ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اپنی سرزمین کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا اور ملک کے پاس طویل عرصے تک اپنے دفاع کو جاری رکھنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔

  • کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ، میرینز پر مظاہرین پر گولیاں چلانے کا الزام

    کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر فائرنگ، میرینز پر مظاہرین پر گولیاں چلانے کا الزام

    ‎امریکی حکام کے مطابق کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر میرینز کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔
    ‎خبر ایجنسی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ میرینز کی چلائی گئی گولیاں کسی کو لگیں یا ان سے کوئی ہلاکت ہوئی۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ قونصلیٹ پر تعینات دیگر سکیورٹی اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق قونصلیٹ کی حفاظت پر نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس بھی مامور تھی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں۔
    ‎چند روز قبل ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای پر امریکی حملے کے خلاف بڑی تعداد میں شہریوں نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران فائرنگ سے 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
    ‎دوسری جانب امریکی میرینز نے اس معاملے سے متعلق سوالات امریکی فوج کو بھیج دیے، جبکہ امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ہے۔ تاحال امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • امریکی و اسرائیلی حملے میں تہران میں گلستان محل میں بھی تباہی

    امریکی و اسرائیلی حملے میں تہران میں گلستان محل میں بھی تباہی

    ایران کے تاریخی اور عالمی ثقافتی ورثے کی علامت گلستان محل کو حالیہ امریکی،اسرائیلی حملوں کے بعد نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی کے مطابق حملے کے بعد محل کے بعض حصوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محل کا مشہور آئینہ دار تخت ہال اور وہاں موجود نایاب میوزیم نوادرات کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ اقدام جنوری میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور جون 2025 میں جاری 12 روزہ جنگ کے دوران احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا تھا، جس کے باعث قیمتی تاریخی اشیا کو محفوظ والٹ میں رکھا گیا۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو کے ترجمان نے کہا ہے کہ ادارے نے تمام متعلقہ فریقین کو عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل مقامات اور قومی اہمیت کے حامل تاریخی مقامات کے جغرافیائی محلِ وقوع (کوآرڈینیٹس) فراہم کر دیے تھے تاکہ کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔

    گلستان محل ایران کی تاریخ میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلی بار قاجار دورِ حکومت میں اقتدار کا مرکز بنا، جب دارالحکومت کو تہران منتقل کیا گیا۔ بعد ازاں پہلوی دور میں بھی یہ محل ریاستی تقریبات اور اہم سرکاری سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ماہرین آثارِ قدیمہ اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے اداروں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح تنازعات کے دوران تاریخی اور ثقافتی مقامات کا تحفظ بین الاقوامی قوانین کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ ایران کی جانب سے ممکنہ نقصانات کا مکمل تخمینہ لگانے کے لیے جائزہ کارروائی جاری ہے۔

  • ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کی جانب سے عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں کرد گروہوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کی ذمہ داری آئی آر جی سی نے قبول کرلی ہے۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ے مطابق آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراق کے کردستان ریجن میں موجود گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران 30 ڈرونز فضا میں بھیجے گئے، جنہوں نے مبینہ طور پر ہدف بنائے گئے مقامات کو تباہ کر دیا۔آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی ایران کی قومی سلامتی کے تحفظ اور سرحد پار سرگرم گروہوں کے خلاف کی گئی

    دوسری جانب کرد تنظیموں نے حملوں کی تصدیق تو کی ہے، مگر ایرانی دعوے میں بتائی گئی ڈرونز کی تعداد کو مسترد کر دیا ہے۔ ے ڈی پی آئی نے کہا ہے کہ ان کے ٹھکانوں پر صرف تین ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔اسی طرح پی اے کے نے بھی تصدیق کی کہ ان کے ایک مرکز کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں ایرانی مخالف کرد گروہ طویل عرصے سے سرگرم ہیں، اور ماضی میں بھی ایران ان پر سرحد پار حملوں کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بغداد اور اربیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ایران کے خلاف فوجی کارروائی فوری روکی جائے، چین

    ایران کے خلاف فوجی کارروائی فوری روکی جائے، چین

    ‎چین نے ایران میں جاری فوجی کارروائی کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے سے روکنا ضروری ہے۔
    ‎چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بیجنگ کا واضح مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جاری ملٹری آپریشن فوری ختم کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ چین اس معاملے پر تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، جس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں انصاف کی حمایت، امن کے لیے کوششیں اور جنگ بندی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
    ‎ترجمان نے خبردار کیا کہ چین کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ یہ تنازع پڑوسی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین فوجی کارروائیاں روکیں اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے بچائیں، کیونکہ طاقت کا اندھا دھند استعمال قابل قبول نہیں۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ایران کے جوہری توانائی کے پرامن استعمال کے جائز حق کو تسلیم کرتا ہے اور ایرانی جوہری معاملہ بالآخر سیاسی اور سفارتی حل کی طرف ہی واپس آئے گا۔

  • ایران کو نظر انداز کر کے اسرائیل کی حمایت، بھارت نے سفارتی خودمختاری قربان کردی: سونیا گاندھی

    ایران کو نظر انداز کر کے اسرائیل کی حمایت، بھارت نے سفارتی خودمختاری قربان کردی: سونیا گاندھی

    ‎بھارتی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ایران جیسے پرانے اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت کرنا بھارت کی سفارتی خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
    ‎بھارتی جریدے میں شائع اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کے بجائے ایک فریق کی کھلی حمایت کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ملک کی خودمختار سفارتی شناخت متاثر ہوئی۔
    ‎انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت ماضی میں اسرائیل اور ایران کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم رکھتا آیا ہے، تاہم ان کے بقول وزیر اعظم نریندر مودی نے اس روایت کو سیاسی مقاصد کی خاطر پس پشت ڈال دیا ہے۔
    ‎سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ اس طرز عمل سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور حکومت کا رویہ اسے مخصوص مفادات کے تابع دکھا رہا ہے۔ ان کے مطابق جس پالیسی کو سفارت کاری قرار دیا جا رہا ہے وہ درحقیقت حساس مواقع پر ذمہ داری سے کنارہ کشی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ یہ رویہ اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کو کمزور بنا سکتا ہے۔
    ‎سونیا گاندھی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر بھارت کا نرم ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔

  • ایرانی حملوں کے بعد کرسٹیانو رونالڈو ریاض سے میڈرڈ روانہ

    ایرانی حملوں کے بعد کرسٹیانو رونالڈو ریاض سے میڈرڈ روانہ

    ‎ایرانی حملوں کے بعد اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نجی طیارے کے ذریعے ریاض سے میڈرڈ روانہ ہوگئے۔
    ‎برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو کا طیارہ رات تقریباً آٹھ بجے ریاض سے اڑا اور لگ بھگ ایک بجے میڈرڈ پہنچا۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق پرواز نے مصر اور بحیرہ روم کے اوپر سے راستہ اختیار کیا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نجی طیارے کی مالیت تقریباً 61 ملین پاؤنڈ ہے۔ رونالڈو اس وقت ریاض میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
    ‎اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا خاندان بھی اسی پرواز میں موجود تھا یا نہیں۔

  • سعودی عرب اور قطر میں مبینہ موساد ایجنٹس کی گرفتاری کا دعویٰ، ٹکر کارلسن کا بڑا بیان

    سعودی عرب اور قطر میں مبینہ موساد ایجنٹس کی گرفتاری کا دعویٰ، ٹکر کارلسن کا بڑا بیان

    امریکا کے قدامت پسند تجزیہ کار اور معروف ایکٹیوسٹ ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر اور سعودی عرب میں حکام نے مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا ہے۔
    ٹکر کارلسن کے مطابق یہ گرفتاریاں گزشتہ رات عمل میں آئیں اور زیر حراست افراد دونوں ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان مبینہ ایجنٹس کی سرگرمیوں کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔
    ‎کارلسن نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیل صرف ایران ہی نہیں بلکہ قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، عمان اور کویت کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیابی حاصل کر چکا ہے۔
    ‎تاہم ان دعوؤں پر متعلقہ ممالک یا اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔