Baaghi TV

Blog

  • عظمیٰ کاردار جم کرتے ہوئے سر پر راڈ لگنے سے زخمی

    عظمیٰ کاردار جم کرتے ہوئے سر پر راڈ لگنے سے زخمی

    لاہور: ن لیگی ایم پی اے عظمیٰ کاردار جم میں ورزش کے دوران حادثے کا شکار ہو کر زخمی ہوگئیں۔ مسلم لیگ ن کی رکنِ پنجاب اسمبلی کے سر پر راڈ لگنے کے باعث انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔

    عظمیٰ کاردار نے چوٹ لگنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ٹرینر کی عدم موجودگی میں وہ خود ورزش کے آلات درست طریقے سے سیٹ نہیں کر پائیں، جس کے باعث دورانِ ورزش راڈ آ کر ان کے سر پر لگی۔واقعے کے بعد لیگی ایم پی اے کو سروسز اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ذرائع کے مطابق ابتدائی طبی معائنے کے بعد عظمیٰ کاردار کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔

  • بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی ٹیکس وصول

    بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی ٹیکس وصول

    ملک بھر کے بجلی صارفین سے فی یونٹ تقریباً 9 روپے تک اضافی ٹیکس وصول کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث گھریلو اور صنعتی صارفین شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے توانائی کے شعبے کو ٹیکس وصولی کے اضافی ذریعے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے بلوں میں مختلف مدات کے تحت متعدد ٹیکس شامل کیے جا رہے ہیں۔رپورٹس کے مطابق بجلی کے بلوں میں مجموعی طور پر 6 مختلف اقسام کے ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، جن میں 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی)، انکم ٹیکس اور ایڈوانس ٹیکس شامل ہیں۔ ان اضافی ٹیکسز کی وجہ سے صارفین کو اصل بجلی قیمت کے علاوہ بھاری اضافی ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی پر عائد اضافی ٹیکسوں سے نہ صرف عام شہری متاثر ہو رہے ہیں بلکہ صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے اثرات ملکی معیشت اور مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ ہے۔صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے بلوں میں شامل اضافی ٹیکسوں پر نظرثانی کی جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • امریکی نیوی کے دو لڑاکا طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ

    امریکی نیوی کے دو لڑاکا طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ

    مریکی ریاست آئیڈاہو میں ائیر شو کے دوران امریکی نیوی کے دو لڑاکا طیارے فضا میں آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی جبکہ حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز ہونے والے ائیر شو میں امریکی نیوی کے دو EA-18G گرولر لڑاکا طیارے دورانِ پرواز ایک دوسرے سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں دونوں طیارے زمین پر گر کر تباہ ہوگئے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حادثہ ماؤنٹین ہوم ائیر فورس بیس سے تقریباً 2 میل دور پیش آیا۔ دونوں طیاروں میں سوار 4 پائلٹس نے بروقت ایمرجنسی ایجیکشن کر کے اپنی جانیں بچالیں۔امریکی میڈیا کے مطابق امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جبکہ زخمیوں اور نقصانات کے حوالے سے مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

    حادثے کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ماؤنٹین ہوم ائیر فورس بیس کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

  • پنکی کو ملکہ کونین کس نے بنایا،اہم انکشافات

    پنکی کو ملکہ کونین کس نے بنایا،اہم انکشافات

    منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے سابق شوہر کا بھائیوں سمیت منشیات کے کاروبار میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    لاہورپولیس کا کہنا تھاکہ انمول عرف پنکی کا سابق شوہر ناصر دو بھائیوں سمیت اس منشیات کے کاروبار میں ملوث تھا،پولیس کابتانا ہے کہ ناصر اپنے دو بھائیوں کے ہمراہ گوجرانوالہ سے لاہور آگیا جہاں تینوں بھائیوں نے مل کر پہلے گیسٹ ہاؤسز اور شراب کا کاروبار شروع کیا، بعد ازاں ناصر نے اپنے دو بھائیوں، ایک دوست اور بہنوئی کے ساتھ مل کر کوکین کا کاروبار شروع کیا، ناصر نے ہی انمول عرف پنکی کو کوکین بنانے کا ماہر بنایا، دونوں میاں بیوی مل کرلاہور اور کراچی سمیت پورے پاکستان میں کوکین سپلائی کرتے جبکہ بعد ازاں ناصر بھائیوں سمیت کوکین کا کاروبار کراچی لے گیا،لاہور پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی نے سابق انسپکٹر رانا اکرم کے کہنے پر 2021 میں ناصر سے طلاق لے لی تھی۔ اب گرفتاری کے بعد پنکی نے الزام عائد کیا کہ اس کے خلاف یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اس کا سابق شوہر ملوث ہے۔

  • ڈسٹرکٹ جیل میں سخت بدنظمی ،بدعنوانی عروج پر

    ڈسٹرکٹ جیل میں سخت بدنظمی ،بدعنوانی عروج پر

    قصور ڈسٹرکٹ جیل میں مبینہ طور پر بدعنوانی، ظلم و زیادتی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جیل میں تعینات بعض افسران کی جانب سے قیدیوں سے ماہانہ بھتہ (منتھلی) وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق جیل کے اندر موبائل فون، منشیات، سگریٹ اور دیگر غیر قانونی اشیاء مبینہ طور پر رقم کے عوض فراہم کی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والے افراد سے بھی پیسے وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ ادائیگی نہ کرنے والوں کو گھنٹوں تک بلاوجہ انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عید جیسے مقدس موقع پر بھی قیدیوں سے “عیدی” کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں قیدیوں کے لیے باہر سے آنے والے کھانے، پھلوں اور دیگر اشیاء میں سے بھی مبینہ طور پر آدھا حصہ لے لیا جاتا ہے۔

    متاثرہ ذرائع کے مطابق پوری جیل ایک مبینہ “ٹھیکہ سسٹم” کے تحت چلائی جا رہی ہے، جہاں ہر سہولت کی الگ قیمت مقرر ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    عوامی حلقوں اور متاثرہ خاندانوں نے پنجاب جیل خانہ جات کے آئی جی سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مبینہ ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

  • ‎پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی عدالت پہنچ گئی

    ‎پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی عدالت پہنچ گئی

    ‎امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کل اسلام آباد کی عدالت میں پٹیشن دائر کرے گی۔
    ‎جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرول مہنگا کرنا عوام پر بدترین ظلم ہے اور حکومت مسلسل مہنگائی کا بوجھ غریب عوام پر ڈال رہی ہے۔
    ‎انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی عیدالاضحیٰ کے بعد مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی طرف فیصلہ کن مارچ کرے گی۔
    ‎حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور اب صرف نظام کی شاخیں نہیں بلکہ جڑیں اکھاڑنے کی ضرورت ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ گزشتہ 79 برسوں سے ملک پر ایک مخصوص طبقہ حکومت کر رہا ہے، جس میں طاقتور بیوروکریٹس، جاگیردار، سرمایہ دار اور مختلف مافیاز شامل ہیں۔
    ‎امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو تعلیم کے میدان میں جماعت اسلامی کا مقابلہ کرنا چاہیے، کیونکہ جماعت اسلامی نے ملک بھر میں ہزاروں تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں جبکہ حکومت ایک بھی نیا کالج بنانے میں ناکام رہی۔
    ‎انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ پاکستان میں موجود تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور لیوی کے نفاذ کے بعد ملک میں عوامی ردعمل میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں بھی حکومت پر دباؤ بڑھا رہی ہیں۔

  • طوفان سے پہلے کی خاموشی، ٹرمپ کا پراسرار اور دھمکی آمیز پیغام

    طوفان سے پہلے کی خاموشی، ٹرمپ کا پراسرار اور دھمکی آمیز پیغام

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پراسرار اور دھمکی آمیز پیغام جاری کر دیا، جسے مبصرین خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔
    ‎سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ایک تصویر میں صدر ٹرمپ کو ایک بحری جہاز میں موجود دکھایا گیا، جبکہ اس کے ساتھ تحریر تھا: ’’یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔‘‘
    ‎ایک اور تصویر میں ٹرمپ کو ہاتھ کے اشارے کے ساتھ دکھایا گیا، جہاں وہ اپنی معروف “Make America Great Again” یعنی ’’امریکا کو دوبارہ عظیم بناؤ‘‘ کیپ پہنے ہوئے نظر آئے۔
    ‎اگرچہ صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم سیاسی تجزیہ کار اس بیان کو ایران اور مشرق وسطیٰ کی حالیہ صورتحال سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
    ‎سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے اس پیغام کے بعد مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں، جبکہ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ ممکنہ طور پر آنے والے امریکی اقدامات یا پالیسی اشاروں کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے۔
    ‎امریکی صدر ماضی میں بھی اسی نوعیت کے سخت اور مبہم بیانات کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں، خاص طور پر ایران، چین اور دیگر عالمی معاملات پر۔
    ‎سیاسی ماہرین کے مطابق ایسے بیانات عالمی منڈیوں، سفارتی ماحول اور خطے کی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ پہلے ہی شدید کشیدگی کا شکار ہے۔
    ‎دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں نے اس پوسٹ کو طاقت اور قیادت کا اظہار قرار دیا، جبکہ ناقدین نے اسے غیر ضروری اشتعال انگیزی سے تعبیر کیا ہے۔

  • ایران پر دوبارہ حملے ماضی کی غلطیوں کا اعادہ ہوں گے، روس

    ایران پر دوبارہ حملے ماضی کی غلطیوں کا اعادہ ہوں گے، روس

    ‎روس نے ایران پر دوبارہ ممکنہ حملوں کی خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام اس بات کا ثبوت ہوگا کہ امریکا اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔
    ‎ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کیلئے روس کے مستقل مندوب میخائل اولیانوف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر دوبارہ حملے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ عسکری کارروائی کی جانب جاتے ہیں تو یہ ماضی کی ناکام پالیسیوں اور غلط فیصلوں کا اعادہ ہوگا۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ ممکنہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
    ‎میخائل اولیانوف نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے اس مؤقف کی بھی مکمل حمایت کی جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مکمل جنگ بندی پر زور دیا گیا تھا۔
    ‎روسی مندوب کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کا واحد حل سفارتکاری، مذاکرات اور فوری جنگ بندی ہے، نہ کہ مزید عسکری کارروائیاں۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور چین مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی عالمی امن اور معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی صورتحال کے باعث۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع ہوئیں تو عالمی تیل منڈی، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی برادری بھی ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تناؤ پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔

  • غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 11 فلسطینی شہید

    غزہ میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 11 فلسطینی شہید

    ‎غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جہاں مختلف علاقوں پر تازہ حملوں کے نتیجے میں مزید 11 فلسطینی شہید جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، جس کے باعث متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا اور شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
    ‎طبی ذرائع کے مطابق حملوں میں زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
    ‎عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملوں کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کیلئے کارروائیاں شروع کر دیں، تاہم مسلسل بمباری کے باعث امدادی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
    ‎غزہ میں جاری کشیدگی کے دوران انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، جبکہ خوراک، ادویات اور طبی سہولیات کی شدید قلت بھی رپورٹ کی جا رہی ہے۔
    ‎بین الاقوامی امدادی اداروں نے فوری جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کیلئے عالمی برادری سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ جنگ بندی کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔

  • کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا پھیلنے پر عالمی ایمرجنسی نافذ

    کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا پھیلنے پر عالمی ایمرجنسی نافذ

    ‎عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو بین الاقوامی سطح پر عوامی صحت کیلئے ایمرجنسی قرار دے دیا ہے۔
    ‎ڈبلیو ایچ او کے مطابق دونوں ممالک میں اب تک 300 سے زائد مشتبہ کیسز جبکہ 88 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں، جس کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
    ‎17 مئی کو جاری اپنے بیان میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسس نے کہا کہ اگرچہ صورتحال ابھی مکمل وبائی ایمرجنسی کی سطح تک نہیں پہنچی، تاہم پڑوسی ممالک میں وائرس کے پھیلنے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔
    ‎طبی حکام کے مطابق اس بار ایبولا کی خاص قسم Bundibugyo Virus Disease (BVD) سامنے آئی ہے، جس کیلئے تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر دوا دستیاب نہیں۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگو اور یوگنڈا میں ماضی میں 20 سے زائد بار ایبولا پھیل چکا ہے، تاہم BVD وائرس کی یہ صرف تیسری بڑی تصدیق ہے۔
    ‎ڈبلیو ایچ او کے مطابق اصل کیسز کی تعداد رپورٹ ہونے والے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق زیادہ تر کیسز کانگو کے مشرقی صوبے Ituri میں سامنے آئے ہیں، جو یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔
    ‎افریقا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن نے 336 مشتبہ کیسز اور 87 اموات کی تصدیق کی ہے۔
    ‎یوگنڈا نے 16 مئی کو ایک متاثرہ مریض کی تصدیق کی تھی، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وائرس کانگو سے منتقل ہوا، تاہم مریض انتقال کر گیا۔ بعد ازاں ایک اور کیس کی بھی تصدیق کی گئی۔
    ‎عالمی ادارہ صحت نے متاثرہ افراد کو فوری طور پر الگ تھلگ رکھنے، مقامی سفر 21 دن تک محدود کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم عالمی ادارے نے سرحدیں بند کرنے یا تجارت روکنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
    ‎ایبولا ایک خطرناک وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کی علامات میں بخار، گلے میں درد، جسمانی درد، قے، ڈائریا اور شدید کمزوری شامل ہیں، جبکہ مرض بڑھنے پر جسم سے خون بہنے لگتا ہے۔