Baaghi TV

اقلیت مخالف سرگرمیاں، ہندو دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس شدید عالمی دباؤ میں

اقلیت مخالف سرگرمیوں اور شدت پسند نظریات کے الزامات کے بعد ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) شدید عالمی دباؤ کی زد میں آ گئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آر ایس ایس نے ہندوتوا نظریے اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فروغ دیا، جبکہ تنظیم ماضی میں کئی مرتبہ اپنے انتہا پسند رجحانات کے باعث پابندیوں کا سامنا بھی کر چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کو آر ایس ایس کے ایجنڈے کی دو بڑی کامیابیاں قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان اقدامات نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھی آر ایس ایس کو اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت اور تشدد سے جوڑا ہے۔ کمیشن کی سفارشات میں تنظیم کے اثاثے منجمد کرنے اور اس سے وابستہ افراد کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگانے کی تجاویز شامل ہیں۔عالمی دباؤ بڑھنے کے بعد آر ایس ایس نے ممکنہ پابندیوں سے بچنے کے لیے بین الاقوامی لابنگ مہم تیز کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق تنظیم کے رہنما امریکہ، برطانیہ اور جرمنی میں سرگرم ہو گئے ہیں، جبکہ دہلی میں آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے ایک بریفنگ کے دوران یورپ اور ایشیا میں مزید لابنگ بڑھانے کا اعلان بھی کیا۔سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس نے امریکہ میں اپنی ساکھ بہتر بنانے کے لیے ایک لابنگ فرم کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ ناقدین کے مطابق بھارتی عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والی رقوم ایک ایسی تنظیم کا امیج بہتر بنانے پر خرچ کی جا رہی ہیں جس پر انتہا پسندی اور اقلیت دشمنی کے سنگین الزامات عائد ہیں۔

More posts