Baaghi TV

Blog

  • ابراہیم حیدری میں مسلح افراد پولیس کی تحویل سے چھالیہ بھری گاڑی چھین کر فرار

    ابراہیم حیدری میں مسلح افراد پولیس کی تحویل سے چھالیہ بھری گاڑی چھین کر فرار

    ‎کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری میں نامعلوم مسلح افراد پولیس کی تحویل سے چھالیہ سے بھری گاڑی چھین کر فرار ہو گئے، جبکہ واقعے کے بعد پولیس نے دو الگ الگ مقدمات درج کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ ریڑھی روڈ چائنا کٹ کے قریب پیش آیا جہاں پولیس اور مسلح افراد کے درمیان جھگڑا اور ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
    ‎پہلا مقدمہ سب انسپکٹر عبدالقادر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے کے متن کے مطابق پولیس کو مخبر کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ ایک سلور رنگ کی گاڑی میں چھالیہ اسمگل کی جا رہی ہے۔
    ‎پولیس نے مشتبہ گاڑی کو روک کر تلاشی شروع کی تو ڈرائیور نے اپنا نام اسماعیل جبکہ اس کے ساتھی نے عرفان بتایا۔
    ‎مدعی مقدمہ کے مطابق تلاشی کے دوران اچانک 14 سے 15 نامعلوم افراد ڈبل کیبن گاڑیوں میں موقع پر پہنچ گئے، جن میں سے بعض افراد نے مبینہ طور پر کوسٹ گارڈ کی وردی پہن رکھی تھی۔
    ‎پولیس کے مطابق ان افراد نے اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی اور زبردستی چھالیہ سے بھری گاڑی چھین کر فرار ہو گئے، جبکہ ڈرائیور اسماعیل کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
    ‎پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے موقع پر موجود ملزم عرفان کو گرفتار کر لیا۔
    ‎دوسرا مقدمہ گرفتار ملزم عرفان کی نشاندہی پر گٹکا برآمد ہونے کے بعد درج کیا گیا۔
    ‎پولیس کے مطابق عرفان کی نشاندہی پر نئی آبادی کے علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں سے تیار اور غیر تیار شدہ گٹکے کا بھاری مقدار میں سامان برآمد ہوا۔
    ‎کارروائی کے دوران انس نامی شخص کو بھی حراست میں لیا گیا۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مقدمات درج کر کے واقعے میں ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کیلئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
    ‎شہری حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں اسمگلنگ اور گٹکا مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔

  • ایران کی اسٹاک مارکیٹ 80 دن بعد دوبارہ کھلنے کیلئے تیار

    ایران کی اسٹاک مارکیٹ 80 دن بعد دوبارہ کھلنے کیلئے تیار

    ایران کی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 80 دن بند رہنے کے بعد منگل 19 مئی سے دوبارہ ٹریڈنگ شروع کرنے جا رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مارکیٹ کھلنے کے بعد صورتحال کس رخ پر جاتی ہے۔
    ‎ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی حالات کے دوران اسٹاک مارکیٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا تاکہ سرمایہ کاروں کے اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
    ‎سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آرگنائزیشن کے ڈپٹی سپروائزر حمید یاری نے کہا کہ مارکیٹ کی معطلی کا مقصد خوف و ہراس کے تحت ہونے والی ٹریڈنگ کو روکنا اور قیمتوں کے زیادہ شفاف تعین کیلئے حالات پیدا کرنا تھا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ تمام ضروری منظوریوں اور رابطہ کاری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد حصص، سرمایہ کاری فنڈز اور ڈیریویٹوز کی ٹریڈنگ دوبارہ بحال کی جا رہی ہے۔
    ‎حمید یاری کے مطابق مارکیٹ کھلنے کے بعد سرمایہ جاتی منڈی کے تمام شعبے دوبارہ مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایران نے یکم مارچ کو اسٹاک مارکیٹ معطل کی تھی، جبکہ بعد میں 7 مارچ کو اس بندش کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا تھا۔
    ‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی بحالی کے بعد لاکھوں ریٹیل سرمایہ کار دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے، تاہم یہ خدشہ موجود ہے کہ کئی سرمایہ کار ایک ساتھ اپنے حصص فروخت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
    ‎اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام ممکنہ بحران سے بچنے کیلئے مختلف حفاظتی اقدامات پر کام کر رہے ہیں، جن میں مخصوص شیئرز پر قیمتوں کی سخت حدود مقرر کرنا اور مارکیٹ میکرز کے ذریعے لیکویڈیٹی فراہم کرنا شامل ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فروخت کا دباؤ بہت زیادہ ہوا تو حکومتی اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔
    ‎سیاسی اور معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی اسٹاک مارکیٹ کی بحالی صرف اقتصادی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کیلئے ایک اہم اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ تہران کشیدگی کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  • خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی بند، عوام سڑکوں پر آ سکتے ہیں: فیصل کریم کنڈی

    خیبرپختونخوا کو گیس کی فراہمی بند، عوام سڑکوں پر آ سکتے ہیں: فیصل کریم کنڈی

    ‎گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کو گیس کی فراہمی بند کر دی گئی ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اس وقت گندم اور گیس دونوں کے سنگین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر پنجاب گندم فراہم نہیں کرتا تو سندھ سے گندم لانے کیلئے راہداری دی جائے تاکہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
    ‎انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لوگوں کو روٹی نہیں ملے گی تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے، اس لیے حکومت کو فوری اور سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
    ‎گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہے تھے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ اڈیالہ جیل کی سیاست کے بجائے صوبے کے مسائل پر توجہ دیں اور خیبرپختونخوا کے حقوق کیلئے مؤثر کیس تیار کر کے وفاق کے سامنے پیش کریں۔
    ‎فیصل کریم کنڈی کے مطابق خیبرپختونخوا کو درپیش مسائل صرف سیاسی بیانات سے حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی اقدامات اور وفاقی سطح پر مضبوط مؤقف اپنانا ہوگا۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا میں گیس لوڈشیڈنگ اور گندم کی صورتحال عوام کیلئے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہے، جبکہ بڑھتی مہنگائی نے بھی شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صوبوں کے درمیان وسائل اور اشیائے ضروریہ کی فراہمی پر تعاون نہ ہونے کی صورت میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

  • جنگ ، دی نیوز گروپ نے مختلف شہروں میں میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے

    جنگ ، دی نیوز گروپ نے مختلف شہروں میں میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے

    پاکستان کے معروف میڈیا گروپ جنگ / دی نیوز، جو کہ میر شکیل الرحمان کی ملکیت ہے، نے ملک کے مختلف بڑے شہروں میں قائم اپنے میڈیا دفاتر فروخت کیلئے پیش کر دیے ہیں، جس کے بعد صحافتی اور میڈیا حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    جنگ اور دی نیوز میں شائع ہونے والے اشتہار کے مطابق لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور کراچی میں واقع گروپ کے اہم میڈیا دفاتر فروخت کیلئے دستیاب ہیں۔ ان میں لاہور کے ڈیوس روڈ پر قائم پرنٹنگ پریس اور میڈیا دفتر، راولپنڈی میں مری روڈ پر ریلوے برج کے قریب مرکزی دفتر، اسلام آباد میں ڈی چوک کے قریب بلیو ایریا میں واقع میڈیا آفس، جبکہ کراچی میں مین ملیر کالا بورڈ روڈ پر قائم دفتر شامل ہیں۔

    اشتہار میں بتایا گیا ہے کہ ان دفاتر میں آفس اسپیس، پریس ایریاز، پارکنگ اور دیگر آپریشنل سہولیات موجود ہیں، جبکہ خریداروں کیلئے رابطہ معلومات بھی فراہم کی گئی ہیں۔

    میڈیا ماہرین کے مطابق یہ اقدام پاکستان کی روایتی پرنٹ میڈیا انڈسٹری کو درپیش بڑھتے ہوئے مالی دباؤ، اشتہارات میں کمی، بڑھتے اخراجات اور ڈیجیٹل میڈیا کی جانب تیزی سے منتقلی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں کئی بڑے میڈیا ادارے اخراجات کم کرنے اور آپریشنز محدود کرنے کیلئے ری اسٹرکچرنگ پالیسی اختیار کر رہے ہیں۔

    اس پیش رفت کے بعد صحافیوں اور میڈیا ورکرز میں ممکنہ ملازمتوں کے خاتمے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ میڈیا حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر دفاتر منتقل یا آپریشنز محدود کیے گئے تو ادارے سے وابستہ صحافیوں، ٹیکنیکل اسٹاف، پرنٹنگ ورکرز اور دیگر ملازمین کی بڑی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔

  • ایچ ای سی نے ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا

    ایچ ای سی نے ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی داخلوں کیلئے انٹری ٹیسٹ لازمی قرار دے دیا

    ‎ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک بھر میں ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں داخلوں کیلئے نئی اور سخت پالیسی نافذ کرتے ہوئے سال 2026 کے سمسٹر سے انٹری ٹیسٹ کو لازمی قرار دے دیا ہے۔
    ‎نئی تعلیمی گائیڈ لائنز کے مطابق اب کوئی بھی سرکاری یا نجی یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کیلئے اپنا الگ انٹری ٹیسٹ منعقد نہیں کر سکے گی۔
    ‎ایچ ای سی کے مطابق تمام جامعات میں داخلے اب صرف ہائر ایجوکیشن ایپٹی ٹیوڈ ٹیسٹ (HAT) یا گریجویٹ ریکارڈ ایگزامینیشن (GRE) کی بنیاد پر دیے جائیں گے، جو ایچ ای سی کی ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل کے تحت منعقد ہوں گے۔
    ‎کمیشن نے میرٹ اور شفافیت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کیلئے گریجویٹ ایجوکیشن پالیسی 2023 کی بعض شقیں فوری طور پر واپس لینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
    ‎ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کا بنیادی مقصد ملک بھر کی جامعات میں داخلوں کیلئے ایک یکساں، معیاری اور شفاف قومی فریم ورک قائم کرنا ہے تاکہ تمام طلبہ کو مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
    ‎کمیشن نے تمام سرکاری اور نجی جامعات کو نئی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
    ‎تعلیمی ماہرین کے مطابق اس اقدام سے مختلف یونیورسٹیوں کے الگ الگ داخلہ ٹیسٹوں کا خاتمہ ہوگا، جس سے طلبہ پر مالی اور ذہنی دباؤ کم ہونے کا امکان ہے۔
    ‎دوسری جانب بعض طلبہ اور تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ مرکزی ٹیسٹنگ سسٹم سے داخلوں میں شفافیت تو بڑھے گی، تاہم دیہی اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کیلئے تیاری اور رسائی کے مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہوگی۔
    ‎ایچ ای سی کے مطابق نئی پالیسی کا اطلاق 2026 کے تعلیمی سیشن سے ہوگا اور تمام جامعات کو اس سلسلے میں مکمل رہنمائی فراہم کی جائے گی۔

  • مریضوں کا علاج اپنے ماں باپ اور بچوں کی طرح کریں، ماہرین

    مریضوں کا علاج اپنے ماں باپ اور بچوں کی طرح کریں، ماہرین

    لاہور: قومی اور بین الاقوامی ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں طبی اور ادویاتی غلطیوں کے باعث ہزاروں مریض ہر سال اسپتالوں میں نقصان اٹھا رہے ہیں یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، اور مریضوں کی حفاظت اسی وقت یقینی بنائی جا سکتی ہے جب ڈاکٹر، نرسیں، فارماسسٹ اور اسپتال انتظامیہ ہر مریض کو اپنے والدین یا بچوں کی طرح سمجھ کر علاج کریں۔

    یہ بات لاہور میں شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں منعقدہ “نویں بین الاقوامی کانفرنس برائے مریضوں کا تحفظ 2026” سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے کہی۔ دو روزہ کانفرنس کا موضوع “Patient Safety from the Start” تھا، جس میں پاکستان اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ صحت، پالیسی سازوں، معالجین، نرسوں، فارماسسٹوں اور محققین نے شرکت کی۔کانفرنس کے دوران ماہرین نے زور دیا کہ علاج سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ مریض کو نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے اسپتالوں اور طبی عملے پر زور دیا کہ وہ غلطیوں کو چھپانے کے بجائے تسلیم کریں، منفی واقعات کی رپورٹنگ کریں اور ناکامیوں سے سیکھ کر نظام کو بہتر بنائیں۔سابق معاونِ خصوصی وزیرِاعظم برائے صحت اور شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال اینڈ ریسرچ سینٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک اہم سیشن کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے شعبے میں غلطیاں ہوتی ہیں لیکن ان سے سیکھ کر انہیں روکا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کا تحفظ طبی عملے کی اولین ذمہ داری ہے اور اسپتالوں میں ایسا ماحول ہونا چاہیے جہاں ڈاکٹرز اور دیگر عملہ خوف کے بغیر غلطیوں کی نشاندہی کر سکے تاکہ مستقبل میں نقصان سے بچا جا سکے۔

    کانفرنس کا انعقاد رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر امپروومنٹ اینڈ سیفٹی (RIHIS) نے مختلف طبی اداروں کے تعاون سے کیا۔ کانفرنس میں مریضوں کے تحفظ، اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن، ادویاتی تحفظ، انفیکشن کنٹرول، ڈیجیٹل ہیلتھ اور صحت کے نظام میں بہتری پر تفصیلی سیشنز منعقد ہوئے۔افتتاحی تقریب میں شوکت خانم میموریل اسپتال کو مریضوں کے تحفظ کے شعبے میں چار بڑے ایوارڈز دیے گئے۔ “رفیدہ الاسلمیہ پیشنٹ سیفٹی چیمپیئن ایوارڈ” بہترین اسپتال کے طور پر شوکت خانم اسپتال کو دیا گیا، جبکہ ڈاکٹر ہارون حفیظ کو بہترین معالج، ناصر خان کو بہترین نرس اور عمر بھٹہ کو بہترین فارماسسٹ قرار دیا گیا۔ مریضوں کے تحفظ کے فروغ کے لیے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے سفیان احمد کو خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔

    کانفرنس کے چیئرمین اور رفاہ انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کیئر امپروومنٹ اینڈ سیفٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ذکی الدین احمد نے کہا کہ پاکستان میں مریضوں کے تحفظ کی تحریک ایک چھوٹے اقدام سے بڑھ کر قومی سطح کے پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد اسپتالوں میں قابلِ تدارک نقصانات کو کم کرنا اور معیاری علاج کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے گائناکالوجی، آبسٹیٹرکس اور پرائمری کیئر فزیشنز کے لیے مریضوں کے تحفظ سے متعلق دو خصوصی گروپس کے قیام کا بھی اعلان کیا اور بتایا کہ اگلی بین الاقوامی کانفرنس پشاور میں رحمان میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں منعقد ہوگی۔

    سی ای او صحت سہولت پروگرام محمد ارشد قائم خانی نے کہا کہ حکومت پاکستان کو سستے اور معیاری علاج کے علاقائی مرکز کے طور پر متعارف کرانے کے لیے میڈیکل ٹورازم پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور معیارات میں بہتری میڈیکل ٹورازم اور بین الاقوامی تعاون کے لیے ناگزیر ہے۔

    رفاہ ہیلتھ کیئر سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسداللہ خان نے بیماریوں کے بوجھ میں کمی کے لیے احتیاطی صحت اور لائف اسٹائل میڈیسن کی اہمیت پر زور دیا۔

    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمٰن نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک مریض غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث نقصان اٹھاتا ہے، جبکہ برطانیہ نے مریضوں کے تحفظ کے بہتر نظام کے ذریعے سالانہ تقریباً 22 ہزار جانیں بچانے میں کامیابی حاصل کی۔

    شالامار میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر زاہد بشیر نے کہا کہ امراضِ قلب سمیت ان شعبوں میں جہاں لاکھوں پاکستانی علاج کرواتے ہیں، محفوظ طبی سہولیات کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

    چلڈرن یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود صادق نے کہا کہ پاکستان میں اکثریتی آبادی سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرتی ہے، اس لیے سرکاری صحت کے اداروں کو مریضوں کے تحفظ اور علاج کے معیار بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

    کانفرنس میں ادویاتی تحفظ، انفیکشن کنٹرول، نرسنگ سیفٹی، ڈیجیٹل ہیلتھ، اسپتالوں کی ایکریڈیٹیشن اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مریضوں کے تحفظ کو بہتر بنانے سے متعلق ورکشاپس، پینل مباحثے، پوسٹر پریزنٹیشنز اور تکنیکی سیشنز بھی منعقد کیے گئے-

  • جروار شہر میں ZONG انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند، ہزاروں صارفین شدید متاثر

    جروار شہر میں ZONG انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند، ہزاروں صارفین شدید متاثر

    گہوٹکی باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری
    ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے نواحی علاقے جروار شہر میں ZONG کی انٹرنیٹ سروس کی مسلسل بندش اور شدید خرابی نے صورتحال کو انتہائی سنگین اور تشویشناک بنا دیا ہے۔ نیٹ ورک کی مکمل ناکامی کے باعث ہزاروں صارفین شدید مشکلات، ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا شکار ہیں تفصیلات کے مطابق گزشتہ کئی روز سے جروار شہر اور گردونواح میں ZONG نیٹ ورک یا تو مکمل طور پر بند ہے یا انتہائی ناقابلِ استعمال سست رفتاری کا شکار ہے۔ بار بار کی بندش اور مسلسل خرابی نے انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنا دیا ہے، جس کے باعث صارفین کے ہزاروں روپے مالیت کے ڈیٹا پیکیجز ضائع ہو رہے ہیں۔اس بدترین صورتحال نے پورے علاقے کا نظام زندگی بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ کاروباری طبقہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، آن لائن تجارت اور ڈیجیٹل لین دین رک جانے سے تاجروں اور دکانداروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر کمائی کرنے والے چھوٹے کاروباری افراد بھی شدید بحران میں مبتلا ہیں۔اسی طرح طلبہ آن لائن تعلیم اور تعلیمی سرگرمیوں سے محروم ہو چکے ہیں، جس کے باعث ان کا تعلیمی نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ فری لانسرز، سوشل میڈیا ورکرز اور آن لائن روزگار سے وابستہ افراد کی آمدن مکمل طور پر بند ہو گئی ہے، جبکہ عام شہری بھی رابطہ نظام اور ضروری امور میں سخت مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مہنگے انٹرنیٹ پیکیجز خریدنے کے باوجود سروس نہ ملنا کھلی ناانصافی اور سنگین غفلت ہے۔ عوام میں شدید غم و غصہ اور بے چینی پائی جا رہی ہے، جبکہ صورتحال کسی بھی وقت بڑے عوامی ردعمل میں تبدیل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔شہریوں اور متاثرہ طبقوں نے سخت اور دوٹوک الفاظ میں مطالبہ کیا ہے کہ ZONG انتظامیہ فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر نوٹس لے، جروار شہر سمیت تمام متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بلا تاخیر بحال کرے اور اس بحران کا مستقل حل یقینی بنائے۔ عوام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اور مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی مکمل ذمہ داری متعلقہ کمپنی اور متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

  • شاہراہ بھٹو کا جلد افتتاح ہوگا، کراچی میں بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے: شرجیل میمن

    شاہراہ بھٹو کا جلد افتتاح ہوگا، کراچی میں بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے: شرجیل میمن

    ‎سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ شاہراہ بھٹو کا جلد افتتاح کیا جائے گا جبکہ کراچی میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
    ‎ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر شہریوں کیلئے سب سے بڑا مسئلہ مکس ٹریفک ہے، تاہم بی آر ٹی منصوبہ اب دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور ٹریفک مسائل کے حل کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں کئی میگا پروجیکٹس پر کام جاری ہے، جن میں جدید اسپتال، یونیورسٹیاں، اسپورٹس گراؤنڈز، سڑکیں اور دیگر ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
    ‎شرجیل میمن کے مطابق سندھ حکومت عوام کی سہولت اور فائدے کیلئے یہ منصوبے مکمل کر رہی ہے، اگرچہ تعمیراتی کاموں کے دوران شہریوں کو وقتی مشکلات اور پریشانی کا سامنا ضرور کرنا پڑ رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی پوری ٹیم مختلف منصوبوں کا دورہ کر رہی ہے، جبکہ کراچی میونسپل کارپوریشن اور دیگر محکمے بھی ترقیاتی کاموں میں مصروف ہیں۔
    ‎منشیات کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر وزیر سندھ نے کہا کہ منشیات ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے اور حکومت سندھ صوبے سے اس ناسور کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ انمول عرف پنکی سے منشیات خریدنے والوں کی پگڑیاں اچھالنا مقصد نہیں، بلکہ اصل ہدف پورے منشیات نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے۔
    ‎شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ منشیات فروش نیٹ ورکس کے خاتمے کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ نوجوان نسل کو اس تباہ کن لعنت سے بچایا جا سکے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے شہری انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے اہم سمجھے جا رہے ہیں، تاہم ٹریفک اور تعمیراتی مسائل عوام کیلئے بدستور ایک بڑا چیلنج ہیں۔

  • BISP سینٹر میرپور ماتھیلو میں مبینہ کرپشن، رشوت اور بدانتظامی کے سنگین الزامات ، عوام کا شدید احتجاج

    BISP سینٹر میرپور ماتھیلو میں مبینہ کرپشن، رشوت اور بدانتظامی کے سنگین الزامات ، عوام کا شدید احتجاج

    تحصیل میرپور ماتھیلو میں Benazir Income Support Programme (BISP) سینٹر سے متعلق سنگین شکایات سامنے آئی ہیں۔مقامی شہریوں اور متاثرہ خواتین کے مطابق سینٹر میں مبینہ بدعنوانی، رشوت خوری، بدانتظامی اور سہولیات کی شدید کمی پائی جا رہی ہے۔ خواتین نے الزام لگایا ہے کہ انہیں گھنٹوں انتظار کروایا جاتا ہے، بار بار چکر لگوائے جاتے ہیں اور بعض افراد سے 2 ہزار سے 5 ہزار روپے تک رشوت طلب کی جاتی ہے۔مزید شکایات کے مطابق سینٹر میں نہ مناسب بیٹھنے کی جگہ ہے، نہ پینے کا صاف پانی اور نہ ہی کولنگ کا کوئی انتظام موجود ہے، جس سے خواتین، بچے اور بزرگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اعلیٰ سطحی انکوائری کی جائے، ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور سینٹر میں شفاف اور باعزت نظام یقینی بنایا جائے۔

  • ‎باکو میں مریم نواز کا شاندار سفارتی استقبال، آذربائیجان سے تعلقات مزید مضبوط کرنے پر اتفاق

    ‎باکو میں مریم نواز کا شاندار سفارتی استقبال، آذربائیجان سے تعلقات مزید مضبوط کرنے پر اتفاق

    ‎وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا آذربائیجان کے دارالحکومت باکو پہنچنے پر شاندار سفارتی استقبال کیا گیا، جہاں انہوں نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف سے اہم ملاقات کی۔
    ‎ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان برادرانہ تعلقات اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
    ‎دونوں اطراف کے درمیان سیاسی، اقتصادی، سفارتی، دفاعی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر بھی گفتگو ہوئی۔
    ‎مریم نواز شریف نے صدر الہام علیئیف کو سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں اور سلام کا پیغام پہنچایا، جس پر آذربائیجان کے صدر نے شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنا سلام بھی پاکستانی قیادت تک پہنچانے کی درخواست کی۔
    ‎صدر الہام علیئیف نے اس موقع پر اپنے والد اور آذربائیجان کے قومی رہنما حیدر علیئیف اور نواز شریف کے درمیان دوستانہ تعلقات کو بھی یاد کیا۔
    ‎وزیراعلیٰ پنجاب نے اقوام متحدہ کے ورلڈ اربن فورم کے 13ویں اجلاس میں شرکت کی دعوت پر آذربائیجان کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور فورم کے شاندار انتظامات کو سراہا۔
    ‎مریم نواز شریف نے کہا کہ باکو ثقافت، تاریخ اور جدید شہری منصوبہ بندی کا حسین امتزاج ہے، جس نے ان پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔
    ‎ملاقات کے دوران حالیہ ایران امریکا کشیدگی کے بعد خطے میں امن کیلئے پاکستان کے کردار کو بھی سراہا گیا، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی سفارتی کوششوں کو علاقائی استحکام کیلئے اہم قرار دیا گیا۔
    ‎اس موقع پر آذربائیجان کے “آسان خدمت” ماڈل کی طرز پر پاکستان میں جدید سہولت مراکز کے قیام سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔
    ‎مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں توازن برقرار رکھنے کیلئے نہایت اہم اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے، جبکہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہونے کے باعث عالمی سطح پر بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران امریکا کشیدگی میں امن، تدبر اور مذاکرات کی حمایت کر کے ایک ذمہ دار ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔
    ‎صدر الہام علیئیف نے بھی پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی تعاون کو خطے کیلئے مثبت پیش رفت قرار دیا۔