روس نے ایران پر دوبارہ ممکنہ حملوں کی خبروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسا اقدام اس بات کا ثبوت ہوگا کہ امریکا اور اسرائیل نے ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھا۔
ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں کیلئے روس کے مستقل مندوب میخائل اولیانوف نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران پر دوبارہ حملے خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ عسکری کارروائی کی جانب جاتے ہیں تو یہ ماضی کی ناکام پالیسیوں اور غلط فیصلوں کا اعادہ ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران کے خلاف دوبارہ ممکنہ حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
میخائل اولیانوف نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے اس مؤقف کی بھی مکمل حمایت کی جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے مکمل جنگ بندی پر زور دیا گیا تھا۔
روسی مندوب کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کا واحد حل سفارتکاری، مذاکرات اور فوری جنگ بندی ہے، نہ کہ مزید عسکری کارروائیاں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور چین مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی عالمی امن اور معیشت کیلئے خطرہ بن سکتی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستے کی صورتحال کے باعث۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع ہوئیں تو عالمی تیل منڈی، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب عالمی برادری بھی ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے تناؤ پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دے رہی ہے۔
ایران پر دوبارہ حملے ماضی کی غلطیوں کا اعادہ ہوں گے، روس
