Baaghi TV

Blog

  • ایران کو نظر انداز کر کے اسرائیل کی حمایت، بھارت نے سفارتی خودمختاری قربان کردی: سونیا گاندھی

    ایران کو نظر انداز کر کے اسرائیل کی حمایت، بھارت نے سفارتی خودمختاری قربان کردی: سونیا گاندھی

    ‎بھارتی کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ایران جیسے پرانے اتحادی کو نظر انداز کرکے اسرائیل کی حمایت کرنا بھارت کی سفارتی خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
    ‎بھارتی جریدے میں شائع اپنے مضمون میں سونیا گاندھی نے لکھا کہ موجودہ بھارتی حکومت نے خارجہ پالیسی میں توازن برقرار رکھنے کے بجائے ایک فریق کی کھلی حمایت کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں ملک کی خودمختار سفارتی شناخت متاثر ہوئی۔
    ‎انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت ماضی میں اسرائیل اور ایران کے درمیان نہایت محتاط توازن قائم رکھتا آیا ہے، تاہم ان کے بقول وزیر اعظم نریندر مودی نے اس روایت کو سیاسی مقاصد کی خاطر پس پشت ڈال دیا ہے۔
    ‎سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ اس طرز عمل سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور حکومت کا رویہ اسے مخصوص مفادات کے تابع دکھا رہا ہے۔ ان کے مطابق جس پالیسی کو سفارت کاری قرار دیا جا رہا ہے وہ درحقیقت حساس مواقع پر ذمہ داری سے کنارہ کشی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ یہ رویہ اخلاقی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے اور عالمی فورمز پر بھارت کی پوزیشن کو کمزور بنا سکتا ہے۔
    ‎سونیا گاندھی کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل پر بھارت کا نرم ردعمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی دہلی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے سے پیچھے ہٹ چکی ہے۔

  • ایرانی حملوں کے بعد کرسٹیانو رونالڈو ریاض سے میڈرڈ روانہ

    ایرانی حملوں کے بعد کرسٹیانو رونالڈو ریاض سے میڈرڈ روانہ

    ‎ایرانی حملوں کے بعد اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نجی طیارے کے ذریعے ریاض سے میڈرڈ روانہ ہوگئے۔
    ‎برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق رونالڈو کا طیارہ رات تقریباً آٹھ بجے ریاض سے اڑا اور لگ بھگ ایک بجے میڈرڈ پہنچا۔ فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹس کے مطابق پرواز نے مصر اور بحیرہ روم کے اوپر سے راستہ اختیار کیا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نجی طیارے کی مالیت تقریباً 61 ملین پاؤنڈ ہے۔ رونالڈو اس وقت ریاض میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔
    ‎اخبار کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کا خاندان بھی اسی پرواز میں موجود تھا یا نہیں۔

  • سعودی عرب اور قطر میں مبینہ موساد ایجنٹس کی گرفتاری کا دعویٰ، ٹکر کارلسن کا بڑا بیان

    سعودی عرب اور قطر میں مبینہ موساد ایجنٹس کی گرفتاری کا دعویٰ، ٹکر کارلسن کا بڑا بیان

    امریکا کے قدامت پسند تجزیہ کار اور معروف ایکٹیوسٹ ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ قطر اور سعودی عرب میں حکام نے مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد سے تعلق رکھنے والے افراد کو گرفتار کیا ہے۔
    ٹکر کارلسن کے مطابق یہ گرفتاریاں گزشتہ رات عمل میں آئیں اور زیر حراست افراد دونوں ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان مبینہ ایجنٹس کی سرگرمیوں کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔
    ‎کارلسن نے مزید الزام عائد کیا کہ اسرائیل صرف ایران ہی نہیں بلکہ قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین، عمان اور کویت کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیابی حاصل کر چکا ہے۔
    ‎تاہم ان دعوؤں پر متعلقہ ممالک یا اسرائیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ‎پاکستانی فضائی حدود مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہے، پی اے اے کی وضاحت

    ‎پاکستانی فضائی حدود مکمل طور پر کھلی اور محفوظ ہے، پی اے اے کی وضاحت

    پاکستان ائیر پورٹ اتھارٹی نے حالیہ نوٹم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود جزوی طور پر بند نہیں کی گئی۔
    ادارے کے مطابق کچھ میڈیا اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ کمرشل پروازوں کے لیے فضائی حدود محدود کر دی گئی ہے، جو درست نہیں۔ جاری کردہ نوٹم A0134/26 ایک معمول کی ایڈوائزری ہے جس میں کراچی اور لاہور ایف آئی آر کے چند مخصوص اے ٹی ایس روٹس کی عارضی عدم دستیابی سے آگاہ کیا گیا ہے۔
    ‎پی اے اے کے مطابق یہ عارضی انتظام 3 سے 31 مارچ تک روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے تک نافذ رہے گا اور اس کا مقصد آپریشنل امور کو منظم رکھنا ہے۔ اس دوران متبادل فضائی راستے دستیاب ہیں جو معمول کے مطابق استعمال کیے جا رہے ہیں۔
    ‎ادارے نے مزید واضح کیا کہ کمرشل پروازوں، آمد و رفت یا اوور فلائٹس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرول اور ایئرپورٹ ٹیمیں مکمل طور پر فعال ہیں اور فضائی ٹریفک کو معمول کے مطابق سنبھال رہی ہیں۔

  • ایران کے پاس موجود یورینیم سے 11 ایٹم بم بن سکتے ہیں، اسٹیو وٹکوف

    ایران کے پاس موجود یورینیم سے 11 ایٹم بم بن سکتے ہیں، اسٹیو وٹکوف

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم سے 11 ایٹم بم تیار کیے جا سکتے ہیں۔
    امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وٹکوف نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایرانی حکام نے بتایا کہ ان کے پاس 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا تقریباً 460 کلوگرام یورینیم موجود ہے۔ ان کے مطابق اگر اس مواد کو ایک ماہ کے اندر 90 فیصد تک افزودہ کیا جائے تو اس سے 11 ایٹم بم تیار ہو سکتے ہیں۔
    ‎وٹکوف کا کہنا تھا کہ یہی وہ تشویش ہے جس کے باعث امریکا ایران کے جوہری پروگرام کو خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب ایران مسلسل مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

  • پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک، ایران کے معاملے پر ہر فورم پر آواز اٹھائی: اسحاق ڈار

    پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئے متحرک، ایران کے معاملے پر ہر فورم پر آواز اٹھائی: اسحاق ڈار

    ‎سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے مسلسل سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور ایران کے معاملے پر ہر عالمی فورم پر مؤقف پیش کیا گیا۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ ان کا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطہ رہا، جبکہ سعودی وزیر خارجہ سے بھی متعدد بار بات چیت ہوئی۔ وہ جدہ میں ہونے والے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس میں شریک ہوئے جہاں خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اسحاق ڈار نے کہا کہ 12 جون کو ان کی اور فیلڈ مارشل کی عباس عراقچی سے ملاقات ہوئی جس میں علاقائی کشیدگی پر گفتگو کی گئی۔ ان کے مطابق پاکستان کو امید تھی کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا کیونکہ تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ امریکی سینیٹر مارکو روبیو کے سامنے بھی ایران کا معاملہ اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا اور پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ پرامن جوہری توانائی کا استعمال ایران کا حق ہے۔
    ‎نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دل و جان سے ایران کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے برادر ملک سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے امریکی اڈوں پر حملے کا ارادہ ظاہر کیا تھا، تاہم پاکستان نے ایران پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی اور سفارتی سطح پر پسِ پردہ کوششیں جاری رکھیں۔
    ‎اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم نے 14 جون 2025 کو ایرانی قیادت سے رابطہ کیا، جبکہ ایران پر پابندیاں ختم کرنے سے متعلق قرارداد چین اور روس کے ساتھ مل کر پیش کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے بھی پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کے ساتھ مل کر ایران سے اظہار یکجہتی کیا گیا اور پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے بھی تیار تھا۔ یورپی یونین سمیت 13 ممالک کی قیادت سے بھی رابطے کیے گئے۔
    ‎سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کا پابند ہے اور ایران کو بھی اس سے آگاہ کیا گیا۔ ان کے مطابق بعض معاملات پر ایران نے ضمانت طلب کی جو پاکستان نے فراہم کی۔
    ‎آخر میں انہوں نے کہا کہ اس حساس معاملے کو ملک کے اندر سیاسی رنگ دینا مناسب نہیں اور اپوزیشن سمیت تمام پارلیمانی رہنماؤں کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی تاکہ قومی مفاد کو مقدم رکھا جا سکے۔

  • اسرائیلی فوج کی لبنان میں زمینی کارروائی، سرحد عبور کرلی

    اسرائیلی فوج کی لبنان میں زمینی کارروائی، سرحد عبور کرلی

    ‎اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے متعدد مقامات پر سرحد عبور کر لی ہے۔
    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوجی دستے مختلف علاقوں سے لبنانی حدود میں داخل ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران کئی سرحدی مقامات پر پیش قدمی کی گئی۔
    اطلاعات کے مطابق لبنانی فوج نے سرحد پر قائم سات چوکیاں خالی کر کے پسپائی اختیار کی۔ تاہم اس پیش رفت پر لبنانی حکام کی جانب سے باضابطہ تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئیں۔
    ‎خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال نہایت حساس ہو چکی ہے اور عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

  • ایران  کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ کیا ہے۔
    یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بحری ایندھن کا مرکز ہے جو بحری جہازوں کو ہرمز کے آبنائے کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اہم تجارتی مرکز فجیرہ بندرگاہ نے حملے کے بعد اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔یاد رہے کہ فجیرہ پورٹ کو اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ یہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر، بحیرۂ عمان کے راستے، محدود پیمانے پر تیل کی فروخت اور ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران اب براہ راست دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ،اسرائیل اور ایران کشیدگی کے چوتھے روز خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی ایک بڑی آئل ریفائنری اور قطر میں امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی ڈرونز نے Fujairah کے آئل زون کو نشانہ بنایا، جو مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا آئل ٹریڈنگ ہب تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔اماراتی حکام کے مطابق آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تیل کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے عمل کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ فجیرہ خطے میں ریفائنڈ آئل مصنوعات کے سب سے بڑے کمرشل ذخائر موجود ہیں، اس لیے اس حملے کو عالمی تیل منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں واقع Al Udeid Air Base کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس اڈے پر بھی حملے کیے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر بھی دو ایرانی ڈرونز ٹکرانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بلا جواز اور بزدلانہ اقدام” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان میں نئی پوزیشنز سنبھالنے کے لیے زمینی پیش قدمی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہے۔اس سے قبل اسرائیل نے تہران میں ایرانی صدارتی دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

    فرانس نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جبکہ قبرص کے دفاع کے لیے بحری جہاز بھی روانہ کیے گئے ہیں، جہاں ایک برطانوی فضائی اڈے کو حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ایرانی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو تہران آبنائے ہرمز میں "ہر جہاز کو جلا دے گا”۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

  • ایران میں  33 ہزار پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں، اسحاق ڈار

    ایران میں 33 ہزار پاکستانی پھنسے ہوئے ہیں، اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہونے سے پاکستان سمیت متعدد ممالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں-

    میڈیا بریفنگ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ابوظبی میں میزائل گرنے سے ایک پاکستانی شہید ہوا، عراق میں 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے، قطر میں ساڑھے3 لاکھ پاکستانی موجود ہیں جبکہ وزٹ ویزے پر 1450 افراد آئے ہوئے ہیں، ایران میں اس وقت بھی 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں، 300 کے قریب ایرانی شہری بھی پاکستان آئے ہیں، 792 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں، ایران سے 64 پاکستانی آذر بائیجان پہنچے ہیں۔

    افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہیں، پاکستان سمیت متعدد مالک کے مسافر پھنسے ہوئے ہیں، خلیجی ممالک کے زمینی راستے کھلے ہیں، عمان اور سعودی عرب کے سوا تمام فضائی راستے بند ہیں زمین راستے تو کھلے میں مگر ان میں سفر کرنے میں وقت بہت صرف ہوتا ہے، پاکستانیوں کے انخلا میں معاونت پر آذر بائیجان حکومت کے شکر گزار ہیں، باکو سے پروازیں آپریشن ہیں جہاں سے پاکستانیوں نے انخلا کیا، سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے، نتیجہ سب کے سامنے ہے ایران نے سب سے کم حملے سعودیہ اور عمان میں کیے ہیں۔

    پی ایس ایل 11:افتتاحی تقریب اور افتتاحی میچ کی تفصیلات جاری

  • افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    دہشتگرد وسیم عرف بلال، جو 2008 میں ننگرہار میں پیدا ہوا، نے 2023 میں قرآن حفظ کیا۔ یہ ایک عظیم کامیابی تھی جو اسے امن اور انسانیت کی خدمت کی طرف لے جا سکتی تھی، مگر اسے جلال آباد کے ایک مدرسے میں تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے گروہ جماعت الاحرار سے وابستہ دہشتگردوں نے اپنے جال میں پھنسا لیا۔

    اسے 9 مئی 2024 کو اپنے مشن سے پہلے گرفتار کر لیا گیا۔دہشتگرد وسیم نے شونکرے، کنڑ میں دہشتگرد کمانڈروں احمد اور مفتی صدیق کے زیر نگرانی تربیت حاصل کی، جہاں 20 سے 25 بھرتی افراد اور تقریباً 100 خودکش بمبار موجود تھے۔ یہ پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا واضح ثبوت ہے، جس کی نشاندہی پاکستان عالمی سطح پر بارہا کرتا رہا ہے اور جس کی تصدیق حالیہ 37ویں اقوام متحدہ مانیٹرنگ رپورٹ سمیت دیگر رپورٹس میں بھی ہوئی۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشتگرد وسیم کو پشاور کے حاجی کیمپ بس اسٹینڈ پر گرفتار کیا، جو دہشتگردی کی روک تھام میں پاکستان کی چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔

    دہشتگرد گروہ جیسے فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ مسلمانوں سمیت معصوم شہریوں، خواتین، بچوں، بزرگوں اور زخمیوں کو قتل کرتے اور ان کے روزگار تباہ کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ پاکستانی قوم اور تمام مکاتب فکر کے 1,800 علماء کے متفقہ فیصلے کے مطابق مسترد ہے، جنہوں نے خوارج کے جہادی نظریے کو حرام قرار دیا۔ خوارج انسانیت اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے ادارے ریاست اور حقیقی اسلام کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔دہشتگرد وسیم کابل سے اسمگلروں اور ہینڈلرز جیسے کمانڈر سربکف کے ساتھ پاکستان آیا۔ اس کی تعیناتی کے صرف پانچ دن کے اندر گرفتاری پاکستان کی اعلیٰ سطح کی چوکسی کو ظاہر کرتی ہے اور واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں تشدد کے ارادے سے داخل ہونے والا ہر شخص گرفتار اور سزا کا مستحق ہوگا۔