Baaghi TV

Blog

  • ‎حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 5 روپے فی لیٹر سستا کر دیا

    ‎حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل 5 روپے فی لیٹر سستا کر دیا

    ‎حکومت نے عوام کو جزوی ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں 5 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
    ‎نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے کمی کے بعد نئی قیمت 409 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت بھی 5 روپے کم ہونے کے بعد 409 روپے 58 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا تھا، جس کے تحت پیٹرول 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر مہنگا کیا گیا تھا اور نئی قیمت 414 روپے 78 پیسے مقرر کی گئی تھی۔
    ‎اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد ڈیزل 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گیا تھا۔
    ‎حالیہ کمی کے باوجود ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں، جس کے باعث ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر چیزوں کی قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔
    ‎معاشی ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہے۔
    ‎شہریوں کا کہنا ہے کہ 5 روپے کمی اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن حالیہ بڑے اضافوں کے مقابلے میں یہ ریلیف ناکافی محسوس ہو رہا ہے۔

  • اسرائیل غزہ کے 60 فیصد علاقے پر قابض: بنیامین نیتن یاہو

    اسرائیل غزہ کے 60 فیصد علاقے پر قابض: بنیامین نیتن یاہو

    ‎اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اب غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں، جس سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نیتن یاہو کا یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی منصوبے میں طے شدہ حدود سے آگے بڑھتے ہوئے غزہ کے مزید علاقوں پر قبضہ کر رہی ہے۔
    ‎یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر شدید حملے اور خونریزی جاری ہے، جبکہ جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور مستقل امن کے لیے جاری سفارتی کوششیں تعطل کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔
    ‎ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ “گزشتہ دو برسوں میں ہم نے دنیا کو دکھایا کہ ہماری قوم، ریاست، فوج اور ورثے میں کتنی طاقت موجود ہے۔”
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ “ہم اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لے آئے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ غزہ سے نکل جاؤ، لیکن ہم نہیں نکلے۔ آج ہم 60 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتے ہیں۔”
    ‎رپورٹس کے مطابق اکتوبر سے امریکی ثالثی میں جاری جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج کو غزہ میں ایک مخصوص “ییلو لائن” تک محدود رہنا تھا، جس کے تحت اسرائیل تقریباً 50 فیصد سے کچھ زیادہ علاقے پر کنٹرول رکھتا تھا۔
    ‎تاہم نیتن یاہو کا حالیہ بیان اس بات کا پہلا سرکاری اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ اسرائیلی فوج اب اپنے کنٹرول کا دائرہ مزید وسیع کر رہی ہے۔
    ‎بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں حالیہ ہفتوں کے دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں ایک نئی “اورنج لائن” تک پیش قدمی کر رہی ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق اس پیش رفت سے جنگ بندی کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں غزہ میں بڑھتے انسانی بحران پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

  • انمول عرف پنکی کے منشیات نیٹ ورک کا مکمل ڈیٹا تیار

    انمول عرف پنکی کے منشیات نیٹ ورک کا مکمل ڈیٹا تیار

    ‎کراچی میں مبینہ طور پر منشیات فروشی کا بڑا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں گرفتار انمول عرف پنکی کے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، جبکہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں نے ہینڈلرز، کیریئرز اور رائیڈرز کا مکمل ڈیٹا مرتب کر لیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق تیار کی گئی خصوصی ڈیٹا رپورٹ میں ملزمان کی تصاویر، کردار اور نیٹ ورک کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں منشیات کی سپلائی کے لیے 3 مرکزی ہینڈلرز اور 22 کیریئرز سرگرم تھے۔
    ‎تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ہینڈلرز سے منشیات کیریئرز تک پہنچتی تھیں اور پھر رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں موجود صارفین تک سپلائی کی جاتی تھی۔
    ‎ذرائع کے مطابق حمزہ، عباس اور عاقب کراچی میں پنکی کے مرکزی ہینڈلرز تھے، جبکہ ان افراد سے رابطہ پنکی کے بھائی شوکت کے ذریعے کیا جاتا تھا۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پنکی کے ڈرگ کارٹیل میں 3 خواتین بھی شامل تھیں، جنہیں مبینہ طور پر 70 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا تھا۔
    ‎تحقیقات کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی منشیات میں مختلف کیمیکلز ملا کر انہیں مزید تیار کیا جاتا تھا، اور یہ کام پنکی کا بھائی ناصر انجام دیتا تھا۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے 8 رائیڈرز لاہور، فیصل آباد اور وہاڑی سے کراچی آ کر منشیات کی ڈیلیوری کرتے تھے۔
    ‎حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کی جڑیں صرف کراچی تک محدود نہیں بلکہ دیگر شہروں اور بیرون ملک روابط کے شواہد بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پنکی کے نیٹ ورک میں افریقی باشندوں کے رابطوں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
    ‎تحقیقاتی اداروں کا کہنا ہے کہ منشیات سپلائی کے اس منظم نیٹ ورک کے مالی معاملات، سہولت کاروں اور دیگر ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

  • حزب اللہ کے ڈرونز سے بچاؤ کیلئے اسرائیلی فوج نے حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے

    حزب اللہ کے ڈرونز سے بچاؤ کیلئے اسرائیلی فوج نے حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے

    ‎اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرونز کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر فوجی گاڑیوں، چوکیوں اور تنصیبات پر حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے ہیں۔
    ‎اسرائیلی فوج کے مطابق یہ اقدام حالیہ مہینوں میں ڈرون حملوں کے خطرات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے تاکہ حساس فوجی مقامات اور گاڑیوں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔
    ‎فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایک لاکھ 58 ہزار مربع میٹر حفاظتی جال فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید ایک لاکھ 88 ہزار مربع میٹر جال خریدنے کا عمل جاری ہے۔
    ‎اسرائیلی فوج کے مطابق مجموعی طور پر حاصل کیے گئے حفاظتی جال کا رقبہ تقریباً 20 فٹبال میدانوں کے برابر بنتا ہے۔
    ‎فوج کی جانب سے جاری تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ جال فوجی گاڑیوں، چیک پوسٹس اور دیگر تنصیبات پر نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ FPV ڈرونز کے حملوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
    ‎دفاعی ماہرین کے مطابق FPV ڈرونز جدید جنگ میں تیزی سے اہم ہتھیار بنتے جا رہے ہیں کیونکہ یہ کم لاگت کے باوجود انتہائی مؤثر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے نے اسرائیلی فوج کو نئی دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کی سرحد پر حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے، جبکہ دونوں جانب سے ڈرونز اور راکٹ حملوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔

  • چین کا امریکا اور ایران سے مذاکرات جاری رکھنے، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

    چین کا امریکا اور ایران سے مذاکرات جاری رکھنے، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

    ‎چین نے امریکا اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھیں اور آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دوبارہ کھولا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے اور عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
    ‎الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے اپنے بیان میں کہا کہ چین کے نزدیک آبنائے ہرمز کے بحران کا مستقل حل امریکا اور ایران کے درمیان جامع اور پائیدار جنگ بندی میں پوشیدہ ہے۔
    ‎چینی نیوز ایجنسی کے مطابق وانگ ای نے کہا کہ صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حالیہ گفتگو میں واضح کیا کہ طاقت اور جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، جبکہ مذاکرات ہی واحد درست راستہ ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ اگرچہ مذاکرات فوری طور پر کامیاب نہیں ہوتے، لیکن ایک بار جب بات چیت کا دروازہ کھل جائے تو اسے دوبارہ بند نہیں ہونا چاہیے۔
    ‎چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بیجنگ مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ خطے میں استحکام کی بحالی کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
    ‎وانگ ای نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش یا کشیدگی پوری دنیا کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق چین خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سفارتی حل کو ترجیح دے رہا ہے کیونکہ خلیجی خطہ عالمی تیل سپلائی کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ چین دنیا کی بڑی معیشت ہونے کے ناطے مشرق وسطیٰ میں استحکام کا خواہاں ہے تاکہ توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستے محفوظ رہیں۔

  • ٹرمپ کے ساتھ چین جانے والے امریکی عملے نے دی گئی تمام اشیا وہیں پھینک دیں

    ٹرمپ کے ساتھ چین جانے والے امریکی عملے نے دی گئی تمام اشیا وہیں پھینک دیں

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کے دوران امریکی وفد کی جانب سے غیر معمولی سکیورٹی اقدامات سامنے آئے ہیں، جہاں واپسی سے قبل امریکی عملے نے چینی حکام کی دی گئی تمام اشیا وہیں تلف کر دیں۔
    ‎امریکی وفد کے ساتھ موجود صحافی ایملی گڈان نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ائیر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے امریکی عملے نے چینی حکام کی جانب سے دیے گئے شناختی کارڈز، عارضی برنر فونز اور دیگر سامان ایک ڈبے میں جمع کر کے پھینک دیا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق چین کی طرف سے دی گئی کسی بھی چیز کو امریکی طیارے میں لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے اس دورے کے دوران سخت سائبر سکیورٹی پروٹوکولز پر عمل کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ چینی سکیورٹی سسٹمز کے ذریعے الیکٹرانک جاسوسی کی جا سکتی ہے۔
    ‎امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وفد کے کئی اراکین اپنے ذاتی موبائل فونز اور لیپ ٹاپس ساتھ لے کر ہی نہیں گئے تاکہ کسی بھی ممکنہ ہیکنگ یا نگرانی کے خطرے سے بچا جا سکے۔
    ‎رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ چینی ٹیکنالوجی یا نیٹ ورکس کے ذریعے ذاتی ڈیوائسز کا ڈیٹا حاصل کیا جا سکتا ہے، اسی لیے دورے کے دوران خصوصی برنر فونز استعمال کیے گئے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور سائبر سکیورٹی خدشات کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں عدم اعتماد مسلسل بڑھ رہا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتوں کے اعلیٰ سطحی دوروں کے دوران اس نوعیت کے سکیورٹی اقدامات غیر معمولی ضرور ہیں، لیکن موجودہ عالمی حالات میں حساس معلومات کے تحفظ کو انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

  • امریکا کی جانب سے روکے گئے جہازوں سے 11 پاکستانیوں کی واپسی ممکن بنا دی گئی، اسحاق ڈار

    امریکا کی جانب سے روکے گئے جہازوں سے 11 پاکستانیوں کی واپسی ممکن بنا دی گئی، اسحاق ڈار

    ‎نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے روکے گئے بحری جہازوں سے 11 پاکستانیوں اور 20 ایرانی شہریوں کی بحفاظت واپسی ممکن بنا لی گئی ہے۔
    ‎اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ تمام افراد خیریت سے ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حفاظت اور فلاح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
    ‎وزیر خارجہ کے مطابق تمام پاکستانی اور ایرانی شہری سنگاپور سے بینکاک پہنچ چکے ہیں اور پاکستانی شہری اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جبکہ ایرانی شہریوں کی وطن واپسی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
    ‎اسحاق ڈار نے اس کامیاب آپریشن میں تعاون پر سنگاپور، ایران، امریکا اور تھائی لینڈ کی حکومتوں کا شکریہ ادا کیا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ، وزارت داخلہ اور متعلقہ سفارتی مشنز کی بروقت اور مؤثر کوششوں کے باعث یہ کامیاب آپریشن ممکن ہوا۔
    ‎نائب وزیراعظم نے خصوصی طور پر سنگاپور کے وزیر خارجہ ووِوین بالا اور وہاں کی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مدد کے بغیر یہ عمل اتنی تیزی سے مکمل نہیں ہو سکتا تھا۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے اور سفارتی تعاون کے نتیجے میں مجموعی طور پر 31 پاکستانی اور ایرانی شہریوں کی رہائی اور واپسی ممکن بنائی گئی۔
    ‎اسحاق ڈار نے تھائی لینڈ حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا جس نے بینکاک میں ٹرانزٹ سہولیات فراہم کیں تاکہ متاثرہ شہریوں کی محفوظ منتقلی ممکن ہو سکے۔

  • گوگل 15 جی بی مفت اسٹوریج ختم کرنے کی آزمائش میں مصروف

    گوگل 15 جی بی مفت اسٹوریج ختم کرنے کی آزمائش میں مصروف

    ‎گوگل کی جانب سے نئی جی میل اور گوگل اکاؤنٹس کے لیے مفت کلاؤڈ اسٹوریج میں بڑی تبدیلی کی آزمائش کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس سے صارفین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
    ‎اینڈرائیڈ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت ہر نئے گوگل اکاؤنٹ کے ساتھ 15 جی بی مفت کلاؤڈ اسٹوریج دی جاتی ہے، جسے صارفین جی میل، گوگل فوٹوز اور گوگل ڈرائیو سمیت مختلف سروسز کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
    ‎یہ اسٹوریج عام صارفین کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے، تاہم نئی رپورٹس کے مطابق گوگل اب اس سہولت کو محدود کرنے پر غور کر رہا ہے۔
    ‎رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل بعض صارفین کے لیے صرف 5 جی بی مفت اسٹوریج دینے کی آزمائش کر رہا ہے۔
    ‎البتہ جن صارفین کی جانب سے اکاؤنٹ کے ساتھ فون نمبر منسلک کیا جائے گا، انہیں دوبارہ 15 جی بی مفت اسٹوریج فراہم کی جا سکتی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ایک اسکرین شاٹ بھی سامنے آیا ہے جس میں نئی اسٹوریج پالیسی کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔
    ‎اگرچہ گوگل کے آفیشل سپورٹ پیج پر اب بھی 15 جی بی مفت اسٹوریج کا ذکر موجود ہے، تاہم کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ نئی پالیسی کی محدود پیمانے پر آزمائش جاری ہے۔
    ‎گوگل کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی نئے اکاؤنٹس کے لیے مختلف اسٹوریج آپشنز کی جانچ کر رہی ہے تاکہ اکاؤنٹ سکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے اور ڈیٹا ریکوری کے عمل کو مزید محفوظ بنایا جا سکے۔
    ‎کمپنی کے مطابق فی الحال یہ آزمائش صرف چند مخصوص خطوں میں کی جا رہی ہے اور ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
    ‎ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گوگل نے مستقبل میں مفت اسٹوریج کم کر دی تو صارفین کو اضافی اسٹوریج خریدنے یا متبادل کلاؤڈ سروسز استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

  • جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے حملے میں اسرائیلی فوجی ہلاک

    جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے حملے میں اسرائیلی فوجی ہلاک

    ‎اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مارٹر حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
    ‎فوجی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت اسٹاف سارجنٹ نیگیو ڈیگن کے نام سے ہوئی ہے، جو اسرائیلی فوج کی گولانی بریگیڈ کی 12ویں بٹالین سے تعلق رکھتا تھا۔
    ‎اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیگیو ڈیگن جمعرات کی رات تقریباً 10 بجے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے داغے گئے مارٹر گولے کا نشانہ بنا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
    ‎رپورٹس کے مطابق 2 مارچ سے جاری سرحدی کشیدگی کے دوران حزب اللہ کے حملوں میں ہلاک ہونے والا یہ 19واں اسرائیلی فوجی ہے۔
    ‎دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل کی سرحد پر گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل جھڑپیں جاری ہیں، جہاں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان راکٹ، مارٹر اور ڈرون حملوں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق غزہ جنگ کے بعد خطے میں کشیدگی کئی محاذوں تک پھیل چکی ہے اور لبنان کی سرحد اب ایک حساس عسکری محاذ بنتی جا رہی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے مسلسل حملے اسرائیلی فوج کیلئے بڑا چیلنج بن رہے ہیں، جبکہ اسرائیل بھی جنوبی لبنان میں جوابی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

  • آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط، بجلی اور گیس مزید مہنگی ہونے کا امکان

    آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط، بجلی اور گیس مزید مہنگی ہونے کا امکان

    ‎بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قرض پروگرام کی اگلی قسط جاری کرنے کے لیے پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کر دی ہیں، جن میں نیب قوانین میں ترامیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مزید معاشی اصلاحات شامل ہیں۔
    ‎آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس شامل ہونے کے بعد موجودہ قرض پروگرام کے تحت مجموعی شرائط کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قرض پروگرام جاری رکھنے کے لیے گیس ٹیرف میں ہر چھ ماہ بعد ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوگا جبکہ سالانہ بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی لازمی ہوگی، جس سے عوام پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎آئی ایم ایف نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کو بھی لازمی قرار دیا ہے تاکہ ادارے کی خودمختاری اور شفافیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ انتظامیہ کی تقرری کے لیے میرٹ، شفافیت اور مسابقت پر مبنی طریقہ کار متعارف کرانا ہوگا۔
    ‎رپورٹ میں اگرچہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود پاکستان نے اپنے معاشی اہداف حاصل کیے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
    ‎آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت سخت اقدامات کے باعث مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔
    ‎تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان میں مہنگائی کو مزید بڑھایا۔
    ‎آئی ایم ایف کے مطابق کاروباری اور پیداواری شعبے میں ترقی کے لیے مسابقت کو فروغ دینا ضروری ہوگا تاکہ پاکستان طویل المدتی معاشی ترقی حاصل کر سکے۔
    ‎رپورٹ میں مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
    ‎آئی ایم ایف نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، بشرطیکہ حکومت معاشی اصلاحات اور مقررہ شرائط پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے۔