Baaghi TV

Blog

  • عراق میں تین روزہ سوگ کا اعلان، بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مظاہرین کا دھاوا

    عراق میں تین روزہ سوگ کا اعلان، بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مظاہرین کا دھاوا

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد عراق میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور حکام کی جانب سے ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر نجف اور کربلا میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے جہاں زندگی کے معمولات معطل رہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان شہروں میں سوگ کی فضا ہے اور سپریم لیڈر کی یاد میں مختلف مقامات پر تعزیتی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔
    ادھر دارالحکومت بغداد میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں مشتعل مظاہرین نے امریکی سفارتخانے کا رخ کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین کی بڑی تعداد بلڈوزر لے کر امریکی سفارتخانے پہنچی تاکہ عمارت کو مسمار کیا جا سکے۔ مشتعل ہجوم کو روکنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور حالات قابو پانے کی کوشش کی، جس کے باعث علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

  • آبنائے ہرمز : ایرانی سرکاری ٹی وی کا آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے اور اس کے ڈوبنے کا دعویٰ

    آبنائے ہرمز : ایرانی سرکاری ٹی وی کا آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے اور اس کے ڈوبنے کا دعویٰ

    ‎ایران کے سرکاری ٹیلی وژن نے ایک ہنگامی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے غیر قانونی طور پر گزرنے کی کوشش کرنے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے بعد وہ پانی میں ڈوب رہا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ ٹینکر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس حساس آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جسے ایرانی حکام نے اپنی حدود کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹینکر پر حملے کے بعد اسے شدید نقصان پہنچا ہے اور وہ اب مکمل طور پر غرقابی کے عمل سے گزر رہا ہے۔
    آبنائے ہرمز، جو کہ عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم اور حساس راستہ مانا جاتا ہے، اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے عالمی منڈیوں میں تیل کی سپلائی لائنوں پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید فوجی کشیدگی اور ایران کے مختلف مقامات پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ تہران کی جانب سے اس کارروائی کو اپنی آبی حدود اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ایک ٹھوس جواب قرار دیا جا رہا ہے، جس نے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کی حفاظت اور بین الاقوامی تجارت کے لیے نئے سیکیورٹی خدشات کو جنم دیا ہے۔

  • تہران میں اسرائیل کا بڑا فضائی حملہ، پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر ‘تھراللہ’ اور اہم تنصیبات تباہ

    تہران میں اسرائیل کا بڑا فضائی حملہ، پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر ‘تھراللہ’ اور اہم تنصیبات تباہ

    تہران میں اتوار کے روز اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے شدید فضائی حملوں میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کا مرکزی ہیڈکوارٹر ‘تھراللہ’ تباہ ہو گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق، ان حملوں کا دائرہ کار وسیع تھا جس میں تہران کے فوجی ہسپتال اور بسیج ملیشیا کے متعدد اڈے بھی نشانہ بنے۔ یہ اڈے جنوری کے دوران ہونے والے مظاہروں کو دبانے میں مرکزی کردار ادا کرنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔
    آئی آر جی سی کے زیرِ انتظام ‘تھراللہ’ ہیڈکوارٹر ایک انتہائی اہم کمانڈ پوسٹ ہے جو تہران میں سیکیورٹی کے سنگین واقعات سے نمٹنے کی ذمہ داری رکھتی ہے۔ یہ ہیڈکوارٹر براہِ راست پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ کمان کے ماتحت کام کرتا ہے۔ بحرانی حالات میں جب سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل احکامات جاری کرتی ہے، تو تھراللہ ہی شہر کی سیکیورٹی کا مکمل کنٹرول سنبھال لیتا ہے۔ اس وقت کے دوران تہران پولیس، سرکاری وزارتیں، اور تمام عسکری و نیم عسکری فورسز اسی کے حکم کے تحت کارروائی کرتی ہیں۔
    اس سے قبل گزشتہ جون میں بھی اسرائیلی میزائلوں نے ‘تھراللہ’ کو نشانہ بنایا تھا، تاہم موجودہ حملے کو پہلے سے کہیں زیادہ شدید قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں نے ایران کے سیکیورٹی نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا ہے، خاص طور پر تہران کے اندر حفاظتی انتظامات اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو غیر فعال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تہران کی فضا میں دھوئیں کے بادل دیکھے گئے اور شہر کے مختلف حصوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

  • متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی رپورٹ: ایرانی فضائی حملوں کا دفاعی جائزہ

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کی رپورٹ: ایرانی فضائی حملوں کا دفاعی جائزہ

    متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے 28 فروری 2026 سے شروع ہونے والے ایرانی فضائی حملوں کے بعد سے اب تک کی صورتحال پر ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اماراتی فضائیہ اور ایئر ڈیفنس فورسز نے انتہائی مربوط انداز میں دشمن کے حملوں کا جواب دیا ہے۔ وزارت نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 165 بیلسٹک میزائل، دو کروز میزائل، اور 541 ایرانی ڈرونز کا کامیابی سے مقابلہ کیا گیا ہے۔ دفاعی نظام کی مستعدی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حملے کے دوسرے دن صبح کے وقت ہی فورسز نے 20 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا، جبکہ آٹھ میزائل سمندر میں جا گرے۔ اس کے علاوہ، اسی عرصے کے دوران دو کروز میزائلوں اور 311 ڈرونز کو بھی ہدف بنا کر تباہ کیا گیا۔
    میزائل حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزارت نے واضح کیا کہ تہران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی سمت کل 165 بیلسٹک میزائل داغے گئے تھے، جن میں سے 152 کو دفاعی نظام نے فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا، جبکہ 13 میزائل سمندری حدود میں جا گرے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دو کروز میزائلوں کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی تھی جنہیں فوری کارروائی کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ڈرونز کے حوالے سے وزارت نے بتایا کہ 541 ایرانی ڈرونز کی آمد ریکارڈ کی گئی، جن میں سے 506 کو کامیابی سے مار گرایا گیا۔ تاہم، 35 ڈرونز ملک کے اندر گرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں سے 21 نے شہری اہداف کو نشانہ بنایا، جس سے مادی نقصان بھی ہوا۔
    اس حملے کے نتیجے میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کے بارے میں وزارت دفاع نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ان حملوں کے باعث تین افراد جاں بحق ہوئے جن کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا۔ اس کے علاوہ 58 افراد معمولی زخمی ہوئے، جن میں متحدہ عرب امارات، مصر، ایتھوپیا، فلپائن، پاکستان، ایران، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، آذربائیجان، یمن، یوگنڈا، ایریٹیریا، لبنان اور افغانستان کے شہری شامل ہیں۔ وزارت نے وضاحت کی کہ ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرانے کے عمل کے دوران ملبہ مختلف علاقوں میں گرا، جس سے شہری املاک کو معمولی سے درمیانے درجے کا نقصان پہنچا ہے۔
    وزارت نے اپنے بیان میں کسی بھی قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری کا اعادہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں، رہائشیوں اور آنے والے مہمانوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے جس پر کسی بھی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات کی دفاعی فورسز نے اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرتے ہوئے یہ باور کرایا ہے کہ وہ ملکی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم مستعد اور تیار ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف کا اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس: حکمت عملی اور ہدایات

    وزیراعظم شہباز شریف کا اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس: حکمت عملی اور ہدایات

    ‎وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اس اہم اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، اور وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ موجودہ سیکیورٹی حالات کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی سطح پر تمام متعلقہ اداروں کو انتہائی چوکس رہنا ہوگا اور انہیں جامع اور مؤثر حفاظتی اقدامات کو فوری طور پر یقینی بنانا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ادارے باہمی رابطے اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تاکہ ملکی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ ہو۔ سیکیورٹی اداروں نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وہ اس وقت مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں اور ملکی دفاع کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔
    اجلاس کا ایک اہم ترین پہلو ایران میں موجود پاکستانیوں کی حفاظت اور ان کی بحفاظت وطن واپسی کے حوالے سے فیصلہ سازی تھا۔ وزیراعظم نے وزارت خارجہ کو خصوصی ہدایات جاری کیں کہ وہ ایران میں مقیم پاکستانی شہریوں کو بخیریت واپس لانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ اس مشن کے لیے حکمت عملی یہ طے پائی ہے کہ ان پاکستانیوں کو آذربائیجان کے راستے پاکستان لایا جائے گا۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ آذربائیجان کی حکومت کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر رابطہ قائم کرے تاکہ انخلاء کا عمل بغیر کسی تاخیر کے مکمل ہو سکے۔ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ شہریوں کی حفاظت ریاست کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
    اجلاس کے اختتامی مراحل میں وزیراعظم نے مسلح افواج کی خدمات اور ملکی خود مختاری کے تحفظ کے عزم کو دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ملک کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار ہیں۔ وزیراعظم نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افواجِ پاکستان قومی جذبے اور بہترین حکمت عملی کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پوری قوم ان کے اس عزم کو سلام پیش کرتی ہے۔

  • ایران کا بیت شیمیش پر میزائل حملہ، 8 اسرائیلی ہلاک، 27 زخمی

    ایران کا بیت شیمیش پر میزائل حملہ، 8 اسرائیلی ہلاک، 27 زخمی

    ‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقے بیت شیمیش کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 27 زخمی ہو چکے ہیں۔ میزائل گرنے کے نتیجے میں علاقے میں کھڑی متعدد گاڑیوں میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔
    اس حملے سے قبل، ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی گئی تھی کہ ایران کی جانب سے میزائلوں کی ساتویں اور آٹھویں لہر کو اہداف کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے۔

  • آپریشن "غضب للحق” جاری : تازہ ترین اعداد و شمار اور پیش رفت

    آپریشن "غضب للحق” جاری : تازہ ترین اعداد و شمار اور پیش رفت

    ‎وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق آپریشن "غضب للحق” میں پیش رفت جاری ہے۔ ذیل میں آپریشن کے تازہ ترین نتائج درج ہیں:
    جانی نقصان: افغان طالبان کے 415 افراد ہلاک جبکہ 580 زخمی ہو چکے ہیں۔
    چیک پوسٹس: افغان طالبان کی 182 چیک پوسٹس مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ 31 چیک پوسٹس پر سیکیورٹی فورسز کا قبضہ ہو چکا ہے۔
    عسکری سازوسامان: 115 ٹینکس، آرمڈ وہیکلز اور آرٹلری گنز کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
    فضائی کارروائی: اب تک افغانستان کے 46 مقامات کو فضائی کارروائیوں کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • ایران کے حالیہ واقعات: وزیر داخلہ اور علماء کا اجلاس، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت

    ایران کے حالیہ واقعات: وزیر داخلہ اور علماء کا اجلاس، اسلام آباد میں سیکیورٹی سخت

    ایران میں پیش آنے والے حالیہ واقعات اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر شیعہ مکتبہ فکر کے جید علماء کرام اور اکابرین وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اہم ملاقات کے لیے اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔
    ذرائع کے مطابق وفد میں علامہ مطاہر، علامہ عارف واحدی، سید وزیر کاظمی، سید احمد نقوی، عمران علی حیدری، سید بشارت حسین امامی، وجیہ الحسن کاظمی، عابد حسین، امجد علوی اور سید زاہد عباس کاظمی شامل ہیں۔ اس ملاقات میں ملکی صورتحال، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور اتحادِ امت کے فروغ پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے۔ ریڈ زون جانے والے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں اور پولیس کی بھاری نفری کو داخلی مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ریڈ زون کی طرف جانے سے گریز کریں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین کے درمیان بھی شرکت کی تاکہ امن و امان کی فضا کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہارِ تعزیت

    وزیر اعظم شہباز شریف کا آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہارِ تعزیت

    وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے دکھ اور دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام اس مشکل اور غم کی گھڑی میں اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
    پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سربراہانِ مملکت اور حکومت کو نشانہ نہ بنانے کی قدیم عالمی روایت کو پامال کیا گیا ہے، جو کہ عالمی اصولوں کے منافی عمل ہے۔
    وزیر اعظم نے شہید رہنما کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ایرانی عوام کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت اور صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

  • برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی ایرانی پاسداران انقلاب کے نئے کمانڈر انچیف نامزد

    برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی ایرانی پاسداران انقلاب کے نئے کمانڈر انچیف نامزد

    ایرانی پاسداران انقلاب نے برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو نیا کمانڈر انچیف نامزد کردیا ہے۔

    ایرانی حکام کے مطابق برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی اس سے قبل ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں شہید علی خامنہ ای کے جنگجو ساتھی کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے تقرری کے اعلان کے بعد برگیڈیئر جنرل احمد وحیدی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے حکام کی جانب سے اس حوالے سے مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ علی رضا اعرافی قیادت کونسل کے ممبر منتخب ہوگئے ہیں قیادت کونسل عارضی طور پر سپریم لیڈر کے فرائض انجام دے گی، علی رضا اعرافی ایرانی سپریم لیڈر کے فرائض انجام دینے والی عبوری کونسل کے رکن مقرر ہو گئے تین رکنی کونسل میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور ایرانی چیف جسٹس بھی شامل ہیں، مجلس خبرگان رہبری کی جانب سے نیا سپریم لیڈرمنتخب کیے جانے تک یہ کونسل رہبر کے فرائض انجام دے گی۔

    ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت،ایران میں 7 روزہ تعطیل 40 روزہ سوگ کا اعلان

    ایرانی آئین کے آرٹیکل 111 کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کی موت، استعفے یا برطرفی کی صورت میں ملک کے صدر، عدلیہ کے سربراہ اور نگہبان شوریٰ کے ایک رکن رہبرِ اعلیٰ کی ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں اگر ان تین افراد میں سے کوئی ان ذمہ داریوں سے معذوری کا اظہار کرے تو پھر ان کی جگہ ’مجمع تشخیص مصلحت نظام‘ (فقہا کی اکثریت) ان کی جگہ نیا رکن مقرر کرے گی۔

    اقوام متحدہ میں حمایت پر ایران کا پاکستان سے اظہار تشکر