اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان اور شمالی اسرائیل میں حزب اللہ کے فرسٹ پرسن ویو (FPV) ڈرونز کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر فوجی گاڑیوں، چوکیوں اور تنصیبات پر حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ اقدام حالیہ مہینوں میں ڈرون حملوں کے خطرات میں اضافے کے بعد کیا گیا ہے تاکہ حساس فوجی مقامات اور گاڑیوں کو ممکنہ حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایک لاکھ 58 ہزار مربع میٹر حفاظتی جال فراہم کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید ایک لاکھ 88 ہزار مربع میٹر جال خریدنے کا عمل جاری ہے۔
اسرائیلی فوج کے مطابق مجموعی طور پر حاصل کیے گئے حفاظتی جال کا رقبہ تقریباً 20 فٹبال میدانوں کے برابر بنتا ہے۔
فوج کی جانب سے جاری تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ جال فوجی گاڑیوں، چیک پوسٹس اور دیگر تنصیبات پر نصب کیے جا رہے ہیں تاکہ FPV ڈرونز کے حملوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق FPV ڈرونز جدید جنگ میں تیزی سے اہم ہتھیار بنتے جا رہے ہیں کیونکہ یہ کم لاگت کے باوجود انتہائی مؤثر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں اضافے نے اسرائیلی فوج کو نئی دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی لبنان کی سرحد پر حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی مسلسل برقرار ہے، جبکہ دونوں جانب سے ڈرونز اور راکٹ حملوں کے خدشات بھی موجود ہیں۔
حزب اللہ کے ڈرونز سے بچاؤ کیلئے اسرائیلی فوج نے حفاظتی جال نصب کرنا شروع کر دیے
