بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قرض پروگرام کی اگلی قسط جاری کرنے کے لیے پاکستان پر 11 نئی شرائط عائد کر دی ہیں، جن میں نیب قوانین میں ترامیم، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مزید معاشی اصلاحات شامل ہیں۔
آئی ایم ایف کی تازہ رپورٹ کے مطابق نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس شامل ہونے کے بعد موجودہ قرض پروگرام کے تحت مجموعی شرائط کی تعداد 55 تک پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قرض پروگرام جاری رکھنے کے لیے گیس ٹیرف میں ہر چھ ماہ بعد ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوگا جبکہ سالانہ بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ بھی لازمی ہوگی، جس سے عوام پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کو بھی لازمی قرار دیا ہے تاکہ ادارے کی خودمختاری اور شفافیت میں اضافہ کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ انتظامیہ کی تقرری کے لیے میرٹ، شفافیت اور مسابقت پر مبنی طریقہ کار متعارف کرانا ہوگا۔
رپورٹ میں اگرچہ پاکستان کی معیشت میں استحکام کے آثار کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باوجود پاکستان نے اپنے معاشی اہداف حاصل کیے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔
آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت سخت اقدامات کے باعث مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔
تاہم رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان میں مہنگائی کو مزید بڑھایا۔
آئی ایم ایف کے مطابق کاروباری اور پیداواری شعبے میں ترقی کے لیے مسابقت کو فروغ دینا ضروری ہوگا تاکہ پاکستان طویل المدتی معاشی ترقی حاصل کر سکے۔
رپورٹ میں مالی سال 2026 کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ رواں مالی سال مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نے توقع ظاہر کی کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، بشرطیکہ حکومت معاشی اصلاحات اور مقررہ شرائط پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائے۔
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط، بجلی اور گیس مزید مہنگی ہونے کا امکان
