Baaghi TV

Blog

  • مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک جانے کا امکان ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک جانے کا امکان ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

    گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 7 فیصد تک جانے کا امکان ہے جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں معاشی نمو 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

    کراچی چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ آئندہ مالی سال کی دوسری ششماہی میں مہنگائی میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت اور اسٹیٹ بینک چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کی فنانسنگ کو جون 2028 تک 1500 ارب روپے تک لے جانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔جمیل احمد کا کہنا تھا کہ ملک میں قرضوں کے حجم میں اضافہ ہوا ہے، اندرونی قرض بڑھا جبکہ بیرونی قرضوں میں کمی لائی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں کمی کی ایک بڑی وجہ عالمی معاشی حالات ہیں اور رواں مالی سال میں برآمدی اہداف تقریباً 2 ارب روپے کم رہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے حکومت سے منظوری کا عمل بھی جاری ہے۔

  • انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    انصاف کے در پر بکھرتی امیدیں،تحریر: بینا علی

    کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایسی کئی تحریریں اور خبریں نظر سے گزریں جنہوں نے دل کو بے حد بوجھل کر دیا۔ واقعی بعض سانحات ایسے ہوتے ہیں جو انسان کے اندر تک اتر جاتے ہیں، روح کو زخمی کر دیتے ہیں اور دل کے نہاں خانوں میں ایک مستقل درد چھوڑ جاتے ہیں۔ دو دن سے طبیعت سخت بیزار رہی۔ دل عجیب سی اداسی اور شکستگی کا شکار رہا۔ آج ارادہ کیا تھا کہ کسی ادبی گروپ کی سرگرمی میں حصہ نہیں لوں گی۔ دل کے دروازے پر ایک نوحہ مسلسل دستک دے رہا تھا، اور قلم خودبخود ہاتھ میں آ گیا۔

    "میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟”
    چھ سال قبل، مختار راٹھور صاحب کے کم سن فرزند معصوم عمر راٹھور جن کی عمر پانچ سال سے بھی کم تھی، 21 دسمبر کو اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے اغوا کر لیے گئے۔ اغوا کا مقصد تاوان وصول کرنا تھا۔مرکزی ملزم حمزہ جہانگیر، جو عمر راٹھور کا قریبی کزن تھا اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اس گھناؤنے جرم میں شریک تھا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ یہ سفاک لوگ چار دن تک اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر بچے کو تلاش کرنے کا ڈھونگ کرتے رہے۔ وہ والدین کے ساتھ ہمدردی جتاتے رہے جبکہ حقیقت میں انہی کے ہاتھ معصوم کلی کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔

    شدید سردی کے موسم میں عمر کو ایک کرائے کے مکان میں رکھا گیا۔ جب معصوم بچہ خوف اور تکلیف سے رونے لگا تو ظالموں نے اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے، منہ پر ٹیپ لگا دی، اور اسے الماری میں بند کر دیا۔ اندھیرے، گھٹن اور خوف کے اس عالم میں وہ ننھا فرشتہ دم گھٹنے سے اپنے رب کے حضور پہنچ گیا۔
    سوچیے وہ بچہ کس قدر خوفزدہ ہوگا۔ اس نے اپنی ماں کو پکارا ہوگا، اپنے باپ کو یاد کیا ہوگا، اور شاید آخری لمحوں میں یہ امید بھی کی ہوگی کہ کوئی آ کر اسے اس اندھیرے سے نکال لے گا۔ مگر افسوس! اس کی معصوم صدائیں الماری کی بند دیواروں میں دفن ہو گئیں۔ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ عمر کے والدین نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے بجائے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ برسوں کی پیشیاں، انتظار، امید اور آنسوؤں کے بعد جون 2023ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھیوں کو دو، دو مرتبہ سزائے موت سنائی۔ یوں محسوس ہوا کہ شاید اب انصاف کا سورج طلوع ہو گا، شاید عمر کی بے بسی کا حساب لیا جائے گا شاید ایک ماں کے دل کو کچھ قرار ملے گا۔لیکن دو دن قبل سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا۔ یہ خبر سن کر دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ آنکھیں اشک بار ہو گئیں اور ذہن میں بار بار یہی سوال گونجتا رہا کہ آخر ایک معصوم جان کی قیمت کیا ہے؟ کیا چند برس قید کاٹ لینا اس ظلم کا کفارہ ہو سکتا ہے؟ کیا ایک ماں کے خالی آغوش اور ایک باپ کے اجڑے ہوئے خوابوں کا کوئی نعم البدل ہے؟

    ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں
    عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے

    ہمارا نظامِ عدل اس قدر کھوکھلا، فرسودہ اور دیمک زدہ محسوس ہوتا ہے کہ مظلوم کو انصاف کی امید بھی ایک خواب لگتی ہے۔ آج وہ والدین، جن کے زخموں پر مرہم رکھا جانا چاہیے تھا، ایک ایسے فیصلے کے سامنے کھڑے ہیں جس نے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے۔چھ سال تک ہر صبح انصاف کی امید اور ہر رات آنسوؤں کے ساتھ گزارنے والے ماں باپ پر کیا گزری ہوگی؟ کتنی بار انہوں نے اپنے بیٹے کی تصویروں کو سینے سے لگایا ہوگا؟ کتنی بار اس کے کھلونوں کو دیکھ کر سسکے ہوں گے؟ کتنی بار دروازے کی طرف بے اختیار دیکھا ہوگا کہ شاید عمر دوڑتا ہوا آ جائے۔

    مگر کچھ دروازے ایک بار بند ہو جائیں تو پھر کبھی نہیں کھلتے۔ کاش! ہمارے معاشرے میں ایسا نظامِ انصاف نافذ ہو جو مجرم کے دل میں جرم سے پہلے ہی خوف پیدا کر دے۔ ایسی سزائیں ہوں کہ کوئی درندہ کسی معصوم بچے کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے سو بار سوچے۔
    اللہ تعالیٰ عمر راٹھور کے درجات بلند فرمائے، اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس کے والدین کو صبرِ جمیل دے۔ آمیناور اللہ ہمارے نظامِ انصاف کو حقیقی معنوں میں انصاف کا گہوارہ بنائے،کیونکہ جب معصوم بچوں کے قاتل رعایت پانے لگیں تو معاشرے کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔ پھر ہر ماں اپنے بچے کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف زدہ رہتی ہے، اور ہر باپ کے دل میں ایک انجانا سا ڈر جاگ اٹھتا ہے۔
    آخر میں دل سے بس یہی صدا نکلتی ہے:
    میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں؟

    ظالم کی رسی دراز ہے اور ڈھیل بھی دے دی جاتی ہے ۔منصفو کا منصف بھی موجود ہے ۔جب عمر اپنے رب سے شکایت کرے گا تو یہ ڈھیل بھی ختم ہو جائے گی ۔اللہ پاک بہترین انصاف کرنے والے ہیں۔

  • کاروباری مراکز اب معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے،شرجیل میمن

    کاروباری مراکز اب معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے،شرجیل میمن

    حکومتِ سندھ کا کاروباری برادری اور عوام کو بڑا ریلیف ، تمام دکانوں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس کو مقرر کردہ بندش کے اوقات سے استثنیٰ دے دیا گیا،

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ فوڈ آؤٹ لیٹس، شادی ہالز اور مارکیز کو بھی مقررہ بندش کے اوقات سے مستثنیٰ کیا گیا ہے،کاروباری مراکز اب سابقہ پابندیوں کے بغیر معمول کے مطابق اپنے اوقاتِ کار جاری رکھ سکیں گے، مارکیٹس، ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کے لیے مخصوص اوقات توانائی کے تحفظ اور کفایت شعاری پالیسی کے تحت مقرر کیے گئے تھے، سندھ حکومت کاروباری سرگرمیوں کے فروغ، شہری سہولت اور معیشت کے استحکام پر یقین رکھتی ہے، تاجروں و صنعتکاروں کی تجاویز اور مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں، سندھ حکومت ہمیشہ مشاورت، عوامی مفاد اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتی ہے، تاجر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی، حکومت سندھ نے مشکل معاشی حالات میں بھی عوام اور کاروباری طبقے کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا ہے،آئندہ بھی ایسے فیصلے کیے جائیں گے جو معیشت، روزگار اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ میں معاون ثابت ہوں،

  • شیخ عاکف احمد نور سوئی ناردرن گیس پنجاب کے جنرل منیجر تعینات

    شیخ عاکف احمد نور سوئی ناردرن گیس پنجاب کے جنرل منیجر تعینات

    رپورٹ: فیضان شیخ

    تلہ گنگ کے معروف سماجی و کاروباری شخصیات شیخ شفیق احمد اور شیخ بشیر احمد کے چچا زاد، شیخ ضیاء الدین کے ماموں زاد جبکہ معروف صحافی و اینکر پرسن فیضان شیخ کے انکل شیخ عاکف احمد نور کو سوئی ناردرن گیس پنجاب میں جنرل منیجر تعینات کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے لاہور میں اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال کر باضابطہ طور پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔

    شیخ عاکف احمد نور اس سے قبل اسی ادارے میں ریجنل منیجر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ ان کی تعیناتی کو ادارے میں ان کے طویل تجربے اور شاندار کارکردگی کا اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ شیخ عاکف احمد نور ملک کے نامور ماہرِ تعلیم اور کیمسٹری کے پروفیسر شیخ نور احمد مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔ شیخ نور احمد نے تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات سرانجام دیں اور امریکہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد پاکستان میں کیمسٹری کے نصاب کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا۔

  • بچے پیدا مت کرو،کتے پال لو،2 بچوں کی ماں اداکارہ کا بیان

    بچے پیدا مت کرو،کتے پال لو،2 بچوں کی ماں اداکارہ کا بیان

    شیفالی شاہ ایک بار پھر اپنے بے باک بیان کے باعث خبروں کی زینت بن گئیں۔ بالی ووڈ کی معروف اداکارہ نے شادی، رشتوں اور بچوں سے متعلق ایسا مشورہ دے دیا کہ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکارہ نے کامیڈین اور کنٹینٹ کریئیٹر کے ساتھ ایک انٹرویو میں نوجوان لڑکیوں کو مشورہ دیا کہ وہ زندگی کے بڑے فیصلے جلد بازی میں نہ کریں اور پہلے خود کو سمجھنے کی کوشش کریں۔شیفالی شاہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ کم عمری میں لوگ خود کو مکمل طور پر جانتے بھی نہیں اور شادی جیسا بڑا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ ان کے مطابق “جب آپ خود کو ہی نہیں جانتے تو شادی جیسے فیصلے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ لوگوں سے ملیں، انہیں سمجھیں، پھر فیصلہ کریں کہ کیا آپ واقعی پوری زندگی ایک رشتہ نبھا سکتے ہیں یا نہیں۔”
    اداکارہ نے شادی کو “بہت محنت طلب رشتہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص شادی کے ادارے پر یقین نہیں رکھتا تو اسے صرف معاشرتی دباؤ میں آ کر یہ قدم نہیں اٹھانا چاہیے۔

    انٹرویو کے دوران جب اینکرنے بتایا کہ ان کی عمر 37 سال ہے اور انہوں نے ابھی تک شادی نہیں کی تو شیفالی شاہ نے ہنستے ہوئے کہا، “میں ٹرول ہونے والی ہوں، لیکن بچے پیدا مت کرو، کتے پال لو۔” انہوں نے مزید کہا کہ انسان کو سب سے زیادہ بے لوث محبت کتوں سے ملتی ہے۔

    اداکارہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے مزاحیہ اور حقیقت پسندانہ رائے قرار دیا جبکہ کئی افراد نے اسے خاندانی نظام اور والدین بننے کے تصور کے خلاف قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔

    واضح رہے کہ شیفالی شاہ خود دو بچوں کی ماں ہیں۔ ان کی پہلی شادی ٹی وی اداکار ہرش چھایا سسے ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں علیحدگی ہو گئی۔ بعد میں انہوں نے فلم ساز وپل امرت لال شاہ سے شادی کی،شیفالی شاہ جانوروں سے بے حد محبت کرتی ہیں اور ان کے گھر میں دو سائبیریئن ہسکی کتے ایش اور سمبا رہتے ہیں

  • آئی پی ایل فائنل میں شرکت کے لیے محسن نقوی کو دعوت نامہ مل گیا

    آئی پی ایل فائنل میں شرکت کے لیے محسن نقوی کو دعوت نامہ مل گیا

    بھارت میں ہونے والی آئی سی سی بورڈ میٹنگ اور آئی پی ایل فائنل میں شرکت کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کو باضابطہ دعوت نامہ موصول ہو گیا ہے، تاہم ان کے بھارت جانے یا نہ جانے کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کریں گے۔

    کرکٹ ویب سائٹ کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اجلاس رواں ماہ دو مراحل میں منعقد ہوں گے۔ آئی سی سی کی چیف ایگزیکٹو کمیٹی کا ورچوئل اجلاس 21 مئی کو ہوگا جبکہ بورڈ میٹنگ 30 اور 31 مئی کو بھارتی شہر احمد آباد میں منعقد کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق آئی سی سی اجلاس میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ فارمیٹ میں ممکنہ تبدیلیوں پر غور کیا جائے گا۔ موجودہ نظام کے تحت ہر سیریز میں کم از کم دو ٹیسٹ میچز کھیلنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔اجلاس میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں زمبابوے، آئر لینڈ اور افغانستان کو شامل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئے گی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی بورڈ میٹنگ اور آئی پی ایل فائنل میں شرکت کے حوالے سے محسن نقوی کی بھارت روانگی کا فیصلہ حکومتی سطح پر کیا جائے گا۔

  • نئی دہلی ، چلتی بس میں خاتون سے اجتماعی زیادتی ، سکیورٹی انتظامات پر سوالات

    نئی دہلی ، چلتی بس میں خاتون سے اجتماعی زیادتی ، سکیورٹی انتظامات پر سوالات

    دنیا بھر میں ”ریپ کیپٹل” کی شہرت رکھنے والے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک 30 سالہ خاتون کے ساتھ چلتی سلیپر بس میں اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا ہے ، جس کے بعد شہر میں خواتین کے تحفظ اور سکیورٹی پر ایک بار پھر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

    خبررساں ادارے کے مطابق متاثرہ خاتون ، جو تین بچوں کی ماں بتائی جاتی ہے اور پتم پورہ کی رہائشی ہے ، منگل پوری میں واقع ایک فیکٹری میں اپنی شام کی ڈیوٹی مکمل کرنے کے بعد گھر واپس جا رہی تھی۔ خاتون کے بیان کے مطابق اسے سرسوتی وہار کے بی بلاک بس اسٹینڈ کے قریب زبردستی ایک نجی بس میں کھینچ لیا گیا۔متاثرہ خاتون کاکہنا ہے کہ بس کے ڈرائیور اور کنڈکٹر نے چلتی گاڑی میں اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ نانگلوئی میٹرو اسٹیشن کی جانب جاتے ہوئے پیش آیا اور متاثرہ کو تقریباً دو گھنٹے تک تشدد اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس حکام کے مطابق ملزمان خاتون کو زخمی حالت میں سڑک کنارے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ بعدازاں متاثرہ خاتون نے پی سی آر کال کے ذریعے پولیس کو اطلاع دی ، جس کے بعد رانی باغ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کر لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس وکرم سنگھ نے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

    یاد رہے کہ یہ واقعہ 2012ء کے مشہور نربھیا گینگ ریپ کیس کے بعد دہلی میں خواتین کے تحفظ سے متعلق خدشات کو دوبارہ نمایاں کر رہا ہے۔ سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے شہر میں رات کے وقت خواتین کی سکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے

  • دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    دیمک زدہ دل کا آشیانہ ،تحریر: بینا علی

    میں بینا علی ہوں۔ میرا دل ایک ایسا آشیانہ ہے جسے اندر ہی اندر دیمک چاٹ رہی ہے۔ باہر سے دیکھو تو سب نارمل لگتا ہے۔ چہرے پر معمول کی مسکراہٹ، روزمرہ کے کام، لوگوں سے ملنا جلنا۔ لیکن اندر ہر دیوار پر ہجر کا سایہ لکھا ہے، ہر کونے میں ایک خاموش چیخ دبی ہوئی ہے۔ درد ٹھہر گیا ہے، آنسو بہنا چھوڑ گئے ہیں اور دل نے رونا بھی سیکھ لیا ہے خاموشی سے۔
    میں نے حقیقت میں جا کر سمجھا کہ شاعر نے کیوں کہا تھا:
    "ادھیڑ ڈالے ہیں بخیے میرے جدائی نے!
    کہ کھا گیا ہے تیرا غم کتر کتر کر مجھ کو!”

    موت تو ارواح کا وصل ہے، ایک سفر کا اختتام اور دوسرے کا آغاز۔ اصل قیامت تو جدائی ہے۔ عرب کہتے ہیں: "الفراق أشد من الموت”۔ ہجر موت سے زیادہ بے رحم ہے۔ کیونکہ موت ایک بار مارتی ہے، جبکہ جدائی روز مارتی ہے۔ میں نے یہ بے رحمی اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے اور اپنے سینے میں محسوس کی ہے۔ یوسفؑ کے ہجر میں یعقوب علیہ السّلام کی آنکھوں کا نور چھن گیا تھا۔ کربلا کے بعد امام زین العابدین کی پلکیں تا عمر بھیگی رہیں۔ سوگ کی میعاد چند دن ہوتی ہے، مگر غم کی میعاد پوری عمر ہوتی ہے۔ یہ غم ایک بار وار کر کے نہیں جاتا۔ یہ روز تھوڑا تھوڑا مار کر زندہ رکھتا ہے، کتر کتر کر، لمحہ لمحہ، سانس سانس۔

    دنیا کہتی ہے کہ وقت مرہم ہے، زخم بھر جاتے ہیں۔ کاش یہ سچ ہوتا۔ میرے لیے وقت مرہم نہیں بنا، وہ صرف عادت بنا گیا ہے۔ ہم سانس لیتے ہیں، جیتے نہیں۔ ہم مسکراتے ہیں، خوش نہیں ہوتے۔ ہر عید، ہر تہوار، ہر شادی، ہر جنازہ، ہر موقع ان کی کمی کا نوحہ بن جاتا ہے۔ ہم یادوں سے بھاگتے ہیں، اور بھاگتے بھاگتے خود کو کھو دیتے ہیں۔ آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی اجنبی کھڑا ہو۔

    والدہ محترمہ کو دیکھے بنا تین سال چھے مہینے ہو گئے۔ تین سال چھے مہینے سے گھر کی دیواریں بھی خاموش ہیں۔ ان کی دعاؤں کی چادر سر سے سرک گئی ہے اور اب دھوپ بھی کاٹتی ہے۔ جس گھر میں کبھی ان کی آواز گونجتی تھی وہاں اب سناٹا ہے۔ ہر کونا ان کی خوشبو مانگتا ہے، ہر کمرہ ان کے قدموں کا منتظر ہے، مگر جواب میں صرف خاموشی ملتی ہے۔ اسی دن آج سے پانچ سال پہلے، میرے چچا محترم اور میرے جواں سال کزن بھی چپکے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ ایک ہی دن دو جنازے اٹھے، اور گھر کے آنگن میں ایک ساتھ دو قبریں بنیں۔ اس دن سے یتیمی کا سفر شروع ہوا۔ یتیمی صرف والدین کا سایہ اٹھنا نہیں، یہ اس کربناک آزمائش کا نام ہے جس میں انسان خود کو بے سہارا، بے آسرا محسوس کرتا ہے۔ دنیا بڑی لگتی ہے، اور دل بہت چھوٹا۔ پانچ سال ہو گئے۔ پانچ سال سے میں باپ کی شفقت اور ماں کی مامتا، دونوں کو ترس رہی ہوں۔ اپریل اور مئی میرے لیے "شھر الحزن” بن گئے ہیں۔ یہ کیلنڈر کے مہینے آتے ہیں تو دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ ہوا بھی بھاری لگتی ہے، سانس سینے میں اٹکتی ہے، اور نیند آنکھوں سے روٹھ جاتی ہے۔ راتیں کروٹیں بدلتے گزرتی ہیں، اور صبح ایسے ہوتی ہے جیسے دل پہ مزید بوجھ بڑھ گیا ہو ۔ وقت گزرتا ہے، مگر درد نہیں گزرتا۔ درد ٹھہر جاتا ہے۔

    لوگ کہتے ہیں صبر کرو مگر صبر کرنا سیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ صبر وہ سبق ہے جو کتابوں سے نہیں، ٹوٹے ہوئے دل سے پڑھا جاتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے، آہستہ آہستہ، ٹوٹ کر اور جڑ کر۔ ربِ کریم کا شکر ہے جس نے ہمت دی۔ شکر ہے کہ یہ جدائی دائمی نہیں۔ یہ فراق عارضی ہے۔ یہی امیدِ واثق، یہی یقینِ کامل میرے ٹوٹے دل کو جوڑے ہوئے ہے کہ ہم پھر ملیں گے۔ جنت کے کسی ایسے باغ میں ملیں گے جہاں وہ پھر سے سر پر ہاتھ رکھیں گے، مسکرا کر گلے لگائیں گے، اور قہقہے گونجیں گے۔ جہاں نہ کوئی مئی ہو گا نہ اپریل، نہ فراق ہو گا نہ اشک۔ صرف وصل ہو گا، ابدی وصل۔

    میں وہ بدنصیب ہوں جس نے ایک ہی سال میں ماں اور باپ دونوں کا سایہ کھو دیا۔

    کتابِ زیست کا سب سے اداس اور اذیتوں سے بھرا صفحہ وہی ہوتا ہے جب ماں اس دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے۔ دعاؤں کا آنچل سرک جاتا ہے، اور ماں کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی گرمی براہِ راست لگتی ہے۔

    آپ اداس ہوں، تنہائی محسوس کر رہے ہوں، ذہنی طور پر منتشر ہوں، دل بے نام دکھوں سے بوجھل ہو، اور ایسے میں آپ کو اپنے بازوؤں میں سمیٹ لینے والی، ماتھے پر محبت بھرا بوسہ دینے والی، اور اپنے لمس سے روح تک کو سکون پہنچانے والی ماں موجود نہ ہو تو یہ اذیت لفظوں کے دائرہ بیان سے کہیں بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ درد ہے جو لکھا نہیں جاتا، صرف جیا جاتا ہے۔ ماں آپ کی پہلی محبت ہے، پہلا لمس ہے، پہلا شفقت بھرا بوسہ ہے۔ وہ ہستی ہے جس کی گود میں دنیا کے تمام غم سمٹ کر سکون میں بدل جاتے ہیں۔ میری بدقسمتی ہے کہ ماں کے بچھڑ جانے کے بعد میں اس کے عشق میں اس شدت سے مبتلا ہوں کہ ماں کی کمی ایک مستقل کسک بن گئی ہے۔ یہ کسک نہ بڑھتی ہے نہ کم ہوتی ہے، بس ساتھ رہتی ہے۔

    اب اس شعر کی گہرائی سمجھ آتی ہے:
    "وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا
    اب اس کا حال سنائیں کیا!
    اک آگ غمِ تنہائی کی
    جو سارے بدن میں پھیل گئی
    جب جسم ہی سارا جلتا ہو
    پھر دامنِ دل کو بچائیں کیا
    اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے
    تادیر اسے دہرائیں کیا!
    وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا…”

    میرے انتظار میں مضمر، میرا راستہ تکنے والی آنکھیں نہ رہیں۔ بائیک کی آواز سنتے ہی پردہ ہٹا کر مسکرانے والے ہونٹ نہ رہے۔ تمام عمر باپ کو پہلا عشق بنائے رکھا، مگر یہ احساس ہی نہ ہوا کہ ماں کے جانے کے بعد اس کی محبت کا خلا دل کو اس طرح جکڑ لے گا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو جائے گا۔ اب اس احساس کے ساتھ کہ ماں نہیں ہے، سانسیں جیسے رکنے لگتی ہیں۔ الفاظ لبوں پر آ کر دم توڑ دیتے ہیں، اور اظہارِ محبت بھی خاموش ہو جاتا ہے۔ بانو قدسیہ لکھتی ہیں: "ماں نہ ہو تو کوئی خواہ مخواہ بلانے والا نہیں رہتا۔”

    مجھے اس خواہ مخواہ کی سمجھ اب آئی ہے۔ واقعی ماں کے بعد انسان کو اس ایک جملے کی معنویت پوری شدت سے سمجھ آتی ہے۔ دنیا میں سب کچھ مل سکتا ہے، مگر ماں جیسی بے غرض محبت دوبارہ نہیں ملتی۔ آج میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جن کے اضطراب ماں کے لمس اور شفقت بھرے بوسوں سے دور ہوتے ہیں، ان کے سروں پر دعاؤں کا یہ آنچل ہمیشہ سلامت رہے۔ اللہ تعالیٰ سب کی ماؤں کو صحت و عافیت کے ساتھ سلامت رکھیں اور جو مائیں اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، ان کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔

    میں آج بھی سیکھ رہی ہوں کہ غم کے ساتھ جینا کیسے ہوتا ہے۔ یہ کوئی آسان فن نہیں۔ کبھی دل ماننے کو تیار نہیں ہوتا، کبھی عقل سمجھا دیتی ہے۔ مگر میں نے مان لیا ہے کہ یہ غم میری کمزوری نہیں، میری محبت کی گہرائی ہے۔ جس سے جتنی محبت ہو، اس کا غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا ہے۔

    جب تک دل دھڑکتا ہے، ماں کی یاد زندہ ہے۔ اور جب تک یاد ہے جدائی کا زخم بھی ہے۔ یہ زخم مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں کتنی محبت کی گئی ہوں، اور میں نے کتنی محبت کی ہے۔

    بس ایک یقین ہے جو مجھے تھامے ہوئے ہے ہم پھر ملیں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس یقین پر ہی دل کا آشیانہ کھڑا ہے، ورنہ دیمک تو اسے کب کا کھا چکی ہوتی۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا ڈیرہ بگٹی بازار کا دورہ، شہریوں سے ملاقات

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا ڈیرہ بگٹی بازار کا دورہ، شہریوں سے ملاقات

    ڈیرہ بگٹی: آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے ڈیرہ بگٹی بازار کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مقامی شہریوں اور دکانداروں سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔

    دورے کے دوران آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) نے شہریوں کے مسائل، شکایات اور تجاویز تفصیل سے سُنیں اور ان کے فوری حل کے لیے متعلقہ حکام کو ضروری احکامات جاری کیے۔اس موقع پر شہریوں اور تاجروں نے علاقے میں امن و امان کی بہتر صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کی قیامِ امن کے لیے خدمات اور کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ اور علاقے میں پائیدار امن کا قیام سیکیورٹی فورسز کی اولین ترجیح ہے، جبکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

  • پنکی کے سرپرستوں،سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے،مزمل اقبال ہاشمی

    پنکی کے سرپرستوں،سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے،مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ ملکہ کوکین ،انمول عرف پنکی کے سرپرستوں،سہولت کاروں کے خلاف بھی کاروائی کی جائے،سینہ تانے ،بنا ہتھکڑی انمول کا عدالت جانانظام قانون کو چیلنج کر رہا ہے،پاکستان سے منشیات کی لعنت کے خاتمے کے لئے حکومت کو سخت کاروائی کرنی ہو گی، پنکی اور اسکے سرپرستوں کو نشان عبرت بنایا جائے

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو منشیات جیسی لعنت میں دھکیلنے والے دراصل قوم کے مستقبل کے دشمن ہیں،ایسے عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ پنکی نے خاتون ہونے کا فائدہ اٹھا کر کوکین اور دیگر منشیات کے مکروہ دھندے کو فروغ دیا، منشیات فروشی ایک سنگین جرم ہے، پنکی کا جرم کسی صورت قابل معافی نہیں ہے،پنکی کےسہولت کاروں، کوکین کے خریداروں سب کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے ،پاکستان کےنوجوانوں کو منشیات کی جانب دھکیلنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہئے،ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملک بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرے ،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان سے منشیات کی لعنت کا خاتمہ کرنا ہے تو پس پردہ کرداروں،سہولت کاروں کے خلاف سب سے پہلے ایکشن لینا ہو گا،پنکی کیس کی شفاف تحقیقات کر کے پوری چین کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے تاکہ قوم کو یہ پیغام ملے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور نوجوان نسل کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے لیے کوئی رعایت نہیں،