Baaghi TV

Blog

  • مئیر نیویارک کے  وعدے کی تکمیل کے لیے بیزوس فیملی کا 10 کروڑ ڈالر کا تحفہ

    مئیر نیویارک کے وعدے کی تکمیل کے لیے بیزوس فیملی کا 10 کروڑ ڈالر کا تحفہ

    امریکی ارب پتی اور ایمازون کے بانی جیف بیزوس کے والدین نے نیویارک میں بچوں کی ابتدائی تعلیم اور مفت چائلڈ کیئر منصوبوں کیلئے 10 کروڑ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کردیا۔

    امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک کی معروف فلاحی تنظیم رابن ہڈ نے اعلان کیا ہے کہ اسے جیف بیزوس کے خاندان کی جانب سے 10 کروڑ ڈالر کا عطیہ موصول ہوا ہے اس رقم سے’’جیکی بیزوس انڈاؤمنٹ فار ارلی چائلڈ ہڈ‘‘ قائم کیا جائے گا، جو ابتدائی تعلیم اور بچوں کی نشوونما کے منصوبوں پر خرچ ہوگی۔

    تنظیم کے مطابق مزید 2 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی اضافی رقم بھی فراہم کی جائے گی، بشرطیکہ اتنی ہی رقم دیگر ذرائع سے جمع کی جائے، جس کے بعد مجموعی فنڈ 15 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گا جیکی بیزوس، جو جیف بیزوس کی والدہ ہیں، ماضی میں رابن ہڈ تنظیم کے بورڈ کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔

    یہ عطیہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیویارک کے میئر ظہران ممدانی شہر بھر میں ’’2-K پروگرام‘‘ متعارف کراچکے ہیں، جس کے تحت دو سال کی عمر سے بچوں کیلئے مفت ابتدائی تعلیم اور نگہداشت کو سال بھر کیلئے عام اور قابل رسائی بنانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    اگرچہ یہ منصوبہ بیزوس خاندان کی مالی معاونت سے تقویت پا رہا ہے، تاہم میئر ممدانی ماضی میں ارب پتی طبقے پر تنقید کرتے رہے ہیں حالیہ دنوں انہوں نے ارب پتی کاروباری شخصیت کین گرفن کی پرتعیش جائیداد کے باہر ویڈیو جاری کرکے لگژری سیکنڈ ہومز پر نئے ٹیکس کی تجویز دی تھی، جس پر دونوں کے درمیان لفظی جنگ بھی دیکھنے میں آئی۔

    میئر ممدانی نے گزشتہ ہفتے مشہور ’’میٹ گالا‘‘ تقریب میں شرکت بھی نہیں کی تھی اور کہا تھا کہ وہ شہر کو مزید سستا اور عام شہریوں کیلئے قابل رہائش بنانے پر توجہ دے رہے ہیں دوسری جانب سٹی ہال کی ترجمان جینا لائل نے کہا کہ پورے نیویارک میں مفت چائلڈ کیئر کا خواب پورا کرنے کیلئے حکومت، فلاحی اداروں، ورکنگ فیملیز اور نجی شعبے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

    رابن ہڈ تنظیم 1988 میں ہیج فنڈ ارب پتی پال ٹیوڈر جونز نے قائم کی تھی، جبکہ اسے وال اسٹریٹ کی کئی بڑی شخصیات کی حمایت حاصل رہی ہے تنظیم اب تک نیویارک کے پانچوں بورو میں 300 سے زائد فلاحی اداروں کو فنڈنگ فراہم کرچکی ہےرابن ہڈ کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ بیوری جونیئر کا کہنا ہے کہ چائلڈ کیئر منصوبوں کیلئے بنیادی ذمہ داری حکومت کی ہے، تاہم فلاحی عطیات ایسے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ نیویارک اس وقت شدید بجٹ بحران کا سامنا کررہا ہے اور شہر کو تقریباً 12 ارب ڈالر کے مالی خسارے کا سامنا ہے تاہم میئر ممدانی نے حالیہ بجٹ میں چائلڈ کیئر اور تعلیمی منصوبوں کیلئے تقریباً 6 کروڑ ڈالر مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ نئے بجٹ سے مالی خسارہ پورا کرلیا جائے گا۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،100 انڈیکس میں 1,000 پوائنٹس کا اضافہ

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،100 انڈیکس میں 1,000 پوائنٹس کا اضافہ

    اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو کاروبار کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی جانب سے بھرپور خریداری دیکھی گئی، جہاں انڈیکس میں ابتدائی لمحات کے دوران تقریباً 1000 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی لوٹ آئی جس کے نتیجے میں جمعرات کو کاروبار کے ابتدائی سیشبن کے دوران ہی 100 انڈیکس میں تقریباً 1,000 پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا صبح بینچ مارک انڈیکس 998.01 پوائنٹس یا 0.60 فیصد اضافے سے 168,449.14 پوائنٹس پر جاپہنچا۔

    مارکیٹ کے اہم شعبوں میں خریداری کا رجحان دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ ، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیا ں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری شامل ہیں، اٹک ریفائنری لمیٹڈ، حب پاور کمپنی، ماری انرجیز، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، حبیب بینک، یونائیٹڈ بینک،مسلم کمرشل بینک اور میزان بینک سمیت انڈیکس پر اثرانداز ہونیوالے بڑی کمپنیوں کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کرتے رہے۔

    واضح رہے کہ بدھ کو اسٹاک ایکسچینج مندی کی زد میں رہی کیونکہ جاری سفارتی مذاکرات میں کسی ٹھوس پیش رفت کی عدم موجودگی اور امریکہ و ایران کے درمیان بدلتی صورتحال پر برقرار غیر یقینی کے باعث سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کیے رکھا گزشتہ روز100 انڈیکس 1,465.09 پوائنٹس یا 0.87 فیصد کی کمی سے 167,451.14 پوائنٹس پر بند ہوا۔

    دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی جمعرات کو مثبت رجحان دیکھا گیا۔ مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتے ہوئے رجحان کے باعث جنوبی کوریا کی کمپنی ایس کے ہائینکس کے شیئرز میں نمایاں اضافہ ہوا،عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان اہم ملاقات پر مرکوز رہی،عالمی سطح پر جاپان کے نکی انڈیکس نے نئی بلند ترین سطح حاصل کی، جبکہ ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس بھی ریکارڈ سطح کے قریب رہا۔

    تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتیں مستقبل میں دوبارہ مہنگائی کے خدشات کو بڑھا سکتی ہیں۔

  • بھارتی ریاست اتر پردیش میں طوفان، 90 افراد اور114 مویشی ہلاک

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں طوفان، 90 افراد اور114 مویشی ہلاک

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں تیز آندھی، بارش اور ژالہ باری کے باعث شدید طوفانی صورتحال میں تقریباً 90 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

    شمالی ریاست میں مارچ سے جون تک گرم موسم کے دوران طوفان عام ہیں، جس کے بعد مون سون کی بارشیں موسم کو نسبتاً بہتر بنا دیتی ہیں ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف دفتر نے جمعرات کو بتایا بدھ کے روز نامساعد موسمی حالات کے باعث 89 افراد ہلاک ہوئے،ریاست میں طوفان، بارش، ژالہ باری اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 53 افراد زخمی بھی ہوئے، 87 مکانات کو نقصان پہنچا جبکہ 114 مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔

    تیز ہواؤں کے باعث درخت اور بل بورڈ جڑ سے اکھڑ گئے، کچھ گاڑیوں پر گر گئے، جبکہ گرد و غبار اور بادلوں نے سڑک کنارے لگے لکڑی کے اسٹالز کا سامان بھی بکھیر دیا ریاستی ریلیف حکام کے مطابق بعض اموات درخت گرنے اور گھروں کی دیواریں گرنے کے باعث ہوئیں۔

    ریاست کے چیف منسٹر، جو وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ متاثرین کی مدد کی جائے اور 24 گھنٹوں کے اندر مالی امداد تقسیم کی جائے۔

  • چینی صدر کی تائیوان معاملے میں ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

    چینی صدر کی تائیوان معاملے میں ٹرمپ کو دو ٹوک وارننگ

    بیجنگ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی اہم ملاقات تقریباً دو گھنٹے جاری رہنے کے بعد ختم ہو گئی ،جس میں چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے۔

    ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے بیجنگ میں 600 سال پرانی تاریخی جگہ ’ٹیمپل آف ہیون‘ کا دورہ بھی کیا، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے یہ وہ تاریخی مقام ہے جو 1420 میں منگ خاندان کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے شاہی قربانیوں اور اچھی فصل کی دعا کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

    امریکی خبر رساں ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق جب امریکی صدر ٹیمپل آف ہیون پہنچے تو ان سے سوال کیا گیا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ ان کی بات چیت کیسی رہی؟جس پر صدر ٹرمپ نے ان مذاکرات کو ”بہترین“ قرار دیا،لیکن ٹرمپ نے اس حوالے سے پوچھے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا کہ آیا ان کے درمیان تائیوان کے معاملے پر بھی بات ہوئی ہے یا نہیں۔

    تاہم، چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ بیجنگ میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے دورا ن چینی صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کر دیا ہے کہ تائیوان کا معاملہ چین امریکا تعلقات میں سب سے زیادہ حساس اور اہم حیثیت رکھتا ہے، اگر اس مسئلے کو صحیح طریقے سے حل کیا گیا تو دونوں ملکوں کے تعلقات مستحکم رہیں گے، لیکن اگر اس میں کوتاہی برتی گئی تو دونوں ممالک کے در میان ٹکراؤ اور بڑے تنازعات جنم لے سکتے ہیں جس سے پورے تعلقات خطرے میں پڑ جائیں گے۔

    ماؤ ننگ کے مطابق، صدر شی جن پنگ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان کی آزادی اور آبنائے تائیوان میں امن دو ایسی چیزیں ہیں جو آگ اور پانی کی طرح ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں اس خطے میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنا ہی چین اور امریکا کے درمیان سب سے بڑا مشترکہ نکتہ ہونا چاہیے۔

  • گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر لاپتہ

    گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر لاپتہ

    کوئٹہ میں گوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے۔

    دونوں اعلیٰ تعلیمی افسران گزشتہ روز گوادر سے کوئٹہ آرہے تھے کہ راستے میں ان سے رابطہ منقطع ہوگیا، جبکہ یونیورسٹی ذرائع نے مستونگ کے علاقے میں اغوا کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہےگوادریونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد سرکاری گاڑی میں کوئٹہ جارہے تھے۔

    پولیس کے مطابق واقعے میں ایک لیکچرار اور گاڑی کا ڈرائیور بھی لاپتہ ہوئے ہیں یونیورسٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افسران ممکنہ طور پر مستونگ کے علاقے میں گاڑی سمیت اغوا ہوئے، جبکہ ان سے آخری رابطہ بھی مستونگ کے قریب ہوا تھا۔

    ڈپٹی کمشنر مستونگ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاپتہ افسران کی فیملیز سے رابطے میں ہیں اور ان کی بازیابی کیلئے کوششیں جاری ہیں دونوں افسران کے مستونگ کے اطراف پہنچنے کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہوگیا تھاانتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری کوشش کررہے ہیں کہ لاپتہ افراد کا جلد سراغ لگایا جاسکے۔

  • ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    ایرانی میزائل نیٹ ورک اب بھی فعال اور محفوظ ہے،امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس

    امریکی خفیہ اداروں کی نئی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کا میزائل نیٹ ورک اب بھی بڑی حد تک فعال اور محفوظ ہے، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ان دعوؤں کے برعکس ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔

    برطانوی اور امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی خفیہ جائزہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایران نے اپنے بیشتر میزائل تنصیبات، زیرِ زمین ذخیرہ گاہوں اور موبائل لانچر سسٹمز پر دوبارہ آپریشنل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق آبنائے ہرمز کے اطراف قائم ایران کی 33 میزائل تنصیبات میں سے 30 مختلف درجوں میں قابلِ استعمال سمجھی جار ہی ہیں ان رپورٹس نے خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے، خاص طور پر ان بحری جہازوں اور آئل ٹینکرز کے لیے جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے ہیں۔

    انٹیلیجنس رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے موبائل میزائل لانچرز کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور بعض صورتوں میں انہی تنصیبات کے اندر موجود انفرااسٹرکچر سے میزائل داغنے کی صلاحیت رکھتا ہے آبنائے ہرمز کے قریب صرف چند تنصیبات مکمل طور پر غیر فعال ہوئی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اب بھی کام کررہے ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہے کہ ایران نے جنگ سے پہلے موجود اپنے میزائل ذخیرے کا بھی بڑا حصہ محفوظ رکھا ہوا ہے، جس میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور مختصر فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے والے کروز میزائل شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی کے نظام سے حاصل معلومات کے مطابق ایران نے ملک بھر میں قائم تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ مراکز تک جزوی یا مکمل رسائی دوبارہ حاصل کرلی ہے رپورٹس میں ان تنصیبات کو مختلف سطح پر فعال قرار دیا گیا ہےیہ انکشافات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ان بیانات سے متصادم ہیں جن میں ایران کی فوجی طاقت کو’’شدید متاثر‘‘ قرار دیا گیا تھا۔

    رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ایک بار پھر مؤقف دہرایا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مؤثر انداز میں غیر فعال بنایا جاچکا ہے، جبکہ ایران کی بحالی سے متعلق دعوؤں کو مبالغہ آمیز اور سیاسی قرار دیا،دوسری جانب پینٹاگون کے ترجمان نے امریکی میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض ادارے امریکی فوجی کارروائیوں کو غلط انداز میں پیش کررہے ہیں اور ایران کے خلاف کامیاب آپریشن کو متنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

  • دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    دورہ چین،ٹرمپ کے وفد نے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی کیوں اپنائی؟

    مئی 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ چین کے موقع پر، امریکی حکام، مشیروں اور حفاظتی عملے کے لیے سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت اپنے ذاتی فون اور لیپ ٹاپ واشنگٹن میں چھوڑ آئے،چینی سیکیورٹی اور سائبر جاسوسی کے خدشات کے پیش نظر امریکی حکام نے اس دورے کے لیے "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کی پالیسی اپنائی ہے۔

    چینی حکام کی جانب سے نگرانی، ہیکنگ یا ڈیٹا چوری کے خدشات کے پیش نظر امریکی وفد "ڈیجیٹل لاک ڈاؤن” کے تحت چین گیا اہلکار اپنے ذاتی فونز کی جگہ "صاف” (clean) یا عارضی فون اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں، جن میں حساس معلومات نہیں ہوتیں۔

    امریکی سیکیورٹی حکام کا ماننا ہے کہ چین میں موجود الیکٹرانک ڈیوائسز، نیٹ ورکس اور ہوٹل کے کمروں کی نگرانی کی جا سکتی ہے، اور فون چارج کرنا بھی ڈیٹا چوری (جوس جیکنگ) کا خطرہ بن سکتا ہے یہ احتیاطی تدابیر صرف سرکاری اہلکاروں تک محدود نہیں تھیں، بلکہ صدر ٹرمپ کے ساتھ جانے والے ایپل ، بوئنگ اور کوالکوم جیسی بڑی امریکی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز پر بھی لاگو تھیں۔

    یہ ایک طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی ہے جس کے تحت چین (یا دیگر حساس ممالک) کے دورے پر جانے والے اہلکاروں کو اپنی معمول کی ڈیجیٹل ڈیوائسز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی

  • بیلجیم اور ترکیہ کے درمیان 9 دفاعی معاہدوں پر دستخط

    بیلجیم اور ترکیہ کے درمیان 9 دفاعی معاہدوں پر دستخط

    بیلجیم اور ترکیہ نے دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے لیے 9 اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

    بیلجیم کے وزیر دفاع تھیو فرانکن نے انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب یاشر گولر کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد اس پیش رفت کی تصدیق کی، اور ان معاہدوں کو دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی جانب بڑا قدم قرار دیا ہے۔

    یہ مذاکرات بیلجیم کی ملکہ میتھلڈے کی قیادت میں جاری 4 روزہ اقتصادی مشن کے دوران ہوئے تھیو فرانکن نے انقرہ میں بیلجیم کے سفیر کی رہائش گاہ پر منعقدہ دفاعی اور ایروناٹیکل نیٹ ورکنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم پیش رفت کا دن ہے۔

    بیلجیم کی وزارت دفاع کے مطابق 6 دفاعی صنعتی معاہدوں پر بدھ کے روز انقرہ میں جبکہ مزید 3 معاہدوں پر پیر کے روز استنبول میں دستخط کیے گئے دونوں ممالک نے اعلیٰ سطحی ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر دستخط کے ذریعے طویل المدتی اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس سے لاحق خطرات اور نیٹو میں امریکا کے ممکنہ کم ہوتے کردار کے تناظر میں یورپی ممالک اپنی دفاعی صنعتوں کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

    بیلجیم نے اس موقع پر یورپی یونین کے 150 ارب یورو مالیت کے SAFE دفاعی پروگرام میں ترکیہ کی شمولیت کی بھی حمایت کی یہ پروگرام یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

    تھیو فرانکن نے کہا کہ مذاکرات میں بیلجیئم اور ترکیہ کے درمیان سرمایہ کاری اور مشترکہ دفاعی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا اگرچہ انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ترک ڈرونز کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ یقیناً ایک بہترین پیشرفت ہوگی، اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ یورپی خریداری قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

  • امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

    جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا،اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

    استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

    ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے،یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

    اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

    چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقا ت پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ،ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے وہ اس دور ے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

    دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

    صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعےچین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں،یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

    بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

    صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کارو باری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے در میا ن تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے،امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

    دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔