Baaghi TV

Blog

  • امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    امریکی صدر کی چینی صدر سے بیجنگ میں ملاقات

    چین کے صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 2 روزہ اہم مذاکرات کے آغاز پر امریکا اور چین پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک حریف نہیں بلکہ شراکت دار بنیں۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے چینی اور امریکی صدور کی وفود کے ہمراہ ملاقات کے موقع پر کہا کہ امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں ہے، چین اورامریکا دو بڑی طاقتیں ہیں، عالمی استحکام ہمارا مشترکہ ہدف ہے۔

    جمعرات کو بیجنگ میں واقع عظیم الشان گریٹ ہال آف دی پیپل میں شی جن پنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا مصافحے کرتے ہوئے استقبال کیا،اس موقع پر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وفد میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو شامل تھے، جو ماضی میں چین کے سخت ناقد سمجھے جاتے رہے ہیں۔

    استقبالی تقریب میں چینی فوجی بینڈ نے امریکی اور چینی قومی ترانے بجائے جبکہ توپوں کی سلامی بھی دی گئی، رنگ برنگے لباس میں ملبوس اسکول کے بچوں نے امریکی اور چینی پرچم لہراتے ہوئے ’ویلکم، ویلکم‘ کے نعرے لگائے۔

    ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے شی جن پنگ کو عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ ان کے اس بیان کو پسند نہیں کرتے، مگر وہ پھر بھی یہی کہیں گے،یہ شاید دنیا کی سب سے بڑی سربراہ ملاقات ہوسکتی ہے اور انہیں امید ہے کہ امریکا اور چین کے تعلقات پہلے سے زیادہ بہتر ہوں گے۔

    اس کے جواب میں شی جن پنگ نے کہا کہ مستحکم چین امریکا تعلقات پوری دنیا کے لیے فائدہ مند ہیں ان کے بقول تعاون دونوں ممالک کے حق میں ہے جبکہ تصادم نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے دونوں طاقتوں کو شراکت داری کا راستہ اپنانا چاہیے۔

    چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی امن اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت بیجنگ میں ہونے والے مذاکرات پر ہیں، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا۔

    چینی صدرنے ٹرمپ سے کہا کہ دنیا اس وقت ایران تنازع اور عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ہے اس وقت دنیا میں ایسی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں جو ایک صدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ہم مل کر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی دنیا اور اپنے عوام لیے ایک روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماؤں کی حیثیت سے ہمیں دینا ہے ۔

    شی جن پنگ نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ہیں، دونوں ممالک کے مستحکم دوطرفہ تعلقا ت پوری دنیا کے لیے فائدے مند ہیں، چین اور امریکا دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ،ہمیں ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہیے، ہمیں ایک دوسرے کو کامیاب اور خوشحال ہونے میں مدد کرنی چاہیے، دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کرنا چاہیے۔

    اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صدر شی جن پنگ سے ملاقات کرنا باعث اعزاز ہے، اور آپ کا دوست ہونا اعزاز کی بات ہے وہ اس دور ے پر "دنیا کے بہترین کاروباری رہنماؤں” کو ساتھ لائے ہیں بعض لوگوں نے اس ملاقات کو "اب تک کی سب سے بڑی سمٹ” قرار دیا ہے، اور وہ اس اجلاس کے منتظر ہیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں، تاریخی سربراہی ملاقات کا سب سے بڑا اور بنیادی فوکس باہمی تجارت پر ہوگا، دونوں ممالک کے درمیان آنے والی کئی دہائیوں تک بہترین اور مضبوط تعلقات قائم رہیں گے ہمارے تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں، اور جب بھی مشکلات آئیں ہم نے مل کر انہیں حل کیا، میں آپ کو کال کرتا تھا اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے کہ جب بھی ہمیں کوئی مسئلہ درپیش ہوا، ہم نے جلدی حل کر لیا، میں ہر ایک سے یہی کہتا ہوں کہ چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔

    دونوں رہنما شام میں سرکاری عشائیے میں بھی شریک ہوں گے جبکہ ٹرمپ تاریخی ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کریں گے، جہاں قدیم چینی شہنشاہ اچھی فصل کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے۔

    صدر ٹرمپ بدھ کی شب خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعےچین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تھے، ایلون مسک اور جینسن ہوانگ سمیت معروف کاروباری شخصیات بھی ان کے ہمراہ ہیں،یہ شخصیات ان بڑے تجارتی معاہدوں کی علامت سمجھی جارہی ہیں جن کی امید ٹرمپ اس دورے سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔

    بیجنگ کا یہ دورہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا پہلا دورۂ چین ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ 2017 میں اپنی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے ہمراہ چین آئے تھے مذاکرات میں زرعی تجارت، طیاروں کی خریداری، ٹیرف جنگ، ایران، تائیوان، مصنوعی ذہانت، نایاب معدنیات کی برآمدات اور دوطرفہ تجارتی تعلقات اہم موضوعات ہوں گے۔

    صدر ٹرمپ نے بیجنگ روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ شی جن پنگ پر زور دیں گے کہ امریکی کمپنیوں کے لیے چینی منڈیاں مزید کھولی جائیں تاکہ امریکی کارو باری شخصیات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرسکیں تاہم اس بار ٹرمپ کو ایک زیادہ مضبوط اور پراعتماد چین کا سامنا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے در میا ن تجارتی اور جغرافیائی سیاسی اختلافات اب بھی برقرار ہیں ایران کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہوگا کیونکہ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی صورتحال پر شی جن پنگ سے طویل گفتگو کریں گے،امریکا اور چین کے درمیان جاری تجارتی جنگ بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں سرفہرست ہے، گزشتہ برس ٹرمپ کے بھاری ٹیرف اقدامات کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر 100 فیصد سے زائد محصولات عائد کیے تھے۔

    دونوں رہنما جنوبی کوریا میں گزشتہ ملاقات کے دوران طے پانے والے ایک سالہ ٹیرف معاہدے میں توسیع پر گفتگو کریں گے، اگرچہ کسی حتمی معاہدے کی ضمانت موجود نہیں تائیوان کا معاملہ بھی بات چیت میں شامل ہوگا، ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ تائیوان کو امریکی اسلحہ فروخت کے معاملے پر بھی شی جن پنگ سے بات کریں گے، جس پر خطے کے اتحادی ممالک اور تائی پے کی گہری نظر ہوگی۔

  • یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    یو اے ای کی نیتن یاہو کے خفیہ دورے کی تردید

    ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے مبینہ خفیہ دورے نے خطے کی سیاست میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات اماراتی صدر شیخ محمد بن زید سے ہوئی ، تاہم متحدہ عرب امارات نے اس دورے کی تردید کی ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق نیتن یاہو اور محمد بن زید کی یہ ملاقات عمان کی سرحد کے قریب العین شہر میں ہوئی جو کئی گھنٹوں تک جاری رہی اور اس نے دونوں ممالک کے تعلقات میں تاریخی پیش رفت کی بنیاد رکھی –

    اس انکشاف پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کر نے والوں سے حساب لیا جائے گا انہوں نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ایک احمقانہ جوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام سے دشمنی کے لیے اسرا ئیل کے ساتھ گٹھ جوڑ ناقابلِ معافی ہے عباس عراقچی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو نے جو انکشاف کیا ہے، ایرانی سیکیورٹی ادارے بہت پہلے اس حوا لے سے قیادت کو آگاہ کر چکے تھے۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیرا علا نیہ یا خفیہ دوروں سے متعلق تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔

    اماراتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے بلکہ یہ ابراہم معاہدے کے تحت کھلے عام استوار کیے گئے ہیں یہ تعلقات کسی رازداری پر مبنی نہیں ہیں، اس لیے خفیہ ملاقاتوں کی باتیں حقیقت کے خلاف ہیں اس مبینہ دورے کے دوران دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پر بات چیت کی گئی تھی۔

    امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کو اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم فراہم کیا جس نے ایران کی جانب سے کیے گئے مبینہ حملوں کو روکنے میں مدد دی اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے سربراہ نے بھی سیکیورٹی تعاون کے سلسلے میں یو اے ای کے دورے کیے تھے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں ابراہم معاہدے کے تحت باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔

  • اسرائیلی ڈرون حملہ، بیروت سے جنوبی لبنان جانے والی شاہراہ پر 8 افراد شہید

    اسرائیلی ڈرون حملہ، بیروت سے جنوبی لبنان جانے والی شاہراہ پر 8 افراد شہید

    ‎عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کو جنوبی لبنان سے ملانے والی اہم شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد شہید ہو گئے۔ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائیاں شروع کر دیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق حملہ ایک مصروف شاہراہ پر کیا گیا جہاں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات میں شہداء کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
    ‎لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں مجموعی طور پر کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
    ‎لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے جبکہ شہری آبادی شدید خوف میں مبتلا ہے۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث لبنان اور اسرائیل کے درمیان صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جنگی صورتحال پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کا اعلان، امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی دھمکی

    ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کا اعلان، امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی دھمکی

    ‎ایرانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔ ایرانی حکام کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
    ‎ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں سفر کرنا ہوگا تاکہ “محفوظ آمدورفت” کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت ایرانی افواج کے “اسٹریٹجک کنٹرول” میں ہے۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کے مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔
    ‎بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ایران خطے میں کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی قومی سلامتی یا علاقائی استحکام کے خلاف ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اڈوں کے لیے اسلحہ یا فوجی سامان لے جانے والے جہازوں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔
    ‎ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران، امریکا و اسرائیل کے درمیان تنازع کے باعث اس اہم بحری راستے کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے “اسٹریٹجک کنٹرول” کے دعوے اور امریکی فوجی سامان کی ترسیل روکنے کی وارننگ خطے میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • بھارت کے سابق آرمی چیف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور

    بھارت کے سابق آرمی چیف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور

    بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) منوج مکند نروانے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے رہنما دتاتریہ ہوسابالے کے اس موقف کی تائید کی ہے جس میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔ سابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور روابط کی بحالی ہی بہتر دو طرفہ تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔
    جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تناؤ کم کرنے اور تعلقات کو پٹری پر لانے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، عوامی سطح پر میل جول اور مثبت تعلقات کے ذریعے ہی دونوں حکومتوں کے درمیان موجود سرد مہری کو ختم کیا جا سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو روشن کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل آر ایس ایس کے اہم رہنما نے بھی پاکستان کے ساتھ مکالمے کے حق میں بیان دیا تھا، جسے اب بھارتی عسکری قیادت کے سابق سربراہ کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔

  • ‎ضلع بارکھان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن: ‘فتنہ الہندوستان’ کے 7 دہشت گرد ہلاک

    ‎پاک فوج اور فرنٹیئر کونسٹیبلری (FC) بلوچستان کے دستوں نے ضلع بارکھان کے علاقے ‘نوشم’ میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر ایک منظم سرچ اور کلیئرنس آپریشن کا آغاز کیا۔ اس کارروائی کا بنیادی مقصد بھارت کی پشت پناہی حاصل کرنے والے دہشت گرد گروہ ‘فتنہ الہندوستان’ کے عناصر کا صفایا کرنا اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا تھا۔
    ‎آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز کا سامنا دہشت گردوں کے ایک گروہ سے ہوا، جس کے بعد دونوں اطراف سے شدید فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ‘فتنہ الہندوستان’ کے 7 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ ہلاک ہونے والے ان دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولہ بارود اور تباہ کن دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ہے۔
    ‎دہشت گردوں کے خلاف اس شدید معرکے میں وطنِ عزیز کے پانچ جانباز سپوتوں نے دشمن کا بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہداء میں پاکپتن سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ میجر توصیف احمد بھٹی، سکھر کے رہائشی 36 سالہ نائیک فدا حسین، سکردو کے 32 سالہ سپاہی ذاکر حسین، خانیوال کے 21 سالہ سپاہی سہیل احمد اور رحیم یار خان کے 24 سالہ سپاہی محمد ایاز شامل ہیں۔ ان جوانوں کی قربانی مادرِ وطن کے دفاع کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
    ‎نیشنل ایکشن پلان کی ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ ویژن ‘عزمِ استحکام’ کے تحت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف یہ مہم پوری قوت کے ساتھ جاری رہے گی۔ علاقے میں کسی بھی ممکنہ مفرور دہشت گرد کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ غیر ملکی سرپرستی میں کام کرنے والے ان عناصر کا مکمل خاتمہ کر کے ملک کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا جا سکے۔

  • جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز سکیورٹی مشن میں شمولیت پر غور کرنے لگا

    جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز سکیورٹی مشن میں شمولیت پر غور کرنے لگا

    ‎جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے عالمی کوششوں میں مرحلہ وار تعاون پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی بحری راستوں کی سکیورٹی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
    ‎جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے ملاقات میں سیول کا مؤقف پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا ایک ذمے دار عالمی رکن کے طور پر مختلف تعاون کے طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ممکنہ تعاون میں سیاسی حمایت، فوجی اہلکاروں کی محدود تعیناتی، انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ، اور فوجی سازوسامان کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر فوجی شرکت میں بڑے پیمانے پر اضافے سے متعلق کوئی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔
    ‎دوسری جانب جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر وی سنگ لاک نے کہا کہ سیول امریکا کی قیادت میں قائم “میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ” میں شمولیت کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎اس سے قبل فرانس، برطانیہ اور آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز میں سکیورٹی مشن میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی بڑھتی دلچسپی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بین الاقوامی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے کتنی اہم ہو چکی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق دنیا کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

  • چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا، خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے قریب لنگر انداز

    چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا، خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے قریب لنگر انداز

    ‎عراقی خام تیل لے جانے والا ایک چینی آئل ٹینکر کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج عمان پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
    ‎الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل سے لدا چینی جہاز “یوآن ہوا ہو” اس وقت خلیج عمان کے قریب لنگر انداز ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس مقام پر جہاز موجود ہے وہاں امریکی بحریہ نے ایرانی جہازوں کی نگرانی اور ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال شروع ہونے کے بعد یہ تیسرا چینی آئل ٹینکر ہے جس کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ‎خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صورتحال سے آگاہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے عراق اور پاکستان کے ساتھ مخصوص معاہدوں پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے معاہدوں کے امکانات تلاش کر رہے ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا اثر عالمی تیل منڈی اور معیشت پر فوری طور پر پڑتا ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی آئل ٹینکر کی محفوظ گزرگاہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی طاقتیں توانائی کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی کنٹرول کے باعث صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔

  • امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران

    امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران

    ‎ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی دھمکی آمیز پالیسی، اشتعال انگیز بیان بازی اور بے ایمانی خطے میں امن قائم ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی اصل وجہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدوں کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن چاہتا ہے، تاہم مسلسل دباؤ اور دھمکیوں سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نئے ضوابط تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران عالمی بحری قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال اور کسی بھی منظرنامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اگر دنیا واقعی “بربریت اور تسلط” کو مسترد کرتی ہے تو اسے ایران کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔
    ‎ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے امریکا پر تنقید اور دفاعی تیاریوں کے اعلانات خطے میں مزید تناؤ کا اشارہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو صورتحال عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی طاقتیں خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

  • آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز کے دفاعی مشن میں شامل، برطانیہ اور فرانس قیادت کریں گے

    آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز کے دفاعی مشن میں شامل، برطانیہ اور فرانس قیادت کریں گے

    ‎آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم کیے جانے والے کثیرالملکی دفاعی مشن میں شامل ہوگا۔ اس اعلان کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی بحری سلامتی کے معاملات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے 40 ممالک کے اجلاس کے بعد بتایا کہ آسٹریلیا اس مشن کے لیے اپنا جدید E-7A ویجٹیل نگرانی طیارہ فراہم کرے گا۔ یہ طیارہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات کو مبینہ ایرانی ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے تعینات ہے۔
    ‎رچرڈ مارلز نے کہا کہ آسٹریلیا ایک “آزاد، دفاعی اور کثیرالملکی فوجی مشن” کی حمایت کرے گا جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کریں گے۔ ان کے مطابق اس مشن کا مقصد عالمی بحری تجارت کے اہم راستے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
    ‎اس سے قبل برطانیہ بھی اعلان کر چکا ہے کہ وہ اس مشن کے لیے جدید خودکار مائن ہنٹنگ آلات، جنگی طیارے اور جنگی بحری جہاز روانہ کرے گا۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے ورچوئل اجلاس کے دوران کہا کہ یہ مشن مناسب حالات میں فعال کیا جائے گا اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
    ‎برطانیہ نے اس دفاعی مشن کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ بھی مختص کی ہے۔ یہ رقم جدید مائن ہنٹنگ ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق رائل نیوی کا جدید “Beehive” سسٹم بھی اس مشن کا حصہ ہوگا، جو تیز رفتار “Kraken” ڈرون کشتیوں کے ذریعے سمندری خطرات کی نگرانی اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎اس کے علاوہ برطانیہ ٹائفون جنگی طیارے بھی آبنائے ہرمز میں فضائی نگرانی کے لیے تعینات کرے گا جبکہ خصوصی مائن کلیئرنس ماہرین بھی مشن میں شامل ہوں گے۔ رائل نیوی کا جنگی جہاز HMS Dragon پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کے تحفظ کے لیے عالمی طاقتوں کی بڑھتی سرگرمیاں خطے کی کشیدہ صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔