Baaghi TV

Blog

  • پاکستانی پاسپورٹ کی نئی رینکنگ جاری، شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا جا سکیں گے؟

    پاکستانی پاسپورٹ کی نئی رینکنگ جاری، شہری کتنے ممالک میں بغیر ویزا جا سکیں گے؟

    ‎معروف عالمی ادارے ہینلے اینڈ پارٹنرز کی تازہ پاسپورٹ انڈیکس رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں 100ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ نئی رینکنگ کے بعد پاکستانی شہریوں کی عالمی سفری آزادی اب بھی محدود تصور کی جا رہی ہے۔
    ‎رپورٹ کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد دنیا کے تقریباً 30 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول سہولت کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ سہولت پاکستانی شہریوں کے لیے کچھ آسانی پیدا کرتی ہے، تاہم پاکستان اب بھی کمزور پاسپورٹس والے ممالک میں شمار ہو رہا ہے۔
    ‎کیریبین اور امریکی خطے میں پاکستانی شہری بارباڈوس، ڈومینیکا، ہیٹی، مونٹسیراٹ، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گرینیڈائنز اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو جیسے ممالک میں ویزا فری یا آن ارائیول سہولت سے سفر کر سکتے ہیں۔
    ‎افریقی ممالک میں کینیا، روانڈا، سینیگال، سیچلز، سیرالیون، مڈغاسکر، موریطانیہ، جبوتی، گیمبیا، کیپ وردے اور گنی بساؤ شامل ہیں جہاں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کو نسبتاً آسان سفری سہولت دستیاب ہے۔
    ‎ایشیائی خطے میں مالدیپ، نیپال، سری لنکا، کمبوڈیا اور تیمور لیسٹے پاکستانی شہریوں کو ویزا آن ارائیول یا محدود ویزا فری رسائی فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ اوشیانا کے ممالک کک آئی لینڈز، مائیکرونیشیا، نیوئی، پلاؤ، ساموا، ٹوالو اور وانواتو بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔
    ‎رپورٹ کے مطابق سنگاپور ایک بار پھر دنیا کا سب سے طاقتور پاسپورٹ قرار پایا ہے، جس کے شہری 192 ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات بھی طاقتور پاسپورٹس کی فہرست میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
    ‎جنوبی ایشیا میں بھارت 78ویں جبکہ بنگلہ دیش 96ویں نمبر پر موجود ہے۔ افغانستان دنیا کا سب سے کمزور پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے جو 103ویں نمبر پر ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی کسی ملک کے سفارتی تعلقات، معاشی استحکام اور عالمی اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اپنی سفارتی اور اقتصادی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • مشتاق احمد خان تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل

    مشتاق احمد خان تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل

    ‎سابق سینیٹر مشتاق احمد خان باضابطہ طور پر اپوزیشن اتحاد “تحریک تحفظ آئین پاکستان” میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ ان کی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ نے بھی اتحاد کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے۔
    ‎اس موقع پر اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مشتاق احمد خان کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے آئین، جمہوریت اور پارلیمانی بالادستی کی جدوجہد کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
    ‎ملاقات میں علامہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور حسن رضا سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے، جہاں ملک کی موجودہ سیاسی اور آئینی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
    ‎رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری اور آئین پسند قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔
    ‎اجلاس کے دوران قانون کی حکمرانی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اعلان کیا کہ وہ آئین اور جمہوریت کے دفاع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
    ‎مشتاق احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں آئینی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے متحدہ آواز کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر عوام کے حقوق اور آئین کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں گی۔
    ‎رہنماؤں نے اس موقع پر تمام آئین پسند سیاسی و سماجی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

  • دنیا کی سب سے مہنگی مرغی، قیمت سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    دنیا کی سب سے مہنگی مرغی، قیمت سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    ‎اگر کوئی آپ سے کہے کہ ایک مرغی کی قیمت لاکھوں روپے ہے اور اس کا ایک انڈا بھی ہزاروں میں فروخت ہوتا ہے تو شاید یقین کرنا مشکل ہو، مگر دنیا میں واقعی ایک ایسی نایاب مرغی موجود ہے جس کی قیمت سن کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
    ‎دنیا کی سب سے مہنگی مرغی “ایام سلیمانی” کہلاتی ہے، جو انڈونیشیا کی ایک انتہائی نایاب نسل ہے۔ اس مرغی کی سب سے حیران کن بات اس کا مکمل کالا رنگ ہے۔ اس کے صرف پر ہی نہیں بلکہ گوشت، جلد، چونچ، ہڈیاں اور حتیٰ کہ اندرونی اعضا بھی کالے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے “مرغیوں کی لیمبورگینی” بھی کہا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس مرغی کے مکمل کالے رنگ کی وجہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جسے “فائبرومیلا نوسس” کہا جاتا ہے۔ اس خاص جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس کے جسم میں میلانین کی مقدار عام مرغیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا پورا جسم سیاہ دکھائی دیتا ہے۔
    ‎ایام سلیمانی نہ صرف اپنی منفرد شکل بلکہ غذائیت کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے گوشت میں عام برائلر چکن کے مقابلے میں زیادہ پروٹین اور کم چکنائی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے، اسی لیے کئی لوگ اسے “سپر فوڈ” قرار دیتے ہیں۔
    ‎بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک اعلیٰ نسل کی ایام سلیمانی مرغی کی قیمت 5 ہزار سے 6 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 14 سے 17 لاکھ روپے بنتی ہے۔ حیران کن طور پر اس کا ایک انڈا بھی 4 سے 5 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہوتا ہے۔
    ‎انڈونیشیا میں اس مرغی کو صرف ایک نایاب پرندہ ہی نہیں بلکہ روحانی اور مقدس حیثیت بھی دی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں اسے مذہبی اور روایتی رسومات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نسل کی مرغی کی افزائش انتہائی مشکل ہے اور یہ کم تعداد میں انڈے دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمت آسمان کو چھوتی ہے اور دنیا بھر میں اسے شاہانہ شوق سمجھا جاتا ہے۔

  • ایک سال میں لوڈشیڈنگ ٹرانسفارمر سطح تک محدود کر دیں گے، اویس لغاری

    ایک سال میں لوڈشیڈنگ ٹرانسفارمر سطح تک محدود کر دیں گے، اویس لغاری

    ‎وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت نے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی کر دی ہے اور آئندہ ایک سال کے دوران بجلی بندش کے نظام کو مزید محدود کرتے ہوئے اسے فیڈرز کے بجائے ٹرانسفارمر کی سطح تک لے جایا جائے گا۔
    ‎قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں موجود 14 ہزار فیڈرز میں سے تقریباً 11 ہزار 500 فیڈرز پر زیرو لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، جبکہ صرف 3 ہزار فیڈرز ایسے ہیں جہاں بجلی کی بندش جاری ہے۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ حکومت بجلی چوری اور نادہندگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اب پورے فیڈر کو بند کرنے کے بجائے صرف ان علاقوں کے ٹرانسفارمر بند کیے جائیں گے جہاں بجلی چوری یا بلوں کی عدم ادائیگی کے مسائل موجود ہیں۔
    ‎وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کا مقصد ایمانداری سے بل ادا کرنے والے صارفین کو ریلیف دینا اور بجلی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
    ‎اویس لغاری نے آئی پی پیز کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نئے معاہدوں کے بعد تقریباً 3400 ارب روپے کے مالی معاملات بہتر کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ عوام پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔
    ‎انہوں نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سولر انرجی کی حوصلہ شکنی نہیں کر رہی بلکہ موجودہ پالیسیوں کی وجہ سے ہی ملک میں ہزاروں میگاواٹ سولر انرجی نصب ہوئی ہے۔
    ‎وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ سولر انرجی کا فروغ ایک مثبت پیش رفت ہے اور اگر کسی پالیسی میں عوام دشمن شق موجود ہے تو اس کی نشاندہی کی جائے تاکہ اس کا جائزہ لیا جا سکے۔

  • چینی کمپنی کا پاکستان میں بڑے صنعتی منصوبے کا اعلان، 20 ہزار ملازمتیں متوقع

    چینی کمپنی کا پاکستان میں بڑے صنعتی منصوبے کا اعلان، 20 ہزار ملازمتیں متوقع

    ‎پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ایک چینی کمپنی نے بڑے صنعتی منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے سے ملک میں 20 ہزار سے زائد نئی ملازمتیں پیدا ہونے کی توقع ہے جبکہ برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے چینی سرمایہ کاروں کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان کے صنعتی شعبے خصوصاً ٹیکسٹائل اور گارمنٹس انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اس موقع پر چینی کمپنی نے پاکستان میں ایک بڑے صنعتی منصوبے کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس کے ذریعے ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے سے سالانہ 400 سے 500 ملین ڈالر تک کی برآمدات متوقع ہیں، جو پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
    ‎وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے چینی سرمایہ کاروں کو حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت “ایز آف ڈوئنگ بزنس” کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں اصلاحات جاری ہیں تاکہ صنعتوں کی پیداواری لاگت کم کی جا سکے اور سرمایہ کاروں کو بہتر سہولیات فراہم ہوں۔
    ‎جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، نوجوان افرادی قوت اور صنعتی صلاحیت کی وجہ سے عالمی مینوفیکچرنگ کا ایک مضبوط مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎انہوں نے چینی وفد کو ہدایت کی کہ خصوصی صنعتی خام مال کی درآمد سے متعلق اپنی تجاویز وزارت تجارت کو پیش کریں تاکہ ان پر فوری عملدرآمد کیا جا سکے۔
    ‎چینی سرمایہ کاروں نے پاکستان میں اپنے کاروباری تجربات کو مثبت قرار دیتے ہوئے پاکستانی افرادی قوت کی صلاحیتوں کی تعریف کی۔ وفد کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی معیار کی مینوفیکچرنگ کے لیے ایک موزوں ملک ہے اور وہ مستقبل میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔

  • پنشنرز کیلئے نیا ڈیجیٹل ویریفکیشن سسٹم متعارف، رقم لینے سے پہلے تصدیق لازمی

    پنشنرز کیلئے نیا ڈیجیٹل ویریفکیشن سسٹم متعارف، رقم لینے سے پہلے تصدیق لازمی

    ‎وفاقی حکومت نے ملک بھر کے پنشنرز کے لیے پنشن کی ادائیگی کے نظام میں بڑی تبدیلی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ نئے نظام کے تحت اب پنشن حاصل کرنے سے پہلے پنشنرز کی بایومیٹرک اور فیشل ریکگنیشن کے ذریعے تصدیق کی جائے گی تاکہ صرف اہل افراد کو ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔
    ‎وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ جدید “ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹ سسٹم” نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا نے تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 17 لاکھ پنشنرز کی زندگی کی تصدیق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائے گی۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ پنشنرز کو اپنی زندگی کی تصدیق کے لیے فنگر پرنٹس اور چہرے کی شناخت کا عمل مکمل کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ایک موبائل ایپ بیسڈ “پروف آف لائف” سسٹم بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ بزرگ شہری آسانی سے گھر بیٹھے اپنی تصدیق کر سکیں۔
    ‎حکام کے مطابق بینکوں کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات پر نادرا کے سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ پنشن کی ادائیگی سے پہلے نادرا کے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ کے ذریعے اہل ہونے کی جانچ کی جائے گی۔
    ‎نئے نظام کے تحت شہری اپنی تصدیق کے لیے Pak ID ایپ استعمال کریں گے جبکہ بینک e-Sahulat ایپ کے ذریعے پنشنرز کی معلومات اور بایومیٹرک ویریفکیشن حاصل کریں گے۔
    ‎ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ وزیراعظم آفس کی ہدایات پر تیار کیا گیا ہے اور اس کے کئی مراحل مکمل بھی کیے جا چکے ہیں۔ بینکنگ سسٹم کے ساتھ مکمل انضمام کے بعد صرف مستحق اور زندہ پنشنرز کو ہی رقم جاری کی جائے گی۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ اس جدید نظام سے نہ صرف شفافیت میں اضافہ ہوگا بلکہ جعلی یا غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کی روک تھام بھی ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ دستی تصدیق کے عمل میں کمی آئے گی اور بزرگ شہریوں کو بار بار دفاتر اور بینکوں کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔

  • پنجاب میں سمر کیمپس کا شیڈول جاری، طلبا کیلئے صبح کے اوقات مقرر

    پنجاب میں سمر کیمپس کا شیڈول جاری، طلبا کیلئے صبح کے اوقات مقرر

    ‎پنجاب کے محکمہ تعلیم نے گرمیوں کی تعطیلات کے دوران طلبا کی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے اور نصاب بروقت مکمل کرنے کے لیے صوبے بھر میں سمر کیمپس کے انعقاد کا شیڈول جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے پیش نظر طلبا کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کلاسز صرف صبح کے اوقات میں منعقد کی جائیں گی۔
    ‎محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق سمر کیمپس روزانہ صبح 7:30 بجے سے 9:30 بجے تک جاری رہیں گے۔ ان کیمپسز کا مقصد طلبا کی تعلیمی سرگرمیوں کو برقرار رکھنا اور تعلیمی کیلنڈر کے مطابق نصاب مکمل کروانا ہے۔
    ‎صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ سمر کیمپس گرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوں گے اور محدود اوقات میں ایک ماہ تک جاری رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت طلبا کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی صحت اور حفاظت کو بھی اولین ترجیح دے رہی ہے۔
    ‎انہوں نے مزید کہا کہ شدید گرمی کی صورتحال کے باعث اوقات کار کو مختصر رکھا گیا ہے تاکہ بچوں کو ہیٹ ویو کے منفی اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎محکمہ تعلیم کے مطابق تمام اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سمر کیمپس کے دوران حفاظتی اقدامات یقینی بنائیں، جبکہ کلاس رومز میں مناسب وینٹیلیشن اور پینے کے صاف پانی کی دستیابی بھی لازم ہوگی۔
    ‎دوسری جانب نجی اسکولوں کی نمائندہ تنظیموں نے حکومت سے گرمیوں کی تعطیلات کا دورانیہ کم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نجی اسکولز کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ طویل تعطیلات سے طلبا کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، اس لیے تعطیلات کو محدود کیا جانا چاہیے۔
    ‎واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے شدید گرمی کی لہر کے باعث صوبے بھر کے اسکولوں میں 22 مئی سے 23 اگست تک گرمیوں کی تعطیلات کا اعلان کیا تھا، جبکہ تعلیمی ادارے 24 اگست سے دوبارہ کھولے جائیں گے۔

  • لاہور میں 4 کروڑ کی چوری کا معمہ حل، گھریلو ملازمہ ہی ماسٹر مائنڈ نکلی

    لاہور میں 4 کروڑ کی چوری کا معمہ حل، گھریلو ملازمہ ہی ماسٹر مائنڈ نکلی

    ‎لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں 4 کروڑ روپے مالیت کی بڑی نقب زنی کا معمہ پولیس نے حل کر لیا ہے۔ حیران کن طور پر واردات کی مرکزی ملزمہ گھر میں کام کرنے والی ملازمہ آمنہ نکلی، جس نے اپنے بہن بھائی کے ساتھ مل کر چوری کی منصوبہ بندی کی تھی۔
    ‎ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق نواب ٹاؤن پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزمہ آمنہ سمیت تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں آمنہ کی بہن جنت اور بھائی علی حسن بھی شامل ہیں۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ آمنہ کافی عرصے سے گھر میں ملازمت کر رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر کے معمولات، مالکن کی مصروفیات اور قیمتی سامان رکھنے کی خفیہ جگہوں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر لی تھیں۔
    ‎تحقیقات کے مطابق واردات کے روز گھر کی مالکن دیگر ملازمین کو چھٹی دے کر اپنے والد کے گھر گئی تھیں۔ واپسی پر انہوں نے دیکھا کہ گھر سے 80 تولے سونا اور 3 لاکھ روپے نقدی غائب تھی، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی اور مقدمہ درج کر لیا گیا۔
    ‎پولیس نے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کیں تو دورانِ تفتیش ملازمہ آمنہ کے بیانات میں تضاد سامنے آیا، جس سے اس پر شک مزید بڑھ گیا۔ مزید پوچھ گچھ اور تفتیش کے دوران ملزمہ نے مبینہ طور پر واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا۔
    ‎ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق ملزمان نے انتہائی منصوبہ بندی کے ساتھ چوری کی تھی اور زیورات و نقدی کو مختلف مقامات پر چھپایا گیا تھا۔ پولیس نے الکبیر ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے چوری شدہ طلائی زیورات اور نقد رقم برآمد کر لی ہے۔
    ‎پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس گروہ کا تعلق کسی اور واردات سے بھی ہے یا نہیں۔

  • بھارت میں تربوز کھانے کے بعد 12 سالہ بچے کی ہلاکت، تشویش میں اضافہ

    بھارت میں تربوز کھانے کے بعد 12 سالہ بچے کی ہلاکت، تشویش میں اضافہ

    ‎بھارت میں تربوز کھانے کے بعد ایک اور افسوسناک واقعے نے عوام میں تشویش بڑھا دی ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع جنجگیر چامپا کے گاؤں دھورکوٹ میں 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد فوڈ سیفٹی اور خوراک کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے کی شناخت اکھلیش دھیور کے نام سے ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام چاروں بچوں نے تربوز کھایا تھا، جس کے بعد رات کو چکن بھی کھایا گیا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد بچوں کی طبیعت اچانک خراب ہونا شروع ہو گئی۔
    ‎اہلِ خانہ کے مطابق اکھلیش کو شدید پیٹ درد، مسلسل قے اور متعدد بار اسہال کی شکایت ہوئی۔ ابتدا میں گھر والے بچے کا علاج گھر پر ہی کرتے رہے، لیکن رات بھر طبیعت خراب رہنے کے بعد اگلی صبح اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
    ‎گھر والوں نے فوری طور پر ایمبولینس طلب کی تاکہ بچے کو اسپتال منتقل کیا جا سکے، مگر افسوسناک طور پر اکھلیش راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
    ‎دیگر تین بچوں بھوپیندر دھیور، ہیمیش دھیور اور شری دھیور کو فوری طور پر جنجگیر کے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں علاج کے لیے داخل کر لیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تینوں بچوں کی حالت اب خطرے سے باہر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
    ‎ضلعی اسپتال میں تعینات ڈاکٹر اقبال حسین نے تصدیق کی کہ اکھلیش کو اسپتال لایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو ہفتے قبل ممبئی میں بھی تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی، جس کے بعد عوام میں خوف اور تشویش بڑھ گئی ہے۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں خراب یا کیمیکل ملے پھل صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو احتیاط سے پھل خریدنے اور صاف ستھرے ماحول میں محفوظ خوراک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • ‎لاہور ائیرپورٹ پر شراب اسمگلنگ کی کوشش ناکام، پی آئی اے افسر معطل

    ‎لاہور ائیرپورٹ پر شراب اسمگلنگ کی کوشش ناکام، پی آئی اے افسر معطل

    ‎علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ لاہور پر کسٹمز حکام نے مبینہ طور پر پروٹوکول کے نام پر شراب کی بوتلیں باہر لے جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔ واقعے میں ملوث پی آئی اے کے ایک افسر کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق دو روز قبل ایک بین الاقوامی پرواز کے ذریعے آنے والے مسافر کے سامان سے تقریباً 65 اعلیٰ معیار کی شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کے پیسنجر سروس افسر صفدر گوندل اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ مسافر کو پروٹوکول کے ذریعے کلیئر کروانے کے لیے پہنچے تھے۔
    ‎تاہم کسٹمز حکام نے مشکوک صورتحال پر کارروائی کرتے ہوئے بوتلیں ضبط کر لیں اور سامان کلیئر کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کارروائی کے دوران متعلقہ مسافر موقع سے فرار ہو گیا جبکہ صفدر گوندل اور ان کے ساتھی بھی ائیرپورٹ چھوڑ کر چلے گئے۔
    ‎بعد ازاں کسٹمز حکام نے واقعے سے متعلق پی آئی اے اسٹیشن منیجر کو آگاہ کیا، جس کے بعد جب متعلقہ افسران ڈیوٹی پر واپس آئے تو ان کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی۔ اسٹیشن منیجر نے دونوں افراد کے بیانات ریکارڈ کیے جبکہ ائیرپورٹ سکیورٹی فورس نے بھی اپنی الگ تحقیقات شروع کر دیں۔
    ‎تحقیقات کے دوران متعلقہ افسران کے ائیرپورٹ انٹری پاسز منسوخ کر دیے گئے اور انہیں ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا۔ حکام کے مطابق معاملے کی مکمل چھان بین جاری ہے اور ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
    ‎پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان نے تصدیق کی کہ متعلقہ افسر کو معطل کر دیا گیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مزید افراد بھی اس معاملے میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔