امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے اپنے رویے میں لچک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کسی تصفیے تک پہنچنے کے خواہاں ہیں۔ جنیوا مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ ایران کی موجودہ پالیسیوں سے خوش نہیں ہیں، تاہم مزید بات چیت کا دروازہ کھلا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم انہوں نے اس معاملے پر تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ فوجی طاقت کے استعمال کے حامی نہیں ہیں، لیکن قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اگر ضرورت پڑی تو یہ آپشن بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب، جنیوا مذاکرات کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی مثبت پیش رفت کا عندیہ دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، عراقچی نے مذاکرات کے دوران ہونے والی پیش رفت کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا کے ساتھ بات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ نکات پر تاحال اختلافات موجود ہیں، لیکن جوہری پروگرام اور پابندیوں کے حوالے سے ایک مفاہمت کا خاکہ تیار ہو چکا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق، یہ پیش رفت خطے کو ممکنہ جنگ اور بڑی تباہی سے بچانے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
Blog
-

ایران سے مزاکرات کرنا چاہتا ہوں : ڈونلڈ ٹرمپ
-

کالعدم ٹی ٹی پی، کے جی بی اور جے یو اے کی پاکستان بھر میں حملے تیز کرنے کی ہدایات جاری
کالعدم ٹی ٹی پی، کے جی بی اور جے یو اے نے پاکستان کے انسدادِ دہشت گردی اور سرحد پر کیے گئے ٹارگٹڈ آپریشنز کے ردِعمل میں اپنے کارندوں کو پاکستان بھر میں حملے تیز کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز برسوں سے اس لعنت کے خلاف نبرد آزما ہیں اور انہوں نے ان دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے شکست دے دی تھی، لیکن یہ گروہ افغان طالبان رجیم کی سرپرستی اور پناہ میں دوبارہ منظم ہوئے۔ اب پاکستان کی ریاست اور عوام کا ہر ایک فرد کا واضح اور غیر مبہم پیغام "ہم تیار ہیں” ہے۔ یہ گروہ پہلے کیا کر رہے تھے، کیا وہ چھٹیوں پر تھے؟ ہم ان "جہنمی کتوں” کو دوبارہ شکست دیں گے اور انہیں وہیں بھیجیں گے جہاں ان کا ٹھکانہ ہے۔
یہ صورتحال دہشت گرد گروہوں اور افغان طالبان رجیم کے درمیان گہرے اور اٹوٹ تعلق کو ثابت کرتی ہے، جو کہ دہشت گردی کے ایک مرکزی پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان نے اپنی پوزیشن بالکل واضح کر دی ہے: اگر پاکستان کے اندر ہونے والے کسی بھی دہشت گرد حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملے، تو پاکستان نہ صرف ان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا بلکہ ان ٹی ٹی اے (TTA) کارندوں اور ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنائے گا جو انہیں پناہ فراہم کرتے ہیں۔
یہ جنگ پاکستان کی خودمختاری اور قومی سلامتی کی جنگ ہے۔ پاکستان نے پہلے بھی ان عناصر کو شکست دی ہے اور اب بھی انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔ سرحد پار سے پناہ گاہیں فراہم کرنے اور دہشت گردی کو ہوا دینے کا سلسلہ اب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے تہیہ کر لیا ہے کہ دہشت گردی کے اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا، کیونکہ ان پناہ گاہوں کا خاتمہ ہی ملک میں دیرپا امن و امان کے قیام کو یقینی بنا سکتا ہے۔ -

آپریشن "غضب للحق”: پاک فوج کا بھرپور جوابی وار، افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹیں تباہ
افغان طالبان کی جانب سے بلا اشتعال جارحیت کے بعد پاکستان کی مسلح افواج نے نہایت مؤثر اور منہ توڑ جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جو تاحال پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک فوج کی جانب سے سرحد پار سے ہونے والی اشتعال انگیزی کا جواب دیتے ہوئے دشمن کے ٹھکانوں کو ٹھیک نشانے پر لیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹوں کو نشانہ بنا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اس کارروائی میں جو اہم تنصیبات تباہ کی گئی ہیں ان میں آریانہ کمپلیکس، دبگئی چیک پوسٹ، پولیس ہیڈکوارٹر اور ذاکر خیل پوسٹ شامل ہیں۔
پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور جارحانہ جواب کے نتیجے میں افغان طالبان فورسز کو پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور وہ اپنی چیک پوسٹیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ آپریشن "غضب للحق” تاحال جاری ہے اور اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یہ کارروائی اپنے طے شدہ اہداف کے حصول تک بلا تعطل جاری رہے گی۔ -

24 گھنٹے میں یوٹرن: پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے بعد افغان طالبان رجیم کی مذاکرات کی اپیل
پاکستان کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا آغاز کرنے والی افغان طالبان رجیم نے محض 24 گھنٹے کے مختصر وقت میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔ سرحد پر شدید کشیدگی اور پاک فوج کی جانب سے موثر جوابی کارروائی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ طالبان رجیم نے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے فوری طور پر سفارتی راستہ اختیار کرنے کو ہی اپنی بقا سمجھا ہے۔
اس حوالے سے افغان طالبان رجیم کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپنے مؤقف میں غیر متوقع لچک پیدا کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان پہلے بھی امن کے لیے پاکستان سے مذاکرات کا حامی رہا ہے اور موجودہ لڑائی کے تناظر میں بھی ان کا یہ ماننا ہے کہ تنازع کے حل کا واحد اور حتمی راستہ صرف اور صرف مذاکرات ہی ہیں۔
کشیدگی کو کم کرنے کی غرض سے افغان طالبان رجیم نے سفارتی محاذ پر بھی سرگرمی دکھائی ہے۔ افغانستان کے نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقی نے قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔ قطری وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس گفتگو میں پاک افغان سرحد پر پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے طریقہ کار اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کو فروغ دینے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ -

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی پر حماس کا اظہارِ تشویش اور مذاکرات پر زور
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں برادر اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کریں اور تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔ حماس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے لیے افہام و تفہیم کا راستہ اپنانا انتہائی ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے بڑے نقصان سے بچا جا سکے اور خطے میں امن قائم رہ سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کو جوڑنے والے رشتے اور اقدار کسی بھی عارضی اختلاف سے کہیں زیادہ اہم اور پائیدار ہیں، اس لیے فریقین کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام تر توانائیاں امن و استحکام کے قیام پر مرکوز رکھیں۔ حماس نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور خطے کو غیر ضروری تناؤ سے دور رکھا جائے۔
حماس نے اپنے بیان میں ایک اہم جغرافیائی اور سیاسی نکتے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب صیہونی ریاست غزہ میں اپنے مظالم اور جرائم کے بعد عالمی تنہائی سے نکلنے اور نئے اتحاد بنانے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے، امتِ مسلمہ کو باہمی اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ تنظیم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ موجودہ عالمی حالات کا تقاضا ہے کہ اسلامی ممالک آپس میں الجھنے کے بجائے باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ -

تازہ ترین اپ ڈیٹ: آپریشن "غضب للحق” مہمند سیکٹر میں جوابی کارروائی جاری
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، مہمند سیکٹر میں افغان طالبان رجیم کی بلا اشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج کی جوابی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری ہیں۔
میدانِ جنگ کی تازہ ترین صورتحال:
چیک پوسٹ کی تباہی: سیکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مہمند سیکٹر کے قریب واقع افغان چیک پوسٹ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔
عزم اور استقامت: پاک فوج اپنی مادرِ وطن کی سلامتی کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔
بین الاقوامی قوانین کا احترام: سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستانی افواج عالمی قوانین اور جنگی اصولوں کی مکمل پاسداری کر رہی ہیں، اور ان کارروائیوں میں صرف اور صرف افغان فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
آپریشن کا دائرہ کار: آپریشن "غضب للحق” تاحال جاری ہے اور سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سلسلہ اپنے طے شدہ اہداف کے حصول تک بلا تعطل جاری رہے گا۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحد پر مکمل کنٹرول برقرار رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی مزید جارحیت کو کچلنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔ -
آپریشن "غضب للحق”: پاک فوج کی جوابی کارروائی، دشمن کو بھاری نقصان، 274 دہشت گرد ہلاک
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آپریشن "غضب للحق” کے حوالے سے تفصیلی پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا یہ آپریشن مکمل طور پر عوام کے تحفظ اور ملکی سلامتی کے لیے ہے، جسے دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ افغان طالبان رجیم اور دہشت گردوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی شب پاک فوج نے بارڈر کے قریب فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ افغان طالبان رجیم نے اس کو بنیاد بنا کر پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی اور 15 سیکٹرز کے 53 مختلف مقامات پر فائرنگ کی، تاہم پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام 53 مقامات پر ان حملوں کو کامیابی سے پسپا کیا۔
آپریشن کے دوران دشمن کو پہنچنے والے نقصانات کی تفصیل درج ذیل ہے:
جانی نقصان: افغان رجیم کے 274 اہلکار اور خوارج ہلاک، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔
تنصیبات: دشمن کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں۔
قبضہ: پاک فوج نے دشمن کی 18 چوکیاں اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔
ساز و سامان: دشمن کے 115 ٹینک اور بکتربند گاڑیاں تباہ کر دی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ہماری افواج نے انتہائی احتیاط اور پیشہ ورانہ مہارت سے صرف عسکری اہداف اور دہشت گردوں کے اسلحہ ڈپوز کو نشانہ بنایا۔
فضائی کارروائی: پاک فضائیہ نے کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو تباہ کیا، جس کے بعد کابل کی فضا میں ہونے والے دھماکے پوری دنیا نے دیکھے۔ اسی طرح قندھار میں بھی دشمن کے بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔
ڈرون حملے ناکام: ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں دراندازی کے لیے کیے گئے ڈرون حملوں کی کوششوں کو بروقت ناکام بنا دیا گیا۔
ٹارگٹڈ سٹرائیکس: کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں کے 22 ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، جہاں سے دہشت گرد اپنے ساتھیوں کی لاشیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
اس آپریشن کے دوران پاک فوج کے 12 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 27 جوان زخمی ہوئے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے شہدا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے دفاع کا حق بخوبی محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے ہر دم تیار ہے۔ -

گوجر خان سرکل میں زیادتی، قتل و دیگر واقعات
پنجاب بھر میں سی سی ڈی کے دھواں دار ایکشن، مگر سرکل گوجرخان میں خطرناک مجرم بے لگام، متاثرین پر دباؤ اور نام نہاد صلح کا مکروہ کھیل جاری
بچے اور خواتین غیر محفوظ سنگین جرائم پر عوامی حلقوں کا وزیر اعلیٰ مریم نواز اور سربراہ سی سی ڈی سے فوری سخت نوٹس لینے کا مطالبہ
گوجرخان (قمرشہزاد) سرکل گوجرخان میں خواتین اور معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا۔ عوامی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو لگام ڈالنے کے لیے جہاں پنجاب کے دیگر اضلاع و تحصیلوں میں سی سی ڈی متحرک کردار ادا کر رہی ہے، وہیں تحصیل گوجرخان میں سنگین جرائم کے باوجود سی سی ڈی کی عدم موجودگی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق جنسی درندگی، قتل و غارت، منشیات فروشی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے سے مجرموں کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دیگر شہروں میں سی سی ڈی کے خوف سے بڑے بڑے جرائم پیشہ عناصر قانون کے شکنجے میں آتے ہیں، مقابلے ہوتے ہیں اور سخت کارروائیاں دیکھنے میں آتی ہیں، مگر گوجرخان میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ سی سی ڈی کی عدم فعالیت کے باعث متاثرین کو دباؤ میں لا کر نام نہاد سفید پوشوں کی جانب سے صلح صفائی یا بھاری رقوم کے عوض معاملات نمٹانے کی کوششیں کی جاتی ہیں، جس سے انصاف کا نظام کمزور اور جرائم پیشہ عناصر مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو سرکل گوجرخان میں سی سی ڈی کا وہ رعب اور خوف، جو جرائم کی بیخ کنی میں مؤثر ثابت ہوتا ہے، مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔ عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سربراہ سی سی ڈی سہیل ظفر چھٹہ سے مطالبہ کیا ہے کہ تحصیل گوجرخان میں فوری طور پر سی سی ڈی کو متحرک کیا جائے اور زیادتی جیسے حساس اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جائیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمارے بچے اور خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں اور آئے روز بڑھتے واقعات لمحہ فکریہ بن چکے ہیں۔ عوام نے واضح کیا کہ اگر بروقت اور سخت اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان کو بھی وہی توجہ اور تحفظ دیا جائے جو پنجاب کے دیگر اضلاع کو حاصل ہے، تاکہ عوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
-

پاکستان کا جارحیت کا بھرپور جواب :وزیراعظم شہباز شریف کا جی ایچ کیو کا دورہ
راولپنڈی: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہیں عسکری قیادت کی جانب سے پاک-افغان سرحد کی تازہ ترین صورتحال اور قومی سلامتی کے امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان رجیم کے مبینہ گٹھ جوڑ اور پاکستان کے خلاف جاری شرپسند کارروائیوں پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ پاکستان اس صورتحال پر "زیرو ٹالرنس” (Zero Tolerance) کی پالیسی اپنائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کی حدود میں ہونے والی کارروائیاں کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہیں۔
وزیراعظم نے سرحدی علاقوں میں افغان رجیم کی جانب سے حملوں کو کامیابی سے پسپا کرنے پر پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری افواج سرحدوں کے تقدس کو برقرار رکھنے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں۔ وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زیرِ قیادت افواجِ پاکستان ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ "پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔” انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑی ہے اور ارضِ وطن کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ -

رمضان کا تقدس پامال کرنے پر پڑوسی ملک کی جارحیت کا بھرپور جواب: شاہد آفریدی کا پاک فوج کو خراجِ تحسین
کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور لیجنڈری آل راؤنڈر شاہد خان آفریدی نے آپریشن "غضب للحق” کے حوالے سے پاک فوج کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
شاہد آفریدی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ پڑوسی ملک نے رمضان المبارک جیسے بابرکت مہینے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے پاکستان پر حملہ کیا، جس کا ہماری بہادر افواج نے منہ توڑ اور بھرپور جواب دیا ہے۔
سابق کپتان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ اپنے مسائل کو پرامن طریقے سے حل کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات، سفارتکاری اور تمام ممکنہ پرامن ذرائع استعمال کیے گئے۔
شاہد آفریدی کے مطابق، دیگر برادر اسلامی ممالک نے بھی اس کشیدگی کو کم کرنے اور فریقین کو سمجھانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، مگر بدقسمتی سے تمام تر خلوص اور کاوشوں کے باوجود سرحد پار سے دراندازی اور جارحیت کا سلسلہ نہ رک سکا۔
شاہد آفریدی نے اپنے بیان کے آخر میں جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "بحیثیت مسلمان، میری اور تمام مسلمانوں کی یہ دلی دعا اور آرزو ہے کہ رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں ہم سب اپنی توجہ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر مرکوز رکھیں، نہ کہ ایک دوسرے کا خون بہانے میں۔”