بھارت میں تربوز کھانے کے بعد ایک اور افسوسناک واقعے نے عوام میں تشویش بڑھا دی ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع جنجگیر چامپا کے گاؤں دھورکوٹ میں 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد فوڈ سیفٹی اور خوراک کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے کی شناخت اکھلیش دھیور کے نام سے ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام چاروں بچوں نے تربوز کھایا تھا، جس کے بعد رات کو چکن بھی کھایا گیا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد بچوں کی طبیعت اچانک خراب ہونا شروع ہو گئی۔
اہلِ خانہ کے مطابق اکھلیش کو شدید پیٹ درد، مسلسل قے اور متعدد بار اسہال کی شکایت ہوئی۔ ابتدا میں گھر والے بچے کا علاج گھر پر ہی کرتے رہے، لیکن رات بھر طبیعت خراب رہنے کے بعد اگلی صبح اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
گھر والوں نے فوری طور پر ایمبولینس طلب کی تاکہ بچے کو اسپتال منتقل کیا جا سکے، مگر افسوسناک طور پر اکھلیش راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
دیگر تین بچوں بھوپیندر دھیور، ہیمیش دھیور اور شری دھیور کو فوری طور پر جنجگیر کے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں علاج کے لیے داخل کر لیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تینوں بچوں کی حالت اب خطرے سے باہر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
ضلعی اسپتال میں تعینات ڈاکٹر اقبال حسین نے تصدیق کی کہ اکھلیش کو اسپتال لایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو ہفتے قبل ممبئی میں بھی تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی، جس کے بعد عوام میں خوف اور تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں خراب یا کیمیکل ملے پھل صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو احتیاط سے پھل خریدنے اور صاف ستھرے ماحول میں محفوظ خوراک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بھارت میں تربوز کھانے کے بعد 12 سالہ بچے کی ہلاکت، تشویش میں اضافہ
