سابق سینیٹر مشتاق احمد خان باضابطہ طور پر اپوزیشن اتحاد “تحریک تحفظ آئین پاکستان” میں شامل ہو گئے ہیں، جبکہ ان کی جماعت پاکستان رائٹس موومنٹ نے بھی اتحاد کا حصہ بننے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس موقع پر اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے مشتاق احمد خان کی شمولیت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے آئین، جمہوریت اور پارلیمانی بالادستی کی جدوجہد کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔
ملاقات میں علامہ ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور حسن رضا سمیت دیگر سیاسی رہنما بھی شریک ہوئے، جہاں ملک کی موجودہ سیاسی اور آئینی صورتحال پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور پارلیمنٹ کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری اور آئین پسند قوتوں کو متحد ہونا ہوگا۔
اجلاس کے دوران قانون کی حکمرانی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ شرکاء نے اعلان کیا کہ وہ آئین اور جمہوریت کے دفاع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
مشتاق احمد خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں آئینی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے متحدہ آواز کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر عوام کے حقوق اور آئین کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں گی۔
رہنماؤں نے اس موقع پر تمام آئین پسند سیاسی و سماجی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
مشتاق احمد خان تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل
