ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں اسرائیل سے منسلک پانچ منظم نیٹ ورکس کو ختم کر دیا گیا ہے، جبکہ کارروائیوں کے دوران 20 مشتبہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارتِ انٹیلی جنس نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ نیٹ ورکس مبینہ طور پر “صیہونی حکومت” سے رابطے میں تھے اور ملک کے مختلف علاقوں میں تخریبی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اداروں نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے ان گروپس کو بے نقاب کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ گرفتار کیے گئے افراد سے بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد، اسلحہ اور دیگر حساس سامان بھی برآمد کیا گیا ہے۔ وزارتِ انٹیلی جنس کے مطابق ملزمان سے تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے مبینہ روابط اور منصوبوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔
ایرانی حکام نے اس کارروائی کو ملکی سلامتی کے لیے اہم کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی ادارے بیرونی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل متحرک ہیں۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ایران کے اندر کسی بھی قسم کی تخریبی کارروائی یا جاسوسی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایسے دعوے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر مختلف حملوں، سائبر کارروائیوں اور خفیہ سرگرمیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایرانی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث سکیورٹی خدشات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایرانی حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسرائیل سے منسلک 5 نیٹ ورکس ختم، 20 افراد گرفتار
