امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی عوامی احتجاج کرے گی جبکہ ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کا آپشن بھی زیر غور ہے۔ انہوں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کے حساب سے پاکستان میں پیٹرول کی اصل قیمت تقریباً 271 روپے فی لیٹر بنتی ہے، مگر حکومت مختلف لیوی اور ٹیکسز کی مد میں 117 روپے وصول کر رہی ہے، جس کے بعد عوام کو مہنگا پیٹرول خریدنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور بنگلا دیش میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتنا اضافہ نہیں ہوا تو پھر پاکستان میں ہی عوام پر اضافی بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی صورتحال یا عالمی بحران کا اثر صرف پاکستانی عوام پر ڈالنا ناانصافی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی اور گیس کے بلوں میں شامل فکس چارجز کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں عوام سے بجلی کے ٹیکسز کی مد میں 19 کھرب روپے وصول کیے گئے، جس نے عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔
انہوں نے آئی پی پیز معاہدوں پر بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکومت صرف چند آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں میں تبدیلی کر رہی ہے جبکہ باقی معاہدوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمران طبقہ اپنے مفادات کے لیے مہنگے معاہدوں کو طول دینا چاہتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ 15 مئی کو اسلام آباد میں مہنگائی کے خلاف بڑا احتجاج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو ملک گیر ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال جیسے آپشنز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا بڑا احتجاج، ہڑتال کا عندیہ
