Baaghi TV

ایران جنگ کے اثرات، امریکا میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

‎ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے اثرات اب امریکی معیشت پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ امریکا میں مہنگائی کی شرح گزشتہ تین برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ پیٹرول اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے عوام اور معیشت دونوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
‎امریکی محکمہ محنت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں ختم ہونے والے سال کے دوران کنزیومر پرائس انڈیکس یعنی سی پی آئی کی شرح 3.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل مارچ میں یہ شرح 3.3 فیصد جبکہ فروری میں 2.4 فیصد تھی۔ ماہرین کے مطابق مہنگائی میں اس تیزی سے اضافے کی بڑی وجہ توانائی کے شعبے میں بڑھتی قیمتیں ہیں۔
‎رپورٹ میں بتایا گیا کہ صرف اپریل کے مہینے میں مہنگائی میں ماہانہ بنیاد پر 0.6 فیصد اضافہ ہوا، جس میں سب سے زیادہ کردار پیٹرول اور دیگر توانائی مصنوعات کی مہنگی قیمتوں نے ادا کیا۔
‎اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں گزشتہ ماہ پیٹرول کی قیمتوں میں 5.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایک سال کے دوران پیٹرول تقریباً 30 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے ٹرانسپورٹ، خوراک اور دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔
‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات عالمی مارکیٹ میں بے چینی پیدا کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا سمیت کئی ممالک میں مہنگائی بڑھ رہی ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق ستمبر 2023 کے بعد یہ مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر سب سے بڑا اضافہ ہے۔ امریکی عوام پہلے ہی بڑھتے اخراجات اور بلند شرح سود کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ اب پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران سے متعلق تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تیل مارکیٹ میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس کے اثرات براہ راست امریکی اور عالمی معیشت پر پڑیں گے۔

More posts