Baaghi TV

Blog

  • معطل خاتون تحصیل دار کے گھر سے  کروڑوں روپے نقد، ہیرے اور سونا برآمد

    معطل خاتون تحصیل دار کے گھر سے کروڑوں روپے نقد، ہیرے اور سونا برآمد

    بھارت کے شہر حیدرآباد میں تعینات معطل تحصیل دار اور جوائنٹ سب رجسٹرار تھمَاکما سچریتا ایک بڑے مالیاتی اسکینڈل میں گھِر گئی ہیں۔

    انسدادِ بدعنوانی بیورو (اینٹی کرپشن بیورو) نے ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کے الزام میں مقدمہ درج کرتے ہوئے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جہاں سے 5.05 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق تھمَاکما سچریتا پہلے ہی 30 لاکھ روپے رشوت لینے کے ایک مقدمے میں گرفتار ہو چکی ہیں اور اس وقت پولیس کی تحویل میں ہیں۔ تازہ کارروائی میں اینٹی کرپشن بیورو نے ان کی رہائش گاہ کے علاوہ ان کے قریبی رشتہ داروں اور مبینہ طور پر ان سے منسلک دیگر مقامات کی بھی تلاشی لی۔حکام کے مطابق چھاپوں کے دوران 2.17 ایکڑ زرعی زمین، حیدرآباد میں 3 فلیٹس، 2 رہائشی پلاٹس، ایک ووکس ویگن گاڑی، ایک ہنڈائی کریٹا، تقریباً 1.2 کروڑ روپے مالیت کے سونے اور ہیرے کے زیورات، 12 لاکھ روپے نقد رقم اور بینک اکاؤنٹس میں موجود 38 لاکھ روپے کی نشاندہی کی گئی۔

    انسدادِ بدعنوانی بیورو کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق خاتون افسر نے سرکاری ملازمت کے دوران اپنی معلوم آمدن سے کہیں زیادہ مالیت کے اثاثے جمع کیے، جس پر ان کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے اثاثوں کی مالیت اور ذرائع آمدن کا مزید جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔ اگر تحقیقات میں مزید شواہد سامنے آئے تو مقدمے میں نئی دفعات بھی شامل کی جا سکتی ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اینٹی کرپشن بیورو اس بات کا بھی جائزہ لے رہا ہے کہ آیا مذکورہ جائیدادیں اور دیگر اثاثے کسی اور کے نام پر خریدے گئے تھے یا نہیں، تاکہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مکمل نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔

  • ایران کا اسرائیلی طیاروں کو فضائی حدود کے استعمال بارے انتباہ

    ایران کا اسرائیلی طیاروں کو فضائی حدود کے استعمال بارے انتباہ

    ایران کے خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیلی فوجی طیارے پڑوسی ممالک کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایران کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں تو انہیں ایران کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ تصور کیا جائے گا۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق جمعے کو جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ہیں اور ایران انہیں اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف کارروائی تصور کرتا ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کو بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی سرحدوں اور سلامتی کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، لہٰذا اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو تہران مناسب اور مؤثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں امریکا کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن اسرائیلی کارروائیوں کو روکنے یا ان پر مؤثر کنٹرول قائم کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ایران اپنی سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ایران اپنے خلاف کسی بھی قسم کے خطرے یا جارحانہ اقدام کو نظر انداز نہیں کرے گا اور ایسے اقدامات کا جواب دینا اپنا قانونی اور جائز حق سمجھتا ہے۔

  • جنگ کوک کے گھر کی 133 بار بیل بجانے والی خاتون کو سزا

    جنگ کوک کے گھر کی 133 بار بیل بجانے والی خاتون کو سزا

    جنوبی کوریا میں عالمی شہرت یافتہ پاپ بینڈ بی ٹی ایس کے رکن جنگ کوک کے گھر بار بار جانے اور پولیس کی متعدد وارننگز کو نظر انداز کرنے والی ایک برازیلین خاتون کو عدالت نے ایک سال قید کی سزا سنا دی۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عدالت نے خاتون کو اس بنیاد پر سزا سنائی کہ وہ پولیس کی واضح ہدایات کے باوجود مسلسل جنگ کوک کی رہائش گاہ پر جاتی رہیں اور ان کی نجی زندگی میں مداخلت کرتی رہیں۔ خاتون کی شناخت قانونی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئی۔رپورٹس کے مطابق یہ خاتون پہلی مرتبہ گزشتہ سال دسمبر میں جنگ کوک کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے گھر پہنچی، جہاں اس نے مبینہ طور پر گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی اور تصاویر اور خطوط پھینک کر ہنگامہ آرائی کی۔بعد ازاں 13 دسمبر کو خاتون ایک فوڈ ڈیلیوری ورکر کے پیچھے پیچھے جنگ کوک کی رہائش گاہ تک پہنچ گئی اور مبینہ طور پر گلوکار کے گھر کی گھنٹی 133 مرتبہ بجائی، جس پر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ تاہم ایک روز بعد اسے سخت وارننگ کے ساتھ رہا کر دیا گیا اور واضح ہدایت دی گئی کہ وہ دوبارہ جنگ کوک کے گھر کے قریب نہ جائے۔

    اس کے باوجود خاتون نے پولیس کی ہدایات کو نظر انداز کیا اور مسلسل جنگ کوک کی رہائش گاہ کے چکر لگاتی رہی۔ پولیس نے متعدد بار روکنے کی کوشش کی، لیکن رویے میں تبدیلی نہ آنے پر فروری میں مقدمہ پراسیکیوٹرز کے حوالے کر دیا گیا۔عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے بتایا کہ خاتون مجموعی طور پر تقریباً 22 مرتبہ جنگ کوک کی رہائش گاہ پر گئی، جسے عدالت نے ہراسانی اور پولیس احکامات کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیا۔عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد خاتون کو ایک سال قید کی سزا سنائی۔ رپورٹس کے مطابق اگر خاتون کی جانب سے فیصلے کے خلاف دائر کی جانے والی ممکنہ اپیل مسترد ہو جاتی ہے تو سزا مکمل ہونے کے بعد انہیں جنوبی کوریا سے بے دخل کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

  • شادی سے قبل نازیبا تصاویر وائرل ہونے پر دلہن نے والدین سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیا

    شادی سے قبل نازیبا تصاویر وائرل ہونے پر دلہن نے والدین سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیا

    بھارتی ریاست کرناٹک کے ضلع میسور میں شادی سے چند روز قبل پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی۔

    مبینہ طور پر نجی تصاویر لیک ہونے اور شادی ٹوٹنے کے خدشے کے باعث 21 سالہ دلہن نے اپنے والدین کے ساتھ زہر کھا کر خودکشی کر لی۔پولیس کے مطابق 24 جون کو شادی کے بندھن میں بندھنے والی نوجوان لڑکی اور اس کے اہل خانہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھے، تاہم ایک نوجوان کی جانب سے لڑکی کی برہنہ تصاویر اس کے منگیتر کو بھیجے جانے کے بعد حالات اچانک تبدیل ہو گئے۔ تصاویر سامنے آنے کے بعد دلہن اور اس کے منگیتر کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے جبکہ دونوں خاندانوں کے تعلقات بھی کشیدہ ہو گئے۔پولیس تحقیقات کے مطابق الاس گوڑا نامی نوجوان لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا اور مبینہ طور پر کافی عرصے سے اسے ہراساں کر رہا تھا۔ اہل خانہ نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی تھی، جس پر وہ ناراض تھا۔

    تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ 21 جون کو لڑکی کے والدین نے الاس گوڑا اور اس کے والدین کو اپنے گھر بلا کر معاملہ حل کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران نوجوان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے موبائل فون میں موجود لڑکی کی برہنہ ،نازیبا تصاویر اور پیغامات حذف کر دے، تاہم الزام ہے کہ اس نے چند تصاویر محفوظ رکھیں اور بعد ازاں وہ تصاویر لڑکی کے منگیتر کو بھیج دیں۔پولیس کے مطابق اس واقعے کے بعد شادی ٹوٹنے کا خدشہ پیدا ہو گیا، جس کے باعث پورا خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گیا۔ بعد ازاں لڑکی، اس کی 44 سالہ والدہ اور 54 سالہ والد نے اپنے گاؤں کیمپینہونڈی میں مبینہ طور پر زہر کھا لیا۔تینوں افراد کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم ڈاکٹر انہیں بچانے میں ناکام رہے اور تینوں دم توڑ گئے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک مبینہ سوسائڈ نوٹ بھی ملا ہے، جس میں الاس گوڑا کو ان اموات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ نوٹ کی فرانزک جانچ سمیت دیگر شواہد کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔واقعے کے بعد پولیس نے ملزم الاس گوڑا کے خلاف خودکشی پر اکسانے سمیت متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم فرار ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • شادی پر  14 کروڑ بھارتی روپے خرچ  کرنے کا منصوبہ”وڑ”گیا،منگیتر نے نوجوان کی جان لے لی

    شادی پر 14 کروڑ بھارتی روپے خرچ کرنے کا منصوبہ”وڑ”گیا،منگیتر نے نوجوان کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر پونے میں ایک نوجوان کاروباری شخصیت کی پراسرار موت نے ایسا رخ اختیار کر لیا ہے کہ یہ واقعہ اب ملک کے سب سے زیادہ زیرِ بحث ہائی پروفائل قتل کیسز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ابتدا میں اس واقعے کو ایک افسوسناک حادثہ قرار دیا جا رہا تھا، تاہم پولیس تحقیقات کے بعد سامنے آنے والے دعوؤں نے اس معاملے کو محبت، دھوکے، مبینہ سازش اور قتل کی سنسنی خیز کہانی میں تبدیل کر دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق 26 سالہ کاروباری شخصیت کیتن اگروال کی موت 18 جون کو لوہا گڑھ قلعے پر گہری کھائی میں گرنے سے ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر یہ تاثر دیا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے، تاہم تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن کے بعد پولیس نے اسے مبینہ منصوبہ بند قتل قرار دیتے ہوئے مقتول کی منگیتر 20 سالہ سیا گوئل اور اس کے مبینہ دوست چیتن چودھری کو گرفتار کر لیا۔کیتن اگروال کی موت کے فوراً بعد سیا گوئل نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا تھا، جس میں اس نے لکھا تھا کہ "تم مجھے میری سالگرہ پر چھوڑ گئے، واپس آ جاؤ۔” اس پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ہمدردی کی لہر دوڑا دی تھی، لیکن چند روز بعد پولیس کی تحقیقات نے اس واقعے کو ایک بالکل نئے زاویے سے پیش کر دیا۔

    لوناؤلہ دیہی پولیس کے تفتیشی افسر دنیش تیاڈے کے مطابق واقعے کے ابتدائی مرحلے میں ہی کئی تضادات سامنے آ گئے تھے۔ پولیس نے موبائل فون ریکارڈ، دونوں ملزمان کی نقل و حرکت اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا، جس کے بعد شبہ مزید مضبوط ہوا کہ کیتن اگروال کی موت حادثاتی نہیں بلکہ مبینہ طور پر قتل کا نتیجہ تھی۔تحقیقات کے مطابق سیا گوئل نے کیتن اگروال کو لوہا گڑھ قلعے پر آنے کے لیے آمادہ کیا، جبکہ چیتن چودھری پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دونوں نے مل کر کیتن کو گہری کھائی میں دھکا دیا اور بعد ازاں اس واقعے کو حادثاتی موت ثابت کرنے کی کوشش کی۔پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی کئی ہفتے پہلے شروع ہو چکی تھی۔ تحقیقات کے مطابق 31 مئی کو سیا گوئل اور کیتن پہلی مرتبہ ٹریکنگ کے لیے اسی مقام پر گئے تھے، جہاں مبینہ طور پر منصوبہ بنایا گیا۔ اس کے بعد 14 جون کو دونوں دوبارہ قلعے پہنچے، جہاں فوٹو شوٹ کے دوران سیا نے مبینہ طور پر سانپ دیکھنے کا شور مچا کر کیتن کو کھائی کے قریب لے جانے کی کوشش کی، لیکن منصوبہ ناکام رہا۔پولیس کے مطابق 18 جون، جو سیا گوئل کی سالگرہ سے ایک دن پہلے تھا، اس نے ایک مرتبہ پھر لوہا گڑھ قلعے جانے پر اصرار کیا۔ تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ اسی روز چیتن چودھری کی مدد سے کیتن اگروال کو کھائی میں دھکا دیا گیا اور بعد میں پولیس کو بتایا گیا کہ وہ تصاویر بناتے ہوئے پھسل کر گر گئے تھے۔

    یہ کیس اس لیے بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہا ہے کیونکہ دونوں خاندان شادی کی بھرپور تیاریوں میں مصروف تھے۔ دونوں کی منگنی رواں سال فروری میں ہوئی تھی جبکہ نومبر میں راجستھان کے شہر اودے پور میں شاندار شادی طے تھی۔ اطلاعات کے مطابق شادی پر تقریباً 14 کروڑ بھارتی روپے خرچ کیے جانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، جبکہ کیتن اگروال نے سیا گوئل کی سالگرہ کی تقریب کے لیے مہابلیشور کے ایک لگژری ریزورٹ میں 40 سے 50 کمرے بھی بک کروا رکھے تھے۔پولیس کی تحقیقات میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ سیا گوئل اور چیتن چودھری کے درمیان گزشتہ تقریباً ایک سال سے قریبی تعلقات تھے۔ دونوں خاندان کاروباری روابط رکھتے تھے اور اسی دوران ان کی قربت بڑھی۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سیا کیتن سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی اور مبینہ طور پر اپنے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

    دوسری جانب مقتول کے والد وشال اگروال نے اپنے بیٹے کی موت پر شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا 26 سالہ بیٹا ان کے بڑھاپے کا سہارا تھا۔ ان کے مطابق کیتن نے امریکہ سے ایم بی اے مکمل کرنے کے بعد خاندانی کاروبار سنبھال لیا تھا اور مستقبل کے کئی منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیتن نے کئی مرتبہ سیا کے رویے پر خدشات ظاہر کیے تھے، تاہم خاندان نے ان باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دی۔پولیس نے سیا گوئل اور چیتن چودھری کے خلاف قتل اور مجرمانہ سازش کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کو سات روزہ پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر لوہا گڑھ قلعے پر واقعے کی دوبارہ منظر کشی بھی کی جا سکتی ہے تاکہ تمام حقائق کو عدالت کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

  • کراچی،ماں اور 8 سالہ بیٹی کی گھر سے پھندا لگی لاشیں برآمد

    کراچی،ماں اور 8 سالہ بیٹی کی گھر سے پھندا لگی لاشیں برآمد

    کراچی: شہر کے علاقے ملیر کھوکھرا پار میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گھر سے ماں اور اس کی 8 سالہ بیٹی کی پھندا لگی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

    ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 30 سالہ صبا زوجہ حنیف اور ان کی 8 سالہ بیٹی نبیہ دختر حنیف کے نام سے ہوئی ہے۔ اطلاع ملنے پر امدادی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور دونوں کی لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا۔پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعے کی نوعیت کا تعین نہیں کیا جا سکا، تاہم شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور جائے وقوعہ کا تفصیلی معائنہ کیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام نے بتایا کہ واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے ہر ممکن پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اہل خانہ اور قریبی افراد سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ واقعے سے متعلق مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ پولیس کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے اور فرانزک رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی واقعے کی حقیقت اور موت کی وجوہات کے بارے میں حتمی مؤقف اختیار کیا جائے گا۔

  • امت مسلمہ کے اتحاد میں مزید مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے،خواجہ آصف

    امت مسلمہ کے اتحاد میں مزید مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے،خواجہ آصف

    سیالکوٹ،وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے یومِ عاشور کے جلوس کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ امام حسینؓ کی قربانی حق، صبر اور استقامت کا لازوال پیغام ہے،

    خواجہ محمد آصف کا کہنا تھا کہ ایران نے اسرائیل کے خلاف ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے شہدائے کربلا کی سنت کو زندہ کیا،ایرانی قوم کی جرات اور استقامت پوری امت مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہے، پاکستان کے کردار سے امت مسلمہ کے اتحاد کو نئی تقویت ملی،ایران، فلسطین اور لبنان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، فلسطینی عوام نے اپنی قربانیوں سے کربلا کی یاد تازہ کر دی،وہ وقت دور نہیں جب فلسطین آزاد ریاست بنے گا،
    لبنانی عوام اسرائیلی ظلم و ستم سے نجات حاصل کریں گے، یومِ عاشور ہمیں ازلی و ابدی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے، امت مسلمہ کے اتحاد میں مزید مضبوطی وقت کی اہم ضرورت ہے، دعا ہے امت مسلمہ ایک پرچم تلے متحد ہو جائے، دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی اور کامیابی نصیب ہو، اللہ تعالیٰ ہمیں شہدائے کربلا کی سیرت پر عمل کی توفیق عطا فرمائے، جب خطے میں ایک جنگ جاری تھی، ایرانیوں نے سنتِ حسینؓ اور کربلا کے شہدا کی یاد تازہ کر دی ہے،اس جنگ میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا، وہ تاریخ میں قیامت تک ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پاکستان نے دونوں ممالک کی صلح کروائی اور پوری امت کے سامنے سرخرو ہوا۔

  • قومی مسائل، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قومی مسائل، سیاسی قیادت اور ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سفارتی کامیابیوں میں پاک فوج، ریاستی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں کا کلیدی کردار

    قومی مسائل کا پائیدار حل سیاسی قیادت، پارلیمنٹ اور ریاستی اداروں کے مؤثر اشتراک میں مضمر ہے

    قومی اتحاد، سیاسی مفاہمت اور عوامی اعتماد ہی پاکستان کے استحکام اور ترقی کی حقیقی ضمانت ہیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں داخلی اور خارجی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستی پالیسیوں کا امتحان لیتے رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت کو بہتر بنانے اور خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر منوانے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔ اس سفر میں پاک فوج، دیگر قومی اداروں، وزارتِ خارجہ اور سفارتی ٹیموں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے بارے میں دنیا کے مختلف حلقوں میں مثبت تاثر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ریاستی اداروں کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمہوری نظام میں سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داریاں بھی کسی طور کم نہیں ہوتیں۔ پارلیمنٹ، سیاسی جماعتیں اور حکومتیں صرف قانون سازی یا سیاسی بیانات تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ قومی اتحاد، داخلی استحکام اور سیاسی مفاہمت پیدا کرنا بھی ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک سیاسی، سفارتی اور انسانی مسئلہ بھی ہے جسے عالمی سطح پر اجاگر کرنے، مؤثر سفارت کاری کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کرنے اور قومی بیانیے کو مضبوط بنانے میں سیاسی قیادت کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان میں موجود احساسِ محرومی، بدامنی یا علیحدگی پسند رجحانات کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی اعتماد کی بحالی کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے۔

    گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا اور دیگر حساس علاقوں میں پیدا ہونے والے مسائل بھی سیاسی بصیرت، عوامی رابطے اور سنجیدہ مذاکرات کے متقاضی ہیں۔ یہ وہ میدان ہیں جہاں منتخب نمائندوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومی وحدت صرف طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، مکالمے اور سیاسی دانش سے بھی مضبوط ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے موجودہ سیاسی ماحول میں اکثر سیاسی جماعتوں کی توجہ عوامی مسائل اور قومی چیلنجز کے بجائے ایک دوسرے پر تنقید اور الزام تراشی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ حالانکہ ریاست کو درپیش خطرات، معیشت، امن و امان، قومی یکجہتی اور بین الاقوامی چیلنجز ایسے معاملات ہیں جن پر حکومت اور اپوزیشن دونوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ماضی کی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیں ایسے رہنما نظر آتے ہیں جو اختلافات کے باوجود قومی مفاد کو مقدم رکھتے تھے۔ سیاسی مکالمہ، برداشت اور قومی اتفاقِ رائے ان کی سیاست کا اہم حصہ تھا۔ آج بھی پاکستان کو اسی طرزِ فکر کی ضرورت ہے تاکہ قومی مسائل کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کیا جا سکے۔
    پنجاب میں امن و امان، عوامی سہولیات اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے صوبائی حکومت کی بعض کوششیں بھی قابلِ ذکر ہیں۔ عوام کی توقع یہی ہوتی ہے کہ منتخب قیادت محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مشکلات میں کمی لائے اور قومی استحکام میں اپنا حصہ ڈالے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل کسی ایک ادارے، ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ قومی ترقی اور استحکام کے لیے تمام ریاستی اداروں، سیاسی قیادت، پارلیمنٹ، حکومت اور اپوزیشن کو اپنی آئینی و قومی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔ جب ہر ادارہ اپنے دائرۂ کار میں رہتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دے گا تو پاکستان مزید مضبوط، مستحکم اور باوقار ریاست کے طور پر دنیا میں اپنا مقام بنا سکے گا۔

  • سسر سے ناجائز تعلقات،بہو اور سسر نے ملکر خاتون کی جان لے لی

    سسر سے ناجائز تعلقات،بہو اور سسر نے ملکر خاتون کی جان لے لی

    بھارت کی ریاست جھارکھنڈ کے ضلع گریڈیہ کے بھراکٹا تھانہ علاقے میں ایک 55 سالہ خاتون کے قتل نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی۔ پولیس نے مقتولہ کلسی دیوی کے قتل کے الزام میں ان کے شوہر دولت ساو اور چھوٹی بہو پریتی کماری کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں معلوم ہوا ہے کہ دولت ساو اور ان کی چھوٹی بہو کے درمیان مبینہ ناجائز تعلقات تھے، جن کی مقتولہ مسلسل مخالفت کرتی تھیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسی تنازع کے باعث دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر کلسی دیوی کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔تفتیشی حکام کے مطابق واقعہ جمعہ کی رات پیش آیا، جب مبینہ طور پر تیز دھار آلے سے کلسی دیوی کا گلا کاٹ کر انہیں قتل کیا گیا۔ الزام ہے کہ واردات کے بعد لاش کو گھر کے ایک کمرے میں بند کر دیا گیا جبکہ دروازے پر باہر سے تالا لٹکا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خاتون گھر پر موجود نہیں ہیں۔پولیس کے مطابق جب پڑوسیوں نے کلسی دیوی کے بارے میں دریافت کیا تو پریتی کماری نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی بیٹی کے گھر گئی ہیں۔ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان نے لاش کو ٹھکانے لگانے کی کوشش کی، تاہم اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

    اتوار کی صبح دولت ساو خود گاؤں کے سربراہ کے پاس پہنچا اور دعویٰ کیا کہ کسی نامعلوم شخص نے اس کی بیوی کو قتل کر دیا ہے۔ اطلاع ملنے پر بھراکٹا تھانے کے انچارج اوم پرکاش پانڈے پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس کمرے میں لاش موجود تھی، اس کے دروازے پر تالا صرف دکھاوے کے لیے لگایا گیا تھا۔ کمرہ کھولنے پر اندر سے شدید بدبو آ رہی تھی، جس سے شبہ ہوا کہ قتل کئی گھنٹے قبل کیا جا چکا تھا۔پولیس نے لاش قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی اور ابتدائی شواہد کی بنیاد پر دولت ساو اور پریتی کماری کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں مقتولہ کی بڑی بہو ہیمنتی دیوی کی تحریری شکایت پر قتل کا مقدمہ درج کرکے دونوں ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا۔

    مقامی افراد کے مطابق دولت ساو اور پریتی کماری کے درمیان مبینہ تعلقات کا معاملہ تقریباً دو سال قبل بھی گاؤں میں زیر بحث آیا تھا۔ گاؤں والوں کا دعویٰ ہے کہ اس وقت پریتی کماری نے اپنے سسر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے، جن میں نشہ آور چیز پلا کر جنسی استحصال کرنے کا الزام بھی شامل تھا۔ اس معاملے پر گاؤں میں پنچایت منعقد ہوئی تھی، جہاں مبینہ طور پر دولت ساو نے معافی مانگی، جبکہ پریتی کا شوہر، جو روزگار کے سلسلے میں حیدرآباد میں رہتا ہے، اپنی اہلیہ کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔مقامی افراد کے مطابق چند ماہ بعد پریتی کماری دوبارہ گاؤں واپس آ گئی اور اس کے بعد دونوں کے درمیان مبینہ تعلقات دوبارہ قائم رہے، جن کی کلسی دیوی مخالفت کرتی تھیں۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ یہی خاندانی تنازع بالآخر قتل کی وجہ بنا۔

    بھراکٹا تھانے کے انچارج اوم پرکاش پانڈے کے مطابق جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، گواہوں کے بیانات اور دورانِ تفتیش سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر دونوں ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر فرانزک شواہد کا بھی انتظار کیا جا رہا ہے۔پولیس نے واضح کیا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور عدالت میں جرم ثابت ہونے تک تمام ملزمان قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیے جائیں گے۔

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بیوہ خاتون کو نوکری دلانے کا جھانسہ،کروائی گئی جسم فروشی

    سوشل میڈیا کی دوستی،بیوہ خاتون کو نوکری دلانے کا جھانسہ،کروائی گئی جسم فروشی

    بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع اناؤ میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی دوستی ایک بیوہ خاتون کے لیے خوفناک سانحہ بن گئی۔

    متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ انسٹاگرام پر دوستی کے بعد اسے نوکری دلانے کا جھانسہ دے کر نوئیڈا منتقل کیا گیا، جہاں اس سے جبری شادی کرائی گئی، جسم فروشی پر مجبور کیا گیا اور کئی ماہ تک ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالت کے حکم پر پولیس نے پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔متاثرہ خاتون کے مطابق سال 2025 میں اس کی انسٹاگرام پر ضلع کاس گنج کی رہائشی شیوکماری نامی خاتون سے دوستی ہوئی۔ بات چیت کے دوران شیوکماری نے اس کی مالی مشکلات اور بیوہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نوئیڈا میں اچھی ملازمت دلانے کی پیشکش کی۔ اپنے چار سالہ بیٹے کے بہتر مستقبل کی امید میں متاثرہ 10 اکتوبر 2025 کو اناؤ کے گڈانکھیڑا بائی پاس پہنچی، جہاں شیوکماری کے بیٹے اتل اور اس کے ساتھی سچن بھاٹی اسے گاڑی میں بٹھا کر نوئیڈا لے گئے۔خاتون کا الزام ہے کہ نوئیڈا پہنچنے کے بعد اسے ایک مکان میں قید کر دیا گیا اور گھریلو کام کاج پر مجبور کیا گیا۔ صرف چار روز بعد، 14 اکتوبر کو، شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی نے مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر عدالت میں اس کی اتل کے ساتھ جبری شادی کرا دی۔

    شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ شادی کے بعد ملزمان نے اسے دوسرے مردوں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے پر مجبور کرنا شروع کر دیا۔ انکار کی صورت میں اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور مسلسل ذہنی و جسمانی اذیت دی جاتی رہی۔متاثرہ کے مطابق اس دوران وہ حاملہ ہوگئی اور ایک بچی کو جنم دیا، تاہم بچی کی پیدائش کے بعد بھی مبینہ ظلم کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے کھانے میں نشہ آور ادویات ملا دی جاتی تھیں اور بے ہوشی کی حالت میں مختلف افراد کو بلا کر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی جاتی تھی، جبکہ مزاحمت پر اسے شدید تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔خاتون نے بتایا کہ ایک موقع پر ملزم کا موبائل فون ہاتھ لگنے پر اس نے خفیہ طور پر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد اس کا بھائی نوئیڈا پہنچا اور اسے وہاں سے واپس گھر لے آیا۔اس نے بگا پور کوتوالی پولیس اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ کو تحریری شکایت بھی دی، لیکن طویل عرصے تک کوئی کارروائی نہ ہونے پر اس نے انصاف کے لیے سول جج کی فاسٹ ٹریک کورٹ سے رجوع کیا۔

    عدالت کے حکم پر بگا پور کوتوالی پولیس نے شیوکماری، اس کے بیٹے اتل، بیٹی، بہنوئی اور سچن بھاٹی کے خلاف جبری شادی، مبینہ اجتماعی زیادتی، انسانی اسمگلنگ، تشدد اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔اسٹیشن ہاؤس آفیسر اروند کمار کے مطابق عدالت کی ہدایت پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تمام نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں .