ملک بھر میں حضرت امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں یومِ عاشور کے جلوس اور مجالس عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہیں۔ کراچی، راولپنڈی، کوئٹہ، پشاور، حیدرآباد، شیخوپورہ، ایبٹ آباد، لودھراں، پاکپتن، قصور اور دیگر شہروں میں مرکزی جلوس اپنے روایتی راستوں پر رواں دواں ہیں، جبکہ سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
کراچی میں مرکزی جلوس نشتر پارک میں مجلسِ عزا کے اختتام کے بعد برآمد ہوا۔ جلوس کی سیکیورٹی کے لیے پولیس کے پانچ ہزار سے زائد اہلکار اور رینجرز کے جوان تعینات ہیں۔ جلوس کے راستوں اور اطراف میں موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رکھی گئی ہے، ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے متبادل راستے فراہم کیے گئے ہیں، جبکہ اطراف کی گلیوں، بازاروں اور دکانوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی میں مرکزی جلوس امام بارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ سے برآمد ہوا، جہاں آٹھ ہزار سے زائد پولیس اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ کوئٹہ میں شہداء چوک سے مرکزی جلوس برآمد ہوا، جس کے روٹس مکمل طور پر سیل کر دیے گئے ہیں۔ شہر میں ایف سی، پولیس اور بلوچستان کانسٹیبلری کے تقریباً 17 ہزار اہلکار تعینات ہیں، جبکہ جلوس کے ساتھ 1200 رضاکار اور 30 طبی کیمپ بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پشاور، حیدرآباد، شیخوپورہ، ایبٹ آباد، لودھراں، پاکپتن، قصور اور دیگر شہروں میں بھی شبیہِ علم، ذوالجناح اور تعزیوں کے جلوس روایتی راستوں پر جاری ہیں۔ متعلقہ اضلاع میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے اور نگرانی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔
ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے بھی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ملک بھر میں یومِ عاشور کے جلوس اپنے مقررہ راستوں پر گامزن
