Baaghi TV

Blog

  • بونی کپور کی بیٹی انشولا کپور شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

    بونی کپور کی بیٹی انشولا کپور شادی کے بندھن میں بندھ گئیں

    بالی ووڈ کے معروف پروڈیوسر بونی کپور کی بیٹی اور اداکار ارجن کپور کی بہن انشولا کپور رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق انشولا کپور نے اپنے دیرینہ دوست روہن ٹھاکر سے ایک نجی تقریب میں شادی کی، جس میں خاندان کے قریبی افراد اور دوستوں نے شرکت کی۔انشولا کپور نے اپنی شادی کی خوشخبری سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر خوبصورت تصاویر شیئر کرکے مداحوں کے ساتھ شیئر کی۔ تصاویر میں دونوں کو شادی کی مختلف رسومات ادا کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک تصویر میں انشولا کی سوتیلی بہنیں، جھانوی کپور اور خوشی کپور بھی موجود ہیں۔انشولا نے تصاویر کے ساتھ ایک جذباتی کیپشن بھی تحریر کیا، جس میں انہوں نے 6 جولائی کو اپنی شادی کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اپنے شوہر روہن ٹھاکر کے لیے محبت بھرے جذبات کا اظہار کیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق شادی کی تقریب انتہائی سادگی اور نجی انداز میں منعقد کی گئی، جس میں صرف قریبی عزیزوں اور دوستوں کو مدعو کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ انشولا کپور اور روہن ٹھاکر کی منگنی جولائی 2025 میں ہوئی تھی، جس کے بعد اب دونوں نے اپنی نئی زندگی کا آغاز کر دیا ہے۔

  • لیاری میں تین کمسن بچیوں سے مبینہ زیادتی، والد حراست میں

    لیاری میں تین کمسن بچیوں سے مبینہ زیادتی، والد حراست میں

    کراچی کے علاقے لیاری کے کالاکوٹ میں تین کمسن بچیوں سے مبینہ زیادتی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بچیوں کے والد کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق گزشتہ شب تین بچیوں کو طبی معائنے کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ متاثرہ بچیوں کی عمریں 7 سال، 5 سال اور ڈھائی سال ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میڈیکل معائنے کی حتمی رپورٹ آنے میں دو سے تین روز لگ سکتے ہیں، جس کے بعد واقعے کی نوعیت کے بارے میں واضح رائے دی جا سکے گی۔پولیس کا کہنا ہے کہ بچیوں کی والدہ نے اپنے شوہر پر مبینہ زیادتی کا شبہ ظاہر کیا تھا، جس کی بنیاد پر پولیس نے گزشتہ روز ملزم کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ میڈیکل رپورٹ اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • ’سگریٹ سے جلایا، تھپڑ بھی مارا‘سابق بوائے فرینڈ بارے اداکارہ کا انکشاف

    ’سگریٹ سے جلایا، تھپڑ بھی مارا‘سابق بوائے فرینڈ بارے اداکارہ کا انکشاف

    بھارتی ٹی وی کی معروف اداکارہ نیتی ٹیلر نے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق ایک نہایت تکلیف دہ انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ماضی میں وہ ایک ایسے پُرتشدد اور زہریلے تعلق کا حصہ رہیں جہاں انہیں جسمانی اور ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

    نیتی ٹیلر نے ایمیزون پرائم پر نشر ہونے والے ریئلٹی شو "الائنس” میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے سابق بوائے فرینڈ کا رویہ انتہائی جارحانہ تھا اور اس نے کئی مواقع پر ان پر تشدد کیا۔اداکارہ کے مطابق ایک موقع پر سابق بوائے فرینڈ نے غصے میں آکر جلتی ہوئی سگریٹ سے ان کی رانوں کو داغ دیا، جس کے نشانات آج بھی ان کے جسم پر موجود ہیں۔ انہوں نے شو کے دوران یہ نشانات دیگر شرکاء کو بھی دکھائے، جس پر وہاں موجود افراد حیران رہ گئے۔نیتی ٹیلر نے مزید بتایا کہ یہ تشدد صرف سگریٹ سے جلانے تک محدود نہیں تھا بلکہ ایک موقع پر ان کے سابق بوائے فرینڈ نے انہیں تھپڑ بھی مارا تھا۔

    اداکارہ نے واقعہ یاد کرتے ہوئے کہا، "ایک رات اس کی سالگرہ پر حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ اس نے مجھے تھپڑ مارا، جس کے بعد میں نے صرف اتنا کہا، ‘الوداع، پھر ملیں گے۔’ اس وقت میری عمر کم تھی اور میں لوگوں کی اصل شخصیت کو صحیح طرح سمجھ نہیں پاتی تھی۔”انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ وہ ایک انتہائی زہریلے اور پُرتشدد تعلق میں تھیں، جہاں محبت کے نام پر انہیں مسلسل اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔نیتی ٹیلر کے اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر مداحوں نے ان کی ہمت کو سراہا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ اداکارہ نے اپنے تجربے کو عوام کے سامنے لا کر گھریلو تشدد اور بدسلوکی پر مبنی تعلقات جیسے اہم مسئلے پر کھل کر بات کی، جس سے متاثرہ افراد کو حوصلہ مل سکتا ہے۔

    نیتی ٹیلر بھارتی ٹیلی ویژن کی معروف اداکارہ ہیں، جنہوں نے "کیسی یہ یاریاں” میں نندنی کے کردار سے شہرت حاصل کی، جبکہ وہ "عشق باز” اور "غلام” سمیت متعدد مقبول ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکی ہیں۔

  • خیبرپختونخوا پولیس کی رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    خیبرپختونخوا پولیس کی رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

    پشاور: خیبرپختونخوا پولیس نے رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔

    سینٹرل پولیس آفس خیبرپختونخوا میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس ذوالفقار حمید کی زیر صدارت امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی-

    رپورٹ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے گزشتہ 6 ماہ کے دوران دہشت گردوں کے خلاف 2 ہزار 4 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جس میں 182 دہشت گرد مارے گئے جبکہ 504 کو گرفتار کیا گیا گرفتار ہونے والوں میں فتنہ الخوارج کے 14 اہم کمانڈرز بھی شامل ہیں-

    رپورٹ کے مطابق پولیس پر 294 حملے کیے گئے تاہم مؤثر حکمت عملی کے ذریعے 161 حملے ناکام بنا دیئے گئے۔ جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی مدد سے د ہشت گردوں کے 341 ڈرون حملے بھی ناکام بنائے گئے جبکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پولیس کے یو اے وی (ڈرون) ڈویژن کا قیام عمل میں لایا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف کارروائیوں کے دوران 2 خودکش جیکٹس، 1771 کلوگرام بارودی مواد اور دیگر دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران 122 پولیس افسران اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا۔

    رپورٹ کے مطابق منشیات کے خلاف کارروائیوں میں 10 ہزار 718 ملزمان گرفتار کیے گئے جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں 10 ہزار 173 اشتہاری ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کیے گئے آپریشنز میں 10 ہزار 540 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم 8 ہزار 125 افغان باشندوں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا اور خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا ملک دشمن عناصر اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ اور امن میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    آئی جی پولیس نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران خیبرپختونخوا پولیس کے 50 ہزار اہلکاروں نے بہترین انداز میں سیکیورٹی فرائض سرانجام دے کر پرامن ماحول یقینی بنایا، انہوں نے ہدایت کی کہ قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

  • مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں، جبکہ شخصیات عارضی اور ادارے دائمی حیثیت رکھتے ہیں

    پاکستان کی خارجہ اور دفاعی کامیابیاں قومی اداروں، پاک فوج اور مؤثر سفارت کاری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں

    ملکی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد اور ریاستی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر حالات کا جائزہ لیں۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے اداروں کو مضبوط بناتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کیا، ان سے نمٹنے میں ہمارے قومی اداروں، پاک فوج اور سفارتی محاذ پر کام کرنے والوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

    یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک آج اپنے مفادات کے تحت نئے فیصلے کر رہے ہیں اور کسی ایک ملک کی بالادستی کو بلا چون و چرا تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی قوت اس کی قومی یکجہتی، مضبوط ادارے اور مؤثر خارجہ پالیسی ہے۔

    ملک کے اندر بھی سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ وفاق اور صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ایسے وقت میں نفرت، انتشار اور بے یقینی پھیلانے کے بجائے قومی استحکام، معاشی بہتری اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
    تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ شخصیات آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر ادارے باقی رہتے ہیں۔ مضبوط ادارے ہی ریاست کی بنیاد، استحکام اور بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔ تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن تنقید اگر اصلاح کے بجائے انتشار کا ذریعہ بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔

    پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت، ذمہ داری اور قومی شعور کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط، اپنی سیاست کو باوقار اور اپنی قومی ترجیحات کو واضح رکھا تو کوئی طاقت پاکستان کی ترقی اور استحکام کے سفر کو روک نہیں سکے گی۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا راستہ ہے۔

  • چین میں رشوت لینے والے سرکاری افسر کو سزائے موت سنا دی گئی

    چین میں رشوت لینے والے سرکاری افسر کو سزائے موت سنا دی گئی

    چین کی ایک عدالت نے 2.21 ارب یوان (قریباً 325 ملین امریکی ڈالر) سے زائد رشوت وصول کرنے کے جرم میں سابق سرکاری افسر یانگ یولن کو سزائے موت سنا دی۔

    چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق 69 سالہ یانگ یولن، مشرقی شہر نانجنگ کے ایک اقتصادی زون کے سابق نائب ڈائریکٹر تھے عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے 2013 سے 2023 کے درمیان بھاری رشوت وصول کی، لوگوں کو انجینئرنگ کے ٹھیکے، زمین کی منتقلی اور مالی سہولتیں دلوانے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی تحائف وصول کیے۔

    جیانگ سو صوبے کی چانگ ژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے یانگ یولن کو رشوت ستانی کے علاوہ سرکاری فنڈز میں خرد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں بھی مجرم قرار دیا عدالت کے مطابق ملزم کے جرائم غیر معمولی سنگین نوعیت کے تھے، جن کے باعث ریاست کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

    رپورٹ کے مطابق یانگ یولن کے خلاف تحقیقات صدر شی جن پنگ کی بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے دوران کی گئیں، جو سرکاری اور فوجی ادارو ں میں کرپشن کے خاتمے کے لیےکئی برسوں سے جاری ہےچین میں مالی بدعنوانی کےمقدمات میں سزائے موت نسبتاً کم سنائی جاتی ہے،تاہم بہت بڑے مالیاتی جرائم میں عدالتیں یہ سزا دے سکتی ہیں، خاص طور پر جب رشوت یا خرد برد کی رقم ایک ارب یوان سے زیادہ ہو حالیہ برسوں میں بڑے مالیا تی جرائم میں ملوث بعض اعلیٰ عہدیداروں کو بھی سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔

    اس سے قبل سابق مالیاتی ادارے کے سربراہ لائی شیاؤ من کو 2021 میں تقریباً 1.8 ارب یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت دے کر پھانسی دی گئی تھی اسی طرح اندرونی منگولیا کے سابق سرکاری افسر لی جیان پنگ کو 2024 میں تین ارب یوان سے زائد کی خرد برد اور رشوت کے جرم میں سزا ئے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔

    چین میں ایسے کئی مقدمات میں عدالتیں عمر قید یا معطل سزائے موت بھی سناتی ہیں، جو مقررہ مدت کے بعد عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے بعض مقدما ت میں اگر ملزم دوسرے مجرموں کے بارے میں معلومات فراہم کرے تو سزا میں کمی بھی کی جاتی ہے۔

    عدالت کے مطابق یانگ یولن نے بھی تفتیش کے دوران حکام سے تعاون کیا، لیکن ان کے جرائم اتنے سنگین تھے کہ یہ تعاون سزا میں نرمی کے لیے کافی نہیں سمجھا گیا چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یانگ یولن نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اپنے آخری بیان میں ندامت کا اظہار بھی کیا۔

    یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 105ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے ایک بار پھر بدعنوانی کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی ان تمام جراثیم کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہے جو پارٹی اور ریاستی اداروں کو کمزور کرتے ہیں، اور کرپشن کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

  • حقیقی رشتوں کی پہچان مشکل حالات میں ہی ہوتی ہے، زارا نور عباس

    حقیقی رشتوں کی پہچان مشکل حالات میں ہی ہوتی ہے، زارا نور عباس

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ زارا نور عباس نے انکشاف کیا ہے کہ انڈسٹری میں کئی ایسی خواتین موجود ہیں جو کبھی ان کی قریبی دوست تھیں، مگر مشکل وقت میں انہوں نے توقع کے مطابق ساتھ نہیں دیا۔

    ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے زارا نور عباس نے شوبز انڈسٹری میں قائم ہونے والی دوستیوں، مشکل حالات اور ذاتی تجربات پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی کے کٹھن دور میں انہیں بعض ساتھی فنکاروں اور دوستوں کی جانب سے وہ تعاون نہیں ملا جس کی انہیں امید تھی۔اداکارہ نے کہا کہ ان کے مشکل وقت میں سب سے زیادہ حوصلہ افزائی اور حمایت خاندان کی خواتین نے کی، جو مضبوط کردار کی حامل ہیں۔ ان کے بقول، خاندان نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ اپنی ذات، ذہنی سکون اور جذبات کو اہمیت دینا انتہائی ضروری ہے۔

    زارا نور عباس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی بعض خواتین، جو کبھی ان کی اچھی دوست تھیں، مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوئیں، تاہم انہیں اس بات کا اطمینان ہے کہ انہوں نے ایسے افراد کو اپنی زندگی سے دور کر دیا جو ضرورت کے وقت ان کا سہارا نہ بن سکے۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ زندگی کے تلخ تجربات انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ حقیقی رشتوں کی پہچان مشکل حالات میں ہی ہوتی ہے، اور یہی تجربات انسان کو خود کو ترجیح دینے اور اپنی ذہنی و جذباتی صحت کا خیال رکھنے کا شعور بھی دیتے ہیں۔

  • مشکل وقت میں اکشے کمار نے میرا ساتھ دیا، وویک اوبرائے کا انکشاف

    مشکل وقت میں اکشے کمار نے میرا ساتھ دیا، وویک اوبرائے کا انکشاف

    بالی ووڈ کے معروف اداکار وویک اوبرائے نے انکشاف کیا ہے کہ اپنے کیریئر کے سب سے مشکل دور میں اداکار اکشے کمار نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں فلم انڈسٹری میں تنہا ہونے سے بھی بچایا۔

    ایک حالیہ انٹرویو میں وویک اوبرائے نے بتایا کہ ہدایت کار رام گوپال ورما کی فلم "کمپنی” سے شہرت حاصل کرنے کے بعد 2000ء کی دہائی میں سلمان خان کے ساتھ ہونے والے عوامی تنازع نے ان کے کیریئر کو شدید متاثر کیا۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے بعد انہیں مسلسل کام سے محروم رکھا گیا، کئی فلمی منصوبوں سے الگ کر دیا گیا اور متعدد مواقع ہاتھ سے نکل گئے، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو گئے تھے۔وویک اوبرائے کے مطابق اسی مشکل وقت میں اکشے کمار نے خود ان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اکشے کمار کو اپنی افسردگی کے بارے میں بتایا تو وہ تقریباً آدھے گھنٹے کے اندر ان کے گھر پہنچ گئے اور کافی دیر تک ان کے حالات اور مشکلات پر گفتگو کرتے رہے۔

    اداکار کے مطابق اکشے کمار نے انہیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ وہ شاید ان کے تمام مسائل حل نہ کر سکیں، تاہم ان کی مثبت سوچ بحال کرنے اور انہیں دوبارہ آگے بڑھنے کا حوصلہ ضرور دے سکتے ہیں۔وویک اوبرائے نے مزید بتایا کہ اکشے کمار نے انہیں اسٹیج شوز کے مواقع بھی پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی مصروفیات کی وجہ سے وہ کئی شوز میں شرکت نہیں کر پا رہے تھے، اس لیے انہوں نے یہ مواقع وویک اوبرائے کو دینے کی پیشکش کی تاکہ وہ دوبارہ اپنے کیریئر کا آغاز کر سکیں۔وویک اوبرائے نے کہا کہ اکشے کمار کی اس غیر مشروط حمایت نے انہیں نہ صرف دوبارہ کام کرنے کا اعتماد دیا بلکہ فلم انڈسٹری میں تنہائی کے احساس سے بھی نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔اداکار نے اکشے کمار کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں کی جانے والی یہ مدد وہ زندگی بھر فراموش نہیں کر سکیں گے۔

  • بچوں کے ساتھ دوستی بھی، رعب بھی ضروری ہے، یاسر نواز

    بچوں کے ساتھ دوستی بھی، رعب بھی ضروری ہے، یاسر نواز

    پاکستان کے معروف اداکار اور ہدایت کار یاسر نواز نے والدین اور بچوں کے درمیان تعلقات پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ والد کا اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلق ہونا چاہیے، تاہم اس کے ساتھ والد کا رعب اور احترام بھی برقرار رہنا ضروری ہے۔

    اداکارہ اور میزبان ندا یاسر نے اپنے حالیہ پروگرام میں اس منفرد موضوع پر گفتگو کے لیے اپنے شوہر یاسر نواز اور بیٹے بالاج کو مدعو کیا، جہاں خاندان نے والدین اور بچوں کے تعلقات، تربیت اور گھریلو ماحول سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا۔گفتگو کے دوران یاسر نواز نے کہا کہ بعض والدین اپنے بچوں کے ساتھ غیر ضروری سختی اختیار کرتے ہیں، جس سے گھر کا ماحول خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ایک کزن گھر میں انتہائی سخت مزاج ہیں اور ایک مرتبہ جب وہ ان کے گھر گئے تو اہلِ خانہ ان کی آمد سے پہلے ہی خوفزدہ تھے اور کہہ رہے تھے کہ "ابو آ رہے ہیں”، جیسے کوئی بہت سخت شخصیت آنے والی ہو۔انہوں نے کہا کہ والد کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اپنانا چاہیے تاکہ بچے اپنی بات بلا جھجھک والدین سے شیئر کر سکیں، تاہم ساتھ ہی والد کا ایسا مقام بھی ہونا چاہیے کہ بچے ان کا احترام کریں اور یہ احساس رکھیں کہ ضرورت پڑنے پر والد ناراض بھی ہو سکتے ہیں اور سختی بھی کر سکتے ہیں۔

    یاسر نواز نے اپنے والد کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد ان کے بہترین دوست بھی تھے، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ ان کا احترام کرتے تھے اور ان سے ایک فطری خوف بھی محسوس کرتے تھے۔ ان کے مطابق والدین کو زیادہ تر وقت بچوں کے دوست بن کر رہنا چاہیے، مگر تربیت کے لیے مناسب حد تک رعب بھی ضروری ہے۔

    اس موقع پر ندا یاسر نے اپنی بیٹی صلہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ گھر میں ان کی ایک ہی بیٹی ہے، اس لیے اس کی خواہشات نسبتاً آسانی سے پوری ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ صلہ اکثر اس بات کا فائدہ بھی اٹھا لیتی ہے، جبکہ ان کے دونوں بیٹوں کو اپنی خواہشات منوانے کے لیے زیادہ کوشش کرنا پڑتی ہے۔

  • اسپین سے شکست،پرتگال ٹورنامنٹ سے باہر،رونالڈو آنسو نہ روک سکے

    اسپین سے شکست،پرتگال ٹورنامنٹ سے باہر،رونالڈو آنسو نہ روک سکے

    فیفا ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں اسپین نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد پرتگال کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے کر کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ اس شکست کے ساتھ ہی پرتگال کے مایہ ناز اسٹار کرسٹیانو رونالڈو کا ورلڈ کپ کیریئر بھی اختتام کو پہنچ گیا۔

    میچ کا واحد اور فیصلہ کن گول اضافی وقت کے پہلے منٹ میں میکل میرینو نے کیا فاؤل ملنے کے بعد انہوں نے فوری فری کک لی، خود آگے بڑھے اور فیران ٹوریس کے پاس پر گول کیپر ڈیوگو کوسٹا کو شکست دیتے ہوئے گیند جال میں پہنچا دی،جبکہ اسپین نے مسلسل 35 واں میچ بھی بغیر شکست کے مکمل کیا اس فتح کے ساتھ اسپین نے 2010 میں جنوبی افریقہ میں اپنا واحد عالمی ٹائٹل جیتنے کے بعد پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں رسائی حاصل کی ہے، جہاں اسپین کا مقابلہ جمعے کو لاس اینجلس اسٹیڈیم میں بیلجیم سے ہوگا،میرینو کو میچ کے 85ویں منٹ میں میدان میں اتارا گیا، مگر انہوں نے مختصر وقت میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے فیصلہ کن گول کر دیا۔

    دوسری جانب 41 سالہ کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کو مسلسل دوسری بار ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل تک پہنچانے کے خواہاں تھے،تاہم وہ اپنے کیریئر کے آخری ورلڈ کپ میں پرتگال کو کامیابی دلانے میں ناکام رہے،اسپین کے ہاتھوں پرتگال کی شکست کے بعد کرسٹیانو رونالڈو جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، بعد ازاں انہوں نے ڈلاس اسٹیڈیم میں موجود شائقین کی جانب بڑھ کر تالیاں بجائیں اور ان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

    میچ کے بعد رونالڈو نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے ملک کے لیے بھرپور کوشش کی اور انہیں اس بات پر فخر ہے کہ وہ پرتگال کے ساتھ تین بڑے ٹائٹل جیت چکے ہیں یہ ان کے ورلڈ کپ کیریئر کا آخری میچ بھی ثابت ہوا،رونالڈو بین الاقوامی فٹبال میں 146 گولز اور 233 میچز کے ساتھ تاریخ کے کامیاب ترین کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

    کوارٹر فائنل میں اب اسپین اور بیلجیئم کی مضبوط ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی، جہاں دونوں سیمی فائنل میں جگہ بنانے کے لیے مقابلہ کریں گی۔