Baaghi TV

Blog

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس ،عمران،بشریٰ کے وکلا کو اپیلوں پر دلائل کی حتمی مہلت

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،عمران،بشریٰ کے وکلا کو اپیلوں پر دلائل کی حتمی مہلت

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،عمران خان اور بشری بی بی کی اپیلوں میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے

    اسلام آباد ہائیکورٹ بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کے وکلا کو اپیلوں پر دلائل کی حتمی مہلت دے دی ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر آئندہ سماعت اپیلوں پر دلائل نا دئیے تو نیب کو سن کر دستیاب ریکارڈ پر فیصلہ کر دیں گے ،آئندہ سماعت پر دلائل دینے کی لطیف کھوسہ کی انڈرٹیکنگ پر کیس ملتوی کرنے کی استدعا منظور کر لی گئی،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف نے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ،حکم نامہ میں کہا گیا کہ وکیل سردار لطیف کھوسہ جن کا وکالت بانی اور بشری کی جانب سے ریکارڈ پر موجود ہے ، سردار لطیف کھوسہ نے واضح انڈرٹیکنگ دی ہے کہ آئندہ سماعت پر مزید کوئی التوا نہیں مانگیں گے ،سردار لطیف کھوسہ نے انڈرٹیکنگ دی ہے آئندہ سماعت پر اپیلوں پر دلائل دیں گے ،سردار لطیف کھوسہ کی انڈرٹیکنگ کے بعد عدالت کیس ملتوی کر رہی ہے ،عدالت واضح کرتی ہے کہ اس کیس میں اب حتمی مہلت دی جا رہی ہے ،آئندہ سماعت پر اگر اپیلوں پر دلائل نہیں دئیے تو مزید کیس ملتوی نہیں ہو گا ،نیب کو سن کر دستیاب ریکارڈ دیکھ کر اپیلوں کا فیصلہ کر دیا جائے گا ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی

  • آبنائے ہرمز میں  تیل بردار بحری جہاز پر حملہ ،آگ بھڑک اٹھی

    آبنائے ہرمز میں تیل بردار بحری جہاز پر حملہ ،آگ بھڑک اٹھی

    ایران اور عمان کے درمیان سمندری حدود یعنی آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں، جہاں ایک تیل بردار بحری جہاز (آئل ٹینکر) پر نامعلوم پوجیکٹائل سے حملہ کیا گیا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔

    یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق واقعہ عمان کے علاقے لیماہ سے تقریباً 8 بحری میل مشرق میں پیش آیا، ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جنوب کی جانب سفر کرنے والے ایک آئل ٹینکر کے بائیں جانب نامعلوم پروجیکٹائل لگا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    یو کے ایم ٹی او نے بحری جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں،تاہم اس واقعے کے فوری بعد امریکی حکام نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے۔

    ادھر امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس نے 2 نامعلوم امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے کم از کم 2 تجارتی بحری جہازوں پر میزائل داغے،ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایک دوسرے جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جسے نمایاں نقصان پہنچا۔

    تاہم خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اس رپورٹ کی آزادانہ تصدیق نہیں کی، جبکہ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون نے بھی فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    دوسری طرف، ایران کے سرکاری ادارے ’آئی آر آئی بی‘ نے گمنام ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ تیل کا جہاز امریکی بحریہ کی مدد اور تحفظ کے ساتھ آبنائے ہرمز میں عمان والے راستے سے گزرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا، اور بار بار ملنے والی انتباہی وارننگ کو نظر انداز کرنے پر اس جہاز کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تاہم، سرکاری ٹی وی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے باضابطہ طور پر اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران پہلے ہی تمام جہازوں کو خبردار کر چکا ہے کہ وہ عمانی سمندر کے جنوبی راستے سے نہ گزریں اور اس کا اصرار ہے کہ اس سمندری راستے سے گزرنے والے ہر جہاز کو ایرانی فوج کے ساتھ تال میل یعنی رابطہ کرنا ہوگا یہ تازہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب چند دن پہلے ہی امریکا اور ایران نے سمندر میں جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایک دوسرے پر جوابی حملے کیے تھے۔

    آبنائے ہرمز خلیجی ممالک سے ایشیا سمیت عالمی منڈیوں تک تیل اور توانائی کی ترسیل کے لیے سب سے اہم بحری راستہ تصور کی جاتی ہے،امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 2024 کے دوران روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل خام تیل اس آبی گزرگاہ سے منتقل کیا گیا، جو عالمی خام تیل کی مجموعی ترسیل کا تقریباً 5واں حصہ بنتا ہے۔

  • نوکری کا جھانسا دے کر 20 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    نوکری کا جھانسا دے کر 20 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی، ملزم گرفتار

    لاہور: نوکری کا جھانسا دے کر 20 سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کرنے والے ملزم کو پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔

    پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی قلعہ گجر سنگھ پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم نے متاثرہ لڑکی کو ملازمت دلوانے اور اس کی اکیڈمی کے اخراجات برداشت کرنے کا لالچ دے کر اپنے گھر بلایا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جب لڑکی ملزم کے گھر پہنچی تو وہاں ملزم کے علاوہ کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔پولیس کے مطابق ملزم نے گھر کو اندر سے لاک کر کے مبینہ طور پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    پولیس نے ملزم، جس کی شناخت مجاہد خان کے نام سے ہوئی ہے، کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے مزید تفتیش جاری ہے۔اس موقع پر ایس پی سول لائنز چوہدری اثر علی نے کہا کہ زیادتی جیسے گھناونے جرائم میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں، ایسے ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • وزیراعظم کی صنعتوں  کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی صنعتوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے سمیڈا (SMEDA) پر جائزہ اجلاس میں ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی.

    اجلاس میں مزید ہدایات دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی استعداد کار بڑھانے بالخصوص کسانوں کی اجناس و پھلوں کی پراسیسنگ کیلئے انہیں آگاہی اور قرضے فراہم کرنے کے حوالے سے سہولت دی جائے. کمرشل بینکوں کی چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے خصوصی پراڈکٹس کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جائے. چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتوں کو فیزیبیلٹی کی تیاری اور دیگر مراحل میں مدد فراہم کی جائے. وزیرِ اعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات ضروری ہیں. سمیڈا نوجوان بشمول خواتین آنٹرپرنیورز کو چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتیں لگانے میں معاونت فراہم کرے.

    اجلاس کو سمیڈا کی جانب سے ایس ایم ایز کی سہولت کیلئے مختلف اقدامات پر بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستانی ایس ایم ایز کی عالمی منڈی تک رسائی اور برآمدات بڑھانے کیلئے رواں برس 700 ایس ایم ایز کی 16 ایونٹس میں شرکت یقینی بنائی گئی. اسکے ساتھ ساتھ 35 شہروں میں ایس ایم ایز کو مالی ضابطوں اور کاروبار کے حوالے سے ٹریننگ دی گئی. اجلاس کو سمیڈا کے تحت مختلف اقدامات پر بھی روشنی ڈالی گئی. وزیرِ اعظم نے ایس ایم ایز کی قرضوں تک رسائی کیلئے اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل مرتب کرنے کی ہدایت کی. اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی. چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور شعبے کے ماہرین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی.

  • بہاولپور: ہوٹل میں اونچی آواز میں بات کرنے سے منع کرنے پر جھگڑا

    بہاولپور: ہوٹل میں اونچی آواز میں بات کرنے سے منع کرنے پر جھگڑا

    بہاولپور: شہر کے یونیورسٹی چوک پر واقع ایک نجی ہوٹل میں اونچی آواز میں بات کرنے سے منع کرنے پر تلخ کلامی جھگڑے میں تبدیل ہوگئی، جہاں مبینہ طور پر لاتوں، گھونسوں اور کرسیوں کا استعمال کرتے ہوئے طالبہ اور اس کے ساتھی پر حملہ کیا گیا۔

    واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص سیڑھیوں سے نیچے اترتا ہے اور ایک لڑکی کے ساتھ بیٹھے شخص پر اچانک حملہ کر دیتا ہے۔ فوٹیج میں حملہ آور کو کرسی اٹھا کر مارتے اور پھینکتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔فوٹیج کے مطابق جب لڑکی حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرتی ہے تو وہ اسے بھی دھکا دیتا ہے، جس سے وہ زمین پر گر جاتی ہے۔متاثرہ طالبہ کے مطابق وہ اپنے ساتھی کے ساتھ نجی ہوٹل میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اس دوران وہاں موجود ایک شخص اور اس کی اہلیہ اونچی آواز میں گفتگو کر رہے تھے، جنہیں خاموشی سے بات کرنے کا کہا گیا۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ اس بات پر مذکورہ شخص مشتعل ہوگیا اور خود کو پولیس ملازم ظاہر کیا۔طالبہ کے مطابق ملزم ابتدا میں وہاں سے چلا گیا، تاہم کچھ دیر بعد دو دیگر افراد کے ہمراہ واپس آیا اور اس کے ساتھی سمیت اس پر تشدد کیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ یونیورسٹی کی طالبہ کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کی تلاش اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کا 27 واں یوم شہادت، پاک فوج کا خراجِ عقیدت

    حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کا 27 واں یوم شہادت، پاک فوج کا خراجِ عقیدت

    حوالدار لالک جان شہید نشان حیدر کی آج 27 ویں برسی منائی جارہی ہے۔

    حوالدار لالک جان شہید کی 27 ویں برسی کے موقع پر شہید کے مزار پر پر وقار تقریب منعقد ہوئی جس میں پاک فوج کے چاک و چوبند دستے کی جانب سے سلامی پیش کی گئی مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق برسی کے موقع پر افواج پاکستان، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاکستان کی مسلح افواج نے حوالدار لالک جان شہید کے یومِ شہادت پر انہیں انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    7 جولائی 1999 کو کارگل کے معرکے کے دوران حوالدار لالک جان شہید نے دشمن کے مسلسل حملوں کے باوجود اپنی چوکی کا جرات و استقامت سے دفاع کیا اور شدید زخمی ہونے کے باوجود حوالدار لالک جان نے انخلا سے انکار کیاآخری سانس تک اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے لالک جان نے دشمن کا مقابلہ کیا اور جام شہادت نوش کیاحوالدار لالک جان شہید کی لازوال قربانی بہادری، ثابت قدمی اور بے لوث خدمت کی روشن علامت ہے۔

    صدر آصف علی زرداری نے نشانِ حیدر پانے والے حوالدار لالک جان شہید کے یومِ شہادت پر ان کی عظیم قربانی اور بہادری کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے کہا کہ شہداء کا خون پاکستان کے محفوظ، مضبوط اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہےشہداء کی عظیم روایات ہماری قومی شناخت کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہیں۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ قوم اپنے شہداء کی عظیم قربانیوں کو ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی حوالدار لالک جان شہید کو ان کے یومِ شہادت پر زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ کارگل کے معرکے میں حوالدار لالک جان شہید کی شجاعت، بہادری اور وطن کے دفاع کے لیے دی جانے والی عظیم قربانی پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود دشمن کے سامنے ڈٹے رہنا ان کے بے مثال جذبۂ حب الوطنی کا ثبوت ہےقوم اپنے اس عظیم سپوت اور تمام شہدائے پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

  • فتنہ الخوارج کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کو شہید کرنے کادعوی، خواجہ آصف کا ردعمل

    فتنہ الخوارج کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کو شہید کرنے کادعوی، خواجہ آصف کا ردعمل

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے گمراہ کن دعویٰ پر فتنہ الخوارج کے اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کر دیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے فتنہ الخوارج کی جانب سے گروپ کیپٹن عاصم کی شہادت پر جھوٹے پراپیگنڈے پر سخت تنقید کی ہے،انہوں نے ایکس پر فتنہ الخوارج کا دعویٰ بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کے ایک بہیمانہ قتل کی ذمہ داری طالبان قبول کر رہے ہیں ، فتنہ الخوارج کا کوئی اعتبار نہیں، کل کو شاید پاکستان میں چوری، ڈکیتی اور عام جرائم کا کریڈٹ بھی لینا شروع کر دیں،فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا مقصد صرف کریڈٹ لینا ہے، حقیقت، اخلاقیات اور ذمہ داری سے انہیں کوئی غرض نہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کے روز ائیرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئے تھے ، واقعہ اسلام آباد کے نائنتھ ایوینیو پر پیش آیاگروپ کیپٹن عاصم نےموٹرسائیکل پرسوار شخص کو ایک خاتون کا ہاتھ کھینچتے دیکھا،گروپ کیپٹن عاصم موٹرسائیکل کے قریب رکے تو خاتون گاڑی کی دوسری طر ف بھاگ گئی-

    اسی دوران مبینہ ملزم نے گروپ کیپٹن عاصم سے بدکلامی کی اور ان پر فائرنگ کر دی،گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے شہید ہوگئے، ملزم موقع سے فرار ہوگیا،خاتون کےمطابق ملزم ان کادفتری ساتھی ہےجس نےساتھ کام پرجانےکی پیشکش کی تھی،ملزم راستہ بدل کراسےکہیں اور لے جانا چاہتا تھا،گروپ کیپٹن عاصم نے بروقت مداخلت کر کے مجھے بچایا،گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے۔

    بعدازاں آئی جی اسلام آباد نے پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قاتل کو واقعے کے بعد 9 گھنٹے میں گرفتار کر لیا گیا اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس میں گرفتار ملزم کو شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کردیا۔

  • نماز جنازہ میں  مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی، ایران میں قیاس آرائیاں

    نماز جنازہ میں مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی، ایران میں قیاس آرائیاں

    تہران: ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں لاکھوں افراد نے شرکت کی، جبکہ متعدد ممالک کے صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود رہے۔ تاہم ان تقریبات میں موجودہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی نے عوام اور سیاسی مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

    رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای گزشتہ فروری کے آخر میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے کے بعد سے منظرِ عام پر نہیں آئے۔ اس حملے میں ان کے والد علی خامنہ ای، اہلیہ زہرا حداد عادل اور خاندان کے دیگر افراد جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ مجتبیٰ خامنہ ای کے زخمی ہونے کی بھی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
    ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ رہبرِ اعلیٰ کی عوامی تقریبات میں عدم شرکت کی بنیادی وجہ ان کی جان کو لاحق سیکیورٹی خطرات ہیں۔ تاہم علی خامنہ ای کے دیگر صاحبزادوں، اعلیٰ حکومتی شخصیات اور غیر ملکی وفود کی جنازے میں موجودگی کے باعث عوامی حلقوں میں یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور سیکیورٹی کی صورتحال سرکاری مؤقف سے زیادہ سنگین تو نہیں۔

    الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنازے میں شریک بعض شہریوں نے رہبرِ اعلیٰ کی عدم موجودگی پر مختلف آراء کا اظہار کیا۔ 26 سالہ معصومہ کا کہنا تھا کہ ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی عوامی موجودگی ہمیشہ ریاستی استحکام اور سیکیورٹی کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے، اس لیے ان کی غیر موجودگی عوامی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔دوسری جانب 35 سالہ فائزہ نے کہا کہ موجودہ سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر مجتبیٰ خامنہ ای کا عوامی سطح پر سامنے نہ آنا ایک احتیاطی اقدام ہو سکتا ہے، کیونکہ سابق رہبر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد نئے رہبر کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جنازے کے جلوس کے موقع پر بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ علی خامنہ ای کو اسرائیل نے اس لیے نشانہ بنایا کیونکہ وہ اسرائیل مخالف کارروائیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مستقبل میں کوئی ایرانی رہنما اسرائیل کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات کرے گا تو اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیر حاضری کے باعث ان کی صحت سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی گردش کر رہی ہیں۔ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں انہیں چہرے اور ٹانگوں پر شدید زخم آئے، تاہم ایرانی حکام نے ان اطلاعات کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلیٰ کی روزانہ عوامی موجودگی روایت نہیں رہی، تاہم قومی بحرانوں، اہم مذہبی مواقع اور ریاستی تقریبات میں ان کی شرکت کو ملکی استحکام اور اعتماد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ غیر معمولی سیکیورٹی حالات میں مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی قابلِ فہم ہو سکتی ہے، تاہم اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو اندرونِ ملک ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق قیاس آرائیوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • 9 مئی مقدمہ، میاں محمود الرشید نے 10 سال قید کی سزا لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی

    9 مئی مقدمہ، میاں محمود الرشید نے 10 سال قید کی سزا لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی

    لاہور: 9 مئی مقدمات میں 10 سال قید کی سزا پانے والے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما میاں محمود الرشید نے اپنی سزا لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دی۔

    میاں محمود الرشید نے اپنے وکیل سکندر ذوالقرنین کی وساطت سے لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ مغلپورہ میں پولیس کی گاڑیاں نذرِ آتش کرنے کے مقدمے میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزا حقائق اور شواہد کے برعکس ہے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ مقدمے کے ریکارڈ پر درخواست گزار کے خلاف کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں، اس لیے 10 سال قید کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    یاد رہے کہ 20 جون کو ٹرائل کورٹ نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مغلپورہ میں پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے میاں محمود الرشید کو 10 سال قید کی سزا سنائی تھی، جبکہ اسی مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں ڈاکٹر یاسمین راشد، سرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کو بھی 10، 10 سال قید کی سزا دی گئی تھی۔۔

  • کارگل محاذ  کے ہیرو حوالدار لالک جان شہید (نشان حیدر) کا 27 واں یوم شہادت

    کارگل محاذ کے ہیرو حوالدار لالک جان شہید (نشان حیدر) کا 27 واں یوم شہادت

    کارگل جنگ کے دوران حوالدار لالک جان نے وطن سے وَفا کی لازوال داستان رقم کی، جس کی بہادری کا اعتراف دُشمن نے بھی کیا

    دُشمن پر دھاک بٹھانے اور اُس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے والے بہادر سپوت حوالدار لالک جان کا تعلق پاک فوج کی ناردرن لائیٹ انفنٹری رجمنٹ سے تھا ،مئی 1999ء میں حوالدار لالک جان نے اگلے مورچوں پر لڑائی لڑنے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔مٹھی بھر ساتھیوں کے ہمراہ حوالدار لالک جان نے ناصرف اپنی پوسٹ کا کامیابی سے دفاع کیا بلکہ دشمن کے متعدد حملوں کو ناکام بنا کر اُسے بھاری جانی نقصان بھی پہنچایا، 12جون 1999ء کولالک جان نے اچانک ایسا زبردست حملہ کیا کہ دُشمن اپنی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا،7 جولائی کو دشمن نے حوالدار لالک جان کی پوسٹ پر توپ خانے کا بھر پور فائرکر کے رات کی تاریکی میں تینوں اطراف سے حملہ کردیا،اس حملے کے دوران حوالدار لالک جان شدید زخمی ہوئے مگر کمپنی کمانڈر کے اصرارکے باوجود اپنی پوسٹ پر زخمی حالت میں بھی ڈٹے رہے اور دشمن کا مقابلہ جاری رکھا،شدید زخمی ہونے کے باوجود بھی حوالدار لالک جان نے بھاری فائر کے دوران دُشمن کے بنکر کو ایمونیشن سمیت تباہ کردیا، جس سے دُشمن کے درجنوں فوجی ہلاک ہو گئے،حوالدار لالک جان نے دشمن کے اس حملے کو بھی ناکام بنادیا لیکن شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے اپنی پوسٹ پر جامِ شہادت نوش کیا

    شہید حوالدار لالک جان (نشان حیدر) کے بیٹے طارق لالک جان نے کہا کہ؛ہم وہ قوم ہیں جس کیلئے ملک کے دفاع کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنا قابل فخربات ہے ،ملک کیلئے شہادت ہی ہمارا ایمان ہے ، سرحدوں کی حفاظت کرنے والے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتا ہوں ، جب تک پاک فوج کے بہادر جوان سرحدوں پر موجود ہیں اس ملک پر کوئی آنچ بھی نہیں آ سکتی ،

    شہید حوالدار لالک جان (نشان حیدر) کے بھائی گسمبر خان نے کہا کہ؛ شہید حوالدار لالک جان کو سب سے بڑےاعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا، یقیناً پاک فوج شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرتی ،شہدا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے

    قادر پوسٹ کے زبردست دِفاع کا اعتراف دُشمن نے ان الفاظ میں کیا؛کسی بھی سپاہی نے اپنی پوسٹ نہ چھوڑی، یہ دِفاعی جنگ بہادری کی اعلیٰ مثال ہے کہ جو آخری سپاہی اور آخری گولی تک لڑی گئی،

    قادر پوسٹ آج بھی نازاں ہے کہ اُسے حوالدار لالک جان شہید جیسا نِڈر محافظ مِلا،حوالدار لالک جان شہید کی بے باکی، حوصلہ مندی اور جذبہ شہادت پر انھیں پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا

    کارگل جنگ کے عظیم ہیرو، نشانِ حیدر حاصل کرنے والے حوالدار لالک جان شہید کا آج یومِ شہادت انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔​اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سمیت پاکستان کی تمام مسلح افواج نے مادرِ وطن کے دفاع میں جان کا نذرانہ پیش کرنے والے اس عظیم سپوت کو دل کی گہرائیوں سے سلامی اور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔​ آج ہی کے دن 1999ء میں کارگل کے محاذ پر حوالدار لالک جان شہید نے دشمن کے دانت کھٹے کیے۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود انہوں نے اپنی پوسٹ چھوڑنے اور وہاں سے ہٹنے سے صاف انکار کر دیا، اور آخری گولی اور آخری سانس تک اکیلے ہی دشمن کے پے در پے حملوں کو ناکام بناتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔​فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور عسکری قیادت نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، اور پاکستانی قوم اپنے ان غازیوں اور شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ پاکستان کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔