مضبوط ادارے ہی مضبوط ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں، جبکہ شخصیات عارضی اور ادارے دائمی حیثیت رکھتے ہیں
پاکستان کی خارجہ اور دفاعی کامیابیاں قومی اداروں، پاک فوج اور مؤثر سفارت کاری کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں
ملکی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی اتحاد اور ریاستی مفادات کو ترجیح دینا ضروری ہے
تجزیہ شہزاد قریشی
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر حالات کا جائزہ لیں۔ دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے اداروں کو مضبوط بناتی ہیں۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں جن داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کیا، ان سے نمٹنے میں ہمارے قومی اداروں، پاک فوج اور سفارتی محاذ پر کام کرنے والوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ مختلف ممالک آج اپنے مفادات کے تحت نئے فیصلے کر رہے ہیں اور کسی ایک ملک کی بالادستی کو بلا چون و چرا تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے سب سے بڑی قوت اس کی قومی یکجہتی، مضبوط ادارے اور مؤثر خارجہ پالیسی ہے۔
ملک کے اندر بھی سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن یہ بات قابلِ غور ہے کہ وفاق اور صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں عوامی مینڈیٹ کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہیں۔ ایسے وقت میں نفرت، انتشار اور بے یقینی پھیلانے کے بجائے قومی استحکام، معاشی بہتری اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے۔
تاریخ کا ایک اٹل اصول ہے کہ شخصیات آتی اور جاتی رہتی ہیں، مگر ادارے باقی رہتے ہیں۔ مضبوط ادارے ہی ریاست کی بنیاد، استحکام اور بقا کی ضمانت ہوتے ہیں۔ تنقید ہر شہری کا حق ہے، لیکن تنقید اگر اصلاح کے بجائے انتشار کا ذریعہ بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ اتحاد، برداشت، ذمہ داری اور قومی شعور کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے اداروں کو مضبوط، اپنی سیاست کو باوقار اور اپنی قومی ترجیحات کو واضح رکھا تو کوئی طاقت پاکستان کی ترقی اور استحکام کے سفر کو روک نہیں سکے گی۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان کا راستہ ہے۔
