Baaghi TV

چین میں رشوت لینے والے سرکاری افسر کو سزائے موت سنا دی گئی

court

چین کی ایک عدالت نے 2.21 ارب یوان (قریباً 325 ملین امریکی ڈالر) سے زائد رشوت وصول کرنے کے جرم میں سابق سرکاری افسر یانگ یولن کو سزائے موت سنا دی۔

چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق 69 سالہ یانگ یولن، مشرقی شہر نانجنگ کے ایک اقتصادی زون کے سابق نائب ڈائریکٹر تھے عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے 2013 سے 2023 کے درمیان بھاری رشوت وصول کی، لوگوں کو انجینئرنگ کے ٹھیکے، زمین کی منتقلی اور مالی سہولتیں دلوانے کے بدلے بھاری رقوم اور قیمتی تحائف وصول کیے۔

جیانگ سو صوبے کی چانگ ژو انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ نے یانگ یولن کو رشوت ستانی کے علاوہ سرکاری فنڈز میں خرد برد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کے الزامات میں بھی مجرم قرار دیا عدالت کے مطابق ملزم کے جرائم غیر معمولی سنگین نوعیت کے تھے، جن کے باعث ریاست کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق یانگ یولن کے خلاف تحقیقات صدر شی جن پنگ کی بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے دوران کی گئیں، جو سرکاری اور فوجی ادارو ں میں کرپشن کے خاتمے کے لیےکئی برسوں سے جاری ہےچین میں مالی بدعنوانی کےمقدمات میں سزائے موت نسبتاً کم سنائی جاتی ہے،تاہم بہت بڑے مالیاتی جرائم میں عدالتیں یہ سزا دے سکتی ہیں، خاص طور پر جب رشوت یا خرد برد کی رقم ایک ارب یوان سے زیادہ ہو حالیہ برسوں میں بڑے مالیا تی جرائم میں ملوث بعض اعلیٰ عہدیداروں کو بھی سخت سزائیں دی جا چکی ہیں۔

اس سے قبل سابق مالیاتی ادارے کے سربراہ لائی شیاؤ من کو 2021 میں تقریباً 1.8 ارب یوان رشوت لینے کے جرم میں سزائے موت دے کر پھانسی دی گئی تھی اسی طرح اندرونی منگولیا کے سابق سرکاری افسر لی جیان پنگ کو 2024 میں تین ارب یوان سے زائد کی خرد برد اور رشوت کے جرم میں سزا ئے موت پر عمل درآمد کیا گیا تھا۔

چین میں ایسے کئی مقدمات میں عدالتیں عمر قید یا معطل سزائے موت بھی سناتی ہیں، جو مقررہ مدت کے بعد عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے بعض مقدما ت میں اگر ملزم دوسرے مجرموں کے بارے میں معلومات فراہم کرے تو سزا میں کمی بھی کی جاتی ہے۔

عدالت کے مطابق یانگ یولن نے بھی تفتیش کے دوران حکام سے تعاون کیا، لیکن ان کے جرائم اتنے سنگین تھے کہ یہ تعاون سزا میں نرمی کے لیے کافی نہیں سمجھا گیا چینی سرکاری میڈیا کے مطابق یانگ یولن نے عدالت میں اپنے جرائم کا اعتراف کیا اور اپنے آخری بیان میں ندامت کا اظہار بھی کیا۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے چینی کمیونسٹ پارٹی کے قیام کی 105ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر شی جن پنگ نے ایک بار پھر بدعنوانی کے خلاف مہم جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ کمیونسٹ پارٹی ان تمام جراثیم کا خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہے جو پارٹی اور ریاستی اداروں کو کمزور کرتے ہیں، اور کرپشن کے خلاف کارروائیاں بلاامتیاز جاری رہیں گی۔

More posts